Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 02)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

رامین یونہی سیڑھیوں میں گم بیٹھی تھی۔ جب اماں نے اسے آواز دی۔تو وہ پریشانیوں کے سمندر سے باہر نکلی۔اور کپڑے سلائی کرنے بیٹھ گئ۔اب جو بھی ہو اسے ہمت نہی ہارنی تھی۔

دوپہر تک کپڑے سلائی کرتی رہی۔اور پھر اپنی چادر اوڑھ کر ابا کے لیے کھانے کا ٹفن اٹھائے باہر گھر سے باہر نکل پڑی۔فیکٹری کے گیٹ کے پاس رکی۔چوکیدار کو سلام کیا۔

“اسلام و علیکم”۔۔۔رحیم چچا کیسے ہیں آپ؟

“وعلیکم اسلام” میں ٹھیک ہوں بیٹا۔تم سناو کیسی ہو۔روٹی لائی ہو صدیق بھائی کے لیے؟

جی رحیم چچا۔یہ کھانے ابا تک پہنچا دیجئے گا آپ۔میں چلتی ہوں۔خدا حافظ۔وہ الوداع کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑی۔

تیز تیز قدم اٹھاتی اپنی چادر سے چہرہ چھپائے وہ چلتی جا رہی تھی۔اچانک سامنے پھر سے وہی دو لڑکے اس کے سامنے آ رکے۔وہ روز اسی طرح اس کے راستہ روک لیتے تھے۔

“ہٹو سامنے سے”

رامین غصے سے ان کو گھورتے ہوئے بولی۔

لیکن وہ دونوں سامنے سے نہی ہٹے۔اور بے باقی سے ہنسنے لگے۔ہم چھوڑ آتے ہیں گھر تک میڈم۔آپ اکیلی جا رہی ہیں۔

ان کی بات پر رامین کے ماتھے پر بل پڑے۔ان کو کچھ کہنے کی بجائے رامین الٹے پاوں دوڑی۔گرمیوں کے دن تھے۔دوپہر کا وقت۔تپتی دھوپ۔ایسے میں گلیاں خالی تھیں۔ان دو آوارہ لڑکوں کے علاوہ کوئی نظر نہی آیا اسے باہر۔

وہ متبادل راستے سے بھاگتی جا رہی تھی۔اسے بھاگتے ہوئے ان دونوں آوارہ لڑکوں کے قہقے سنائی دے رہے تھے۔وہ رکی نہی۔گھر کے پاس پہنچی تو رک کر اپنا سانس بحال کیا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔

پچھلے کئی دنوں سے یہی ہو رہا تھا اس کے ساتھ۔وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔وہ نہی چاہتی تھی کہ اماں اس کی یہ گھبراہٹ دیکھیں۔

اگر وہ اسے اس حال میں دیکھ لیتی تو وہ پریشان ہو جاتیں۔جب وہ گھر پہنچی تو اماں چارپائی پر لیٹی سو رہی تھی۔تبھی تو وہ جلدی سے اوپر آ گئی۔چادر اتار کر سائیڈ پر رکھی اور گلاس میں پانی لے کر چہرے پر پانی چھڑکا۔

اور پھر بیڈ پر بیٹھ گئی۔آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔اب تک جو ظبط کیے خود کو مظبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو دی۔خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔

پچھلے کئی دنوں سے یہی ہو رہا تھا اس کے ساتھ۔مگر وہ کسی کو بتا نہی سکتی تھی۔اماں اور ابا پہلے ہی گھر کے حالات کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔اور اب وہ ان کو یہ بات بتا کر پریشان نہی کر سکتی تھی۔

پچھلے چند دنوں سے اس کے ساتھ جو ہو رہا تھا۔اس کو بھائی کی شدید کمی محسوس ہوئی۔کاش میرا بھی کوئی بھائی ہوتا۔جو میری حفاظت کرتا۔بھائی بہنوں کے لیے کتنا بڑا سہارا ہوتے ہیں۔یہ بات پچھلے چند دنوں میں اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔

کتنی خوش قسمت ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جن کے بھائی ہوتے ہیں۔ان کے محافظ۔جب کبھی اماں اس کے سامنے تذکرہ کرتیں کہ کاش تمہارا بھی بھائی ہوتا۔جو ہم سب کا سہارا بنتا۔

وہ اماں کی بات کا برا مان جاتی۔اماں ایسا کیوں کہتی ہو۔میں تمہارا بیٹا بھی ہوں۔اور بیٹی بھی۔میں بنوں گی نا سہارا۔اس کی بات پر اماں بس مسکرا دیتیں۔

ظہر کی اذان کی آواز کانوں میں پڑی۔آنسو پونچھتے ہوئے اٹھی۔وضو کر کے نماز ادا کی۔رو رو کر اللہ سے دعا مانگ رہی تھی۔

“میرے اللہ میری حفاظت فرما”۔میں مشکل میں ہوں۔

“تیرے سوا کوئی میری مشکل حل نہی کر سکتا۔”

جب رو رو کر آنسو خشک ہو گئے۔تو چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔رونے کی وجہ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔کچھ دیر آرام کرنے لیٹ گئی۔

________________________________________

صلہ گھر جا کر فریش ہو کر آفس کے لیے تیار ہونے لگی۔وہ بے دلی سے آفس کے لیے تیار ہو رہی تھی۔نا جانے کیوں اسے بار بار اسی لڑکے کا خیال آ رہا تھا۔کتنی اچھی سوچ تھی اس کی۔

“اگر دنیا کے سارے مردوں کی سوچ اس کے جیسی ہو جائے تو کوئی بھی لڑکی زمانے میں ذلیل و رسوا نا ہو”

جب سے گھر آئی تھی اسی کے خیالوں میں کھوئی تھی۔تیار ہو کر باہر کی طرف بڑھی۔بے دلی سے گاڑی سٹارٹ کی۔اور اپنے آفس کی طرف بڑھ گئی۔

بہت ازیت دیتے تھے اسے یہ لمحے۔کسی کی زندگی میں شام خوشیوں کا پیغام لاتی ہے۔تو کسی کی زندگی میں غموں کا۔کچھ ایسا ہی حال صلہ کا تھا۔سورج غروب ہو چکا تھا۔ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔اور صلہ کی زندگی پر بھی۔

وہ ان اندھیروں میں گم ہو چکی تھی۔کوئی نہی تھا اس کے پاس جو اسے ان اندھیروں سے نکال سکے۔

“کاش میری زندگی میں بھی کوئی میجر احمد ہوتا۔جو مجھے ان اندھیروں سے باہر نکال سکتا”۔

لیکن میں حیا نہی ہوں نا صلہ ہوں۔اور ” میجر احمد تو حیا کو ہی مل سکتا تھا “۔

اور میں اندھیروں کی اس نگری میں کھو چکی ہوں۔چاہ کر بھی یہاں سے باہر نہی نکل سکوں گی میں۔

ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ اکثر یہی باتیں سوچتی تھی۔سمجھتی تھی کہ شاید میری زندگی میں بھی کوئی معجزہ ہو گا۔مجھے بھی “میجر احمد ملے گا”۔جو مجھے ان اندھیروں بھری زندگی سے باہر نکال کر لے جائے گا۔

پھر خود ہی اپنی سوچوں پر مسکرا دیتی۔”زندگی معجزوں کی محتاج نہی ہوتی”۔زندگی رکتی نہی۔بس چلتی جاتی ہے۔اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا خود ہی کرنا پڑتا ہے۔

مگر ہم انسان پھر بھی دعا کرتے ہیں کہ کاش زندگی میں کوئی معجزہ ہو جائے۔ایک دم زندگی بدل جائے۔سب ٹھیک ہو جائے۔ہمیں آزمائیشوں سے نجات مل جائے۔بس یہیں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ہماری سوچ۔ہم بس معجزوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔

“اور پھر ایک دن معجزہ ہوتا ہے۔جب سب کہتے ہیں۔ان للہ و انا الیہ راجعون”

صلہ نے بریک پر پاوں رکھا۔گاڑی رکی۔گیٹ کھلا۔اور گاڑی اندر چلی گئی۔بس یہی تھی اس کی منزل۔یہی تھی اس کی زندگی۔۔سٹیرنگ وہیل پر چند لمحے سر گرائے بیٹھی رہی۔اور پھر گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے۔چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ سجائے اندر کی طرف بڑھ گئی۔

________________________________________

احتسام گھر پہنچا۔بائیک سے اترا اور سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔کمرے میں جا کر شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔چہرے پر پانی ڈالا۔تا کہ غصہ ٹھنڈا ہو سکے۔یہ غصہ تھا یا درد وہ سمجھ نہی پا رہا تھا۔وہ تو بس ظبط کی انتہاوں پر تھا۔

باہر آیا تو اس رانیہ پانی کا گلاس لیے کھڑی تھی۔احتسام کو باہر آتے دیکھا تو پانی کا گلاس لے کر اس کی طرف بڑھی۔

“بھائی کیا ہوا۔آپ پریشان ہیں۔کچھ ہوا ہے کیا۔باس باس نے کچھ بول دیا کیا”۔۔؟؟؟

بکھرے بال،سرخ آنکھیں،مرجھایا سا چہرہ، رانیہ بھائی کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھی۔

احتسام نے اس کی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔اس کا دماغ تو کہی اور الجھا ہوا تھا۔پانی کا گلاس تھاما۔اور ایک ہی سانس میں پورا گلاس پی کر گلاس رانیہ کی طرف بڑھایا۔

رانیہ تھوڑا حیران ہوئی۔بھائی میں نے کچھ پوچھا ہے آپ سے۔رانیہ پھر سے بولی۔مگر احتسام نے اس کی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔رانیہ نے اسے کندھے سے جھنجوڑا۔

“احتسام بھائی” کیا ہوا ہے آپ کو؟

ہاں۔۔رانیہ کے جھنجوڑنے پر احتسام جیسے ہوش میں آیا۔

بھائی کب سے بلا رہی ہوں آپ کو۔اور آپ کچھ بول ہی نہی رہے۔رانیہ فکر مندی سے بولی۔

احتسام کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا۔رانیہ کچھ بول رہی تھی مگر اس نے دھیان نہی دیا۔بس پانی کا گلاس اٹھایا اور پی کر رانیہ کی طرف بڑھا دیا۔

“کچھ نہی ہوا مجھے رانیہ”۔۔میں ٹھیک ہوں۔بس تھوڑی سی پریشانی تھی۔بائیک خراب ہو گئی ہے۔احتسام خود کو کمپوز کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا۔

نہی بھائی۔کوئی اور بات ہے آپ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہیں۔رانیہ کو اس کی بات پر یقین نہی ہوا۔وہ سچ میں پریشان ہو چکی تھی۔

رانیہ میں نے کہا تھا نا بس یہی بات ہے۔جاو تم جا کر کھانا لگاو۔مجھے بھوک لگی ہے۔میں کپڑے چینج کر لوں۔پھر آتا ہوں نیچے۔

رانیہ کو اس کی بات پر یقین تو نہی آیا۔مگر سر جھٹکتے ہوئے باہر نکل گئی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ سچ نہی بتائے گا اسے۔وہ ایسا ہی تھا۔

پچھلے تین سال سے اس نے خود کو زمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ابا کی وفات ہوئی تین سال پہلے تو گھر کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے ساری زمہ داریاں اس کے سر پر آ گئیں۔اپنی پڑھائی کا خرچہ،بہنوں کی پڑھائی کا خرچہ، اور سب سے بڑھ کر ان کے لیے جہیز کی رقم اکھٹی کرنا۔ان سب زمہ داریوں میں وہ خود کو بھول سا گیا تھا۔

باپ کی شفقت،باپ کا سایہ، جب سر سے اٹھتا ہے تو زندگی بہت تنگ ہو جاتی ہے بچوں کے لیے۔بہنوں کی پڑھائی کا خرچہ اور ان کے جہیز کی فکر میں اس نے دن رات ایک کر دئیے تھے۔

رانیہ کے جانے کے بعد وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامتے کرسی پر گر سا گیا۔ ایسا کیسے کر سکتیں ہے آج کل کی لڑکیاں، اس کے کپڑے، اور وہ کیسے کسی غیر مرد کے ساتھ ایسے ہی بیٹھ سکتی ہے۔

افف۔۔۔یہ میرا سر تو لگتا ہے پھٹ جائے گا آج۔میں کیوں ٹینشن لے رہا ہوں۔اس کی زندگی ہے جیسے مرضی جئیے۔احتسام خود کو کوستے ہوئے۔کپڑے اٹھائے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *