Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 08)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 08)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین نے اس کو جانے کا تو کہہ دیا تھا۔اور وہ اس کی بات مان کر چلا بھی گیا تھا۔
مگر اب رامین کو عجیب سی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔
اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔
شاید وہ میری بات کا برا مان گیا۔
بنا کچھ بولے ہی چلا گیا۔
مجھے اس طریقے سے بات نہی کرنی چاہیے تھی اس سے۔
آخر کار اس نے میری مدد کی تھی۔
میں کتنی پریشان تھی۔ان دونوں لڑکوں کی وجہ سے۔
اس نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
میں نے شکریہ بھی بہت غلط انداز میں ادا کیا ہے۔ایسے جیسے جان چھڑوانے والا انداز ہو۔
ٹھیک ہے میں مانتی ہوں۔بہت مدد کی ہے اس نے میری۔
مگر یہ کوئی طریقہ تو نہی ہے کہ آدھی رات کو میرے کمرے میں چلا آئے۔
میری بھی کوئی عزت ہے۔
اس کو سوچنا چاہیے۔کہ اگر کسی نے دیکھ لیا اس کو میرے کمرے میں آتے جاتے تو کیا نتیجہ ہو گا اس کا۔
خیر یہ تو اچھا ہوا کہ چلا گیا۔یہ بھی کسی پریشانی سے کم نہی ہے۔
میں سو جاتی ہوں۔صبح سکول جانا ہے مجھے۔پھر صبح آنکھ نہی کھلتی۔
رامین نے اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔اسے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی۔
گرمی کی وجہ سے۔۔۔۔یا پھر شاید کسی اور وجہ سے وہ سمجھ نہی پائی۔
کھڑکی کھول کر ادھر اُدھر گلی میں نظر دوڑائی۔دور دور تک کوئی نظر نہی آیا۔
رامین چھت پر نظریں جمائے بیڈ پر بیٹھی تھی۔نیند نہی آ رہی تھی۔
میرے بارے میں سوچ رہی ہو؟؟؟؟
اسے پھر سے وہی آواز سنائی دی۔رامین جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
کھڑکی کے پاس سینے پر ہاتھ باندھے وہ کھڑا تھا۔
رامین کو لگا شاید میرا وہم ہے۔
مگر جب وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا تو یقین ہوا رامین کو کہ وہ پھر سے واپس آ گیا ہے۔
افففف۔۔۔۔بے ساختہ رامین کے لبوں سے نکلا۔
عجیب شخص ہے یہ میں تو سمجھی تھی ناراض ہو کر چلا گیا ہے۔
دوبارہ کبھی نہی آئے گا۔
مگر رامین کے تمام خیالات غلط ثابت ہوئے۔
وہ چلتے ہوئے رامین کے پاس آیا۔اور ایک شاپر رامین کی طرف بڑھایا۔
رامین سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو یہ کیا ہے۔
یہ آئیسکریم ہے۔۔۔تمہارے لیے لایا ہوں۔
اس کی بات پر رامین نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔
میں نے اتنی باتیں سنائی اس کو۔اور میں سمجھی کہ یہ اب دوبارہ نہی آئے گا۔
ناراض ہو کر چلا گیا ہے۔
مگر یہ میرے لیے آئیسکریم لینے گیا تھا۔
آخر کیسا انسان ہے یہ۔۔۔رامین جھنجلا گئی۔
مجھے نہی کھانی آئسکریم۔۔۔آپ لے جائیں یہ۔اور خود بھی چلے جائیں یہاں سے۔۔رامین غصے میں مگر آہستہ آواز میں بولی۔
آئیسکریم تو کھانی پڑے گی۔۔۔
میں بہت محنت سے لایا ہوں۔۔
اور۔۔۔
بہت دور سے بھی۔۔۔
اب تم یہ بتاو پیار سے کھا لو گی۔یا پھر دوسرا طریقہ آزماوں میں؟؟۔۔سوالیہ نظروں سے رامین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
اگر میں کہوں کی مجھے نہی کھانی تو۔۔؟؟
رامین ضد پر اٹک چکی تھی۔
وہ چلتا ہوا رامین کی طرف آیا۔اور پاکٹ میں سے گن نکال کر رامین کے سامنے لہرائی۔
یہ کھلونا نہی ہے۔
اصل ہے۔۔کہو تو چلا کر دکھاوں۔۔۔؟؟
رامین کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔۔آنکھوں کے سامنے لہراتی گن دیکھ کر۔
وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی۔
یہ واقعی چچچچور ہے۔
اس کے پاس گن بھی ہے۔
رامین جو اب تک اندازہ لگا رہی تھی۔کہ یہ خود کو بس ایسے ہی چور کہتا ہے۔
حقیقت میں ایسا کچھ نہی ہے۔
مگر اب اس کے ہاتھ میں گن دیکھ کر اس کو اندازہ ہو چکا تھا۔یہ چور ہے۔اور وہ بھی خطرناک۔
تم کھا رہی ہو یا نہی؟۔۔آخری بار پوچھ رہا ہوں۔
رامین کو سوچ میں پڑتے دیکھ وہ پھر سے بول پڑا۔
رامین کچھ نہی بولی۔چپ چاپ شاپر کھولا۔اور آئیسکریم نکال کر کھانی شروع کر دی۔
رامین آئیسکریم کھا رہی تھی۔
مگر ساتھ ہی ساتھ آنسو بھی بہا رہی تھی۔
پرنس مسکرا دیا۔رامین کے آئیسکریم کھانے کے انداز پر۔پہلی بار دیکھ رہا تھا کسی لڑکی کو روتے روتے آئیسکریم کھاتے ہوئے۔
وہ اس منظر کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔
رامین نے آئیسکریم کھا کر خالی کپ اور چمچ شاپر میں ڈال کر رکھ دیا۔
پرنس نے وہ شاپر اٹھا کر باسکٹ میں پھینک دیا۔اور کرسی اٹھاتے ہوئے بیڈ کے قریب لے آیا۔
رامین ابھی بھی آنسو بہا رہی تھی۔
پرنس کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر رامین کے آنسو صاف کر دے۔
مگر ایسا نہی کر سکا۔
ابھی ان کے درمیان کوئی جائز رشتہ جو نہی تھا۔
جو وہ ابھی کر رہا تھا۔
یوں چوری چھپکے آدھی رات کو رامین کے کمرے میں آنا۔
اچھی طرح جانتا تھا۔یہ بھی غلط ہے۔
مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکا تھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی وہ ایسا کر رہا تھا۔
وہ رامین کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔
مگر اس سے پہلے رامین کے دل میں اپنے لیے تھوڑی محبت پیدا کرنا چاہتا تھا۔
اب تم ساری رات رو کر گزاروں گی کیا۔۔؟؟؟
اس کی بات پر رامین نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔رامین نظریں جھکا گئی۔
ہمممم تو کیا کہہ رہی تھی تم۔۔؟؟؟
میں یہاں سے چلا جاوں اور دوبارہ کبھی نہ آوں۔وہ رامین کے چہرے پر نظریں جمائے مدھم لہجے میں بولا۔
تو ایک بات میں صاف صاف بتا دوں۔
اب تمہارا مجھ سے پیچھا نہی چھوٹنے والا۔
میرا جب کب تمہیں دیکھنے کو دل چاہے گا۔
میں تم سے ملنے آوں گا۔
تم مجھے روک نہی سکتی۔
میں ایک بار جو فیصلہ کر لوں۔پھر قدم پیچھے نہی ہٹاتا۔یہ اصول ہے میری زندگی کا۔
اوہ۔۔۔تو اس لیے میری مدد کی تھی آپ نے۔
تا کہ میرے کمرے تک رسائی حاصل ہو سکے آپ کو۔
اس سے تو اچھا تھا کہ آپ میری مدد نہ ہی کرتے۔
وہ دونوں میرا راستہ روکتے رہتے۔
میں ان سے ڈر کر بھاگتی رہتی۔
کم ازکم وہ میرے کمرے میں تو نہی آتے تھے۔چوروں کی طرح۔۔۔رامین تلخ لہجے میں اسے اس کی غلطیاں باور کروا گئی تھی۔
اس کمرے میں میرے علاوہ کوئی اور آ بھی نہی سکتا۔
تم پر اور اس کمرے پر بس میرا حق ہے۔اور میرا ہی رہے گا۔
اور رہی بات میرے مدد کرنے کی۔تو جو میں نے کیا میرا فرض تھا۔
تمہاری حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔اور میں یہ فرض نبھاتا رہوں گا۔
فرض،حق۔۔۔رامین نے ان دو الفاظوں پر غور کیا۔
پہلی بات تو یہ کہ آپ کا مجھ پر کوئی حق نہی ہے۔اور
دوسری بات یہ کہ۔۔۔فرض وہ رشتے ہوتے ہیں جن پر کوئی حق ہو ہمارا۔
نہ تو آپ کا مجھ سے کوئی رشتہ ہے۔اور نہ ہی آپ کا مجھ پر کوئی حق ہے۔
اسی لیے بہتر ہے کہ آپ اس فرض سے غفلت اختیار کریں۔
اپنی زندگی میں خوش رہیں۔
اور آئیندہ یہاں مت آئیے گا۔
میں غریب ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہوں۔
ان کے لیے کسی پریشانی کا سبب نہی بننا چاہتی میں۔
مانتی ہوں آپ نے میری مدد کی ہے۔آپ کی شکر گزار ہوں میں۔
اور آپ نے بہت بڑا احسان کیا ہے مجھ پر۔
مگر میرے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہی ہے۔
ایسا کچھ مت کریں کہ میری عزت مٹی میں مل جائے۔
رامین اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑے نظریں جھکائے بول رہی تھی۔
اس نے گن بیڈ پر رکھ دی۔اور رامین کے اس کے سامنے جوڑے ہاتھ تھام لیے۔
رامین ایک دم پیچھے ہٹی۔
اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔
مگر اس کی گرفت مظبوط تھی۔
رامین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔
ان ہاتھوں کو زندگی بھر تھامنا چاہتا ہوں میں۔وہ رامین کے نازک ہاتھوں پر نظریں جمائے بولا۔
میں بہت برا انسان ہوں۔
جانتا ہوں میں بہت غلط کر رہا ہوں۔
مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکا ہے۔
حق کی بات کر رہی ہو نہ تم؟؟؟
تو سنو میرے دل پر تم حق جمائے جو بیٹھی ہو اس میں میرا کیا قصور ہے۔
جب سے تمہیں دیکھا ہے۔یہ دل میرا نہی رہا۔
تمہارے معصوم چہرے کو بار بار دیکھنے کی ضد کرتا ہے یہ مجھ سے۔
اور میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہاں چلا آتا ہوں۔
تم میری کمزوری بن چکی ہو۔آج سے نہی۔پچھلے کئی مہینوں سے تم میرے دل پر راج کر رہی ہو۔
بس میں تمہیں کھونا نہی چاہتا۔
بہت ڈرتا ہوں۔تمہیں کھونے سے۔
تمہیں اپنی بنانا چاہتا ہوں۔
مگر کیسے یہ سمجھ نہی آتا۔
اب تم ہی بتاو کہ میں کیا کروں۔۔۔؟؟
ہے کوئی علاج تمہارے پاس۔۔۔۔؟؟؟؟
ایک مہینے کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں میں۔سوچا جانے سے پہلے تم سے مل لوں۔
کیا پتہ پھر موقع ملے یا نہ ملے۔رامین کے ہاتھ اب چھوڑ دئیے اس نے۔
رامین کے آنسو اب رک چکے تھے۔وہ تو بس اس کے اقرار پر حیران سی رہ گئی۔
چلتا ہوں۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی۔وہ اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھا۔
سنیں۔۔۔۔وہ ابھی کھڑکی کی طرف بڑھا ہی تھا۔کہ رامین کی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔
اور لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ پلٹ کر رامین کی طرف دیکھنے لگا۔
آپ کے مرض کا علاج ہے میرے پاس۔
اگر آپ واقعی مجھے اپنانا چاہتے ہیں دل سے۔
تو آپ کو میرے والدین سے بات کرنی پڑے گی۔اگر وہ مان گئے۔
تو میں دل سے آپ کی محبت قبول کر لوں لوں گی۔رامین نظریں جھکائے بولی۔
اور اگر وہ نہ مانیں تو۔۔۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر وہ نہ مانیں تو میں دل سے ان کے فیصلے کو قبول کر لوں گی۔
رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
رامین کو مسکراتے دیکھ اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
آپ چہرہ کیوں چھپاتے ہیں مجھ سے۔رامین نے سوال کر ڈالا۔
کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے چہرے کو اس وقت دیکھو جب میرا تم پر پورا حق ہو۔
تب تک کے لیے یہ راز میں ہی رہنے دو۔
خدا حافظ۔ایک نظر رامین پر ڈالتے وہ کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔
اور رامین وہی لیٹ گئی۔اس نے کھڑکی بند نہی کی۔جانتی تھی اب نہی آئے گا واپس۔
________________________________________
احتسام گھر جا کر فریش ہونے چلا گیا۔تیار ہو کر نیچے ناشتہ کرنے چلا گیا۔
وہ سب کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی ان سب سے بہت دور کھویا ہوا تھا۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
صلہ کے الفاظ اس کے دماغ میں رقص کر رہے تھے۔
میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
مجھ سے نکاح کر لیں۔پھر تو کوئی مسلہ نہی ہو گا۔میں آپ کی بیوی بن جاوں گی۔
وہ کتنی ہی دیر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا رہا۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گیا۔
بھائی پھوپھو کا فون ہے۔
رانیہ نے فون اس کی طرف بڑھایا۔
اپنا فون وہ ٹیبل پر ہی بھول آیا تھا۔
بے دلی سے رانیہ سے فون لیا۔اور کان سے لگا لیا۔
اسلام و علیکم۔۔۔
پھوپھو کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟
میں ٹھیک ہوں۔احتسام تم کیسے ہو۔؟؟
میں بھی ٹھیک ہوں۔الحمدللہ
آپ کی دعاوں سے۔
اللہ پاک تمہیں سلامت رکھے میرے بیٹے۔پھوپھو نے اسے دعا دی۔
میں نے یہی پوچھنے کے لیے فون کیا تھا۔کہ کب کی ڈیٹ رکھنی ہے پھر شادی کی۔
اب بھائی کے بعد تم ہی تو بڑے ہو گھر کے۔
اب ساری باتیں تم سے ہی تو کرنی ہیں۔
ہانیہ اور شاذر کا رشتہ تو بھائی صاحب نے اپنی زندگی میں طے کیا تھا۔
ان کو اس دنیا سے گئے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔
ویسے تو ایسے ہی لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔
وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔
وقت کہاں رکتا ہے۔
پھوپھو افسردہ ہو چکی تھیں۔
جی پھوپھو صحیح کہا آپ نے۔خیر میں جلدی بتاتا ہوں آپ کو۔۔امی سے مشورہ کر لوں پھر۔
اس نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے کر لو مشورہ۔
اور بتاو مجھے جلدی۔میں تمہارے فون کا انتظار کروں گی۔
خدا حافظ۔۔۔انہوں نے فون بند کر دیا۔
احتسام بھول چکا تھا اس بارے میں۔پچھلے چند دنوں سے وہ بس صلہ کے بارے میں سوچتا رہا۔
فون اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
آفس پہنچ کر بھی اس کا ذہن وہیں الجھا رہا۔
سارا دن یونہی پریشانی میں گزرا۔
پھوپھو تاریخ دینے کا کہہ رہی تھیں۔
اور اس کے پاس تو پیسے ہی نہی تھے۔
اب کیا جواب دیتا پھوپھو کو۔
اب کیا بتاوں پھوپھو کو۔
پیسے نہی ہے میرے پاس۔
اگر انہوں نے رشتہ توڑ دیا۔۔تو۔۔؟؟
نہہیی۔۔۔ایسا نہی ہونے دوں گا میں۔
کل پھر سے بات کر کے دیکھتا ہوں باس سے۔
شاید کوئی حل نکل آئے۔
یونہی سوچوں میں ڈوبا وہ گھر پہنچا۔
اپنے کمرے میں جا کر پریشان سا بیڈ پر بیٹھ گیا۔
ابھی بیٹھا ہی تھا کہ امی آ گئیں۔
احتسام بیٹا تمہاری پھوپھو صبح سے کال کر رہی ہیں۔
پوچھ رہی ہیں کیا فیصلہ کیا احتسام نے۔
بیٹا کیا بنا تم نے بات کی اپنے باس سے۔لون کے بارے میں۔۔؟؟؟؟
جی امی میں نے کی تھی بات۔۔۔مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
مگر امی آپ فکر مت کریں۔
میں کل دوبارہ بات کروں گا ان سے۔
امید ہے وہ مان جائیں گے۔
آپ فکر مت کریں۔میں ہوں نہ۔۔سب سنبھال لوں گا۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں۔
احتسام نے ان کو تسلی تو دے دی تھی۔
مگر خود بھی نہی جانتا تھا کہ کل کیا ہو گا۔
دروازہ ناک ہوا۔۔وہ الماری سے کپڑے نکال رہا تھا۔
کم ان۔۔۔تم دونوں کو کب سے ضرورت پڑ گئی بھائی کے کمرے میں آنے سے پہلے دروازہ ناک کرنے کی۔
احتسام پلٹا۔۔اور اس کی مسکراہٹ ایک پل میں غائب ہوئی۔
________________________________________
رامین اس کے جانے کے بعد باقی کی رات سو نہ سکی۔
اسے عجیب سی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔
پتہ نہی کیوں اسے ڈر سا لگ رہا تھا۔ کہ واقعی ہی پرنس مجھ سے محبت کرتا ہے۔
یا پھر میرے ساتھ کوئی گیم کھیل رہا ہے وہ۔
ساری رات یونہی سوچتے ہوئے گزری اس کی۔
سمجھ میں نہی آ رہا کس کو بتاوں یہ سب۔
ایسا کوئی بھی نہی جس سے اس بات کو شئیر کر سکوں میں۔
اففف۔۔۔۔کس مصیبت میں پڑ گئی ہوں میں۔
یہ تو وہی ہوا۔۔۔آسمان سے گرا۔کھجور میں اٹکا۔
اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو رامین وضو کرنے چلی گئی۔
نماز پڑھنے کے بعد نیچے چلی گئی۔
ناشتہ کیا۔اور واپس اوپر آ گئی۔
تیار ہو کر نیچے گئی۔تو ثوبیہ آ چکی تھی۔
ثوبیہ کے ساتھ باہر گئی۔تو اسد نہی آیا تھا آج۔
رامین کو حیرانگی ہوئی۔
اسد نہی آیا۔۔؟؟؟
اس نے پوچھ ہی لیا۔ثوبیہ سے۔
اچھا ہوا نہی آیا۔بہت تنگ کرتا ہے مجھے روز
۔ابا کے ساتھ گیا ہے۔دوسرے شہر۔کچھ پتہ نہی کب آئے۔
شاید ابا اس کو نوکری دلا دیں وہاں۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی۔
یا پھر ہو سکتا ہے ایک مہینے بعد ہی واپس آ جائے وہاں سے۔۔۔کیونکہ نوکری پر ایک مہینے سے زیادہ نہی ٹکنے والا وہ۔۔۔
دیکھ لینا تم۔۔۔
ثوبیہ بولی جا رہی تھی۔مگر رامین کا ذہن تو کہیں اور ہی الجھ کر رہ گیا تھا۔
ایک مہینے کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں۔سوچا جانے سے پہلے تمہیں مل لوں۔
اسد بھی ایک مہینے بعد واپس آئے گا۔
کہی اسد ہی پرنس تو نہی۔۔۔رامین حیران رہ گئی۔
اور پرنس نے کہا تھا کہ وہ مجھے کئی مہینوں سے جانتا ہے۔
اور اس دن جب وہ دونوں لڑکے مجھ سے معافی مانگ رہے تھے۔
اس دن اسد بھی وہیں پر تھا۔۔۔
نہہی۔۔۔یہ سب اتفاق نہی ہو سکتا۔
اس کا مطلب اسد ہی پرنس ہے۔
اسی لیے مجھ سے چہرہ چھپاتا ہے۔
یہ تم نے ٹھیک نہی کیا اسد۔۔واپس آ جاو ایک بار پھر تم سے نپٹتی ہوں۔تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے۔
رامین الجھنوں میں ڈوبی سکول میں داخل ہو گئی۔
