Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 04)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

اگلے دن اتوار تھا۔رامین کے ابا گھر پر ہی تھے۔رامین نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کم ازکم آج تو اس کی جان بچی ان لفنگے لڑکوں سے۔سارا دن تو رامین ٹھیک رہی۔

مگر جیسے ہی رات آئی اس کی پریشانی بڑھنے لگی۔صبح پھر وہ آوارہ لڑکے میرا راستہ روکیں گے۔یہ سوچ سوچ کر ہی رامین کا برا حال تھا۔یونہی سوچتے سوچتے رو رو کر آخر کار تھک کر وہ سو گئی۔

باقی کے دو ہزار بھی رامین نے ابا کو دے دئیے۔وہ جا کر مالک مکان دے آئے۔کچھ دن کے لیے بلا ٹلی تھی۔مگر بس کچھ دن کے لیے۔ اگلا مہینہ شروع ہونے میں تین دن رہ گئے تھے۔اور پانچ تاریخ کو مالک مکان پھر سے کرایہ لینے آ جائے گا۔

صبح ابا کے جاتے ہی ثوبیہ آ گئی رامین کو ساتھ لے جانے سکول انٹرویو کے لیے۔رامین تو پہلے ہی تیار بیٹھی تھی۔اپنی چادر اوڑھی اور ثوبیہ کے ساتھ چل پڑی۔

خالہ آپ پریشان مت ہونا رامین اب میرے ساتھ ہی آئے گی واپس ساڑھے بارہ بجے۔کیونکہ آج کا دن یہ پڑھائے گی میرے ساتھ۔تب ہی میڈم جی بتائیں گی کہ رامین کو نوکری ملے گی یا نہی۔ثوبیہ جاتے جاتے دروازے سے پلٹ کر بولی۔

ٹھیک ہے بھئی۔جلدی آ جانا رامین۔فیکٹری بھی جانا ہے تم نے آ کر اپنے ابا کو روٹی دینے۔

“جی اماں” رامین نے وہی کھڑے جواب دیا۔اور دونوں سکول کی طرف بڑھ گئیں۔

ساڑھے بارہ بجے کے بعد رامین کو ثوبیہ گھر چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئی۔رامین کو جاب مل گئی تھی۔وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔اماں کو جب بتایا رامین نےکہ مجھے نوکری مل گئی ہے تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں۔

اچھا ہو گیا یہ تو بیٹا۔اب جلدی سے روٹی دے آو اپنے ابا کی۔میں بہت دیر سے انتظار کر رہی ہوں تمہارا۔کھانے کا ٹائم ہونے والا ہے۔تیرے ابا انتظار کر رہے ہو گے۔

اب اسے ابا کے لیے کھانا لے کر جانا تھا۔اور اسے پھر سے خوف نے آ گھیرا تھا۔ جی اماں وہ بس اتنا ہی بول سکی۔

رامین ہمت کرتے ہوئے کھانا کا شاپر اٹھائے باہر کی طرف بڑھ گئی۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتے چلی جا رہی تھی۔فیکٹری گھر سے زیادہ دور نہی تھی۔چار گلیاں چھوڑ کر تھی فیکٹری۔رامین کے گھر سے۔

مسلہ تھا سخت گرمی کے دن،کڑھی دھوپ،ایسے میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوتا تھا اس وقت۔ اور وہ لڑکے شاید بھانپ چکے تھے کہ رامین روز اسی راستے سے گزرتی ہے۔اسی لیے مسلسل کئی دنوں سے وہ اس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

رامین نے فیکٹری پہنچ کر گیٹ کیپر رحیم چچا کو کھانے والا شاپر تھمایا۔اور بوجھل دل کے ساتھ واپسی کے لیے قدم بڑھا دئیے۔وہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بڑی جلدی جلدی میں چلتی جا رہی تھی۔

مگر سامنے وہ دونوں لڑکے پھر سے اسی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ رامین کو دیکھتے ہی بے باقی سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔

ان دونوں کو اپنی طرف آتے دیکھ رامین نے چلنے کی رفتار مزید بڑھا دی۔مگر وہ دونوں اس کا راستہ روک چکے تھے۔رامین نے جس گلی میں مڑنا تھا۔وہ دونوں وہیں آ رکے۔

رامین نے سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر نہ نکل سکی۔وہ مدد کن نگاہوں سے آس پاس دیکھنے لگی کہ شاید کوئی اسے بچا لے۔

ڈرتی کیوں ہو ہم سے اتنا ہم تمہارے اپنے ہیں کوئی غیر تو نہی ہے۔ایک لڑکا مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔رامین نے پیچھے مڑنا چاہا۔تو دوسرا لڑکا وہاں آ رکا۔

کککیا مسلہ ہے تم دونوں کو راستہ چھوڑو میرا ورنہ اچھا نہی ہو گا۔ رامین خود کو بہادر ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہکلاتے ہوئے بولی۔

اچھا کیا کر لو گی تم ایک لڑکا تیزی سے رامین کی طرف بڑھا۔اور پھر وہ ہوا جو رامین کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھی۔اس نے رامین کی چادر ایک جھٹکے میں اس کے سر سے اتار پھینکی۔رامین وہی زمین پر بیٹھ گئی۔اور اپنے گلے میں موجود ہلکے سے ڈوپٹے سے جلدی سے خود پر اوڑھنے لگی۔

وہ دونوں لڑکے بے باقی سے ہنس دئیے۔رامین کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔مگر اس میں ہمت ہی نہی تھی کہ وہ اٹھ کر ان کا مقابلہ کرے۔وہ بے بس سی زمین پر سر جھکائے آنسو بہانے لگی۔

اب دوسرا لڑکا رامین کی طرف بڑھا۔اس نے رامین کے ڈوپٹے کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک سے سامنے والی گلی سے ایک ہیوی بائیک رامین کے اور اس لڑکے کے درمیان آ کر رکی۔

بائیک سے کوئی تیزی سے اترا اور اندھا دھند ان دونوں کو مارنا شروع کر دیا۔رامین اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ کوئی اسے بچانے آ گیا ہے مگر وہ سر اٹھا کر اوپر نا دیکھ سکی۔اسے بہت گہرا صدمہ پہنچا تھا۔

وہ یونہی زمین پر نظریں جمائے آنسو بہاتی رہی۔ایک نظر سامنے دیکھا تک نہی کہ کون ہے اس کے سامنے۔جو اس کے لیے لڑ رہا ہے۔وہ سامنے نہ دیکھ سکی۔اس میں ہمت ہی نہی رہی تھی کہ نظریں اٹھا سکے۔

خوف سے اس کے ہاتھ،پاوں سُن ہو چکے تھے۔وہ تو جیسے ہوش میں ہی نہی رہی۔ہوش میں تب آئی جب کسی نے اس کے سر پر چادر اوڑھائی۔

اس کے سر پر کسی نے اس کی چادر اوڑھائی۔تب بھی رامین نے سر اٹھا کر نہی دیکھا۔جیسے ہی چادر اس کے سر پر آئی اسے ایک تحفظ سا احساس ہوا۔وہ تیزی سے اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اٹھی اور بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔

اس نے مڑ کر نہی دیکھا کہ سامنے اس کا مسیحا، جسے اللہ نے اس کی مدد کے لیے بھیجا ہے۔وہ کون ہے۔اس نے تو اس کی طرف دیکھا تک نہی۔بس اندھا دھند بھاگتی گئی۔

گھر پہنچی تو روز کی طرح آج بھی اماں سو رہیں تھیں۔وہ دروازہ بند کرتے ہوئے تیزی سے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔اندر سے دروازہ بند کیا اور وہیں زمین پر بیٹھ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو دی۔

یا اللہ۔۔میں تیرا کیسے شکر ادا کروں۔میرے اللہ تو رحیم ہے،کریم ہے، میرے اللہ میری عزت کو تار تار ہونے سے بچا لیا۔میرے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔جو تو نے اس شخص کو فرشتہ بنا کر میرے لیے بھیجا۔یا اللہ تیرا شکر ہے۔

رامین رو رو کر اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔اٹھ کر وضو کیا۔اور ظہر کی نماز ادا کی۔اور لاکھوں دعائیں کی اس شخص کے لیے جو اس کے لیے فرشتہ بن کر نا جانے کیسے وہاں آ پہنچا تھا۔

آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے۔بہت دیر تک جائے نماز پر بیٹھی دعائیں مانگتی رہی۔اماں کی آواز پر جائے نماز تہہ کر کے الماری میں رکھی۔اور آنسو صاف کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔

ٹیوشن والے بچے آ چکے تھے۔اسی لیے اماں اسے آوازیں دے رہی تھیں۔ مسلسل رونے کی وجہ سے رامین کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔اماں کی نظر اس پر پڑی تو وہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھیں۔رامین کیا ہوا؟؟ تیرا چہرہ کیسے پھیکا پڑا ہوا ہے۔اور تیری آنکھیں کیوں سرخ ہو رہی ہیں۔

رامین گھبرا گئی۔اب اماں کو کیا جواب دے گی وہ۔نننہہی اماں ککچھ بھی تو نہی ہوا۔شاید طبیعت ٹھیک نہی ہے۔رامین گھبراتے ہوئے بولی۔

اماں نے اس کا ماتھا چھوا تو اسے تیز بخار تھا۔تمہیں تو بخار ہے رامین۔مجھے بتایا کیوں نہی تو نے۔آو ڈاکٹر پاس لے کر چلو تمہیں۔

نہی اماں میں ٹھیک ہوں۔ ڈاکٹر پاس جانے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔گھر میں پیناڈول پڑی ہے ابھی ٹھیک ہو جاوں گی۔رامین کچن کی طرف بڑھی اور جلدی سے دو پیناڈول ٹیبلیٹس نکال کر کھا لیں۔

اور آ کر بچوں کو پڑھانے بیٹھ گئی۔اماں حیران تھیں اس کی اس حرکت پر۔پہلے تو وہ دوائی کے نام پر بھی بھاگ جاتی تھی۔مگر آج خود ہی دوائی کھا لی۔وہ جانچتی نظروں سے رامین کو دیکھتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔

________________________________________

احتسام صبح جلدی اٹھ گیا۔نماز پڑھ کر کچھ دیر قریبی پارک میں چلا گیا۔اور واپس آ کر آفس کے لیے تیار ہو کر نیچے آ گیا ناشتہ کرنے۔رانیہ،اور ہانیہ دونوں بھائی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔رانیہ نے رات کو بتا دیا تھا ہانیہ کو احتسام کے بارے میں کہ کل جب بھائی آفس سے آئے تو بہت پریشان تھے۔ہانیہ کو مسلسل اپنی طرف دیکھتے پایا تو احتسام نے ان دونوں کی طرف دیکھا۔

“کیا ہوا۔۔سب خیریت ہے ایسے کیا دیکھ رہی ہو تم دونوں مجھے۔۔؟؟؟

کچھ نہی بھائی وہ ہمیں آج شاپنگ کے لیے جانا تھا۔ہم بس یہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ آپ کی بائیک تو ٹھیک ہے نا؟۔۔۔ہانیہ کو جب اور کوئی بات نہ سوجھی تو جلدی سے یہ بہانہ بنا دیا۔

سیریسلی۔۔۔یہی بات تھی۔۔؟؟؟

احتسام مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔۔

“جی بھائی بس یہی بات تھی” رانیہ بولی۔

اچھا مجھے یہ بتاو تم دونوں پہلے کیا کبھی میں تم دونوں کو بائیک پر لےکر گیا ہوں باہر؟؟

احتسام کے سوال پر دونوں سوچی پڑ گئیں۔۔ننہی بھائی۔ہمارا مطلب تھا کہ آپ کی بائیک ٹھیک ہو گی۔تو ہی آپ آفس سے جلدی گھر آئیں گے۔اور ہمیں گاڑی میں شاپنگ کروانے لے کر جائیں گے۔کہی کل کی طرح آج بھی آپ کی بائیک خراب ہو گئی تو۔رانیہ بولی۔

احتسام مسکرا دیا۔میں بلکل ٹھیک ہوں۔مجھے کوئی پریشانی نہی ہے۔میں اچھی طرح جانتا ہوں۔تم دونوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔احتسام نے رانیہ کو گھورا تو دونوں مسکرا دیں۔

شام کو تیار رہنا سب شاپنگ پر چلیں گے۔احتسام مسکراتے ہوئے جوس کا گلاس ختم کرتے ہوئے آفس جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

لیکن بھائی ابھی تو آپ کی سیلری بھی نہی آئی۔ہم دونوں تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھیں۔ہانیہ اور رانیہ دونوں بھائی کی طرف بڑھیں۔

احتسام نے ایک نظر دونوں پر ڈالی اور مسکرا دیا۔”اب اتنا بھی غریب نہی ہے تم دونوں کا بھائی کہ شاپنگ نہ کروا سکے”۔شام کو تیار رہنا دونوں۔میں امی سے مل لوں۔ لیٹ ہو رہا ہو آفس کے لیے۔وہ مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔اور امی کو خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

________________________________________

صلہ کی آنکھ کھلی تو صبح کے دس بج رہے تھے۔الارم کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی تو اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔ملازمہ نے اس کو کمرے سے باہر آتے دیکھا تو جلدی سے اس کے لیے جوس کا گلاس لے آئی۔

“ہائے مام”۔۔سامنے صوفے پر اپنی ماما کو بیٹھے دیکھا تو وہیں چلی آئی۔ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں پیار سے۔انہوں نے بھی پیار سے صلہ کا ماتھا چوما۔اٹھ گئی میری بیٹی۔یہ کیا انگریزوں کی طرح مام۔مام۔کرتی رہتی ہو ماما کہا کرو۔وہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بولی۔

صلہ نے ملازمہ سے جوس واپس لے جانے کو کہا۔میرا دل نہی کر رہا صبح صبح کچھ بھی کھانے پینے کو۔واپس لے جاو۔صلہ جمائی لیتے ہوئے بولی۔

صلہ آپی اگر میں نہ لے کر آتی تو بھی آپ نے بولنا تھا۔اور اب لے کر آئی ہوں تو بھی آپ بول رہی ہیں۔ملازمہ برا سا منہ بناتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی۔

روشنی تم کچھ زیادہ ہی نہی بولنے لگ گئی۔جتنا کہوں اتنا کام کیا کرو۔فضول مت بولا کرو۔صلہ نے وہی بیٹھے بیٹھے اسے آواز لگائی۔اور مسکرا دی۔

سہی تو کہ رہی ہے روشنی۔۔ایسے ہی تو کرتی ہو تم۔اگر وہ جوس نہ لاتی تب بھی تم نے شور مچانا تھا اور اب لائی ہے تو بھی تم شور مچا رہی ہو۔صلہ کی ماما بھی روشنی کے حق میں بول پڑیں۔

نہی ماما ایسی کوئی بات نہی ہے دراصل میری نیند پوری نہی ہو رہی آجکل بس اسی وجہ سے طبیعت چڑچڑی سی رہتی ہے میری۔

کتنا مرتبہ کہا ہے تم سے کہ کوئی اور جاب ڈھونڈ لو۔یہ کیسی جاب ہے جو رات کو شروع ہوتی ہے۔اور کوئی نوکری ڈھونڈ لو جو دن کی ہو۔مگر تم کہاں سنتی ہو۔اٹھو اب ناشتہ کرو۔جاو منہ ہاتھ دھو کر آو۔روشنی ناشتہ لے کر آو صلہ کے لیے۔وہ روشنی کو آواز دیتے ہوئے بولیں۔

نہی مجھے ابھی نہی کھانا کچھ بھی صلہ نے بہانہ بنایا اور اپنے کمرے میں آ گئی۔روز کی یہی روٹین تھی اس کی۔

________________________________________

شام کو رامین کے ابا گھر آئے تو کھانا کھانے کے بعد رامین ان کے پاس جا بیٹھی۔ابا آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔وہ ہچکچاتے ہوئے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔ڈر رہی تھی کہ پتہ نہی ابا کیا کہیں گے سکول کی نوکری کا سن کر۔

ہاں ہاں بولو بیٹا کیا کہنا ہے۔وہ رامین کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔

ابا وہ۔۔میری دوست ہے نا ثوبیہ۔وہ جس سکول میں پڑھاتی ہے وہاں ان کو ٹیچر کی ضرورت ہے۔تو میں نے ثوبیہ سے کہا تھا کہ میرے لیے بات کرے پرنسپل صاحبہ سے۔اس نے بات کی تو وہ راضی ہو گئیں مجھے نوکری دینے کے لیے۔ابا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں کل سے چلی جاوں سکول۔بچوں کو پڑھانے۔فکر مندی والی کوئی بات نہی ہے ابا۔سکول نزدیک ہی ہے اور ثوبیہ روز مجھے گھر سے لے کر بھی جائے گی۔اور چھوڑ کر بھی جائے گی۔بس آپ کی اجازت چاہیے۔۔

رامین کے ابا مسکرا دئیے۔ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی۔مجھے کوئی اعتراض نہی۔وہ رامین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔

رامین کو تو جیسے یقین ہی نہی آیا اپنے کانوں پر۔سچ ابا۔میں جا سکتی ہوں سکول۔؟؟؟پھر سے پوچھ بیٹھی۔۔

ارے ہاں بھئی چلی جانا۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولے تو رامین بھی مسکرا دی۔شکریہ ابا کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔صبح کے لیے اپنے کپڑے پریس کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔

دوپہر والا واقعہ پھر سے اسے یاد آنے لگ گیا۔کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔کچھ دیر یونہی سوچتی رہی کہ اگر وہ شخص نہ آتا تو پتہ نہی کیا بنتا میرا۔سوچ کر ہی اس کا دل کانپ گیا۔پتہ نہی کون تھا وہ۔میں اسے دیکھ بھی نہی سکی۔اور شکریہ بھی نہی ادا کر سکی۔پتہ نہی کیا سوچے گا وہ میرے بارے میں کتنی خود غرض لڑکی ہوں میں۔آخر کار سوچوں کے سمندر میں ڈوبی وہ کب نیند کی آغوش میں چلی گئی۔اسے پتہ ہی نہی چلا۔

کمرے میں اسے کسی کے ہونے کا احساس سا ہوا۔اس کی آنکھ کھلی تو چہرہ پسینے سے بھرا ہوا تھا اس کا۔کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی۔جب اس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے وجود پر پڑی تو خوف سے اس کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *