Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Last Episode)

رامین بے بسی سے پرنس کی طرف دیکھنے لگی’مگر اس پر کوئی اثر نہی پڑا۔
وہ اپنی جگہ پر ہی کھڑا رہا۔
کمرے کی لائٹ جلی’
رامین نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں۔
اس سے آگے وہ نہی دیکھ سکتی تھی’
احتسام کا سامنا نہی کر سکتی تھی۔
چند پل یونہی آنکھیں بند کیے کھڑی رہی’مگر پھر کمرے کی خاموشی محسوس کی۔
تو آخر کار رامین نے آنکھیں کھول ہی دیں۔
سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کا سر چکرانے لگا۔
وہ اسد تھا”
“اسد پرنس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا’
اسد تم یہاں؟
رامین حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگی’
میرا مطلب آپ دونوں یہاں کیسے آئے ہیں۔
میرا سر چکرا رہا ہے’میں پاگل ہو جاوں گی۔
رامین اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ناں؟
اسد پرنس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا’
رامین نے حیران کن نظروں سے اسد کی طرف دیکھا۔
میں تو شادی کی مبارک باد دینے آیا تھا تم۔۔۔
پرنس نے اسد کے پاوں پر اپنا پاوں رکھا۔
اسد کی نظر پرنس کے نقاب پر پڑی۔
افففف۔۔۔یہ لڑکا نہی سدھرنے والا’
تو ابھی تک چہرہ نہی دکھایا تم نے رامین کو’اسد ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔
دکھا دوں گا میں تم کھسکو یہاں سے’
بہت بڑے کمینے ہو تم’اسد مسکراتے ہوئے پرنس کے کان میں بولا۔
ہاں جانتا ہوں میں’جس کا دوست اتنا بڑا کمینہ ہو وہ خود بھی تو کمینہ ہی ہو گا’
چلو کھسکو اب یہاں سے’اسد کو بازو سے کھینچتے ہوئے دروازے تک لے آیا۔
ہاں اپنا کام ختم ہوا تو اب کھسکو یہاں سے’ویسے انٹری کیسی تھی میری؟
اسد کالر جھاڑتے ہوئے بولا۔
اچھی تھی بلکہ زبردست تھی’تمہارا کام بس اتنا ہی تھا۔
جاو اب یہاں سے’
پرنس نے اسد کو کمرے سے باہر سے باہر دھکا دیا۔
واہ کیا خوب دوستی نبھائی ہے’اسد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔
پھر واپس پلٹا’بیسٹ آف لک!
پرنس نے دروازہ بند کر دیا۔
رامین بس چپ چاپ ان دونوں کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔
ان کی کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی تھی رامین کو وہ ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہہ رہے تھے۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب؟
مجھے کچھ بتائیں گے آپ یا نہی؟
اسد کو بھی ساتھ لے کر آئے ہیں آپ’اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟
آپ کو ڈر نہی لگتا؟
نہی۔۔۔وہ پھر سے رامین کی طرف بڑھا’
نہی لگتا مجھے ڈر!
“محبت میں طاقت ہی ایسی ہوتی ہے”
“محبت سارے ڈر نکال دیتی ہے دلوں سے’خیال رہتا ہے تو بس محبوب کا۔
“جیسے مجھے تمہارا۔
پرنس کی بات پر رامین نے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
ان سب باتوں کا اب کوئی مطلب نہی’آپ جا سکتے ہیں یہاں سے۔
میری شادی ہو چکی ہے’
چلے جائیں میری زندگی سے،،
یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو’پرنس نے رامین کا رخ اپنی طرف موڑا۔
چھوڑیں مجھے!
ہاتھ مت لگائیں مجھے’
رامین نے اپنے بازو سے پرنس کا ہاتھ ہٹایا اور تھوڑے فاصلے پر جا رکی۔
پرنس نے حیرت سے رامین کی طرف دیکھا۔
آپ کو کوئی حق نہی ہے مجھے ہاتھ لگانے کا’
کوئی حق نہی آپ کو میرے پاس آنے کا’
کوئِی حق نہی آپ کو میرے کمرے میں آنے کا’
کوئی حق نہی آپ کو!
رامین روتے ہوئے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے فرش پر بیٹھ گئی۔
کمرے میں لائٹ بند ہو گئی’باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔
کھڑکی سے چھن چھن چمکتی چاند کی روشنی کمرے میں داخل ہونے لگی۔
کوئی حق نہی آپ کو بار بار میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کا۔
رامین کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
پرنس چلتا ہوا رامین تک آیا’گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“مجھے پورا حق ہے تمہاری زندگی میں دخل کرنے کا’
مجھے پورا حق ہے اس کمرے میں آنے کا اور مجھے پورا حق ہے تمہیں چھونے کا”
پرنس کی بات پر رامین نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔
“مذاق لگ رہا ہے آپ کو یہ سب کچھ’آخر چاہتے کیا ہیں آپ مجھ سے؟
رامین چلائی۔۔۔!!
“ابھی تک نہی سمجھی تم!
کیا چاہتا ہوں میں’اب تک تو سمجھ جانا چاہیے تھا’
اُفففففف۔۔۔۔پرنس کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے’
اس نے رامین کو بازو تھامتے ہوئے اسے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔
رامین اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر ناکام رہی۔
پرنس نے رامین کا بازو چھوڑ دیا اور ہاتھ اپنے نقاب کی طرف بڑھایا۔
رامین اپنا بازو سہلاتے ہوئے پرنس کی طرف دیکھنے لگی’
“”پرنس کے چہرے سے نقاب ہٹا””
رامین گرتے گرتے بچی!
اس نے خود کو سنبھالنے کے لیے دیوار کا سہارا لیا۔
اگر رامین کا دیوار کا سہارا نا لیتی تو شاید گر جاتی۔
وہ مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔
رامین کو بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے قریب کیا’اور اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔
رامین گُم سُم سی بس اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
چاند کی روشنی میں یہ چمکتا،مسکراتا چہرہ’رامین کے دل کی دھڑکن بڑھ چکی تھی۔
احتسام۔۔۔۔!!
آپ پرنس؟
رامین بہ مشکل بس اتنا ہی بول سکی۔
“جی میں ہی ہوں تمہارا پرنس”
“تمہارا شریف چور”
احتسام نے سر سے کیپ اتارتے ہوئے رامین کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرایا۔
رامین کو لگا شاید وہ خواب دیکھ رہی ہے’اس نے ہاتھ بڑھا کر احتسام کے چہرے کو چھوا۔
یہ سچ میں احتسام ہیں’رامین حیرت کُن نظروں سے احتسام کو دیکھی جا رہی تھی۔
رامین کا سر چکرایا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
وہ احتسام کے بازووں میں ہی گر گئی’
رامین۔۔۔!
احتسام پریشانی سے رامین کے گال تھپتپانے لگا۔
رامین آنکھیں کھولو!
احتسام کے چہرے پر پسینے آنے لگے’رامین کا چہرہ ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔
احتسام نے جلدی سے رامین کو بیڈ پر لے آیا۔اس کے ہاتھ پیر رگڑنے لگا۔
مگر رامین کو ہوش نہی آیا۔
کمرے میں پانی نہی تھا۔
احتسام جلدی سے باہر کی طرف دوڑا۔
پانی کا گلاس لے کر تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا۔
پانی کے چھینٹے پڑے تو رامین نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں۔
احتسام کی جان میں جان آئی!
رامین!
مجھے ڈرا دیا تم نے’احتسام کا سانس پھول چکا تھا۔
رامین اٹھ کر بیٹھ گئی۔
رامین۔۔احتسام نے رامین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
رامین نے احتسام کا ہاتھ جھٹک دیا اور بیڈ سے نیچے اتر کر دروازے کی طرف بڑھی۔
احتسام تیزی سے اس کے سامنے آ رکا۔
کہاں جا رہی ہو رامین؟
مجھے جانا ہے یہاں سے’آپ راستے سے ہٹ جائیں احتسام۔۔۔؛
پرنس۔۔۔سمجھ میں نہی آ رہا آپ کو احتسام بولو یا پرنس۔
احتسام دروازے سے ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے رامین کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“اس کمرے میں رامین کا پرنس ہوں میں’اس کمرے سے باہر صلہ کا احتسام ہوں”
ابھی ہم کمرے میں ہیں تو اس لحاظ سے تم مجھے پرنس ہی بولو گی۔
“مجھے کچھ بھی نہی بولنا آپ کو آپ ہٹیں میرے راستے سے’مجھے جانا ہے۔
مجھے نہی رہنا دو چہروں والے انسان کے ساتھ”
“چہرے بھلے ہی دو ہیں’مگر دل تو ایک ہی ہے۔
اور اس دل میں بسنے والی تم ہی ہو۔
“میری پہلی اور آخری محبت’رامین صدیق احمد”
“یہ کیسی محبت ہے آپ کی احتسام؟
پرنس۔۔۔احتسام نے اس ٹوکا’
ہاں ہاں ٹھیک ہے مسٹر پرنس!
رامین ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔
آپ مجھے اس دن ہی پہچان گئے تھے جب میں آپ کو پارک میں ملی تھی’
لیکن میں آپ کو نہی پہچان سکی’کیوں؟
اور ایک بات’آج آپ کی آنکھیں پہلے والی نہی ہیں۔
یہ پرنس والی آنکھیں ہیں’احتسام کی آنکھیں الگ تھیں۔
اب یہ تو تمہیں پتہ ہو رامین شاید تمہاری محبت سچی نہی تھی’احتسام مسکراتے ہوئے بولا’
رامین نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا’
احتسام مسکرا دیا’
مزاق کر رہا تھا۔
“جانتا ہوں ہماری محبت سچی تھی”
“محبت اگر سچی نا ہوتی تو آج ہم اس مقام پر نا ہوتے۔
اور رہی بات آنکھوں کی تو آو میں کچھ دکھاتا ہوں تمہیں۔
رامین کا بازو تھامتے ہوئے اسے ڈریسنگ تک لے گیا۔
دراز میں سے لینز باکس نکال کر رامین کے سامنے رکھ دیے۔
جس دن پارک میں ہماری ملاقات ہوئی میں تیزی سے وہاں سے چل پڑا۔
اس لیے کہ تم میری آنکھوں سے پہچان نا لو محھے’
تین سال بعد تمہیں سامنے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔
اور تمہارا حلیہ!
مجھے افسوس ہوا’تمہیں ٹریکنگ سوٹ میں دیکھ کر۔
کہاں وہ خود کو چادر میں چھپا کر رکھنے والی رامین صدیق احمد”
اور کہاں یہ ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس مسز اظہر!
اظہر کے لیے میرے دل میں چھپی نفرت پھر سے جاگی۔
کیا سے کیا بنا دیا اس نے تمہیں’
میرے دل میں تمہارا وہ معصوم سا چہرہ ابھرا’جب تم زمین پر بیٹھی تھی۔
اور وہ دونوں لڑکوں نے تمہارے سر سے چادر اتاری تھی۔
جب میں نے تمہیں چادر اوڑھائی تو تم نے ایک بار بھی مڑ کر پیچھے نہی دیکھا۔
یہ بھی نہی دیکھا کہ چادر اوڑھانے والا کون ہے۔
تمہارا معصوم سا چہرہ میری آنکھوں میں بس چکا تھا۔
دل میں چھپی محبت پھر سے جاگی آئی’جس وجود سے میں دور بھاگتا آ رہا تھا۔
آج وہ وجود میرے سامنے تھا’
اپنی آنکھوں کی حیرت میں تم پر واضح نہی کرنا چاہتا تھا’دل ڈر چکا تھا۔
اگر تم مجھے پہچان لیتی تو پتہ نہی کیا ہو گا۔
تم کچھ دیر پارک کے باہر رکی’اور پھر اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
میں وہاں نہی رکا’جلدی سے وہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔
مگر میرا وجود میرا ساتھ نہی دے رہا تھا’دل چاہ رہا تھا کہ ابھی تمہیں سب کچھ بتا دوں۔
“بتا دوں تمہیں کہ میں پرنس ہوں رامین”
مگر نہی کر سکا میں یہ’یہ سوچ کر کہ تم اپنی زندگی میں خوش ہو اظہر کے ساتھ۔
مگر اظہر نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس کے بعد مجھے خود کو اور اپنی فیملی کی حفاظت بھی کرنی تھی۔
میں نے تمہارے گھر سے کچھ فاصلے والے گھر سے ایک آنٹی سے اظہر کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔
میں نے اس انداز میں ان سے پوچھا کہ ان کو شک ہی نہی ہوا مجھ پر۔
پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ گھر صلہ کا ہے’جو اپنی چھوٹی بہن اور پیرنٹس کے ساتھ یہاں رہتی ہے۔
مجھے حیرانگی ہوئی’رامین نے اپنا نام صلہ کیوں رکھ لیا۔
پھر میں سمجھا شاید یہ گھر اظہر نے خرید کر دیا ہو تمہارے اماں ابا کے لیے۔
اور ہو سکتا ہے تم چند دن ان سے ملنے آئی ہو۔
پھر چھوٹی بہن؟
تمہاری تو کوئی بہن نہی تھی’میں الجھنوں میں الجھ چکا تھا۔
اسی لیے اگلے ہی دن میں نے یہ لینز خریدے اور اس دن سے آنکھوں میں لینز لگائے بغیر باہر نہی نکلا کبھی۔
ایک رات تم نے میری گاڑی کا پیچھا کیا’میں نے جان بوجھ کر گاڑی گھر سے آگے بڑھا دی۔
تا کہ تمہیں یہ لگے کہ یہ گھر میرا نہی ہے’لیکن تم میرا پیچھا کرتی رہی۔
اور پھر مجبوراً گاڑی روکنی پڑی۔
تمہیں سمجھایا’مگر تم پر کسی بات کا کوئی اثر نہی پڑا۔
پھر تم گھر تک پہنچ گئی’مجھے شدید غصہ آیا’تم شادی شدہ ہوتے ہوئے میرا پیچھا کر رہی تھی۔
اگر اظہر کو پتہ چل جاتا اس بارے میں تو پتہ نہی کیا سلوک کرتا وہ تمہارے ساتھ’
مجھے بس یہی فکر کھائی جا رہی تھی۔
یہ بات مجھے بلکل اچھی نہی لگی’
اس کے بعد جو تم کیا وہ تو حد سے بڑھ کر تھا’
تم نے میری اور امی کی ساری باتیں سن لی تھیں۔اور پھر تم نے مجھے ہانیہ کی شادی کے لیے پیسے دینے کی آفر کی’اور بدلے میں نکاح کی شرط رکھی۔
اس دن میرا دماغ آوٹ آف کنٹرول ہو گیا’میں نے غصے سے تمہیں کمرے سے باہر نکال دیا۔
ایسا کیسے کہہ سکتی تھی تم شادی شدہ ہو کر نکاح کی بات کر رہی تھی۔
اس کے بعد تم نے کبھی ملنے کی کوشش نہی کی’البتہ پھر بات فون تک آ گئی۔
تم روز کال کرتی۔۔صرف میری آواز سننے کے لیے’
ایک دن آخر کار مجھے سمجھ آ ہی گئی رانیہ کے کہنے پر کہ یہ کال تمہاری ہے۔
اور یہ بات سچ ثابت ہوئی’تم نے کہا کہ تمہیں کوئی طاقت کھینچ لاتی ہے میری طرف۔
تم چاہ کر بھی مجھ سے دور نہی جا پا رہی تھی۔
میرے دل میں نا جانے کیوں تمہارے لیے نرمی پیدا ہونے لگی۔
میں کیسا بتاتا تمہیں کہ یہ میری محبت کی طاقت ہے جو تمہیں میری جانب کھینچ لاتی ہے۔
مگر میں نہی کہہ سکا’کیسے کہتا تم سے۔
مجھے لگا شاید تم پہچان چکی ہو مجھے اور یہ سب اس لیے کر رہی ہو تا کہ میں خود سچائی بتا دوں تمہیں۔
فون بند کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ کل تم سے ملاقات کروں گا’اور تمہیں سارا سچ بتا دوں گا کہ میں ہی پرنس ہوں۔
مگر اگلے دن جو ہوا میں کبھی سوچ بھی نہی سکتا تھا۔
باس نے مجھ سے کہا کہ ایک پارٹی پر جانا ہے۔
انہوں نے مجھے پانچ لاکھ قرض جو دے دیا تھا’میں ان کے احسانات تلے دبا ان کو انکار نہ کر سکا۔
مگر مجھے حیرت ہوئی پارٹی کے نام پر وہ مجھے کوٹھے پر لے گئے۔
میں اس ماحول سے لا تعلق چپ چاپ ایک کونے میں فون میں مصروف بیٹھا رہا۔
مگر پھر باس کی نخوست بھری آواز میرے کانوں میں پڑی’
میں نے فون سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا!
سامنے کا منظر دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی۔
رامین صدیق احمد پاوں میں گھنگھرو باندھے ناچ رہی تھی۔
میرا دل چاہا ابھی زمین پھٹے اور میں اس میں دفن ہو جاوں۔
میں جو سوچ رہا تھا میرے تم دونوں کی زندگی سے دور چلے جانے سے تمہاری مشکلات دور ہو چکی ہیں۔
تم خوش ہو گی اظہر کے ساتھ’
مگر میری ساری خوش فہمیوں پر پانی پھیر گیا جب میں نے تمہیں وہاں دیکھا۔
پتہ ہی نہی چلا کب میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
میں نے وہاں سے اٹھ کر جانا چاہا مگر میرا وجود میرا ساتھ نہی دے رہا تھا۔
میں بے جان پتھر بن چکا تھا’
بہت ہمت کر کے وہاں سے اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی میرے قدم تمہاری طرف بڑھنے لگے۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ میں کتنا لا پرواہ ہوں۔
یہ سب میری لا پرواہی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔
صرف اور صرف میری وجہ سے تم ان حالات تک پہنچی۔
ک
“کاش میں ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھ لیتا’
تمہیں ٹوٹ کر گرنے سے بچا لیتا”
میں بہت شرمندہ ہوں تم سے’
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا!
احتسام رامین کے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔
رامین نے سر نفی میں ہلا دیا’
نہی۔۔۔اس میں آپ کی کوئی غلطی نہی تھی۔
آو یہاں بیٹھو!
احتسام رامین کو صوفے تک لے آیا’
رامین احتسام کے کندھے پر سر ٹکائے آنکھیں موند گئی۔
اس کے بعد جب میں تمہیں لے کر تمہارے گھر پہنچا۔۔۔!
احتسام چند بولتے بولتے چپ ہو گیا۔
چند پل خاموش رہنے کے بعد پھر سے بولنا شروع ہو گیا۔
میں نے بازووں میں اٹھا رکھا تھا تمہیں’
جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تمہارے بابا سامنے کھڑے تھے۔
ان کے چہرے پر غصہ واضح تھا۔
میں روشنی کو تمہارے پاس کمرے میں چھوڑ کر باہر آیا تو وہ میرے ہی انتظار میں کھڑے تھے۔
احتسام کیا ہے یہ سب؟
وہ غصے میں مجھ پر چلائے۔۔۔!
وہ مجھے پہچان چکے تھے۔
ابا نے کیسے پہنچانا آپ کو؟
آپ ابا سے پہلے کب ملے تھے؟
رامین نے حیرت سے سر اوپر اٹھایا۔۔!
ہم مل چکے تھے پہلے بھی ایک بار تمہارے گھر کے باہر’
تمہارے نکاح کے بعد۔۔شاید تمہیں یاد ہو۔
میں اسد کے ساتھ آیا تھا’
رامین کو یاد آیا جب ابا نکاح والے دن دروازہ ناک ہونے پر باہر گئے تھے۔
کافی دیر بعد گھر واپس آئے تھے’بہت پریشان تھے۔
میں نے ان کو اظہر کے کالے کرتوتوں کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔
ان کو بہت سمجھایا کہ اس شادی سے انکار کر دیں۔
رامین کو اس شادی سے دکھوں کے سوا کچھ حاصل نہی ہو گا۔
مگر انہوں نے میری کسی بات پر یقین نہی کیا۔
آخر کار وہ وہاں سے چل پڑے’
مجھے یہ کہتے ہوئے کہ تم میری بیٹی سے شادی کرنے کے لیے اس کا گھر برباد کرنا چاہتے ہو۔
میں ایسا نہی ہونے دوں گا’
وہ غصے میں وہاں سے چل پڑے’
اس کے بعد میرے پاس تم سے بات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہی رہا۔
“میں تمہیں لینے آیا’
بہت سمجھایا تمہیں بھی مگر تم نے بھی میری کوئی بات نہی مانی’
مجبوراً مجھے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔
“جانتی ہو رامین جس شام تمہاری رخصتی تھی’اس شام میں نے جان سے پیارے دو رشتوں کو کھو دیا۔
ایک طرف مجھے میری محبت کے کھونے کا غم تھا’اور دوسری طرف میرے بابا مجھے تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے،،
“غم کس کو کہتے ہیں یہ مجھے اس رات پتہ چلا’جب میں نے اپنے بابا کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا،،
مجھٙے ایسا لگا جیسے میں بھی مر چکا ہوں’
زندگی ختم ہو چکی ہو جیسے،
سب کچھ ختم ہو چکا تھا’
مگر پھر مجھے خود کو سنبھالنا پڑا۔
“امی اور بہنوں کی خاطر چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجا لی میں نے’
اپنی زندگی کو ان تینوں کے وقف کر دیا۔
خوشیاں،محبت دھیرے دھیرے سب پیچھے رہ گیا۔
“زندگی کا مقصد ہی یہی ہے’ اپنوں کی خاطر خود کو بھلا کر جینا یہی زندگی ہے”
مگر جب تین سال بعد دوبارہ دیکھا تمہیں تو آنکھوں پر یقین ہی نہی آ رہا تھا مجھے’
“محبت مل جائے تو زندگی سنوار دیتی ہے’نا ملے تو مریض بنا دیتی ہے”
ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا تھا۔
تین سال سے میں جن زخموں کو چھپائے پھیر رہا تھا۔
تین سال بعد وہ زخم پھر سے تازہ ہونے لگے۔
نفرت مزید بھڑنے لگی تھی’یا محبت بڑھنے لگی تھی میں سمجھ نہی پا رہا تھا۔
پھر اس رات نفرت ختم ہو گئی۔۔اور محبت بڑھنے لگی۔
تمہارے بابا نے بتایا جو کچھ اظہر نے تمہارے ساتھ کیا۔
طلاق دے کر گھر سے نکال دیا’
کہنے لگے مجھے نہی پتہ تھا میری بیٹی کن حالات سے گزر رہی تھی۔
اس سب کا زمہ دار وہ خود کو سمجھ چکے تھے۔
وہ مجھ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگے۔
میں نے ان کے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیے’اور ان کو یقین دلایا تمہیں تخفظ دینے کا۔
ان سے عہد کر لیا میں نے کہ اب مزید غم نہی دیکھنے دوں گا رامین کو۔
مگر وہ خود کو اپنی بیٹی کی بربادی کی وجہ سمجھتے ہوئے یہ صدمہ برداشت نہی کر سکے۔
بیٹی کو رخصت کیے بنا ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اور چند دنوں بعد تمہاری ماما بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ایسے حالات میں ہمارا نکاح ہونا بہت ضروری ہو چکا تھا۔
میں تمہیں اکیلا نہی چھوڑ سکتا تھا’
محلے والوں کو میرا تمہارے گھر آنا ناگوار گزرنے لگا۔
میں مناسب وقت دیکھ کر امی سے بات کرنا چاہتا تھا اور تمہیں بھی سنبھلنے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔
ایسے میں اگر میں شادی کی بات کرتا تو تم مجھے خود غرض سمجھتی۔
اسی لیے بات نہی کر سکا میں تم سے’مگر محلے والوں کے انگلی اٹھانے پر مجھے یہ فیصلہ اسی وقت کرنا پڑا۔
پھر تم رامین صدیق احمد سے رامین احتسام بن کر میری زندگی میں شامل ہو گئی ہمیشہ کے لیے۔
احتسام نے رامین کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے’محبت کی مہر ثبت ہوئی۔
رامین پر سکون ہو کر احتسام کے سینے پر سر رکھ دیا۔
بہت بڑے دھوکے باز ہیں آپ میرے شریف چور!
رامین نے احتسام کا کان کھینچا’
بہت تنگ کیا ہے آپ نے مجھے!
آپ کو سزا ملے گی۔
کیا سزا ملے گی یارر میرا کان تو چھوڑ دو احتسام کی ہنسی غائب ہو چکی تھی۔
رامین نے ہنستے ہوئے احتسام کا کان چھوڑ دیا’یہ بدلہ تھا میری ناک دبانے کا۔
رامین تیزی سے اٹھ کر ڈریسنگ کی طرف بڑھی اور جویلری اتارنے لگی۔
“احتسام نے رامین کے گرد بازوں کا حصار بنا دیا’معاف کر دو اپنے شریف چور کو”
رامین مسکرا دی’چور تو چور ہی ہوتا ہے”
“چور کبھی بھی شریف نہی ہوتا”
احتسام مسکرا دیا’
ہوتا ہے۔۔۔میں نے کسی کا کچھ نہی چرایا کبھی۔
بس چرایا ہے تو رامین صدیق احمد کا دل چرایا ہے۔اسی لیے میں شریف چور ہوں۔
احتسام کے جواب پر رامین مسکرا دی۔
مطلب آپ وہ والے چور نہی ہیں!
میرا دل چرانے والے شریف چور ہیں۔
ہمممم۔
تھینکس میری زندگی میں آنے کے لیے’میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنانے کے لیے۔
“رامین احتسام کے سینے میں منہ چھپائے محبت کا اظہار کر رہی تھی۔
احتسام نے اس کے ماتھے سے بندیا ہٹا کر ہونٹ رکھ دئیے۔
اور رامین کی انگلی میں سونے کی خوبصورت انگوٹھی پہنا دی۔
رامین نے مسکرا کر تخفہ قبول کیا۔
خوشیوں سے بھری نئی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔
محبت کو اپنی منزل مل ہی گئی آخر’
محبت اگر روح سے ہو تو ایک نا ایک دن مل ہی جاتی ہے۔
اگلے دن ولیمے کا فنکشن بھی خیر و عافیت سے گزر گیا۔
اسد کی فیملی بھی اس فنکشن میں شریک ہوئی۔
ثوبیہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ آئی۔
اس کی شادی چند ماہ پہلے ہی ہوئی تھی۔
دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب اشکبار ہوئیں۔
دونوں اتنے عرصے بعد ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش تھیں۔
گھر والوں کی محبت اور احتسام کا ساتھ پا کر رامین پھر سے جینے لگی۔
روشنی بھی بہت خوش تھی اتنی اچھی فیملی جو مل گئی تھی اسے۔
شادی کے دو ماہ بعد ہی احتسام کو آفس کی طرف سے ملائیشیا ٹرانسفر کی آفر ملی فیملی کے ساتھ۔
احتسام نے گھر والوں کو یہ خبر سنائی تو سب بہت خوش ہوئے۔
احتسام نے رانیہ کی رخصتی کے بعد ملائیشیا شفٹ ہونے کے بارے میں فیصلہ کیا۔
خیریت سے رانیہ کی رخصتی کا وقت بھی گزر گیا۔
احتسام نے روشنی،امی اپنا اور رامین کا پاسپورٹ،ویزہ سب تیار کروا لیا۔
ان کی ملائیشیا جانے کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔
ان کی فلائٹ سے ایک دن پہلے اچانک رامین کی طبیعت خراب ہو گئی۔
احتسام رامین کو لے کر ہاسپٹل پہنچا’جہاں ان کو ایک خوشخبری ملی۔
رامین ماں بننے والی تھی’دونوں بہت خوش تھے یہ خبر سُن کر۔
دونوں اپنی ہی خوشی میں مگن چلتے آ رہے تھے کہ اچانک احتسام کسی شخص سے ٹکرایا۔
احتسام سے ٹکراتے ہی ول شخص گرتے گرتے بچا’احتسام نے اسے گرنے سے بچا لیا۔
جیسے ہی اس نے چہرہ اوپر اٹھایا’احتسام کے چہرے کے آثار بدلے۔
رامین احتسام کے پیچھے جا چھپی’مظبوطی سے احتسام کا بازو تھام لیا۔
ڈر سا لگنے لگا’کہی پھر سے یہ شخص اِن دونوں کو جدا نا کر دے۔
احتسام نے رامین کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے تخفظ کا احساس دلایا۔
احتسام نےرامین کو کندھے سے تھامتے ہوا اپنے برابر لا کھڑا کیا۔
سامنے اظہر ملک کھڑا تھا’
بکھرے بال،بڑھی ہوئی شیو،آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے۔
وہ آنکھیں جو کبھی اس چہرے کی رونق ہوتی تھیں’وہ آنکھیں آج مدھم پڑ چکی تھیں۔
آج آنکھوں پر سیاہ چشمہ بھی نہی تھا۔
پرانے سے کپڑے’
وہ بہت بیمار لگ رہا تھا۔
مہنگے کپڑے،مہنگے شوق سب کچھ برباد ہو چکا تھا۔
اس کا غرور ختم ہو چکا تھا۔
احتسام اور رامین کو ساتھ دیکھ کر اس کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
اس نے رامین کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے۔
مجھے معاف کر دو رامین!
رامین نے حیرت زدہ نگاہوں سے اظہر کی طرف دیکھا۔
تو کیا یہ شخص اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا’
اس کا غرور ٹوٹ چکا تھا۔
وہ نظریں جھکائے دونوں ہاتھ رامین کے سامنے جوڑے کھڑا تھا۔
رامین کو قدرت کے انصاف پر یقین آ گیا۔
احتسام چلیں یہاں سے’رامین احتسام کا ہاتھ تھامتے ہوئے آگے بڑھی۔
احتسام بھی اس کے ساتھ چل پڑا۔
نہی رامین تم ایسے نہی جا سکتی مجھے معاف کیے بنا!
وہ تیزی سے ان کے راستے میں آ رُکا۔
مجھے معاف کرنا ہی ہو گا تمہیں رامین۔
ایسے نہی جانے دوں گا میں تم دونوں کو یہاں سے’
“جب سے تم گھر سے گئی ہو میرا ایک بھی دن سکون سے نہی گزرا’
کہاں کہاں نہی ڈھونڈا میں نے تمہیں’
تمہارے جانے کے بعد جب ماما کو پتہ چلا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے تو وہ یہ صدمہ برداشت نہی کر سکیں۔
ان کو شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا’تین دن آئی سی یو میں ایڈمٹ رہنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
ماما کی دیتھ کے چند دن بعد ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔
وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
فیکٹری کا سارا بوجھ میرے سر پر آ گیا’میں نے کبھی انٹرسٹ لیا ہوتا تو بزنس سنبھالتا ناں۔
دن بدن میں قرضوں میں ڈوبتا چلا گیا’
نقصان پر نقصان ہوتا چلا گیا۔
فیکٹری کو لا وارثوں کی طرح چھوڑ دیا میں نے’
میری راتیں شراب خانوں میں گزرنے لگیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں بیمار رہنے لگا’
اور میری لاپرواہی کی وجہ سے مجھ سے فیکٹری چھین لی گئی۔
فیکٹری کو بیچ کر بھی سارا قرضہ نا اتار سکا میں۔
پھر آخر کار گھر،گاڑیاں سب بیچنا پڑا مجھے اور میں بھکاریوں کی طرح سڑک پر آ گیا”
جس دن میرے سر سے چھت چھین گئی اس دن مجھے یہ سمجھ میں آیا کہ یہ سب تمہارے ساتھ کی گئی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے۔
تب سے ہی تمھے پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا پھر رہا ہو۔
تمہارے گھر بھی گیا وہاں تالا لگا ہوا تھا۔
رامین ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
“میں تمہیں معاف نہی کروں گی ملک اظہر”
تم اسی لائق ہو’تم نے میری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیا بھگتو اب!
احتسام چلیں یہاں سے!
رامین تیزی سے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔
اظہر جلدی سے احتسام کے سامنے آ رکا’
احتسام۔۔۔!
احتسام نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔
“ہم تو دوست تھے نا اظہر؟
پھر کیوں کیا تم نے ایسا میرے ساتھ؟
احتسام کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
“میں نے تمہیں معاف کیا’احتسام خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔
آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا۔
رامین معاف کر دے گی تمہیں’اپنا انجام تم بھگت رہے ہو۔
احتسام ایک آخری نظر اظہر پر ڈالتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔
رامین دیوار کی طرف رُخ موڑے آنسو بہا رہی تھی۔
احتسام نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو رامین آنسو صاف کرکے مسکراتے ہوئے احتسام کی طرف پلٹی۔
چلیں۔۔احتسام نے مسکراتے ہوئے رامین کا ہاتھ تھام لیا۔
رامین نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
دونوں مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف چل پڑے۔
گھر پہنچے تو امی اور روشنی سو چکی تھیں۔
احتسام رامین کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔
رامین کچھ دکھانا ہے تمہیں’
کیا۔۔؟
احتسام نے اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
اتنے مہینوں میں رامین اس کمرے کو بھول ہی چکی تھی۔
احتسام نے جیب سے چابی نکال کر کمرے کا دروازہ کھولا۔
رامین کو اندر جانے کو بولا’
رامین اندر داخل ہوئی تو احتسام نے کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔
سامنے کا منظر دیکھ کر رامین پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا۔
احتسام،اسد اور اظہر کی بے شمار تصویریں دیواروں پر لگی ہوئی تھیں۔
بچپن سے لے کر جوانی تک کی تینوں کی شرارتیں ان تصویروں میں قید تھیں۔
ان کی دوستی کتنی گہری تھی’ان کی آنکھوں کی چمک سے ہی اندازہ ہو رہا تھا۔
تینوں ایک ساتھ کندھوں سے کندھے ملائے ان تصویروں میں سمائے تھے۔
رامین نے سوالیہ نظروں سے احتسام کی طرف دیکھا۔
“بچپن کے دوست تھے ہم تینوں۔
اظہر نے دوستی میں بے ایمانی کر دی۔
ہم تینوں ایک دوسرے سے کوئی بات نہی چھپاتے تھے۔
اسد نے تمہارا ذکر کر دیا اظہر کے سامنے!
جب فیکٹری میں تمہارا اظہر سے ٹکراو ہوا۔
اس کے بعد وہ تمہارے گھر تک پہنچا’اسد کی نظروں سے چھپا نہی تھا۔
اسد نے مجھے کچھ نہی بتایا’
مگر جب میں نے تمہارے پاس اظہر کا فون دیکھا اور مجھے تم نے سب بتایا اظہر کے بارے میں تو مجھے حیرانگی بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا۔
میں نے اظہر کے آفس میں کال کی’جانتا تھا وہ آفس میں ہی ہو گا اس وقت۔
اور حسبِ توقع فون اسی نے اٹھایا۔
میں نے اظہر سے جب اس سارے معاملے کے بارے میں پوچھا تو وہ غصے سے پھٹ پڑا۔
کہنے لگا تم رامین تک کیسے پہنچے اور میرا فون تمہارے پاس کیسے؟
میں نے اسے وارن کیا کہ رامین سے دور رہے’مگر وہ غصے سے سیخ پا ہو گیا۔
اس نے مجھ سے ضد لگانی شروع کر دی’اور پھر تم سے نکاح کر لیا اس نے!
وہ بچپن سے ہی ایسا تھا ضدی،ایک بار جو کام کرنے کا ٹھان لے کر کے ہی چھوڑتا تھا۔
چاہے اس کے لیے غلط طریقہ ہی کیوں نا استعمال کرنا پڑے۔
وہ سگریٹ بھی پیتا تھا’اور شراب بھی۔
ہم نے بہت بار سمجھایا اسے مگر وہ ہماری ایک نہی سنتا تھا۔
اپنی ضد منوا کر چھوڑتا تھا۔
لیکن مجھے یہ نہی پتہ تھا کہ ایک دن اس کی یہ ضد منوانے کی عادت میری خوشیاں نگل جائے گی۔
دوست ہو کر وہ میرا دشمن بن گیا’
مجھ سے شرط لگائی کہ تمہیں مجھ سے جیت کر دکھائے گا۔
“وہ شرط تو جیت گیا مگر دوستی ہار گیا”
رامین نے احتسام کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
احتسام رامین کو دیکھ کر مسکرا دیا اور دونوں کمرے سے باہر نکل آئے۔
کمرے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
صبح احتسام نے امی کو جب خوشخبری سنائی تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہی رہا۔
سب کو فون کر کے بتانے لگیں۔
رانیہ اور ہانیہ بھی بھاگی آئیں’
ان سب کو ائیرپورٹ چھوڑ کر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
رات دس بجے وہ لوگ ائیرپورٹ سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہو گئے۔
کمپنی کی طرف سے ان فلیٹ دیا گیا۔
چند دن بعد احتسام نے روشنی کا ایڈمیشن کروا دیا سکول میں۔
وہ بہت ڈر رہی تھی سکول جاتے ہوئے۔
احتسام اور رامین نے اسے یقین دلایا کہ اس کی چچی یہاں نہی آ سکتیں۔
یہ ملاِیشیا ہے پاکستان نہی’
آہستہ آہستہ روشنی میں خود اعتمادی پیدا ہونے لگی’اور وہ خوشی خوشی سکول جانے لگی۔
احتسام آفس میں مصروف رہتا سارا دن شام کو تھکا ہارا گھر آتا۔
رامین اور احتسام کی امی سارا دن گھر میں بور ہوتی رہتیں۔
پھر ایک دن رامین کو خیال آیا کیوں نا کپڑے ڈیزائیننگ کا کام شروع کر دوں۔
مصروف ہو جاوں گی دل بھی لگا رہے گا۔
رامین نے یہ آئیڈیا احتسام اور امی کے سامنے رکھا’دونوں نے اس کا ساتھ دیا۔
رامین کے بنائے گئے ڈیزائن مختلف کمپنیز کو پسند آئے۔
یوں رامین ایک ڈیزائینر بن گئی۔
چند ماہ بعد اللہ نے ان کو ایک ننھی پری سے نوازا۔
جس کا نام انہوں نے نبیرہ رکھا۔
“نبیرہ مطلب جنت کا پھل۔
نبیرہ سب کی آنکھ کا تارا بن گئی۔
سارا دن دادو کے پاس رہتی اور جیسے ہی رامین گھر آتی اس سے چپک جاتی۔
اور احتسام کی تو جان بستی ہے نبیرہ میں’
جیسے ہی گھر آتا نبیرہ کو ڈھونڈنے لگ جاتا اگر وہ سوئی بھی ہوتی تو اسے گود میں اٹھا کر جگا دیتا۔
جب رونے لگتی تو رامین یا امی کو تھما دیتا۔
زندگی اچھی گزر رہی تھی۔
“رامین کو اس کا پرنس مل گیا”
“مشکل وقت جتنا بھی ہو آخر کار گزر ہی جاتا ہے’بس اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور ہمت نہی ہارنی چاہیے۔

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *