Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 27)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

“آج سے تین سال پہلے میری شادی ہوئی بہت دھوم سے ایک بہت ہی امیر گھرانے میں۔

ملک اظہر کے ساتھ جو میری زندگی کا درد ناک حصہ تھا۔

میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا۔

مڈل کلاس بھی نہی’بہت غریب خاندان تھا ہمارا۔

ہمارا خاندان تین افراد پر مشتمل تھا۔

ابا،اماں اور میں ان کی اکلوتی بیٹی “رامین صدیق احمد”

یہ تھی ہماری چھوٹی سی فیملی’

تین کمروں والے کچے بنے کرایے کرایے کے گھر میں زندگی گزار رہے تھے ہم۔

گھر میں کمانے والے بس ابا ہی تھے۔

میٹرک کرنے کے بعد میں نے ابا سے سکول نوکری کی اجازت مانگی’مگر ابا نہی مانے۔

میں گھر میں اماں کے ساتھ کپڑے سلائی کرنے لگی’

مگر اماں کی طبیعت دن بدن بگڑتی چلی گئی۔

گھر کے اخراجات،اماں کی دوائیوں کا خرچہ،اور مکان کا کرایہ،بل وغیرہ۔

ابا کے لیے اکیلے یہ سب سنبھالنا مشکل ہوتا چلا گیا۔

ابا ایک فیکٹری میں جاب کرتے تھے’تنخواہ بہت کم تھی۔

اخراجات ہماری سوچ سے بھی زیادہ بڑھ کر تھے۔

فیکٹری سے بھی قرض لے لے کر ابا مقروض ہو چکے تھے۔

آخر کار ابا نے مجھے سکول میں نوکری کی اجازت دے دی۔

ابا کو دوپہر کا کھانا فیکٹری پہنچانا میری روز کی زمہ داری تھی۔

ایک دن میں ابا کے لیے کھانا لے کر پہنچی تو ملک اظہر سے میرا ٹکراو ہو گیا۔

اور یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوئی مجھ سے۔

ملک اظہر کا فون ٹوٹ گیا’اور وہ میرے گھر تک پہنچ گیا۔

اس کا فون ٹھیک کروا کر اس کو واپس کر دیا۔

مگر نہی کہانی یہیں ختم نہی ہوئی’اصل حقیقت تو کچھ اور تھی۔

وہ میری زندگی میں دخل اندازی چاہتا تھا۔

مجھے نہی پتہ کب کیا ہوا’کیسے وہ ابا سے ملا۔

کب اپنے گھر والوں کو لے کر آ گیا۔

ایک دن میں سکول سے واپس آئی تو اماں نے میرے سر پر چادر اوڑھا کر بٹھا دیا۔

اور میرا نکاح ملک اظہر سے پڑھوا دیا گیا۔

مجھ سے میری مرضی کسی نے نہی پوچھی۔

اور میں نے بتا بھی نہی سکی’کیونکہ اچھی بیٹی وہی ہوتی ہے۔

جو ماں،باپ کے فیصلوں کو بنا چوں چراں کیے قبول کر لیں۔

میں بھی ان ہی بیٹیوں میں سے تھی’ماں باپ کی عزت کا سوال تھا۔

اور میری وجہ سے ان کی تربیت پر انگلی اٹھے’یہ نہی کر سکتی تھی میں۔

میں نے بنا کوئی سوال کیے چپ چاپ نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔

سب اچھا ہی چل رہا تھا۔

ایک ہفتے بعد میری رخصتی تھی۔

رخصتی کے بعد میں اپنے سسرال چلی گئی۔

شروع شروع میں سب ٹھیک چلتا رہا۔

اظہر بہت خیال رکھتے میرا،

بہت محبت کرنے والے اور کئیرنگ شوہر ثابت ہوئے اظہر۔

بلکل ویسے ہی جیسا شوہر ہر لڑکی چاہتی ہے۔

ہینڈسم،امیر اور کئیرنگ پرسن’

اظہر بھی ایسے ہی تھے’

مگر بس چند ماہ تک!

شادی سے تین ماہ بعد ہی اظہر کی اصلیت سامنے آنا شروع ہو گئی۔

بات پر گھر میں جھگڑنا شروع ہو جاتے’کبھی ملازموں پر برس پڑتے تو کبھی اپنی مام سے جھگڑا۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائے کا پہاڑ بنا دیتے۔

لیکن میرے ساتھ ابھی تک کوئی لڑائی جھگڑا نہی ہوا تھا ان کا۔

مگر یہ میری غلط فہمی تھی’

ایک رات میں نے ان کو چھت پر شراب پیتے دیکھا’اور ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔

اس لڑکی کا بیہودہ لباس’اور ان دونوں کے درمیان قربت۔

وہ لمحے بہت درد ناک تھے میرے لیے’اور وہ رات قیامت بن کر گزری مجھ پر۔

محبت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والا بے وفا نکلا۔

وہ رات روتے ہوئے گزاری میں نے’

اس کے بعد ہر رات یہی ہوتا’وہ کبھی رات دیر سے آتے گھر۔

یا پھر کئی دفعہ تو پوری رات ہی گھر نہی آتے۔

جب میں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہی تو مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیا گیا۔

“میں عورت ہوں’مجھے سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا،،

شوہر کی بے وفائی بھی!

میں نے اظہر کی ماما سے بات کی’تو وہ مسکرا دیں۔

اور مسکراتے ہوئے بولیں’یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔

ہماری سوسائٹی میں یہ سب عام ہے’شراب پینا،لڑکیوں سے تعلق رکھنا یہ سب کوئی بڑی بات تو نہی۔

تم بھی باہر نکلو گھر سے’فرینڈز بناو۔

تمہیں کوئی نہی ٹوکے گا’اگر اظہر نے کوئی دخل اندازی کی تو دو ٹوک جواب دے دینا اسے۔

کہہ دینا اس سے کہ جب تم دوست بنا سکتے ہو تو میں کیوں نہی۔

لیکن میں جانتی ہوں تم ایسا نہی کر سکتی’کیونکہ تمہاری پرورش ایسے ماحول میں نہی ہوئی۔

تم جس معاشرے میں پلی بڑھی ہو’وہاں عورتوں کو صبر کا درس دیا جاتا ہے۔

اسی لیے تم بھی صبر کرو’اور اگر نہی کر سکتی صبر تو اپنے حق کے لیے آواز اٹھاو۔

کیا ہو گا اس سے’اظہر تو نہی بدلے گا’

بلکہ تم اپنے لیے خود ہی پریشانیاں پیدا کر لو گی۔

تو بہتر یہی ہے کہ وہ جو کر رہا ہے اسے کرنے دو۔

اور تم صبر کے ساتھ اپنی زندگی گزارو’شاید ایک دن اظہر کو احساس ہو جائے اپنی غلطی کا۔

ہم عورتوں کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے سب کچھ’مردوں کو کوئی فرق نہی پڑتا۔

جب تم سے شادی کی بات کی اظہر نے’تو میں سمجھی شاید سچ میں محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔

مگر نہی میری سوچ غلط تھی’اس نے تو بس کسی سے شرط لگا رکھی تھی۔

کہ رامین سے شادی کرے گا’وہ شرط جیت گیا۔

مگر محبت ہار گیا’بے نام محبت تھی اس کی۔

کس کے ساتھ شرط لگائی تھی اظہر نے’میں نے اظہر کی امی سے پوچھا۔

وہ چپ ہو گئیں’

گہری سوچ میں پڑ گئیں۔

تھا ایک بہت اچھا انسان’میرے بیٹے سے بڑھ کر تھا وہ۔

جس کی تم محبت تھی’

جس سے چھین کر تمہیں اپنی زندگی میں شامل کیا اظہر نے۔

میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی’بے ساختہ میرے منہ سے ایک نام آزاد ہوا۔

پرنس”

اس نام پر وہ چونکی!

تم جانتی ہو پرنس کو’وہ حیران ہوئیں۔

وہ اب بہت دور جا چکا ہے’سب کچھ اظہر کی وجہ سے ہوا ہے۔

اس بات کے لیے میں اظہر کو کبھی معاف نہی کروں گی’ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

وہ آنسو پونچھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔

اس دن مجھے یاد آیا’پرنس کی کہی ایک ایک بات سچ تھی۔

اظہر کے بارے میں اس نے جو کچھ بتایا سب درست تھا۔

آنٹی تو کمرے سے چلی گئیں’مگر میری زندگی میں پرنس نام کا چیپٹر پھر سے کھل گیا۔

تو کیا اظہر اور پرنس دونوں جانتے تھے ایک دوسرے تھے۔

اب آپ یہ سوچ رہے ہو گے کہ “پرنس کون تھا۔

“پرنس ایک نام تھا بھروسے کا’محبت کا۔

وہ میری زندگی میں آنے والا پہلا شخص تھا’جس نے میری عزت کی حفاظت کی۔

مجھے ڈرپوک سے نڈر بنانے کی خواہش کی۔

میرے نام کا مطلب سمجھایا مجھے’

بہت محبت کرتا تھا وہ مجھ سے’

اور میں بھی محبت کرتی تھی اس سے نہی’بلکہ اس کی محبت سے محبت تھی مجھے۔

وہ محبت جو وہ مجھ سے کرتا تھا۔

مگر یہ بات میں نے کبھی اس کے سامنے ظاہر نہی ہونے دی۔

وہ رات کے اندھیرے میں میرے کمرے کی کھڑکی پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتا تھا۔

اس کی یہ عادت مجھے ناگوار گزرتی’مگر اس پر کوئی اثر نہی پڑتا تھا۔

چہرہ چھپا کر رکھتا تھا مجھ سے’نا جانے کیوں۔

بس اس کی آنکھیں بولتی تھیں۔

ان آنکھوں میں ساری دنیا دیکھنی شروع کر دی میں نے’

مگر یہ بھول گئی کہ وہ ایک نا محرم ہے میرے لیے’اور جس کی طلب ہمیں اللہ سے دور کر دے۔

اللہ اس چیز کو ہم سے دور کر دیتا ہے۔

مجھ سے شادی کی خواہش ظاہر کی اس نے’تو میں نے اس سے کہا اپنے گھر والوں کو بھیج دے۔

اماں ابا سے میرا ہاتھ مانگ لے’اگر وہ مان گئے تو مجھے کوئی اعتراض نہی۔

اور اس نے ایسا کیا بھی’میری دوست ثوبیہ اس کے بھائی اسد کا دوست تھا وہ۔

ثوبیہ کے گھر والے اس کا رشتہ لے کر آئے’مگر ابا نے کوئی جواب نہی دیا فی الوقت۔

مگر انکار بھی نہی کیا تھا ابا نے۔

وہ خود نہی آ سکا’اپنے گھر والوں کے ساتھ نہی لا سکا۔

اس وقت وہ پریشانی میں تھا’مگر مجھے کھونا نہی چاہتا تھا۔

اسی لیے وقت ضائع کیے بغیر اسد کے گھر والوں کے زریعے رشتہ بھیج دیا۔

مگر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا’

اس سے اگلے دن ہی میرا نکاح اظہر سے ہو گیا۔

اظہر نے میرے دل میں پرنس کے لیے نفرت بھرنا چاہی’مگر میرا دل اس کے خلاف نا جا سکا۔

میری مہندی کی رات آیا تھا وہ مجھ سے ملنے۔

مجھ سے کہہ رہا تھا میرے ساتھ چلو سب چھوڑ کر۔

اظہر سے نکاح میں ختم کروا دوں گا۔مگر تمہیں برباد ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتا۔

میں نہی مانی’ایک طرف ماں باپ کی عزت تھی۔

دوسری طرف محبت تھی۔

مجھے محبت کو مارنا پڑا’میں نے اظہر کے اس پر لگائے الزام اس پر تھوپ دیا۔

وہ ٹوٹ چکا تھا میرے الزامات پر’

اسے نے کہا میں بے وفا ہوں۔

“تم بے وفا ہو رامین’اس کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔

اس نے ہار نہی مانی’کہنے لگا اپنی آخری سانس تک محبت کرے گا مجھ سے۔

اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نظر تو نہی آئی مجھے۔

مگر مجھ پر بے وفائی کا یقین کر لیا اس نے’

آنکھوں میں درد اور ٹوٹے ہوئے خواب لیے وہ وہاں سے چل پڑا۔

اور دوبارہ پلٹ کر کبھی نہی دیکھا اس نے’

میری زندگی آگے تو بڑھ چکی تھی’مگر پرنس کو بھلا نا سکی میں۔

اس کی یاد میرے دل میں ہمیشہ بسی رہی۔

رامین کچھ پل خاموش ہو گئی’اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔

احتسام بس چپ چاپ رامین کی باتیں سن رہا تھا’سکتے کی سی کیفیت میں تھا وہ۔

رامین نے پھر سے بولنا شروع کیا’

آنٹی سے بات کرنے کے بعد اگلے دن میں اماں سے ملنے گئی۔

ان کے فون سے ثوبیہ کے گھر کا نمبر لے کر گھر آ گئی۔

گھر آ کر میں نے نمبر ڈائل کیا’بہت دیر تک نمبر ڈائل کرتی رہی۔

آخر کار فون اٹھا لیا گیا۔

فون اسد نے اٹھایا۔

مجھ سے ہمت نہی ہو رہی تھی بات کرنے کی۔

آخر کار میں ہمت کر کے بولی’اسد میں رامین”

کچھ دیر کے لیے فون میں خاموشی چھا گئی۔

کیسی ہو ؟

چند پل گزرنے کے بعد اسد کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔

میں ٹھیک ہوں’تم کیسے ہو۔

میں بھی ٹھیک ہو’اسد مختصر سا جواب دے کر خاموش ہو گیا۔

اور پرنس؟

میرے منہ سے پرنس کا نام سن کر اسد نے قہقہ لگایا۔

رامین تمہیں یاد ہے اب تک پرنس’اسد نے جیسے میرا مزاق اڑایا۔

تو سنو!

اگر تم نے پرنس کی خیریت جاننے کے لیے فون کیا ہے تو بتا دوں میں تمہیں۔

وہ مر چکا ہے!

سنا تم نے رامین!

“پرنس مر چکا ہے،،

تم نے مار دیا اسے’جس رات وہ تم سے آخری بار ملا تھا ناں۔

وہ رات اس کی زندگی کی آخری رات تھی۔

میں نے سر نفی میں ہلایا’

نہی ایسا نہی ہو سکتا’پرنس۔

پرنس کا نام میرے منہ سے ابھی نکلا ہی تھا کہ میرے ہاتھ سے فون کھینچ لیا کسی نے۔

جب میں پلٹی تو سامنے اظہر کھڑا تھا’اس نے فون کان سے لگا رکھا تھا۔

پتہ نہی اسد نے کیا کہا’اظہر نے فون دیوار میں دے مارا غصے سے۔

فون ٹوٹ کر بکھر گیا۔

میں ڈر کر پیچھے ہٹی’مگر اظہر کا رخ میری طرف تھا۔

اظہر نے ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر مارا۔

میں کڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جا گری۔

اظہر کی جن آنکھوں میں کبھی محبت دیکھی تھی میں نے’ان آنکھوں میں آج نفرت ہی نفرت نظر آئی مجھے اپنے لیے۔

اظہر نے مجھے بالوں سے کھینچتے ہوئے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔

کس سے بات کر رہی تھی تم؟

اظہر کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔

میں نے پوچھا کس سے بات کر رہی تھی تم رامین’اظہر چلاتے ہوئے بولا۔

اظہر نے ایک اور تھپڑ لگایا میرے چہرے پر’میرا سر دیوار سے ٹکرایا۔

اور ماتھے سے خون بہنے لگا’مگر مجھے درد محسوس نہی ہو رہا تھا۔

مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے میں زندہ ہی نہی ہوں۔

میرے ذہن میں بس اسد کے الفاظ گونج رہے تھے”پرنس مر چکا ہے۔

میری سوئی بس اس نام پر اٹک کر رہ گئی۔

میرے ماتھے سے خون نکل رہا تھا’مگر اظہر نے کوئی پرواہ نہی کی۔

وہ پھر سے میری طرف بڑھا’میرا گلہ اس کے شکنجے میں تھا۔

میرا سانس گھٹ رہا تھا۔

“ہار کر بھی جیت گیا پرنس مجھ سے’تمہارے دل میں آج بھی پرنس ہی ہے۔

اظہر کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بول رہا تھا۔

میں زرا سا مسکرائی’

اظہر نے میرا سر دیوار میں دے مارا’اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہی رہا۔

جب میری آنکھ کھلی تو میرے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔

اظہر کی ماما میرے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔

جیسے ہی مجھے ہوش آیا وہ جلدی سے میری طرف بڑھیں۔

رامین تم ٹھیک ہو نا؟

بیٹا کیا ہو گیا یہ سب!

تم کیوں الجھی ہو اظہر سے’میں نے منع کیا تھا تمہیں۔

وہ بہت کچھ بول رہی تھیں’مگر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

دو دن تک میں ہاسپٹل میں داخل رہی’

پولیس نے میرا بیان لیا’میں نے کہا میرا سیڑھیوں سے پاوں پھسل گیا تھا۔

اظہر میرے سامنے نہی آیا’دو دن بعد مجھے گھر لے جایا گیا۔

میں سمجھی شاید اظہر شرمندہ ہے مجھ سے اسی لیے میرے سامنے نہی آ رہا۔

مگر ایسا کچھ نہی تھا۔

میں کمرے میں بیٹھی تھی’جب وہ کمرے میں داخل ہوا۔

صوفے پر بیٹھ کر شراب کا گلاس بھرتا اور پی جاتا۔

میں بیڈ پر بیٹھی سب دیکھ رہی تھی’

وہ پوری بوتل ختم کر چکا تھا”

اٹھ کر تیزی سے میری طرف بڑھا’

رامین تم اس کو بھول کیوں نہی جاتی’

مر چکا ہے وہ’پھر بھی تم اس کی یاد دل میں بسائے بیٹھی ہو۔

اظہر کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔

میں کچھ نہی بولی’

جانتی ہو رامین میں نے خود مارا تمہارے پرنس کو’اپنے ان ہاتھوں سے۔

دیکھو غور سے میرے ہاتھوں پر تمہیں پرنس کا خون نظر آئے گا۔

مرتے وقت بھی وہ تمہارا نام لے رہا تھا۔

کہہ رہا تھا رامین سے مر کر بھی محبت کرتا رہوں گا۔

وہ پاگل سا لگ رہا تھا’مجھے اپنے کانوں پر یقین نہی آ رہا تھا۔

نہی۔۔۔ایسا نہی ہو سکتا’اظہر یہ تم نے کیا کر دیا۔

“پرنس کو مار دیا تم نے’

اظہر ہنسنے لگا’تم روتی تھی نا اس کی یاد میں۔

کبھی چھت پر بیٹھ کر روتی تھی’

کبھی اپنے گھر جا کر اس کی یاد میں آنسو بہاتی تھی۔

اسی لیے مجھ سے برداشت نہی ہوتا تھا اس کا وجود۔

تو مار دیا میں نے اسے،،

میں سکتے کی حالت میں اظہر کی باتیں سُن رہی تھی۔

اس نے پرنس کو مار ڈالا’صرف اس لیے کہ میں اس کو یاد کرتی تھی۔

یہ کیا کر دیا آپ نے؟

میں اظہر کا گریبان کھینچتے ہوئے چلائی۔

اظہر ہنسنے لگا’مجھ سے دور ہی رہو۔

ابھی تمہارے پرانے زخم نہی بھرے’اور درد سہہ نہی پاو گی۔

اظہر کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

میں نے اس کا گریبان چھوڑ دیا۔

اپنا بیگ اٹھایا چادر اوڑھی اور ایک نظر مسکراتے ہوئے اظہر پر ڈالی۔

مجھے کوئی شوق نہی ایک قاتل اور عیاش شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔

جا رہی ہوں میں’ہمیشہ کے لیے آپ کو آپ کی عیاشیاں مبارک ہو۔

میں کمرے سے باہر نکل گئی’اور وہ وہی بیٹھا ہنستا رہا۔

مجھے حیرانگی ہوئی اظہر نے مجھے روکا تک نہی۔

مگر جیسے ہی میں گیٹ پر پہنچی گیٹ کیپر نے گیٹ کھولنے سے انکار کر دیا۔

چھوٹے صاحب جی نے منع کیا ہے میڈم’آپ اکیلی گھر سے باہر نہی جا سکتی۔

میں غصے سے واپس کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

ارے تم واپس آ گئی’مجھے کمرے میں واپس آتے دیکھ اظہر نے قہقہ لگایا۔

میں غصے سے بیگ پھینکتے ہوئے صوفے پر جا بیٹھی۔

اظہر بھی میرے پاس آ کر بیٹھ گیا’غصے سے میرا جبڑا دبوچا۔

“اب پتہ چلا تمہیں کتنی تکلیف ہوتی ہے’ جب کوئی آپ کے ساتھ بے وفائی کرے۔

پتہ چلا کتنا درد ہوتا ہے مجھے جب میں تمہیں پرنس کے لیے روتے دیکھتا ہوں۔

تم میری مرضی کے بغیر نہی جا سکتی یہاں سے’یہ بات کان کھول کر سُن لو۔

اظہر کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی’آنکھیں بند ہو رہی تھیں اس کی۔

نشے میں جو تھا’اچانک سر کو تھامتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا۔

اور اوندھے منہ لیٹ کر سو گیا۔

میں اتنا ڈر چکی تھی کہ اپنی جگہ سے ہل نہی پا رہی تھی۔

میرا شوہر ایک قاتل ہے’یہ بات مجھے پاگل کر رہی تھی۔

میری وجہ سے ایک بے گناہ انسان مارا گیا’یہ بات مجھے چین سے جینے نہی دے رہی تھی۔

اظہر کی بدتمیزیاں دن بہ دن بڑھتی چلی گئیں۔

مجھ پر ہاتھ اٹھانا عادت بن گئی ان کی’بات بات پر مجھے پرنس کے نام کا طعنہ دیا جاتا۔

پیٹا جاتا’مگر میں کبھی کسی کو نہی بتاتی تھی’اکیلے درد سہنے کی عادت سی ہو گئی۔

اظہر سارا دن گھر میں ہی رہتے’میں سمجھا سمجھا کر تھک گئی۔کہ فیکٹری چلے جایا کریں۔

سارا بوجھ ڈیڈ کے کندھوں پر تھا’مگر اظہر نے میری ایک نا سنی۔

الٹا بدلے میں مجھ پر شک کرنے لگے’کہنے لگے تم اس لیے مجھے گھر سے باہر نکالنا چاہتی ہو تاکہ پرنس کی یاد میں کھل کر آنسو بہا سکوں۔

اب مجبوراً مجھے چپ ہونا پڑ جاتا۔

آخر ایک دن میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا’اب مزید درد برداشت نہی کر سکتی تھی میں۔

میری ہمت ختم ہو چکی تھی۔

“ہاں ہاں کرتی ہوں میں محبت پرنس سے’کرتی ہوں میں اس کو یاد’

نہی نکال سکتی میں اس کی یاد کو اپنے دل سے’جانتے ہو کیوں؟

کیونکہ میری روح میں بسا ہے وہ’اس کی محبت سچی تھی۔

تم نے چھینا ہے مجھے اس سے’اس کی روح کو چھینا ہے اس سے’

مجھے چھین تو لیا تم نے اس سے’مگر میری روح کو حاصل نہی کر سکے تم’

پتہ ہے تم کیوں خوش نہی ہو؟

میں بتاتی ہوں تمہیں’تم نے گناہ کیا ہے۔

بہت بڑا گناہ!

کسی سے اس کی زندگی’اس کی خوشیاں چھیننے والا خود کیسے سکون میں رہ سکتا ہے۔

“رامین میں نے تم سے سچی محبت کی ہے’کیسے یقین دلاوں تمہیں۔

اظہر میرا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا۔

نہی وہ محبت نہی تھی’ایک کھیل تھا آپ کے لیے۔

آپ نے مجھے حاصل کر لیا بس،،

“کاش آپ نے واقعی مجھ سے سچی محبت کی ہوتی’

میرا دل جیتنے کی کوشش کرتے’

مگر نہی آپ پر تو جیت کا نشہ چھایا ہوا تھا۔

صرف “پرنس کو نیچا دکھانے کے لیے آپ نے تین زندگیاں برباد کر دیں۔

اب اپنی بربادی کا مزہ چکھیں آپ’اور مجھے بھی میری بربادی پر کھل کر رونے دیں۔

اظہر اسی وقت گھر سے باہر نکل گیا’اور میں چہرہ ہاتھوں میں چھپائے آنسو بہانے لگی۔

اس رات اظہر پوری رات گھر واپس نہی آیا۔

میری آنکھ لگ چکی تھی’جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اظہر کو خود پر جھکا ہوا پایا۔

میں اظہر کو دھکا دیتے ہوئے اٹھ بیٹھی’ہاتھ مت لگانا مجھے۔

میں غصے سے بولی’اظہر ہوش میں نہی لگ رہا تھا مجھے۔

وہ پھر سے میری جانب بڑھا’میرا ہاتھ اٹھا اور اظہر ہوش میں آیا۔

رامین تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا’اپنے شوہر پر اظہر کو صدمہ لگا’

بس رامین اب مزید نہی’تم سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔

تم میری محبت کے لائق ہی نہی ہو’

سہی کہا تم نے میں بے وفا ہوں۔

ہاں میں ہوں بے وفا’تم چلی جاو یہاں سے ہمیشہ کے لیے۔

“میں اظہر ملک اپنے پورے ہوش و حواس میں رامین صدیق احمد تمہیں۔

طلاق دیتا ہوں’

طلاق دیتا ہوں’

طلاق دیتا ہوں’

ملک اظہر سے اپنی ہار برداشت نہی ہو سکی’وہ ایک بزدل مرد ثابت ہوا۔

بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں کی تلافی کرتا’اور رامین کے دل میں اپن مقام بنانے کی کوشش کرتا۔

اس نے بے حس مرد ہونے کا ثبوت دے دیا “رامین کو طلاق دے کر۔

میں صدمے کی حالت میں وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔

میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو چکے تھے۔

مجھے نیچے بیٹھتے دیکھ اظہر ایک دم میری طرف بڑھا’مگر پھر واپس پلٹا۔

کرسی اٹھا کر غصے سے شیشے کی میز پر ماری’شیشہ چکنا چور ہو گیا۔

جو چیز راستے میں نظر آتی گئی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

جب رو رو کر آنسو خشک ہو گئے تو میں وہاں سے اپنے گھر آ گئی۔

اظہر کی امی نے رو رو کر برا حال کر لیا اپنا’مگر وہ اب مجھے روک نہی سکتی تھیں۔

ان کا بیٹا اب یہ حق چھین چکا تھا ان سے۔

میں نے گھر جا کر اماں،ابا کو کچھ نہی بتایا اس بارے میں۔

میں نے ان پر ظاہر ہی نہی ہونے دیا کہ کیا قیامت گزر چکی ہے مجھ پر۔

کبھی سوچا بھی نہی تھا میں نے اظہر کی محبت کا خاتمہ یوں ہو گا۔

مجھے رہ رہ کر وہ نکاح نے بعد کے دن یاد آنے لگے’جب اظہر کے لیے بہت اہم تھی میں۔

مگر جلدی ہی ہوش کی دنیا میں واپس لوٹ آئی میں۔

پھر سے وہی پرانا گھر،وہی کمرہ اور پرنس کی یادیں میری زندگی کا معمول بن گیا۔

ملک اظہر بس اب ایک نام رہ گیا میرے لیے’بس نفرت کا نام،،

مجھے گھر واپس آئے ایک مہینہ ہو چکا تھا’آخر کار اماں ابا کو میری فکر ہونے لگی۔

میں نے ان کے سامنے بہانہ بنا کر یہ کہہ دیا کہ اظہر کچھ مہینوں کے لیے ملک سے باہر گئے ہیں’

جب وہ واپس آ جائیں گے تو میں چلی جاوں گی گھر۔

انہوں نے میری بات پر یقین کر لیا۔

گھر کے حالات ویسے ہی معمول پر آنے لگے’جیسے میری شادی سے پہلے تھے۔

ابا اب کسی اور فیکٹری میں نوکری کر رہے تھے’یہ سوچتے ہوئے کہ بیٹی کا سسرال ہے۔

اماں کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی’ڈاکٹرز نے بہت مہنگے ٹیسٹ لکھ دئیے۔

اتنے مہنگے ٹیسٹ کیسے کرواتے ابا’

آخر کار ایک دن ابا نے مجھ سے اظہر سے بات کرنے کو کہا۔

اماں کے ٹیسٹ کے لیے رقم مانگنے کو کہا۔

اب مزید جھوٹ بولنے کی ہمت نہی رہی مجھ میں’

میں نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اماں ابا کو بتا دیا کہ اظہر مجھے طلاق دے چکا ہے۔

اور خود پر بیتی ساری کہانی سُنا دی۔

اماں،ابا پر یہ خبر کسی قیامت کی طرح گزری۔

اماں تو پہلے ہی بیمار تھیں’اب تو ابا بھی بیمار رہنے لگے۔

ان کو پچھتاوا ہونے لگا اپنی غلطی پر’

دولت کی چمک دیکھ کر’اور دولت مند جوائی کی خواہش میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد کر دی انہوں نے’

یہ بات ان دونوں کو اندر ہی اندر کھانے لگی۔

مجبوراً ایک بار پھر مجھے گھر سے باہر قدم نکالنا پڑا۔

نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی’مگر میٹرک پاس کو کوئی نوکری دینے کو تیار نہی تھا۔

ثوبیہ کے گھر جانے کا سوچا میں نے ایک بار مگر ہمت ہی نہی کر پائی۔

پھر ایک دن امی نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں۔

ثوبیہ آئی تھی جانے سے پہلے’بہت اداس لگ رہی تھی۔

تھک ہار کر میں نے پھر سے کپڑے سلائی کرنے شروع کر دئیے۔

اماں کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔

آخر کار میں نے قرضہ لینے کا سوچا’اماں کے ٹیسٹ بہت ضروری ہو چکے تھے۔

آخر کار مجھے ایک عورت مل ہی گئی’جو آسان اقساط پر ضرورت مندوں کو قرضہ فراہم کرتی تھی۔

بہ مشکل اس نے مجھے بیس ہزار قرضہ دے ہی دیا’بہت منتوں اور سفارشوں کے ساتھ۔

پہلی فرصت میں ہی اماں کو لے کر ہاسپٹل پہنچی’ٹیسٹ کروائے۔

چند دن بعد ٹیسٹ کی جو رپورٹس آئیں وہ ابا اور میرے لیے کسی قیامت سے کم نہی تھیں۔

اماں کو برین ٹیومر ہو چکا تھا’

یہ بات ہم نے ان کو نہی بتائی’ڈاکٹر نے منع کر دیا تھا بتانےسے۔

ابھی بھی ان کا علاج ہو سکتا تھا’ڈاکٹرز نے ہمیں تسلی دی۔

مگر علاج کے لیے اتنی بڑی رقم کہاں سے آتی۔

آخر کار میں پھر سے اس قرضہ دینے والی عورت کے پاس پہنچی۔

اس نے اتنی بڑی رقم دینے سے انکار دیا’

میں مسلسل اس کے پاس جاتی’کہ شاید اس کا دل پھگل جائے۔

آخر ایک دن اس نے میری بات سن ہی لی’جب سب عورتیں چلی گئیں تو اس نے مجھے اندر بلایا۔

دیکھو لڑکی’تم جو مجھے کہہ رہی ہو’وہ تو نا ممکن ہے میرے لیے۔

البتہ ایک دوسرا راستہ ہے میرے پاس!

آپ بتائیں مجھے کیا کرنا ہو گا’مجھے اماں کے علاج کے لیے پیسے چاہیے بس۔

وہ دوسرا راستہ تھوڑا مشکل ہے’مگر اگر تم ہمت کرو تو کر سکتی ہو۔

میری ایک دوست ہے’کوٹھا چلاتی ہے وہ’تم خوبصورت ہو نازک سی۔

تم اس کے پاس کیوں نہی چلی جاتی’نوٹوں کی بارش کر دے گی تم پر’

آپ نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے’میں ایک شریف لڑکی ہوں۔

غریب ہوں مگر بے غیرت نہی!

میں وہاں سے اٹھ کر چل پڑی۔

پیچھے سے اس عورت کا قہقہ گونجا۔

بس نکل گئی ہوا’یہ زندگی اتنی آسان نہی جتنی تم سمجھ رہی ہو۔

باتوں سے ہی اپنی ماں کا علاج کروالینا’

آئی بڑی کچھ بھی کر لوں گی’

اس کے الفاظ زہر جیسے تھے۔

میں گھر آ کر پوری رات سو نا سکی’اس دن مجھے ایک شخص کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔

“پرنس’کہاں چلے گئے تم’ساری رات میں نے کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گزار دی۔

بہت سوچنے کے بعد آخر کار میں ایک فیصلے پر پہنچی’

میں پھر سے اس عورت کے پاس جا پہنچی’

مجھے دیکھ کر وہ مسکرا دی’میں جانتی تھی تم ضرور آو گی۔

“یہ حقیقت کی دنیا ہے کسی فلم کا سین نہی’کہ اچانک سے کوئی جادو ہو گا۔

اور ساری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔

یہ اصل دنیا ہے’خالی پیٹ تو نیند بھی نہی آتی۔

کہوں کا حکم ہے میرے لیے’وہ رجسٹر کھولتے ہوئے بولی۔

مجھے آپ کی بات منظور ہے’مگر میری بھی ایک شرط ہے۔

میں کوٹھے پر ناچ لوں گی’مگر جسم کا سوادا نہی کروں گی میں۔

میری بات سُن کر وہ مسکرا دی’چل ٹھیک ہے بات کرتی ہوں روبینہ سے’

اس طرح میں کوٹھے پر پہنچ گئی’اماں کے علاج کے لیے ایڈوانس پیسے لے لیے میں نے روبینہ بائی سے۔

اسی دوران میری ملاقات روشنی سے ہوئی’اس کو کہی سے کڈنیپ کر کے لایا گیا تھا۔

میں کسی طرح اسے وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔

اسے گھر لے آئی’اماں سے میں نے یہ کہہ دیا کہ مجھے راستے میں مل گئی تھی۔

کھو گئی ہے شاید’پولیس میں رپورٹ درج کروا دی ہے میں نے۔

جیسے ہی اس کے گھر والوں کا پتہ چل جائے پولیس ہمیں بتا دے گی۔

اماں،ابا نے میری بات پر یقین کر لیا۔

میں نے روشنی سے بہت بار پوچھنے کی کوشش کی کہ اس کا گھر کہاں ہے۔

کس شہر میں رہتی تھی وہ؟

مگر وہ کچھ بولتی ہی نہی تھی’بہت چپ چپ رہتی تھی۔

آخر کار ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے گھر واپس نہی جانا چاہتی۔

مجھے بہت حیرانگی ہوئی اس کی بات سُن کر۔

وہ رونے لگی’اس نے مجھے بتایا کہ اس کے ماما،بابا اس دنیا میں نہی ہیں اب’

اس کی چچی نے کیا ہے یہ سب کچھ’میں نے اسے دلاسا دیا۔

اس سے کہا کہ ہمیشہ کے لیے یہاں رہ سکتی ہے’

اور تب سے ہی وہ میرے ساتھ رہنے لگی۔

ایک سال گزر چکا تھا’مگر میرے دل کی دنیا ویسی ہی تھی۔

اظہر کی بے حسی،اور پرنس کی یادیں مجھے جینے نہی دیتی تھیں۔

کتنے ہی پل’کتنی ہی راتیں پرنس کی یاد میں گزار دیں میں نے’

کاش میں ایک بار اس سے مل سکتی’اس کو بتا سکتی کہ میں بے وفا نہی تھی۔

دل کو کسی صورت چین نہی ملتا تھا’پھر ایک دن میں نے وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس گھر کو چھوڑ کر یہاں شفٹ ہو گئی۔

دو سال سے یہاں رہ رہی تھی’پھر میری آپ سے ملاقات ہوئی۔

زندگی کو پھر سے اُمید کی ایک نئی کرن ملی’آپ نے مجھے اس دلدل سے باہر نکال دیا۔

یہ میری زندگی کی کچھ پرانی یادیں تھیں’اس سے پہلے کے ہم اپنی نئی زندگی شروع کرتے۔

میں آپ کو سب کچھ بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی۔

“کیا تم اب بھی پرنس سے محبت کرتی ہو رامین؟

احتسام اب جا کر بولا’

رامین کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی’احتسام کی سوالیہ نظریں رامین کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔

“میں کوشش کروں گی اسے بھولنے کی’رامین بہ مشکل بس اتنا ہی بول پائی۔

احتسام وہاں سے اٹھ کر تیزی سے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔

رامین وہی بیٹھی آنسو بہانے لگی۔

میں کیسے بھول جاوں اس کو’میری روح میں بس چکا ہے وہ۔

اور جسم سے روح مر کر ہی جدا ہو سکتی ہے’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *