Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 07)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

اس سے پہلے کہ رامین کچھ کہتی ان دونوں نے رامین کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔

وہ دونوں ہاتھ جوڑے معافی مانگنے لگے۔ہمیں معاف کر دیں آپی۔

ہم سے غلطی ہو گئی۔ہم نے آپ کو تنگ کیا۔آج کے بعد ہم دوبارہ کبھی آپ کو تنگ نہی کریں گے۔

صرف آپ کو ہی نہی،کسی اور لڑکی کی طرف بھی کبھی آنکھ اٹھا کر نہی دیکھیں گے۔

رامین حیرانگی کے عالم میں ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہ جو سمجھی تھی کہ آج بھی یہ دونوں مجھے پہلے کی طرح تنگ کریں گے۔

حیران رہ گئی ان دونوں کے اس طرح ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر۔

رامین سیچوایشن کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ اس لڑکے کی بات چونکی۔

اس لڑکے نے کہا، اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ پرنس بھائی کی رشتہ دار ہیں تو ہم کبھی بھی ایسا نہی کرتے۔

ہمیں معاف کر دیں۔ورنہ پرنس بھائی ہمیں نہی چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جب تک آپ معافی نہ دے دیں۔وہ بھی ہمیں معاف نہی کریں گے۔

کون پرنس بھائی؟؟؟؟

رامین اس کی بات پر چونکی۔کس کی بات کر رہے ہو تم دونوں۔رامین تب سے لے کر اب اس بات پر بولی تھی۔

وہ دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔پرنس بھائی کو نہی جانتی آپ۔۔؟؟

انہوں نے الٹا اسی سے سوال کر ڈالا۔

نہی۔۔میں کسی پرنس کو نہی جانتی۔جو بھی ہو خیر ہٹو تم دونوں میرے راستے سے۔

معاف کیا میں نے تم دونوں کو۔آئیندہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اچھا نہی ہو گا۔

اور آج کے بعد میرا راستہ روکنے کی کوشش بھی مت کرنا تم دونوں ورنہ انجام اچھا نہی ہو گا۔

رامین بول رہی تھی۔اور وہ دونوں اس کی بات پر سر ہلا رہے تھے۔تب ہی ان دونوں کو کسی نے رامین کے پچھلی طرف دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے شخص نے وہاں سے جانے کا اشارہ دیا۔

وہ دونوں جلدی سے وہاں سے ہٹ گئے۔رامین نے ان کو پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

وہ مڑی مگر وہاں کوئی نہی تھا۔

وہ جب دوبارہ آگے کی طرف مڑی تو وہ دونوں لڑکے بھی وہاں سے جا چکے تھے۔

رامین بھی سر جھٹکتے ہوئے آگے کی طرف بڑھ گئی۔

اس کی نظر سامنے پڑی تو اسد سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

یہ اسد یہاں کیا کر رہا ہے۔رامین کو لگا اس نے سب دیکھ لیا ہے۔

وہ جلدی سے وہاں سے نکلنے لگی۔تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھی۔

رامین۔۔۔۔اسد نے جب اسے پاس سے گزرتے دیکھا تو بول پڑا۔

رامین جی بھر کر بد مزہ ہوئی اسد کے پکارنے پر ضبط سے آنکھیں بھینچتے ہوئے واپس پلٹی۔

جی۔۔۔بس اتنا ہی بول سکی رامین۔

کون تھے وہ لڑکے؟؟؟؟؟؟؟

اسد ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔

کون لڑکے؟؟؟

رامین انجان بنتے ہوئے بولی۔

تم اچھی طرح جانتی ہو رامین میں کن لڑکوں کی بات کر رہا ہوں۔

وہ دونوں تمہارے سامنے ہاتھ کیوں جوڑ رہے تھے۔کیا کوئی مسلہ ہے۔؟؟

اگر کوئی پرابلم ہے تو تم بلا جھجک مجھ سے شئیر کر سکتی ہو۔

رامین نے حیرانگی سے اسد کی طرف دیکھا۔اوہ۔۔تو اس نے سب کچھ دیکھ لیا۔

اب کیا جواب دوں میں اس کو۔۔؟؟

اگر میں نے اس کو سب کچھ بتا دیا تو یہ ثوبیہ کو بتا دے گا گھر جا کر۔

اور اگر ثوبیہ نے امی کو بتا دیا تو وہ بہت پریشان ہو جائیں گی۔

لیکن اب اس کو کیا جواب دوں؟؟؟

رامین پریشان ہو چکی تھی۔سمجھ میں نہی آ رہا تھا۔کہ اسد کو کیا جواب دوں۔

رامین۔۔؟؟؟؟

اسد نے رامین کے سامنے ہاتھ ہلایا۔کیا ہوا کہاں کھو گئی۔سب خیریت تو ہے نا۔۔۔؟؟

کوئی بات نہی اگر تم نہی بتانا چاہتی تو۔آو تمہیں گھر تک چھوڑ دوں۔

اسد کی بات پر رامین نے سکھ کا سانس لیا۔نہی میں چلی جاوں گی۔رامین جلدی سے بولی۔

اسد مسکرا دیا۔رامین مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو تم۔میں جانتا ہوں۔وہ لڑکے تمہیں پریشان کر رہے تھے۔

تم نہی بتانا چاہتی ہو تو کوئی بات نہی۔

خیر آوو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔

میں بھی گھر ہی جا رہا ہوں۔

مناسب نہی ہے ہمارا اس طرح یہاں رکنا۔اچھا نہی لگتا۔

کسی محلے والے نے دیکھ لیا تو بات کا بھتنگڑ بنا دے گا۔

رامین سر جھکائے چل پڑی۔ایسا نہی ہے کہ مجھے تم پر بھروسہ نہی ہے۔

بات بھروسے کی نہی ہے۔

میں بس گھر والوں کو پریشان نہی کرنا چاہتی۔

تم وعدہ کرو کہ یہ بات کسی سے نہی کرو گے۔

رامین اسد سے تھوڑے فاصلے پر چلتے ہوئے بول رہی تھی۔

دراصل یہ لڑکے پچھلے کئی دنوں سے مجھے پریشان کر رہے تھے۔

جب بھی یہاں سے گزرتی تھی تو میرا راستہ روک لیتے تھے یہ دونوں۔

مگر آج انہوں نے خود ہی معافی مانگ لی۔

شاید کسی نے دیکھ لیا تھا ان دونوں کو مجھے تنگ کرتے ہوئے۔

کسی نے سمجھایا ہو گا ان کو شاید اسی لیے مجھ سے معافی مانگ رہے تھے اپنے رویوں کے لیے۔

رامین نے آدھی ادھوری بات اسد کو بتا دی۔گھر کے دروازے کے پاس پہنچ کر رک گئی۔

پلٹ کر اسد کی طرف دیکھا۔امید ہے میرا بھروسہ نہی توڑوں گے تم۔

یہ بات ہمارے درمیان ہی رکھو گے۔

شکریہ مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے۔میں تمہارا بھروسہ کبھی نہی توڑوں گا۔

اسد مسکراتے ہوئے بولا۔

اسد کو مسکراتے دیکھ رامین نظریں جھکا گئی۔خدا حافظ۔۔جھکی نظروں سے بولی اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔

خدا حافظ۔۔۔اسد بھی مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

رامین گھر میں داخل ہوئی تو اماں اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔

کہاں تھی تم؟؟

آج بہت دیر لگا دی۔پہلے تو کبھی اتنی دیر نہی ہوئی کبھی تمہیں۔اماں پریشانی سے اس کی طرف آتے ہوئے بولیں۔

کچھ نہی اماں وہ میری سکول ٹیچر مل گئیں تھیں راستے میں۔ان کا گھر اسی طرف ہے تو مجھے کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنا پڑا۔

وہ آنے ہی نہی دے رہی تھیں مجھے۔جب میں نے کہا کہ اماں کو بتا کر آوں گی کسی دن۔اماں پریشان ہو رہی ہو گی۔

تو وہ مانیں۔اور مجھے گھر آنے دیا انہوں نے۔رامین چہرے پر مسکراہٹ سجائے بڑی آسانی سے جھوٹ بول گئی۔

اچھا یہ بات تھی۔اماں اس کی بات پر یقین کر گئیں تھیں۔

چلو آ جاو منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھا لو۔

جی رامین مسکراتے ہوئے ہاتھ دھونے چلی گئی۔

کھانا کھانے کے بعد اماں سے یہ کہتے ہوئے کہ جب بچے آ جائیں پڑھنے تو مجھے آواز دے دینا۔بولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔آج بہت دنوں بعد وہ پرسکون تھی۔

ان دو لڑکوں نے بہت پریشان کر رکھا تھا.آخر کار اس کی پریشانی ختم ہو ہی گئی تھی۔

پرنس۔۔یا پھر شریف چور۔۔۔وہ جو بھی تھا بہت بڑی پریشانی حل کر دی ہے.اس نے میری۔

“شریف چور” رامین زیرِلب بولتے مسکرا کر آنکھیں بند کر گئی۔

________________________________________

اگلی صبح احتسام نماز پڑھنے کے بعد قریبی پارک میں واک کرنے چلا گیا۔

وہی پارک جہاں اس کی صلہ سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔

وہ کچھ دیر پارک کا چکر لگانے کے بعد بینچ پر بیٹھ گیا۔

ابھی وہ بیٹھا ہی تھا۔کہ کسی نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائی۔

تھینکس۔۔۔بے ساختہ احتسام بولا۔

پانی کی بوتل پکڑنے لگا ہی تھا۔کہ جلدی سے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا۔

احتسام یہاں آتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کہی اس لڑکی سے پھر سے ملاقات نہ ہو جائے۔

اور اس کی سوچ سہی ثابت ہوئی۔سامنے صلہ کھڑی تھی۔

ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس،اونچی پونی میں بال باندھے، پانی کی بوتل پکڑے،چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔

ایک پل کے لیے احتسام اس کے معصوم چہرے کو دیکھتا رہ گیا۔

مگر اگلے ہی پل خود کو سنبھال لیا۔اور ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔

صلہ بھی اس کے پیچھے چل پڑی۔

احتسام کی نظر جب ساتھ چلتی صلہ پر پڑی۔تو اس نے پلٹ کر ایک غصیلی نظر صلہ پر ڈالی۔

صلہ نے اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔

احتسام آگے بڑھ گیا۔اس نے اپنے چلنے کی رفتار تیز کر دی۔

صلہ نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی۔

احتسام نے جب صلہ کو قریب آتے دیکھا۔تو اس نے اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔

احتسام اب دوڑ رہا تھا۔

وہ بھاگ جانا چاہتا تھا یہاں سے۔

اس لڑکی سے دور بھاگنا چاہتا تھا۔

مگر صلہ ہار نہی مانی۔وہ بھی دوڑنے لگی احتسام کے ساتھ ساتھ۔

احتسام رک گیا۔سانس پھول چکا تھا۔دوڑ دوڑ کر۔

احتسام کے رکنے پر صلہ بھی رک گئی۔

پانِی کی بوتل کا ڈھکن کھولا۔اور پانی پینے لگی۔

خود پانی پینے کے بعد پانی احتسام کی طرف بڑھایا۔

احتسام نے بدلے میں اسے گھوری سے نوازا۔

صلہ نے کندھے اچکا دئیے۔اور بوتل بند کر دی۔

کیوں دور بھاگ رہے تھے مجھ سے۔جب بھی میں تمہارے پاس آنے کی کوشش کرتی ہوں تو تم دور بھاگتے ہو مجھ سے۔

اب اتنی بری شکل بھی نہی ہے میری۔

وجہ پوچھ سکتی ہوں۔تمہارے اس رویے کی؟

صلہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی۔

وجہ جانتی ہیں آپ۔۔۔اور اگر نہی جانتیں۔پا پھر بھول چکی ہیں تو جاننے کی کوشش کریں۔

میرے اس رویے کا مطلب خود ہی پتہ چل جائے گا۔

میں نے پہلے بھی منع کیا تھا آپ کو کہ میرا پیچھا مت کرنا۔

مگر میری بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی آپ نے۔

میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کی کوشش مت کریں۔

آگ میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کریں گی تو جل جائیں گی۔

احتسام چہرہ دوسری طرف موڑے بول رہا تھا۔ایسے لگ رہا تھا۔جیسے درختوں سے بات کر رہا ہو۔

صلہ مسکرا دی۔میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔!!!!

صلہ کی بات پر احتسام پلٹا۔اور شاک سی کیفیت میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔سآپ ہی تو کہا ہے میں نے۔نامحرم لڑکی ہوں۔یہی وجہ ہے جو آپ دور بھاگتے ہیں مجھ سے۔

اگر آپ مجھ سے نکاح کر لیں گے۔پھر تو کوئی مسلہ نہی رہے گا۔

پھر تو آپ کی بیوی بن جاوں گی میں۔صلہ مسکراتے ہوئے بولتی جا رہی تھی۔

احتسام بس حیران سا اس کی باتیں سن رہا تھا۔جب ہوش آیا کہ وہ شادی کی بات کر رہی ہے تو احتسام بنا کچھ بولے وہاں سے چل پڑا۔

واپس پلٹ کر نہی دیکھا اس نے۔

صلہ وہیں قریبی بینچ پر بیٹھ گئی۔

کوئی بات نہی بھاگ لو جتنا بھاگ سکتے ہو۔

میں تمہارا پیچھا نہی چھوڑنے والی۔مسکراتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل دی۔

________________________________________

رامین سو رہی تھی کہ اچانک اسے کھڑکی پر ہلکی سی دستک سنائی دی۔

رامین کو تھوڑا خوف محسوس ہوا۔

وہ ڈرتے ڈرتے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

کچھ دیر دستک ہوتی رہی۔پھر رک گئی۔

رامین نے اللہ کا شکر ادا کیا۔اور پھر سے لیٹ گئی۔شاید بلی ہو گی۔لیٹ کر سوچنے لگی۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کھڑکی کھلنے کی آواز آئی۔

رامین ڈر کر اٹھ بیٹھی۔چچچچچچورررر۔۔۔۔بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔

چور نہی۔۔۔۔۔شریف چور۔۔۔وہ کھڑکی بند کرتے ہوئے رامین کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔

شریف چور۔۔۔رامین نے دہرایا۔

جی شریف چور۔۔۔میں ہی ہوں۔وہ سامنے پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

وہی آواز،سر پر کیپ۔۔اور چہرہ آج بھی رومال سے چھپایے ہوئے۔وہ بڑی شان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

رامین حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

چور تو چور ہی ہوتا ہے۔چور کے ساتھ شریف لگانے سے کوئی چور شریف نہی بن جاتا۔

رامین تلخ لہجے میں بولی۔

وہ کرسی بیڈ کے قریب لا کر بیٹھ گیا۔

سہی کہا۔۔لیکن میں شریف چور ہوں۔اسی لیے شریف چور کہتا ہوں خود کو۔

آپ اندر کیسے آئے؟

کھڑکی تو اندر سے بند تھی۔رامین کو یاد آیا تو حیرانگی سے بولی۔

رامین کی بات پر وہ مسکرایا۔

بتایا تو ہے میں شریف چور ہوں۔

شریف ہوں۔مگر ہوں تو چور۔

میرے لیے کھڑکی کھولنا کوئی مشکل کام نہی۔

کھڑکی اسی لیے بند کی تھی تم نے۔کہ میں اندر نہ آ سکوں۔

مگر میں تو پھر بھی آ گیا۔اب کیا کریں گی آپ۔۔؟

رامین نے غصے سے اس کو گھورا۔اگر ابھی میں نے شور مچایا تو سارا محلہ اکٹھا ہو جائے گا۔

رامین تلخی سے بولی۔

اچھا۔۔۔۔۔تو روکا کس نے ہے مچاو شور۔

دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔جب محلے والے آدھی رات کو تمہیں ایک غیر مرد کے ساتھ دیکھیں گے۔

رامین اس کی بات پر بے بسی اسے دیکھنے لگی۔اور پھر سر گھٹنوں پر رکھے رونے لگ گئی۔

رونے کی کیا ضرورت ہے۔اس بات پر مجھے تھپڑ بھی مار سکتی تھی تم۔

کوئی چیز اٹھا کر میرے سر میں مار سکتی تھی۔

مگر نہی۔تم تو بس رونا جانتی ہو۔

کہا تھا نا۔اپنے نام جیسی بلکل بھی نہی ہو تم۔

رامین نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب؟

کیوں آئے ہیں آپ پھر سے؟

آخر آپ کیوں میرا پیچھے پڑ گئے ہیں؟

آپ کے پاس اور کوئی کام نہی کرنے کو؟

کیوں آپ آدھی رات کو میرے کمرے میں آئے ہیں۔چوروں کی طرح؟

کیا آپ کو ڈر نہی لگتا۔کہ اگر کسی نے آپ کو آتے جاتے دیکھ لیا۔تو میری زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔رامین نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔

لگتا ہے ڈر۔۔۔پر میں کوئی عام چور نہی شریف چور ہوں۔کبھی تمہاری عزت پر آنچ نہی آنے دوں گا۔وہ بہت مدھم لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا۔

رامین نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔

اچھا چھوڑوں یہ سب۔۔ان دونوں نے معافی مانگی تم سے۔۔۔؟؟؟

وہ رامین کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

جی بہت شکریہ آپ کا۔آپ نے میری بہت مدد کی۔مسٹر پرنس۔۔!!!!!!

یہ تو میرا فرض تھا۔پرنس جو ہوں میں۔رامین کے پرنس کہنے پر وہ مسکرایا۔

بہت شکریہ آپ نے میری مدد کی۔مگر اب آپ دوبارہ یہاں مت آئیے گا۔میں مانتی ہوں کہ آپ نے میری مدد کی ہے۔آپ کی احسان مند رہوں گی میں۔لیکن میں نہی چاہتی کہ کسی مشکل میں پڑوں۔

وہ اٹھا۔۔۔اور رامین کی بات کا جواب دئیے بغیر۔کھڑکی کھول کر باہر نکل گیا۔

اور رامین بس ہکا بکا رہ گئی۔اس کے اس طرح اچانک چلے جانے سے۔مجھے نہی پتہ تھا کہ میری بات اتنی آسانی سے مان لے گا وہ۔

رامین چند پل کھلی کھڑکی کو دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کر کھڑکی بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *