Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 01)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
صبح کا وقت تھا گھر میں ابھی ناشتے کی تیاری چل رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔اہلخانہ پریشانی سے ایک دوسرے کو تکنے لگ پڑے۔سب ہی جانتے تھے کہ کون ہو سکتا ہے صبح صبح دروازے پر۔آخر کار صدیق صاحب دروازے کی طرف بڑھے۔
رامین کی اماں تم اندر جاو کو رامین کو لے کر میں دیکھتا ہوں۔وہ دونوں ماں بیٹی اندر کی طرف بڑھ گئیں۔ان کے چیرے پر پریشانی واضح تھی۔
صدیق صاحب نے جونہی دروازہ کھولا۔سامنے موجودہ شخص کو سلام کیا۔مگر وہ بنا سلام کا جواب دئیے لعن طعن کرنا شروع ہو گیا۔اگر دو دن کے اندر مجھے کرایہ نہی ادا کیا تو اپنا انتظام کر لو بھائی۔پچھلے دو ماہ سے کرایہ نہی دیا تم نے۔ہر روز کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتے ہو۔
مگر اب میں مزید برداشت نہی کروں گا۔کان کھول کر سن لو تم کل شام کو آوں گا میں دوبارہ کرایہ وصول کرنے۔اگر کرایہ نہی ملا تو کل شام سے پہلے پہلے اپنا انتظام کر لینا تم۔مالک مکان غصے سے چلا رہا تھا۔
بھائی صاحب میں نے بات کی ہے مینیجر سے ایک دو دن تک ایڈوانس مل جائے گا مجھے۔میں خود آپ کو کرایہ پہنچا جاوں گا آپ بے فکر ہو جائیں۔رامین کے ابا سر جھکائے کھڑے بول رہے تھے۔مگر مالک مکان نے ان کی ایک نہی سنی۔
بس کر دو صدیق احمد روز یہی کہتے ہو تم۔۔پچھلے تین ہفتوں سے یہی کہتے چلے آ رہے ہو تم۔بس اب اور نہی۔یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔
کل مجھے ہر حال میں کرایہ چاہیے۔اگر کل کرایہ نا ملا تو خود ہی اپنا سامان اٹھوا لینا تم۔نہی تو میں اٹھوا کر خود باہر پھینکوں گا۔مالک مکان اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بنا کوئی بات سنے وہاں سے چل پڑا۔
رامین کے ابا سر جھکائے اندر چلے آئے۔وہ اندر آ کر پریشانی کی حالت میں چارپائی پر آ بیٹھے۔دروازہ بند ہونے کی آواز پر دونوں ماں بیٹی باہر آ گئیں۔
رامین کی اماں روٹی بنانے لگ پڑیں چپ چاپ باہر سے مالک مکان کی چلاتی ہوئیں آوازیں سن چکی تھیں وہ اسی لیے بنا کچھ پوچھے آ کر روٹی بنانے لگ گئیں۔
رامین اپنے ابا کے پاس جا بیٹھی چارپائی پر۔ابا پریشان مت ہو آپ انتظام ہو جائے گا پیسوں کا آپ فکر نا کریں رامین تسلی دینے کے انداز میں بولی۔
ارے کہاں سے ہو جائے گا انتظام میں فیکٹری میں چپڑاسی ہوں مالک نہی۔رامین کے ابا مایوسی سے بولے۔
رامین کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔آپ ایسے کیوں بول رہے ہیں ابا اللہ سب بہتر کرے گا۔میرے ٹیوشن والے بچوں کی فیس بھی مل جائے گی آج شام۔
اور جو میں نے اور اماں نے پچھلے ہفتے جو کپڑے سلائی کیے تھے ان کے پیسے بھی مل جائیں گے ایک دو دن تک۔اور آپ کی تنخواہ بھی تو مل جائے گی تب تک۔
سب مل ملا کر دے دیں گے کرایہ مالک مکان کو۔رامین نے ان کو تسلی دینا چاہی مگر ناکام رہی۔
بس کر دو تم یہ تسلیاں مجھے مت دو۔تنخواہ آنے میں ابھی پانچ دن باقی ہیں۔اور کرایہ کل مانگ رہا ہے مالک مکان۔
دو مہینوں کا کرایہ ہے۔بارہ ہزار تنخواہ ہے۔دو ہزار بچے گا۔اس میں سے بجلی کا بل بھی ادا کرنا ہے گیس کا بھی اور پانی کا بھی۔
سمجھ نہی آ رہا کیسے ٹھیک ہو گا سب کچھ۔اچھا میں چلتا ہوں اب دیر ہو رہی ہے مجھے گیٹ بند ہو گیا تو چوکیدار اندر نہی جانے دے گا۔وہ بنا ناشتہ کیے تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئے۔رامین آوازیں دیتی رہ گئی ابا ناشتہ تو کرتے جائیں مگر وہ نہی رکے۔
رامین کی ابا چلے گئے تو رامین نے آگے بڑھ کر دروازے کی کنڈی لگائی اور واپس آ کر اماں کے پاس بیٹھ گئی۔وہ چپ چاپ آنسو بہا رہیں تھیں۔رامین کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ماں باپ کی پریشانی دیکھ کر۔
مگر وہ خود کو مظبوط بنانے کی کوشش میں لگی تھی۔اماں کیوں رو رہی ہو۔ہم کچھ نا کچھ کر لیں گے۔میری دوست ہے نا ثوبیہ اس سے کچھ پیسے ادھار لیے ہیں میں نے۔
رامین اندر کی طرف بڑھی۔واپس آ کر چند نوٹ اپنے کے سامنے رکھ دئیے۔
اماں یہ دیکھو۔ثوبیہ نے چھوٹی سی کمیٹی ڈالی ہوئی تھی۔جو اسے کل ہی ملی ہے۔میں نے اس سے پانچ ہزار ادھار مانگ لیے اور اس نے دے دئیے۔
اماں تم تو جانتی ہو نا میری دوست کو کتنی اچھی ہے وہ۔فکر نہی کرو تم شام تک مزید پیسوں کا انتظام ہو جائے گا۔رامین ان کو تسلی دینے کی کوشش کرنے لگی۔
پہلے تو رامین کی اماں کو تھوڑی تسلی ہوئی پیسے دیکھ کر لیکن اگلے ہی پل وہ پریشان ہو گئیں۔لیکن رامین اتنے سارے پیسے تم واپس کیسے کرو گی۔وہ پریشانی سے بولیں۔
رامین ان کی پریشانی بھانپ چکی تھی اماں کے سوال پر مسکرا دی۔اماں تم فکر مت کرو۔ ثوبیہ نے کہا ہے کہ میں اسے پانچ سو ہر مہینے دے دیا کروں۔پریشانی والی کوئی بات نہی ہے اماں۔
میں ابا کو یہی تو بتانے والی تھی مگر وہ رکے ہی نہی بنا کچھ کھائے پئیے ہی چلے گئے۔اب تم ہی بتاو اماں بھلا کھانے سے کیسی دشمنی۔کاش میں آپ دونوں کے لیے کچھ کر سکتی۔کاش میں آپ کی بیٹی نہی بیٹا ہوتی۔رامین رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
رامین کی اماں نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔نا میری بچی ایسے نہی کہتے۔تو بیٹوں سے کم تھوڑی ہے۔تو میرا بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی۔دکھ تو یہ ہے کہ میں اور تیرے ابا کچھ نہی کر سکے تیرے لیے۔
ایسا کیوں بول رہی ہو اماں۔ابا صبح سے لے کر شام تک فیکٹری میں نوکری کرتے ہیں۔تم آدھی رات تک کپڑے سلائی کرتی ہو۔کس کے لیے کرتے ہو تم دونوں میرے لیے ہی نا؟؟؟
تو پھر ایسا مت کہنا دوبارہ۔میری لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت ابا اور تم ہو اماں۔میں بس تم دونوں کے چہروں پر خوشیاں دیکھنا چاہتی ہوں ہمیشہ۔چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑا۔
میں نے بات کی ہے ثوبیہ سے جس سکول میں وہ پڑھا رہی ہے۔میرے لیے بھی بات کرے وہ میڈم سے۔امید ہے جلدی جواب آ جائے گا ان کی طرف سے۔تم بس دعا کرو اماں۔رامین ایک امید لگاتے ہوئے بولی۔
میری دعائیں تو ہمیشہ میری بیٹی کے ساتھ ہیں۔اللہ سب بہتر کرے گا۔انشاالل
اچھا اب تم یہ روٹی کھا لو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں۔پھر اپنے ابا کو بھی دے آنا روٹی جا کر کہ کر وہ نلکے کی طرف بڑھ گئیں۔جبکہ رامین ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔
رامین سیڑھیوں میں بیٹھی اس تین مرلے کے کرایے کے گھر کو دیکھ رہی تھی۔دو کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا سا کچا مکان، جب بارش ہوتی تو چھتیں ٹپک پڑتیں ہیں۔اور اگر کبھی رات کو بارش ہو جاتی تو ساری رات ان تینوں کو جاگ کر گزارنی پڑتیں۔
مالک مکان کرایہ تو وقت پر وصول کرنے آ جاتا تھا۔مگر مجال ہے کہ کبھی اس نے چھتیں ٹھیک کروانے بارے سوچا ہو۔جب بھی ان سے اس بارے میں بات کرتے رامین کے ابا تو وہ کوئی نا بہانہ بنا کر ٹال دیتا۔
اور ایک دفعہ تو اس نے یہ بھی کہ دیا کہ اگر نہی گزارا ہو سکتا تمہارا تو گھر خالی کر دو۔اس بات پر رامین کے ابا چپ ہو گئے۔اور دوبارہ کبھی انہوں نے ذکر نہی کیا اس بات کا مالک مکان سے۔
بارہ ہزار کی تنخواہ میں گھر کا کرایہ،بل بہ مشکل ادا ہوتے۔اور کچھ دونوں ماں بیٹی مل کر کپڑے سلائی کر کے اور رامین چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر کما لیتی۔بہ مشکل گزارا ہو رہا تھا۔
اتنے پیسوں سے ان کا گزارا بہت مشکل سے ہوتا تھا۔دن بدن بڑھتی مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے کمانے والے کی۔سب مل کر کما رہے ہیں پھر بھی حالات ٹھیک نہی ہو رہے۔
ہر مہینے رامین کے ابا کو ایڈوانس اٹھانا پڑتا، نتیجہ مینجر کی سو باتیں اور نوکری سے فارغ کر دئیے جانے کی دھمکیاں۔پچھلے مہینے مینیجر نے ایڈوانس دینے سے انکار کر دیا کہ پہلے پرانا حساب کلئیر کرو پھر اور ملے گا۔
پھر رامین کی اماں کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی۔دوائیوں کے خرچے وہ الگ۔ایسے میں ان کے سر پر دو ماہ کا کرایہ چڑھ گیا۔اب اس سے بھی زیادہ پریشانی اماں کی فکر لگی رہتی ہے رامین کو ان کی طبیعت خراب ہی رہتی ہے آجکل۔
اب ان کی دوائیوں کا خرچہ بھی بڑھ چکا ہے۔اسی لیے رامین نے اب سکول میں نوکری کرنے کا سوچا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ابا اس کو نوکری کرنے کی اجازت نہی دیں گے۔پھر بھی وہ یہ نوکری کرنا چاہتی ہے اپنے ماں باپ کی خاطر۔
لیکن نوکری ملے بھی تو تب۔سب سے بڑی رکاوٹ رامین کی تعلیم ہے۔رامین بس میٹرک تک ہی پڑھ سکی۔گھر کے حالات ہی ایسے تھے کہ وہ مزید نا پڑھ سکی۔
وہ گھر میں ہی رہ کر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی اور اماں کے ساتھ کپڑے سلائی کروانے لگی۔تا کہ اماں کی تھوڑی مدد ہو سکے۔آہستہ آہستہ وہ اچھی طرح کپڑے سلائی کرنا سیکھ گئی۔اور اماں کی مدد کے بغیر ہی اب اچھی طرح کپڑے سلائی کرنے لگ گئی۔
________________________________________
سورج غروب ہونے والا تھا۔آسمان پر ہلکے بادل چھائے تھے۔بچے کھیلنے میں مصروف تھے۔جب کہ وہ بس دور بیٹھا غور سے ان بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔دن بھر کی تھکان اتارنے وہ کچھ دیر پارک میں چلا آیا۔گھر جانے کو دل نہی کر رہا تھا اس کا اسی لیے پارک میں تنہا، سب سے الگ ایک بینچ پر آ کر بیٹھ گیا۔ماتھے پر پریشانی واضح دکھائی دے رہی تھی۔وہ اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا۔اچانک اسے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔
“ایکسکیوزمی” اس آواز پر وہ پلٹا تو سامنے ایک لڑکی ٹریکنگ سوٹ پہنے،اونچی پونی باندھے، ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے تھکی تھکی سی اس کے جواب کی منتظر کھڑی تھی۔اس نے اس لڑکی کی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔نظریں جھکائے جیب سے فون نکال کر اس میں مصروف ہو گیا۔
“او مسٹر میں تم سے بات کر رہی ہوں” اس لڑکی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟؟
اس لڑکی کے دوبارہ متوجہ کرنے پر اس نے فون سے نظریں ہٹا کر اس لڑکی کی طرف دیکھا۔اگر میں نے جواب نہی دیا تو اس کا مطلب ہے کہ میں آپ آاپ سے بات نہی کرنا چاہتا۔برائے مہربانی آپ یہاں سے کہی اور تشریف لے جائیں۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ دوبارہ فون میں متوجہ ہو گیا۔
اس لڑکی نے ہنستے ہوئے کندھے اچکا دئیے اور بینچ پر اس لڑکے کے ساتھ بیٹھ گئی۔اور پانی پینے لگی۔ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے کوئی بات سنی ہی نہی۔وہ اس لڑکے کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے آرام سے اس کے ساتھ ایسے بیٹھ گئی جیسے اس کو بہت اچھی طرح جانتی ہو۔
اس لڑکی کے اس طرح اس کے ساتھ بیٹھنے پر لڑکے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ایسے جیسے اسے یقین نہ آیا ہو اس کی اس حرکت پر۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ محترمہ”
وہ تقریباً چلایا۔
میں نے آپ سے کہا ہے کہ کہی اور چلی جائیں مگر آپ زبردستی یہاں بیٹھ گئیں ہیں۔وہ حقارت سے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
وہ پانی کی بوتل سائیڈ پر رکھتے ہوئے مسکرا دی۔کمال ہے ویسے جتنے شریف تم بن رہے ہو اتنے لگتے نہی۔چپ کر کے بیٹھو یہ بینچ تمہارے باپ کی جاگیر نہی ہے۔جو تم یہاں کسی اور کو بیٹھنے نہی دے رہے۔
جاگیر تو یہ آپ کی بھی نہی میڈم۔برائے مہربانی آپ یہاں سے تشریف لے جائیں لوگ دیکھ رہے ہیں۔وہ ایک آخری نظر اس بولڈ لڑکی پر ڈالتے ہوئے بولا۔
نہایت ہی بدتمیز انسان ہو تم۔لڑکیوں کی عزت نہی کرنی آتی تمہیں۔شکر کرو کہ کوئی لڑکی تمہارے پاس خود آ کر بیٹھی ہے۔اور کیا چاہیے تمہیں۔تمہں تو خوش ہونا چاہیے۔وہ پھر سے بول پڑی۔
ایم سوری میڈم۔۔مجھے زرا خوشی نہی ہوئی اس بات سے۔میرے گھر میں بھی دو بہنیں ہیں۔اگر آج میں کسی کی بہن، بیٹی کو اپنے پہلو میں بٹھا کر خوش ہوا۔تو کل کو کوئی میری بہن کو بھی پہلو میں بٹھا کر خوش ہو گا۔
دنیا مکافاتِ عمل ہے۔اور مجھ میں ابھی خوفِ خدا باقی ہے۔
اگر آپ یہاں سے نہی جا سکتیں تو میں چلا جاتا ہوں۔آپ آرام سے بیٹھیں یہاں۔۔وہ اٹھا اور بنا اس لڑکی کی طرف دیکھے وہاں سے چلا گیا۔اس نے مڑ کر پیچھے نہی دیکھا۔
صلہ وہی بیٹھی حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گئی۔اتنا غیرت مند مرد پہلی بار دیکھا ہے اس نے۔وہ اسے جاتے دیکھ مسکرا دی۔پانی کی بوتل اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔
مگر وہ اپنی بائیک سٹارٹ کر کے وہاں سے جا چکا تھا۔صلہ افسوس سے اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔آئی وِش کے ہم دوبارہ ملیں۔کہتے ہوئے اپنی گھر کی طرف بڑھ گئی۔
