Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 13)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
“رامین کی صبح آنکھ کھلی تو وہ لیٹ ہو چکی تھی۔”
“جلدی سے تیار ہو کر نیچے کی طرف بھاگی۔
“آج رامین کا موڈ بہت خوشگوار تھا”
“کیوں’وہ نہی جانتی تھی۔
“آج اتنی لیٹ کیوں اٹھی ہو’رامین تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ؟
“اماں پریشان ہو چکی تھیں’رامین کو اس ٹائم نیچے آتا دیکھ کر۔
جی اماں!
“میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے۔
“رات کو نیند نہی آ رہی تھی۔
“بہت دیر تک جاگتی رہی”
“اسی لیے صبح دیر تک سوئی رہی ہوں”
“آپ پریشان نہ ہو”
ابا چلے گئے فیکٹری؟
“رامین چادر اوڑھتے ہوئے بولی۔
“ہاں وہ چلے گئے”
“جانتی تو ہو،جلدی پہنچنا ہوتا ہے ان کو۔
“یہ لو ناشتہ کر لو جلدی سے”
“اماں نے ناشتہ رامین کی طرف بڑھایا”
“نہی نہی اماں۔
“ناشتہ کرنے کا ٹائم نہی ہے میرے پاس،ثوبیہ بس آنے والی ہے۔
“گھر آ کر کھا لوں گی۔
“ابھی اگر ناشتہ کرنے بیٹھ گئی’تو ثوبیہ بھی لیٹ ہو جائے گی۔
“میری وجہ سے”
“ابھی وہ دونوں بات کر ہی رہی تھیں کہ’
“دروازے پر دستک ہوئی”
“رامین اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی”
“جانتی تھی ثوبیہ ہی ہو گی”
“مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا’اسے حیرت کا جھٹکا لگا”
“ثوبیہ اکیلی نہی تھی آج”
“اسد بھی اس کے ساتھ تھا”
“رامین کے چہرے کے بدلتے رنگ ثوبیہ اور اسد دونوں نے نوٹ کیے”
کیا ہوا رامین؟
جانا نہی کیا؟
“ثوبیہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
“لگتا ہے تم ڈر گئی ہو”
“اس بھوت کو میرے ساتھ دیکھ کر’ثوبیہ اسد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
“اسد نے ثوبیہ کو گھورا”
“نہی ایسی کوئی بات نہی ہے’رامین خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔
“دراصل تم نے کہا تھا کہ اسد ایک مہینے بعد آئے گا واپس’تو اسے اتنی جلدی واپس دیکھ کر میں حیران ہو گئی”
“رامین خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی”
“اگر تم کہو تو واپس چلا جاوں؟
“اسد رامین کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا”
“نہی میں نے ایسا تو نہی کہا’رامین تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“وہ تینوں اب سکول کی طرف جا رہے تھے۔
“یہ تو ہے ہی کام چور”
“ابا سے کہتا ہے کہ میرا دل نہی لگ رہا”
“میں دو دن کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں”
“پھر ابا بیچارے کیا کہتے’بھیج دیا اسے واپس۔
“کل شام کو یہ آیا ہے گھر”
“ثوبیہ چلتے ہوئے رامین کو اسد کے واپس آنے کی وجہ بتا رہی تھی”
“مگر رامین سُن ہی کہاں رہی تھی۔
“اس کا دماغ تو کہیں اور الجھا ہوا تھا۔
“پرنس!
“اس نے کہا تھا کہ وہ ایک مہینے کے لیے جا رہا ہے’مگر کل وہ واپس آ گیا۔
اور!
“اسد بھی کل شام واپس آ گیا۔
“کیا کروں اب میں’کچھ سمجھ نہی آ رہا مجھے”
“اگر اسد ہی پرنس ہے’تو کیوں کر رہا ہے یہ سب؟
“کیا مجھے اسد سے بات کرنی چاہیے؟
“رامین خود سے ہی سوال کر رہی تھی”
“یونہی سوچوں میں گُم وہ سکول پہنچی”
“اسد جا چکا تھا”
“رامین کو پتہ ہی نہی چلا’کب وہ سکول پہنچ گئی”
“اس کا خوشگوار موڈ آف ہو چکا تھا”
“وہ نہی سمجھ پا رہی تھی’کہ آخر پرنس ہے کون؟
“یہ پہیلی سلجھ ہی نہی رہی تھی”
“دن بدن مزید الجھتی جا رہی تھی”
“آخر ایسا کیا تھا’جو رامین کے سامنے ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھ نہی پا رہی تھی۔
“آج میں یہ پہیلی سلجھا دوں گی’رامین نے خود سے ہی عہد کیا”
“اسد کی آنکھیں”
“اسد کی آنکھوں پر کبھی غور نہی کیا میں نے”
“پرنس کی آنکھیں تو دیکھی ہیں میں نے”
آج مجھے کچھ ایسا کرنا ہو گا’جس سے میں اسد کی آنکھوں میں دیکھ سکوں”
“آج پتہ چل جائے گا’کہ واقعی اسد ہی پرنس ہے’یا پھر بس میرا وہم ہے۔
“ہاں مجھے یہ کرنا ہی پڑے گا”
“کوئی اور راستہ نظر نہی آ رہا مجھے”
“رامین سوچوں میں گُم کلاس میں داخل ہو گئی۔
“ایک تو آج صبح ناشتہ نہی کر کہ آئی’اوپر سے ٹینشن۔
“رامین کا سر درد سے پھٹی جا رہا تھا۔
“سارا دن پریشانی میں ہی گزرا۔
“چھٹی ہوئی تو رامین ثوبیہ کے ساتھ باہر کی طرف بڑھی۔
“اسد پہلے سے ہی دونوں کے انتظار میں باہر کھڑا تھا۔
“مگر وہ موبائل میں مصروف سا تھا’دونوں کو باہر آتے دیکھ وہ چل پڑا۔
“رامین کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا’کہ اسد کو کیسے مخاطب کرے۔
“وہ بس چلتی آ رہی تھی’اسد نے ایک بار بھی مڑ کر نہی دیکھا۔
“رامین سے کوئی بات نہی ہو سکی۔
“اسد تیز تیز چلتا جا رہا تھا’اور اس کا دھیان بس موبائل میں ہی تھا۔
“رامین کو جی بھر کر غصہ آیا اسد پر’پہلے تو وہ ایسے نہی کرتا تھا۔
“آخر کار رامین گھر کے دروازے پر پہنچ گئی’مگر اسد کا دھیان ابھی بھی موبائل پر ہی تھا۔
“رامین سر جھٹکتے ہوئے’خدا حافظ کہہ کر گھر میں داخل ہو گئی۔
“رامین سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی۔
“امی اس کے لیے کھانا پہلے ہی تیار رکھے بیٹھی تھیں۔
“امی میں کھانا آ کر کھا لوں گی’پہلے ابا کو کھانا دے آوں۔
“رامین جلدی سے گھر سے باہر نکل گئی’اور اماں آوازیں دیتی رہ گئیں۔
“رامین تیز تیز چلتی فیکٹری پہنچی’جلدی سے اندر داخل ہوئی۔
“راحیم چچا کو سلام کر کے کھانا تھماتے ہوئے واپس باہر آ گئی۔
“رامین کو ڈر تھا کہ کہی پھر سے اس چشمے والے سے ملاقات نہ ہو جائے۔
“وہ تیز تیز چلتی جا رہی تھی’کہ اچانک اس کے سامنے ایک گاڑی آ رکی۔
________________________________________
“آج صبح سے گھر میں رونق سی لگی ہوئی تھی۔
“رانیہ،ہانیہ اور احتسام کی امی صبح سے گھر کو صاف کرنے اور کھانے بنانے میں لگی ہوئیں تھیں۔
“اگلے ہی دن احتسام کے اکاونٹ میں رقم بھیج دی تھی باس نے۔
“آج سنڈے تھا”
“احتسام کے چاچو اور پھوپھو کی فیملی آنے والی تھیں آج۔
“شادی کی ڈیٹ جو فکس ہونی تھی آج ہانیہ کی”
“چاچو کے دو ہی بیٹے ہیں’بڑا شعیب وہ شادی شدہ ہے۔
“جبکہ چھوٹے بیٹے زوہیب کے ساتھ رانیہ کی منگنی ہو چکی ہے۔
“چاچو کی فیملی پہلے ہی آ گئی”
“سب نے خوشدلی سے ان کا استقبال کیا”
“چاچو کی بہو گڑیا آتے ہی کچن میں چلی گئی’اور ہانیہ کو کمرے میں جا کر تیار ہونے کو کہا۔
“رانیہ نے منہ پھلا لیا”
مجھے بھی جانا ہے تیار ہونے بھابی’آپ نے بس ہانیہ کو بھیج دیا۔مجھے کیوں نہی جانے کو کہا؟
“گڑیا مسکرا دی’تمہاری خیر ہے۔
“تمہاری بھی جب ڈیٹ فکس ہو گی تمہیں بھی بھیج دوں گی۔
“اب چپ چاپ کام کرو’بہانے نہی بناو۔
“جلدی سلاد بناو’پھوپھو لوگ آنے والے ہیں۔
“پتہ نہی وہ دن کب آئے گا’اپنے ایسے نصیب کہاں۔
“رانیہ ایک ہاتھ ماتھے پر رکھتے ہوئے بولی۔
“آج ہی بات کرتی ہوں۔احتسام سے اور چچی جان سے’تمہاری اور زوہیب کی شادی کے بارے میں۔
“بتاتی ہوں ان کو’کہ تم کہہ رہی ہو کہ ہانیہ کے ساتھ ہی میری بھی شادی کی بات شروع کر دی جائے۔
“گڑیا کی بات پر رانیہ کا چہرہ زرد پڑ گیا”
“نہی بھابی میں تو مزاق کر تھی’ابھی بناتی ہوں سلاد۔
“آپ کسی سے کچھ مت کہنا’رانیہ سچ میں ڈر گئی۔
“میں بھی مزاق ہی کر رہی ہوں’اب جلدی جلدی کام کرو ڈرامے باز”
“گڑیا مسکراتے ہوئے بولی’تو رانیہ کی جان میں جان آئی۔
“کیا بھابی آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا’رانیہ پیاز چھیلتے ہوئے بولی۔
“شکر ہے امی کچن میں نہی ہیں’ورنہ ابھی میری کلاس لگ جانی تھی۔
“رانیہ پیاز چھیل رہی تھی’اور آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔
“زوہیب کچن میں داخل ہوا۔
“اسلام و علیکم! رانیہ کو دیکھتے ہی سلام کیا۔
“جبکہ سلام رانیہ کو کرنا چاہیے تھا’وہ اچانک زوہیب کو سامنے دیکھ کر جھینپ گئی۔
“وعلیکم اسلام”
“بہ مشکل رانیہ کے گلے سے آواز نکلی۔
“رانیہ نے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی’اس کی حالت کام والی ماسی کی طرح تھی اس وقت۔
“خیریت ہے زوہیب تم کچن میں’میرا مطلب کچھ چاہیے تھا۔
“گڑیا مسکراتے ہوئے بولی۔
“نہی بھابی مجھے کچھ نہی چاہیے’بھائی آپ کو یاد کر رہے ہیں۔
“اچھا میں آتی ہوں ان کی بات سن کر’وہ مسکراتے ہوئے کچن سے باہر نکل گئیں۔
“ہمم تو کیسی ہو تم؟
“جناب نے تو باہر تشریف لانا نہی تھا’تو میں نے سوچا خود جا کر آپ کی خدمت میں سلام پیش کر دوں۔
“زوہیب چلتا ہوا رانیہ کے پاس آ رکا۔
“رانیہ کے ہاتھ کانپنے لگے’زوہیب کے اس لہجے میں بات کرنے پر۔
“اچھا مجھے ماسی کے حلیے میں دیکھ کر میرا مزاق بنانے کو دل کر رہا ہو گا جناب کا۔
“رانیہ جلدی سے خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔
“ہر وقت فرفر باتیں کرنے والی رانیہ کے پاس الفاظ کم پڑ چکے تھے’بولنے کو۔
“وہ ہمیشہ ایسی نہی تھی’جب سے زوہیب سے اس کا رشتہ طے ہوا تھا۔
“تب سے زوہیب کے سامنے آنے پر ایسے بے ہیو کرتی تھی”
“مجھے تو تم ہر روپ میں اچھی لگتی ہو”
“اب وہ روپ چاہے ماسی والا ہی کیوں ہو’آخری بات پر زوہیب کی ہنسی چھوٹ گئی”
“رانیہ غصے سے اسے گھورنے لگی’اور چھری اٹھا کر زوہیب کی طرف بڑھی۔
“میں تمہارا خون پی جاوں گی’غصے سے زوہیب کی طرف چھری کا رخ کرتے ہوئے بولی۔
“ہاں وہ تو تم نے پینا ہی ہے شادی کے بعد’ابھی تو بخش دو مجھے۔
“زوہیب آہستہ آواز میں بڑبڑایا”
“کیا کہا تم نے’رانیہ نے اس کی بربراہٹ سن لی؟
“ککچھ نہی’ میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ تم اس حلیے میں بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔
“غصے میں اور بھی پیاری لگتی ہو’رانیہ کی ناک کھینچ کر مسکراتے ہوئے زوہیب کچن سے باہر نکل گیا۔
“رانیہ بس پیر پٹخ کر رہ گئی”
“جلدی سے آ جاو باہر’میں انتظار کر رہا ہوں۔
“زوہیب کچن کے دروازے میں ہی رک کر بولا۔
“رانیِہ چپ چاپ سلاد بنانے میں مصروف ہو گئی۔
“بھابی کچن میں داخل ہوئیں’رانیہ تم نے سلاد نہی بنائی ابھی تک؟
“اچھا چھوڑو تم’میں یہ دیکھ لوں گی۔
“تم جاو تیار ہو جاو’اور ہانیہ کو بھی دیکھو تیار ہوئی یا نہی۔
“نہی بھابی میں بنا دیتی ہوں’رانیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“زوہیب پر غصہ آیا اسے جی بھر کر’اس زوہیب کی وجہ سے میرا ٹائم ویسٹ ہو گیا۔
“ورنہ اب تک سلاد بنا لینی تھی میں نے۔
“نہی رانیہ تم جا کر تیار ہو جاو’میں مینیج کر لوں گی۔
“گڑیا کے بار بار کہنے پر رانیہ کو جانا ہی پڑا۔
“احتسام اپنا موبائل کمرے میں ہی بھول آیا تھا۔
“موبائل لینے کمرے میں آیا تو کسی انجان نمبر سے کال آ رہی تھی۔
“احتسام نے کال پِک کی’ موبائل کان سے لگایا۔
“وہ کتنی ہی دیر فون کان سے لگائے بیٹھا رہا’مگر دوسری طرف سے کوئی نہی بولا۔
“ایسا پچھلے دو دن سے ہو رہا تھا”
“کبھی دن کو’تو کبھی رات کو اسی نمبر سے کال آتی۔
“مگر بولتا کوئی بھی نہی تھا۔
“احتسام بول بول کر تھک جاتا’مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہی ملتا تھا۔
“آخر کار تنگ آ کر احتسام کال کاٹ دیتا۔
“آج بھی ایسا ہی ہوا’احتسام نے غصے سے کال کاٹ دی۔
“موبائل جیب میں رکھتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
“احتسام نیچے آیا’تو پھوپھو کی فیملی بھی آ چکی تھی۔سوائے دولہا کے۔
“احتسام بھی سلام کرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
رانیہ اور ہانیہ بھی تیار ہو کر آ گئیں تھیں۔
“خوشگوار ماحول میں سب نے ڈنر کیا۔
“کھانا کھانے کے بعد شادی کی ڈیٹ پر تبادلہ خیال کیا سب نے۔
“اگلے مہینے کی دس تاریخ کو جمعہ کا دن فائنل کیا گیا’نکاح کے لیے۔
“مہندی والے دن نکاح رکھا گیا”
“اور پھر ہفتے کو رخصتی’اور اتوار کو ولیمے کا فنکشن ڈیسائیڈ کر دیا گیا۔
“سب نے رانیہ کو اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا کر’مبارک باد دی۔
“کچھ دیر بعد سب گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
“زوہیب نے ہانیہ کو ہاتھ ہلایا’گاڑی میں بیٹھتے ہوئے۔
“بدلے میں رانیہ نے اس کو گھورا۔
“زوہیب نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ بند کر دیا۔
“پتہ نہی یہ لڑکی کب سدھرے گی”
“دل ہی دل میں سوچتے زوہیب نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“چاچو کی فیملی رخصت ہوئی’تو پھوپھو کی فیملی بھی رخصت ہو گئی۔
“سب لوگ چلے گئے’تو وہ سب بھی گیٹ بند کرتے ہوئے اندر کی طرف چل پڑے۔
“بھائی صرف دو ہفتے ہیں ہمارے پاس’اور کتنی زیادہ تیاریاں کرنی ہیں ہمیں۔
“رانیہ اندر آتے ہی بولنا شروع ہو گئی۔
“تم نے کیا کرنا ہے’بس کھاو،پیو اور آرام کرو”
“ہم سب مینیج کر لیں گے”
“امی مسکراتے ہوئے بولیں۔
“احتسام اور ہانیہ بھی مسکرا دئیے’امی کی بات پر۔
“رانیہ نے سب کو مسکراتے دیکھا تو منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔
“ٹھیک ہے مجھے پوچھنا ہی نہی چاہیے تھا’اب میں کسی کام میں مدد نہی کرواوں گی آپ لوگوں کی۔
“خود ہی سارے کام کرنا اب آپ لوگ’رانیہ منہ پھلاتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔
“احتسام اور ہانیہ کی ہنسی کی آواز گونجی گھر میں۔
“امی بھی مسکرا دیں’اب اس کے یہ نخرے تو چلتے ہی رہیں گے۔
“جی امی’یہ نخرے اس لیے دکھاتی ہے’کیونکہ ہم اس کے نخرے اٹھاتے ہیں’ہانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“ہاں بھئی! چلو ہانیہ منانے چلیں میڈم کو’احتسام مسکراتے ہوئے رانیہ کے کمرے کی طرف بڑھا۔
“لگتا ہے یہ دو ہفتے رانیہ کو مناتے مناتے ہی گزریں گے۔
“احتسام مسکراتے ہوئے بولا’اور دونوں ہانیہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
“رانیہ کھڑکی کے پاس منہ پُھلائے کھڑی تھی’ہانیہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے بیڈ پر لے آئی۔
“چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہونا کب چھوڑو گی تم۔
“ہانیہ یہ ڈریس دیکھا تم نے’میچنگ جوتے اور جیولری بھی ہے اس کے ساتھ۔
“تم دیکھو کیسا لگا تمہے’تا کہ میں آرڈر کروں جلدی سے’احتسام موبائل ہانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
“جی بھائی’یہ سارے ڈریس بہت خوبصورت ہیں۔
“رانیہ تم بھی دیکھ لو’اپنے لیے۔
“ہانیہ نے فون رانیہ کی طرف بڑھایا’مگر رانیہ نے منہ موڑ لیا۔
واوو۔۔بھائی یہ کلرز بھی کتنے یونیق ہیں’میں تو آرڈر کرنے لگی ہوں۔
“رانیہ نے جلدی سے ہانیہ کے ہاتھ سے فون کھینچا دکھاو مجھے بھی!
“احتسام اور ہانیہ مسکرا دئیے’پہلے تو رانیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“پھر خود ہی مسکرا دی”
“احتسام اور ہانیہ بھی مسکرا دئیے’احتسام نے رانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“میرے ہوتے ہوئے تم دونوں کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔
“سب مینیج کر لوں گا میں’بس تم دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آنی چاہیے مجھے۔
“دونوں بہنیں بھائی کے گلے لگ گئی۔
“تم دقنوں سلیکٹ کرو کپڑے’جب موبائیل فری ہو جائے تو مجھے کمرے میں دے جانا’احتسام دونوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
