Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 22)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
“گھبرا کیوں رہی ہو مجھ سے؟
ایسے دور ہو کر بیٹھنے کا کیا مطلب سمجھوں اب میں۔
مجھ سے کس بات کا ڈر ہے تمہیں؟
میں تمہیں اس لیے ساتھ لے کر آیا ہوں۔تا کہ ہمارے درمیان کی دوریاں ختم کر سکوں۔
تم مجھے جان سکو!
میری عادتیں جاننے کی کوشش کرو۔
مجھے جاننے کی کوشش کرو۔
سب کچھ تمہارے لیے ہی تو کیا ہے۔
“تمہاری محبت میں’
تمہاری محبت ہی تو طاقت ہے میری’
جتنا جلدی ہو سکے ہمارے رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کرو’
بس چند دن اور پھر تم ہمیشہ کے لیے میری زندگی میں شامل ہو جاو گی۔
شامل تو ہو چکی ہو ویسے میری زندگی میں’بس مجھے قبول نہی کر پا رہی تم۔
“اکیلے باہر ساتھ لانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں۔
اگر ایسے ہی مجھ سے بھاگتی رہی تو زندگی مشکل ہو جائے گی ہم دونوں کی۔
بے فکر ہو کر بیٹھو!
“شوہر ہوں تمہارا’کوئی غیر تو نہی۔
اظہر نے جب رامین کو چپ چاپ سمٹ کر بیٹھے دیکھا تو بنا بولے رہ نہ سکا۔
تم تو ایسے بیٹھی ہو جیسے مجھے جانتی ہی نہی’
“اب تو زندگی بھر کا ساتھ جڑ چکا ہے ہمارا”
“سہی کہا آپ نے!
میں واقعی نہی جانتی آپ کو ہمارے درمیان بس نکاح کا رشتہ ہے۔
‘ویسے تو اجنبی ہیں آپ میرے لیے”
رامین کی بات پر اظہر نے گاڑی کو بریک لگائی’کیا ہم اجنبی ہیں؟
‘اظہر کو جیسے صدمہ لگا!
“اس میں اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے’ٹھیک ہی تو کہا ہے میں نے’
ہمارے درمیان اس دھوکے سے کیے گئے نکاح کے سوا اور کوئی رشتہ ہے کیا؟
دھوکا،جھوٹ،فریب یہ سب تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں۔
مگر اس بار آپ نے حد ہی کر دی’دھوکے سے نکاح ہی کر ڈالا’
میرے جزبات کو ٹھیس پہنچائی آپ نے’دھوکا دیا مجھے”
“کیسا دھوکا رامین؟
میں نے کوئی زبردستی نہی کی تمہارے ساتھ’بس نکاح ہی تو کیا ہے۔”
“زبردستی اسے ہی تو کہتے ہیں ملک اظہر صاحب!
بنا بتائے اچانک اگر آپ کی مرضی جانے بغیر آپ کو نکاح نامے پر سائن کرنے کو کہہ دیا جائے’
اسے زبردستی ہی تو کہتے ہیں’
میں نے یہ نکاح اپنے ماں،باپ کا مان رکھنے کے لیے کیا ہے بس!
اور اس رشتے کو اپنی آخری سانس تک نبھاوں گی’کیونکہ میرے ماں،باپ کی خوشیاں جڑی ہیں اس رشتے سے”
“رامین تم بدگمان ہو مجھ سے’بہت زیادہ غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں تم نے اپنے دل میں میرے بارے میں۔
مگر میں وعدہ کرتا ہوں!
‘بہت جلد تمہاری ساری بدگمانیاں دور کر دوں گا۔
تم بس کوشش کرو مجھ پر بھروسہ کرنے کی’
میں مانتا ہوں بہت غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ’تم جو چاہے مجھے سزا دو۔
مگر مجھ سے بدگمان مت ہونا کبھی’
“بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے’اپنی جان سے بھی زیادہ۔
کیسے یقین دلاوں تمہیں!
رامین دیکھو میری طرف!
اظہر نے رامین کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
کیا میری محبت نظر نہی آتی تمہیں؟
کیا میں اتنا برا لگتا ہوں تمہیں کہ میرے ساتھ چند پل نہی گزارنا چاہتی تم’
‘میں تو اپنی زندگی تمہارے نام کر چکا ہوں۔
دیکھو تو سہی ایک شریف سیدھے سادھے بندے کو مجنوں بنا کر رکھ دیا ہے تم نے’
وہ گھمگیر لہجے میں بول رہا تھا”
“کیسے دیکھوں؟
‘آنکھوں پر تو چشمہ لگا رکھا ہے آپ نے!
رامین کی بات پر وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
‘تو اتار دو یہ چشمہ ان آنکھوں سے’مگر شرط یہ ہے کہ ان آنکھوں سے نظریں نہی ہٹاو گی۔
‘جب ان آنکھوں کو دیکھو گی۔
‘تو چھونے کی خواہش کرو گی۔
‘ان آنکھوں میں کھو جاو گی۔
‘رہنے دو ان آنکھوں کو پردے میں۔
‘کہ ملن میں ابھی کچھ گھڑیاں باقی ہیں۔
‘جو دیکھ لی یہ ہوش رُبا آنکھیں۔
‘تو ابھی ٹوٹ کر میری بانہوں میں بکھر جاو گی۔
‘تو سوچ کیا رہی ہو بڑھاو ہاتھ اور اتار دو اس چشمے کو۔
اظہر نے چہرے مزید رامین کے قریب کیا۔
ننہہی آپ جلدی گاڑی سٹارٹ کریں’شام ہونے والی ہے۔
‘ہم لیٹ ہو جائیں گے۔
رامین کی بات پر وہ مسکرا کر پیچھے ہٹا’اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
مگر رامین کا ہاتھ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھا۔
‘ویسے یہ کنگن بہت خوبصورت لگ رہے ہیں تمہارے ہاتھوں میں۔
ایسے لگتا ہے جیسے تمہارے لیے ہی بنے ہو یہ۔
‘یہ میں کل رات کو لایا تھا۔
کیسے لگے تمہیں؟
اچھے ہیں’رامین نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا۔
بس ٹھیک!
بہت محنت لگی مجھے انتخاب کرنے میں’کبھی یہ شاپ کبھی وہ شاپ۔
پچاس دکانیں گھومنے کے بعد پسند آئے یہ مجھے۔
مگر جانتی ہو!
سب سے زیادہ خوبصورت یہ مجھے تب لگے’جب میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے خوبصورت ہاتھوں میں پہنایا انہیں۔
مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ تم نے انہیں ابھی تک پہن رکھا ہے۔
اُتارا نہی’ میری محبت کا پہلہ تحفہ قبول کیا تم نے”
“رامین نے اظہر کی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔
بس دل ہی دل میں اسے کوفت سی ہونے لگی’اظہر کی ان باتوں سے۔
‘اچھا ہوتا کہ میں اُتار ہی دیتی یہ کنگن’خوامخواہ غلط فہمیاں پال رہے ہے یہ اپنے دل میں۔
خیر مجھے کیا!
‘جو سوچتے ہیں سوچتے رہیں۔
رامین نے اپنا ہاتھ واپس کھینچنے کی کوشش کی مگر اظہر نے اپنے ہاتھ کی گرفت مزید سخت کر دی۔
“چھوڑنے کے لیے نہی تھاما یہ ہاتھ!
اب زندگی بھر یہ ہاتھ تھام کر چلنا ہے مجھے’یہ دامن چھڑوا کر بھاگنے کی کوششیں چھوڑ دو۔
“تم اب میری ہو’
“تمہارا خود پر بھی اب کوئی حق نہی۔
“سارے حق اب میرے ہیں۔
اظہر کی آواز رامین کے کانوں میں پڑی’تو اس نے مزاحمت ختم کر دی۔
“بے بسی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
اظہر نے گاڑی پارک کی’اور رامین کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔
ایسے مت دیکھو نظر لگ جائے گی مجھے!
“دولہے کو نظر لگ جائے گی دلہن کی’
رامین جلدی سے دوسری طرف دیکھنے لگی’میں آپ کو نہی دیکھ رہی تھی۔
میں تو باہر دیکھ رہی تھی’غلطی سے آپ پر نظر پڑ گئی۔
رامین شرمندہ ہوتے ہوئے بولی’
چلو غلطی سے ہی سہی!
نظر تو پڑی میرے چہرے پر تمہاری’
اظہر مسکراتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا۔
اور رامین کی طرف کا دروازہ کھولا’رامین بھی گاڑی سے باہر نکل آئی۔
دونوں شاپنگ مال کی طرف بڑھ گئے’اظہر نے پھر سے رامین کا ہاتھ تھام لیا’
‘ہاتھ چھوڑ دیں میرا!
میں کوئی بچی تو نہی ہوں’سب دیکھ رہے ہیں’
رامین چلتے چلتے اظہر کے کان کے پاس آہستہ سے بولی۔
‘مگر اس پر کوئی اثر نہی پڑا’وہ مسکراتے ہوئے شاپ میں داخل ہو گیا۔
“اظہر ایک ایک کر کے رامین کو سارے برائیڈل ڈریس دکھا رہا تھا۔
رامین بس ایک نظر ڈریس پر ڈالتی اور سر ہلا دیتی’
اظہر حیرانگی سے رامین کی طرف دیکھنے لگا’ہم یہاں بس دیکھنے نہی آئے۔
ڈریس خریدنا ہے ہمیں’پسند کرو یار۔
‘مجھے کوئی تجربہ نہی ہے ایسے کپڑے خریدنے کا’تمہیں تو پتہ ہی ہو گا۔
مجھے بھی کوئی تجربہ نہی ہے’آپ خود ہی پسند کر لیں۔
جو آپ پسند کریں گے میں پہن لوں گی’
دلہن آپ کی مرضی کی ہے’تو ڈریس بھی تو آپ کی مرضی کا ہونا چاہیے نا!
‘رامین کا لہجہ تھوڑا تلخ تھا’
اور اظہر نے اس کے لہجے کی تلخی بہت اچھی طرح محسوس کی تھی۔
وہ بس رامین کی طرف دیکھتا رہ گیا’بولا کچھ نہی۔
آخر کار آگے بڑھا!
ریڈ اور گولڈن کلر کی میکسی جس پر ہیوی کام ہوا تھا’
رامین کی طرف اشارہ کیا’یہ اچھا لگا مجھے!
ٹھیک ہے اگر آپ کو پسند ہے تو پھر مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
اظہر بس لمبی سانس بھر کر رہ گیا’اور آگے بڑھ کر ایک گرے کلر کی میکسی بھی پسند کر لی۔
اس بار اس نے رامین سے نہی پوچھا’کیونکہ جانتا تھا۔
اس کا جواب یہی ہو گا’اگر آپ کو پسند ہے تو ٹھیک ہے۔
دونوں ڈریس پیک کروائے’پیمنٹ کی اور گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
رامین کا موڈ اب بھی ویسا ہی تھا’
کچھ کھاو گی’اظہر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔
نہی۔۔میں کھانا کھا کر آئی تھی’آپ پلیز مجھے گھر ڈراپ کر دیں۔
شام ہو چکی ہے’اماں پریشان ہو رہی ہو گی۔
رامین بہت جھنجلائی ہوئی تھی۔
ڈونٹ وری رامین!
تم اپنے شوہر کے ساتھ ہو کسی کزن یا دوست کے ساتھ نہی ہو’
جو اتنا گھبرا رہی ہو۔
آنٹی کی اجازت پر ہی لے کر آیا ہوں میں ساتھ تمہیں’
میں کوئی بچہ نہی ہوں’جو تمہارے اس رویے کو سمجھ نہی سکتا۔
“سچ تو یہ ہے کہ تم اس نکاح سے خوش نہی ہو’تمہیں تو پرنس چاہیے تھا نا!
وہ نہی ملا تمہیں!
جانتی ہو کیوں نہی ملا وہ تمہیں؟
کیونکہ وہ تمہارے لائق ہی نہی تھا’
ایک نمبر کا آوارہ لڑکا ہے وہ’ہر وقت غنڈا گردی اس کے لیے جیسے مزاق ہے۔
پسٹل جیب میں ڈال کر پھرتا ہے وہ’جہاں دل چاہے گولی چلا دیتا ہے۔
خود ہی سوچوں کیا تم ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو’جس کا کوئی فیوچر ہی نا ہو”
غنڈہ گردی’لوگوں سے پیسے چھیننا اور چوریاں کرنا یہی اس کی زندگی ہے۔
میں نے تمہاری جان بچائی ہے اس غنڈے سے!
اللہ کا شکر ادا کرو اب تم محفوظ ہاتھوں میں ہو۔
میں ہوں تمہارے ساتھ’اب وہ تمہارا کچھ نہی بگاڑ سکے گا۔
رامین بس حیرتوں میں ڈوبی اظہر کی باتیں سُن رہی تھی۔
پرنس چور ہے!
“وہ اسی لیے خود کو چور کہتا تھا’اور وہ پسٹل!
پسٹل ہے اس کے پاس’اس نے مجھے بھی تو ڈرایا تھا۔
تو کیا واقعی وہ ایک غنڈہ ہے’
نہی ایسا نہی ہو سکتا’اس نے مجھے کبھی کوئی نقصان نہی پہنچایا۔
ہمیشہ میری مدد ہی کی ہے!
ہو سکتا ہے ان کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو’پرنس ایسا بلکل بھی نہی ہے۔
وہ ایک شریف انسان۔۔۔!
“میں شریف چور ہوں!
رامین کے کانوں میں پرنس کی آواز گونجی’
اس کے دل میں اظہر نے شک کا بیج بو دیا تھا۔
“میرا نکاح پرنس سے نہی ہوا’
اس بات کا دکھ نہی ہے مجھے’
دکھ اس بات کا ہے کہ آپ نے بنا بتائے مجھ سے نکاح کیا ہے اچانک۔
جانتے ہیں آپ!
نکاح ایک لڑکی کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہوتا ہے’
اس کے دل میں اپنے ہونے والے شوہر کا ایک عکس سا ہوتا ہے۔
جو نکاح ہونے کے بعد ایک وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے’
جب میں نے نکاح نامے پر سائن کیے تھے’اس وقت میرے دل میں جو عکس تھا۔
وہ پرنس کا تھا’
اور وجود!
وجود آپ کا تھا’اب آپ خود ہی بتائیں اس میں میرا کیا قصور ہے؟
رامین کی آنکھیں برس پڑیں!
اظہر نے گاڑی سائیڈ پر روک دی’اور رامین کا چہرے سے آنسو صاف کیے۔
اس عکس کو ختم کر دوں گا میں’اگر تم میرا ساتھ دو۔
رامین کے آنسو پونچھتے ہوئے مدھم لہجے میں بولا۔
میں چاہتا ہوں’جب تم رخصت ہو کر میرے پاس آو تو۔
تمہارے دل میں میرا عکس ہو’اور وجود بھی میرا ہی ہو۔
اس رشتے کو سچے دل سے قبول کر لو’
اظہر نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
رامین کے گھر کے باہر گاڑی روک دی۔
ایک گفٹ پیک رامین کی طرف بڑھایا’
رامین نے سوالیہ نظروں سے اظہر کی طرف دیکھا۔
ڈونٹ وری اس بار بہت اچھا گفٹ ہے’مسکراتے ہوئے بولا۔
رامین نے نا چاہتے ہوئے بھی وہ گفٹ تھام لیا۔
گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اظہر نے روک لیا۔
یہ گفٹ ابھی کھولو!
رامین کو حیرانگی ہوئی’میں گھر جا کر دیکھ لوں گی۔
اس نے بہانہ چاہا’
نہی ابھی کھولو میرے سامنے’تمہارا کیا بھروسہ کہیں رکھ کر بھول جاو۔
اور میں انتظار ہی کرتا رہ جاوں’
رامین نے گفٹ کھولنا شروع کر دیا’کیونکہ جانتی تھی جب تک یہ گفٹ نہی کھولا میں نے تب تک گھر نہی جانے دینا اظہر نے اسے۔
اسی لیے مجبوراً اسے گفٹ کھولنا ہی پڑا’
رامین نے گفٹ کھولا تو ایک خوبصورت،مہنگا ترین فون نکلا اس میں سے۔
رامین کو بلکل بھی خوشی نہی ہوئی یہ فون دیکھ کر۔
اس نے سوالیہ نظروں سے اظہر کی طرف دیکھا۔
یہ تمہارے لیے ایک چھوٹا سا گفٹ’
مگر مجھے اس کی ضرورت نہی ہے’رامین نے فون واپس ڈبے میں بند کر کے شاپر میں ڈال کر رکھ دیا۔
تمہیں ضرورت ہو یا نہ ہو’مجھے ضرورت ہے۔
“اپنی بیوی سے بات کرنی ہوتی ہے میں نے’اسی لیے خریدا ہے۔
باقی شاپنگ ماما کروائیں گی’آو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔
رامین گاڑی سے باہر نکل گئی’اظہر بھی شاپنگ بیگز اٹھاتے ہوئے رامین کے ساتھ گھر میں داخل ہو گیا۔
رامین کی اماں دونوں کو آتے دیکھ مسکرا دی۔
اظہر نے شاپنگ بیگز رامین کی طرف بڑھا دئیے۔
رامین اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے اوپر جاتے ہی اظہر نے آنکھوں سے گلاسز اتار دئیے۔
اور رامین کے ابا کے پاس جا بیٹھا۔
نیچے آتے ہوئے رامین کی نظر اظہر پر پڑی’وہ نظریں جھکائے رامین کے ابا سے بات کر رہا تھا۔
چند لمحوں کے لیے رامین پر نظر اس پر ٹہر سی گئی۔
پھر سر جھٹکتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
رامین کے آتے ہی اظہر گلاسز پہنتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
چلتا ہوں!
رامین کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
رامین مسکراتے ہوئے اماں،اور ابا کے پاس آ بیٹھی۔
“دن تیزی سے گزرتے گئے۔
ایک ہفتہ کیسے گزر گیا پتہ ہی نہی چلا’
اظہر روز رامین کو فون کرتا رہتا’
رامین بس مختصر سی بات کرتی اور فون بند کر دیتی۔
مگر اظہر برا نہی مانتا تھا’وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پھر کسی نا کسی بہانے سے فون کر دیتا۔
اور رامین کو مجبوراً فون اٹھانا پڑ جاتا۔
رامین کی ساری شاپنگ مکمل ہو چکی تھی۔
رامین ہر رات جاگ کر گزارتی پرنس کے انتظار میں’مگر وہ پھر کبھی نہی آیا۔
نا ہی ثوبیہ کے گھر والے آئے’رامین بہت بار ثوبیہ کے گھر کے نمبر پر کال کرتی رہی مگر کوئی فون ہی نہی اٹھاتا تھا۔
شاید ان کو پتہ چل گیا تھا رامین کے اظہر سے نکاح کا’
اسی وجہ سے ناراض ہو چکے تھے وہ لوگ’
رامین سارا دن شاپنگ پر ہوتی اظہر کی ماما کے ساتھ’اور پھر شام کو پارلر۔
ایسے میں ثوبیہ کے گھر جا ہی نا سکی وہ۔
رات ہوتے ہی اس کو پرنس کا انتظار ہوتا’وہ اتنے دنوں سے نہی آیا۔
پتہ نہی کیوں پھر بھی رامین کو اس کا انتظار رہتا تھا۔
مگر پرنس نہی آیا!
آج مہندی کا فنکشن تھا۔
ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔
رامین کو اظہر کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا۔
رامین نے گرین اور پنک کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا’جس پر بہت خوبصورت گولڈن ستاروں اور موتیوں کا کام ہوا تھا۔
اور سرخ پھولوں کے زہورات پہنے ہوئے تھے رامین نے۔
‘اظہر کی نظریں رامین پر اٹک سی گئیں تھیں۔
اظہر نے وائٹ شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔بال سلیقے سے سیٹ کیے ہوئے۔
وہ پوری محفل پر چھایا ہوا تھا۔
سب کی نظریں سٹیج پر بیٹھی اس خوبصورت جوڑی کے تعاقب میں تھیں۔
‘اظہر نے آنکھوں پر گلاسز نہی پہنے تھے آج۔
رامین ایک بار بھی نظریں اٹھا کر اظہر کی طرف نہی دیکھ سکی۔
خود پر جمیں اظہر کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی وہ۔
مگر نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھ نہی سکی۔
وہ بس نظریں ہاتھوں پر جمائے بیٹھی تھی’رسمِ حنا کا فنکشن بہت اچھا چل رہا تھا۔
فنکشن ختم ہوا تو سب گھر آ گئے۔
رامین گھر آئی تو رات کے دو بج رہے تھے۔
ابھی کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی’کہ کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر رامین چونکی’
پرنس!
بے ساختہ اس کے منہ سے پرنس کا نام نکلا’
کھڑکی کھولنے کی آواز آئی’اور چاند کی ہلکی سی روشنی کمرے میں داخل ہوئی۔
اور اس روشنی میں کھڑکی کے پاس کھڑا ایک وجود نظر آیا رامین کو۔
وہ وہی تھا’پرنس۔۔۔ہاں وہ پرنس ہی تھا۔
رامین کو اپنی آنکھوں پر جیسے یقین ہی نہی آیا۔
________________________________________
“صلہ کو جب ہوش آیا تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔
رات ہو چکی تھی’وہ اٹھ کر پھر سے رونے لگی۔
بابا کہاں ہیں؟
مجھے جانا ہے بابا کے پاس’روشنی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
روشنی جلدی سے باہر کی طرف بڑھی۔
صلہ کا رو رو کر برا حال ہو چکا تھا’سرخ آنکھیں رو رو کر آنکھیں سوج چکی تھیں۔”
“یہ کیسی صبح تھی میری زندگی کی’میرے بابا مجھ سے بچھڑ گئے۔
صلہ روتے ہوئے بول رہی تھی’نہی میرے بابا مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔
میں ان کے پاس جاوں گی’صلہ بیڈ سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگی’
مگر سامنے سے رانیہ اور ہانیہ نے روک لیا اسے۔
اور واپس بیڈ پر لا کر بٹھا دیا۔
صلہ روتے ہوئے ہانیہ کے گلے لگ گئی’
رو لو بیٹا جتنا رونا ہے’جی بھر کر رو لو۔
احتسام کی امی صلہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
رونے سے حانے والے واپس تو نہی آتے’مگر دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
رونے سے غم تھوڑا کم ہو جاتا ہے’مگر تم ایسے ہمت ہار جاو گی تو تمہاری ماما کو کون سنبھالے گا۔
جن کا آخری سہارا اب تم ہو’
ماما کے نام پر صلہ نے سر اٹھایا’اور جلدی سے ماما کے کمرے کی طرف بڑھی۔
وہ بستر پر لیٹی ہوئیں تھیں’ڈاکٹر ان کے پاس بیٹھا چیک اپ کر رہا تھا۔
ان کی آنکھیں بند تھیں۔
احتسام بھی وہی کھڑا تھا۔
صلہ جلدی سے ماما کے پاس آ بیٹھی’ماما کیا ہوا آپ کو۔
ان کا بلڈ پریشر بہت لو ہو چکا ہے’اسی لیے ان کی یہ حالت ہے ڈاکٹر نے مختصر سا جواب دیا۔
ان کا بہت خیال رکھیں آپ’ان کو اکیلا مت چھوڑئیے گا۔
ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے’کیا ان کو کوئی سیریس بیماری ہے؟
ڈاکٹر احتسام کی طرف دیکھتے ہوئے بولا’
برین ٹیومر ہے ماما کو’اس سے پہلے کے احتسام کوئی جواب دیتا صلہ بول پڑی۔
احتسام چونکا!
اوہ ویری سیڈ!
ڈاکٹر افسوس سے بولا’ان کا علاج چل رہا ہے؟
جی’صلہ نے مختصر سا جواب دیا۔
ہممم۔۔۔ان کا خیال رکھنا پڑے گا آپ کو’اگر ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو تو پھر ہاسپٹل لے جانے میں دیر مت کرنا آپ لوگ۔
اب میں چلتا ہوں’ان کی میڈیسنز وقت پر دیتے رہیں آپ لوگ۔
ڈاکٹر اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا’احتسام بھی ڈاکٹر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر کو گھر واپس چھوڑ کر گیٹ بند کرتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔
صلہ ابھی بھی اپنی ماما کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔
احتسام کمرے میں داخل ہوا تو چند پل کے لیے صلہ کو روتے ہوئے دیکھتا رہا۔
یہ لڑکی کتنے درد چھپائے پھر رہی ہے سینے میں’اور میں کیا سمجھ بیٹھا تھا۔
بہت برا ہوں میں’بہت غلط سوچ رکھی میں نے اس معصوم لڑکی کے لیے۔
احتسام اپنی سوچ پر افسوس کرتے ہوئے صلہ کی طرف بڑھا۔
صلہ’بہت مدھم لہجے میں پکارا گیا۔
صلہ نے سر اٹھا کر احتسام کی طرف دیکھا۔
‘احتسام کا دل تڑپ اٹھا صلہ کی حالت دیکھ کر۔
ایک پل کے لیے اس کا دل چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر صلہ کے آنسو صاف کر دے۔
مگر ایسا نہی کر سکا’ان کے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہی تھا۔
جو وہ صلہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا۔
صلہ باہر چلو’آںٹی کو آرام کی ضرورت ہے۔
اب وہ ٹھیک ہیں’انجیکشن کی وجہ سے سو رہی ہیں۔
صلہ نے سر نفی میں ہلا دیا’مجھے ماما کے پاس ہی رہنا ہے۔
نہی صلہ میرا یقین کرو اب وہ بلکل ٹھیک ہیں’تم باہر چلو میرے ساتھ۔
صلہ نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
تم جاو اپنے کمرے میں’آ رہا ہوں میں۔
احتسام صلہ کو کمرے کے پاس چھوڑ کر واپس پلٹا۔
روشنی کچن میں تھی’احتسام نے اسے صلہ کے لیے کھانا لانے کو کہا۔
اور واپس کمرے میں چلا گیا۔
صلہ احتسام کی امیکے کندھے پر سر رکھے آنسو بہا رہی تھی۔
احتسام کمرے میں داخل ہوا تو روشنی بھی کھانا لیے آ گئی۔
احتسام نے کھانے کی ٹرے روشنی کے ہاتھ سے لے کر سامنے پڑے ٹیبل پر رکھی۔
صلہ یہ کھانا کھا لو’صبح سے کچھ نہی کھایا تم نے’احتسام پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے بولا۔
صلہ نے سر نفی میں ہلا دیا’
نہی مجھے بھوک نہی ہے’کچھ نہی کھانا مجھے۔
صلہ روتے ہوئے بولی۔
احتسام نے کھانے امی کی طرف بڑھایا’امی آپ کھلا دیں صلہ کو۔
ماما کے ہاتھ سے تو کھاو گی نا’احتسام صلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
ہاں کیوں نہی’میری بیٹی میرے ہاتھ سے کھائے گی۔
انہوں نے پیار سے صلہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
اور صلہ کو کھانا کھلانا شروع کیا۔
نا چاہتے بھی صلہ نے ان کے ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا۔
ان کے لہجے کی اپنائیت اور پیار دیکھ کر صلہ کی آنکھوں سے مزید آنسو جاری ہو گئے۔
احتسام کمرے سے باہر نکل گیا’اس سے برداشت نہی ہو رہا تھا صلہ کا رونا۔
احتسام کی امی نے زبردستی صلہ کو کھانا کھلا دیا۔
رانیہ نے پین کلر کھلائی صلہ کو اور ساتھ ہی ایک نیند کی گولی بھی۔
احتسام نے ہی کہا تھا اسے ایسا کرنے کو’کچھ دیر بعد ہی صلہ روتے روتے سو گئی۔
احتسام جانتا تھا صلہ ساری رات روتی رہے گی’اسی لیے اس نے ایسا کیا۔
صلہ کے سونے کے بعد احتسام رانیہ،امی اور ہانیہ کو گھر چھوڑنے چلا گیا۔
ان کو گھر چھوڑ کر صلہ کی گاڑی گیراج میں پارک کی۔
روشنی کو اپنا نمبر لکھ کر دیا’کہ اگر کوئی بھی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے فون کر دینا۔
احتسام ایک نظر سوتی ہوئی صلہ پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
ہاسپٹل سے اپنی بائیک واپس لے کر گھر پہنچا۔
رانیہ احتسام کے لیے کھانا گرم کر کے کمرے میں لے آئی۔
بھائی کھانا کھا لیں’آپ نے صبح سے کچھ بھی نہی کھایا۔
کھانا ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔
نہی رانیہ واپس لے جاو مجھے بھوک نہی ہے’احتسام لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے مصروف سا بولا۔
صبح آفس انفارم نہی کر سکا’نا ہی کسی کی کال آئی ہے صبح سے۔
شاید کوئی میل آئی ہو’احتسام سوچتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کرنے لگا۔
صبح تو نہی جا سکوں گا آفس’ہاں مگر پرسوں جاتے ہی ریزائن کر دوں گا۔
میں اب یہاں جاب نہی کر سکوں گا۔
جو ہو گا’دیکھا جائے گا۔
سارا انباکس چیک کر لیا’کوئی میل نہی آئی۔
لیپ ٹاپ بند کر بیٹھ گیا۔
رانیہ ابھی تک وہیں کھڑی ہوئی تھی۔
احتسام کی نظر رانیہ پر پڑی تو چونک گیا۔
تم گئی نہی ابھی تک!
یہ کھانا لے جاو بھوک نہی ہے مجھے’
رانیہ چلتی ہوئی احتسام کے پاس جا رکی۔
بھائی آپ کیسے جانتے ہیں صلہ کو’آپ تو کہہ رہے تھے کہ جانتے ہی نہی صلہ کو؟
تو پھر صلہ کے دکھ میں دکھی کیوں ہیں آپ؟
ایسا کچھ تو ہے جو آپ چھپا رہے ہیں ہم سب سے’
اس سے پہلے تو آپ نے کبھی ذکر نہی کیا صلہ کے بارے میں۔
وہ تو کہہ رہی تھی کہ آپ دونوں کلاس فیلوز تھے۔کسی بات پر ناراض ہیں آپ اس سے۔
تو پھر اچانک آپ کی ناراضگی ختم کیسے ہو گئی اتنی جلدی’
رانیہ سوال پر سوال کرتی جا رہی تھی۔
احتسام حیرانگی سے رانیہ کی طرف دیکھ رہا تھا’اسے رانیہ سے ان سب سوالوں کی توقع نہی تھی۔
رانیہ ان سب سوالوں کا مقصد؟
احتسام نظریں چراتا ہوا الماری کی طرف بڑھ گیا۔
بھائی مقصد تو کچھ بھی نہی ہے’میں تو بس اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں کہ آپ دونوں ایک ساتھ اچھے لگتے ہیں۔
صلہ مجھے بھابی کے روپ میں بہت اچھی لگے گی’اگر آپ بات نہی کر سکتے امی سے’
تو میں بات کر لوں گی’مجھے یقین ہے امی انکار نہی کریں گی۔
ان کو صلہ بہت اچھی لگی ہے’وہ بہت دکھی ہیں اس کے لیے۔
صلہ کے بابا اب نہی رہے’وہ دونوں اکیلی رہ گئیں ہیں۔
ان کو سہارے کی ضرورت ہے’
ہم بھی کب تک جائیں گے ان کے گھر’اور آپ اگر بار بار ان کے گھر جائیں گے۔
تو محلے والے انگلیاں اٹھائیں گے۔
اسی لیے میں سوچ رہی ہوں کہ صلہ کے بابا کے چالیسویں کے بعد امی سے بات کرنے کو کہوں کہ وہ صلہ کی ماما سے آپ کے بارے میں بات کریں۔
احتسام الماری کھولے ہاتھ روکے’شاکڈ سا رانیہ کی باتیں سُن رہا تھا۔
رانیہ تم پاگل ہو گئی ہو کیا’کیسی باتیں کر رہی ہو۔
صلہ مجھ سے شادی نہی کرے گی’اور میں بھی ابھی شادی نہی کر سکتا جب تک تم دونوں بہنوں کو رخصت نا کر لوں۔
جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہی ہے’ہم دونوں بس دوست ہیں۔
اور کچھ نہی!
تم یہ فضول باتیں مت سوچا کرو’
کتنی بار منع کیا ہے میں نے تمہیں۔۔احتسام کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا۔
بھائی آپ چاہے مجھے ڈانٹ لیں’جو مرضی کہہ لیں۔
مگر میں سچ جان چکی ہوں’
آپ کا صلہ کے لیے فکر کرنا’یہ سب یونہی نہی ہے۔
آپ کی آنکھوں میں صلہ کے لیے محبت دیکھ چکی ہوں میں۔
بہتر ہو گا کہ آپ امی سے خود بات کر لیں’ورنہ میں امی کو سب کچھ بتا دوں گی۔
رانیہ غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
احتسام وہیں سر تھام کر بیٹھ گیا’کیسے سمحھاوں تمہیں رانیہ۔
“میں صلہ کے قابل نہی ہوں’وہ بہت اچھی لڑکی ہے مگر میں نے بہت غلط سمجھ لیا اسے۔
اب کیسے سامنا کروں میں اسکا’کیسے بات کروں اس سے۔
اگر اس نے انکار کر دیا تو!
احتسام نے ساری رات انہی سوچوں میں گزار دی۔
صبح ناشتہ کرنے کے بعد پھر سے سب صلہ کے گھر چلے گئے۔
صلہ کو اور اس کی ماما کو زبردستی ناشتہ کروایا احتسام کی امی نے۔
صلہ کی امی خود حیران تھیں’احتسام کے گھر والوں کا رویہ اور اپنائیت دیکھ کر۔
ان لوگوں کا کوئی خونی رشتہ نہی ہے ہم سے پھر بھی ہمارا اتنا خیال رکھ رہے ہیں۔
کبھی کبھی اپنوں سے زیادہ غیر لوگ اپنائیت کا احساس دلا جاتے ہیں۔
غم کتنا بھی بڑا کیوں نا ہو’اگر کوئی آپ کو تسلی دینا والا ہو۔
جو آپ کا ساتھ دے’تو آپ کا غم کافی حد تک کم ہو ہی جاتا ہے۔
“خوشیاں بانٹنے سے ختم نہی ہو جاتیں’مگر غم بانٹنے سے کم ضرور ہو جاتا ہے۔
