Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 03)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین کی آنکھ بچوں کے شور پر کھلی۔جو بچے اس کے پاس ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔اوہ۔۔کتنی دیر تک سوئی رہی میں۔وہ جلدی سے اٹھ کر نیچے کی طرف بھاگی۔اماں نے اسے نیچے آتے دیکھا تو مسکرا دیں۔
“کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نہ میری بیٹی کی”
وہ فکر مندی سے رامین کا ماتھا چھوتے ہوئے بولیں۔
“جی اماں میں بلکل ٹھیک ہوں”
فکر کیوں کرتی ہو۔بس زرا سی آنکھ لگ گئی تھی میری۔رامین مسکراتے ہوئے بچوں کے پاس جا بیٹھی۔اور ان کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔جبکہ اماں وہیں اس کے پاس کپڑے سلائی کرنے میں مصروف ہو گئیں۔
دروازہ بجنے کی آواز آئی۔رامین کی اماں نے دروازہ کھولا تو باہر ثوبیہ کھڑی تھی۔وہ ان کو سلام کرتے ہوئے اندر آ گئی۔
ثوبیہ کو اندر آتے دیکھ رامین مسکرا دی۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے وہیں زمین پر بچھی چٹائی پر رامین کے پاس آ بیٹھی۔
“خوشخبری ہے تمہارے لیے”
ثوبیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“کیسی خوشخبری؟؟”۔۔رامین نے حیرانگی سے ثوبیہ کی طرف دیکھا۔
لو کر لو بات۔تمہیں یاد نہی ہے کیا؟ آج میں نے بات کرنی تھی سکول پرنسپل سے تمہیں جاب دینے کے بارے میں۔ثوبیہ اسے یاد دلانے کے انداز میں بولی۔
ہاں ہاں مجھے یاد تھا۔بس ذہن سے نکل گیا۔پریشانی میں رامین بھول چکی تھی کہ ثوبیہ آنے والی ہے آج گھر۔تو کیا کہتی ہیں وہ؟۔مجھے جاب مل جائے گی کیا۔رامین فکر مند ہوتے ہوئے بولی۔
ہاں رامین۔ یہی بتانے تو آئی ہوں میں تمہیں۔پیر کو تم میرے ساتھ چلنا سکول تمہارا چھوٹا سا انٹرویو لیں گی میڈم صاحبہ۔تیار رہنا پیر کو۔اچھا اب میں چلتی ہوں۔اماں نے جلدی آنے کا کہا تھا۔بہت کام پڑے ہیں گھر میں۔
ایسے کیسے چلی جاو گی۔یہ چائے پی کر جاو۔ثوبیہ کی طرف چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے بولیں رامین کی اماں۔
خالہ اس کی کیا ضرورت تھی۔میں مہمان تھوڑی ہوں۔ثوبیہ ہمیشہ کی طرح بولی۔اور نا چاہتے ہوئے بھی چائے کا کپ تھامنا پڑا اسے۔
تم مہمان نہی ہو بیٹی ہو میری۔بلکل ویسے ہی جیسے رامین ہے میرے لیے۔اللہ تم دونوں کے نصیب اچھے کرے۔آمین وہ مسکراتی ہوئیں باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں۔
ایک ٹفن لا کر ثوبیہ کی طرف بڑھایا۔یہ آلو کے پراٹھے بنائے ہیں۔لیتی جاو۔کیونکہ تم یہاں تو کھاو گی نہی جلدی میں ہو۔گھر جا کر کھا لینا۔
ثوبیہ مسکرا دی۔اور ٹفن تھام لیا۔کیونکہ جانتی تھی انکار کی کوئی صورت نہی۔ٹھیک ہے رامین میں چلتی ہوں پھر۔تیار رہنا تم پیر کو میں تمہیں لینے آوں گی۔
ٹھیک ہے۔دھیان سے جاو تم گھر۔گھر پہنچ کر اماں کے فون پر میسیج کر دینا۔رامین فکر مندی سے بولی۔
ثوبیہ مسکراتے ہوئے۔خدا حافظ کہ کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
ثوبیہ کا گھر ساتھ والی گلی میں تھا۔پھر بھی رامین فکر مند تھی۔وہ ڈر چکی تھی آج کل جو اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔بس اسی لیے فکر مند تھی ثوبیہ کے لیے۔
کہاں جانے کی بات کر رہی تھی ثوبیہ۔ رامین کی اماں نے ثوبیہ کے جاتے ہی رامین سے پوچھا۔
وہی اماں سکول جانے کی بات کر رہی تھی وہ۔نوکری کی بات کی ہے اس نے میرے لیے میڈم سے۔پیر کو انٹرویو لینا ہے انہوں نے میرا۔اس کے بعد ہی بتائیں گی۔کہ نوکری ملے گی یا نہی۔
وہ تو ٹھیک ہے رامین مگر اپنے ابا کو کیسے سمجھاو گی تم۔رامین کی اماں فکر مندی سے بولیں۔تم تو جانتی ہو نہ وہ اجازت نہی دیں گے تمہیں۔
فکر مت کریں اماں۔میں ابا سے خود ہی بات کر لوں گی۔دیکھ لوں گی اگر وہ مان گئے۔نہی تو پھر ان کو بتائے بغیر کر لوں گی۔نوکری تو کرنی ہی پڑے گی مجھے۔اب یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو نہی بیٹھ سکتی ناں میں۔
اچھا جیسے تمہاری مرضی”۔۔یہ لو پیسے تمہارے بچوں کی فیس آ گئی ہے۔
رامین نے مسکراتے ہوئے پیسے تھام لیے۔ابا کی تھوڑی سی پریشانی تو کم ہو ہی جائے گی اماں ان پیسوں سے۔
تھوڑی نہی بہت زیادہ۔وہ مسکراتے ہوئے رات کے لیے کھانا بنانے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔اور رامین بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔
________________________________________
احتسام فریش ہو کر نیچے آیا۔تو رانیہ،ہانیہ، اور اس کی امی اسی کے انتظار میں ڈائیننگ ٹیبل پر کھانا لگائے بیٹھی تھیں۔احتسام سلام کرتے ہوئے کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔اور سب نے کھانا شروع کر دیا۔
“کیا ہوا ہے بیٹا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا” احتسام کی امی فکر مندی سے بولیں۔رانیہ بتا رہی تھی تم کسی بات کو لے کر پریشان ہو۔
جی امی میں بلکل ٹھیک ہوں۔آفس میں آج کل کام بہت زیادہ رہتا ہے۔بس اسی وجہ سے تھوڑی پریشانی رہتی ہے۔آپ کھانا کھائیں آرام سے۔
احتسام نے ایک تیکھی نگاہ رانیہ پر ڈالی۔رانیہ نے کندھے اچکا دئیے۔جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ میں نے کیا کہا ہے۔
ایک تو یہ رانیہ بھی نا۔خوامخواہ امی کو پریشان کر دیا۔اس کے پیٹ میں کوئی بات نہی ٹکتی۔احتسام رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں بولا۔
رانیہ اور ہانیہ دونوں احتسام سے چھوٹی تھیں۔دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔دونوں ماں باپ، اور بھائی کی لاڈلیاں ہیں۔مگر باپ کی وفات کے بعد دونوں بدل سی گئیں ہیں۔
احتسام ہر طرح سے ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان کو بابا کی کمی محسوس نہ ہو۔لیکن پھر بھی وہ ان دونوں کو اور امی کو چھپ چھپ کر روتے دیکھ چکا ہے۔
باپ کی کمی تو اسے بھی محسوس ہوتی ہے مگر وہ رو نہی سکتا۔کیونکہ اسے اپنی ماں اور بہنوں کا سہارا بننا ہے۔اگر اس نے ہمت ہار دی تو وہ خود کو سنبھال نہی سکے گا۔
ایسے ہی دن گزرتے جا رہے تھے۔دن بھر آفس میں مصروف رہتا۔جہاں کام تو اس سے ڈبل لیا جاتا۔مگر سیلری بس اتنی ہی جتنی سے بہ مشکل گزارا ہو سکے۔
سارا دن بھی جی بھر کر کام کروایا جاتا۔اور واپسی پر بھی باس ایک دو فائلز اس کے ہاتھ میں تھما دیتا۔کہ یہ گھر سے کر کے لانا۔جیسے کسی سکول کے بچے کو ہوم ورک دیا جائے۔جو اسے اگلے دن لازمی کر کے لانا ہو۔اگر نا کیا تو سزا ملے گی۔
ہانیہ کا رشتہ اس کی پھوپھو کے گھر طے ہو چکا تھا۔وہ لوگ جلدی شادی پر زور ڈال رہے تھے۔اور اسی کے لیے احتسام مینیجر سے لان کے لیے کئی دفعہ بات کر چکا تھا۔مگر مینیجر اس کی رواداد ایک کان سے سنتا تھا اور دوسرے کان سے نکال دیتا تھا۔
اور آخر کار اس نے کہ دیا کہ خود ہی بات کر لو باس سے میں کچھ نہی کر سکتا۔احتسام نے آخر کار آج ہمت کر کے باس سے بات کر ہی لی۔جس کا نتیجہ باس کا غصہ۔اور صاف صاف لفظوں میں منع کر دیا گیا کہ کوئی لان نہی ملے گا۔جاب کرنی ہے تو کرے نہی تو باہر جانے کا دروازہ اس طرف ہے۔
احتسام چپ چاپ وہاں سے واپس آ گیا۔جاب کھونے کا رِسک نہی لے سکتا تھا وہ۔ پہلے ہی بہت مشکلات تھیں زندگی میں۔مزید پریشانی میں نہی پڑنا چاہتا تھا وہ۔اسی لیے “اوکے سر” کہتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔اور واپسی پر کچھ دیر پارک میں بیٹھ گیا۔
جہاں اس کی ملاقات اس لڑکی سے ہوئی۔اس لڑکی کا بولڈ پن اسے بلکل پسند نہی آیا۔وہاں اسی لیے بیٹھا تھا تا کہ کچھ دیر ریلیکس ہو سکے۔مگر ہمیشہ وہی نہی ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔عجیب سی بے چینی لیے وہ وہاں سے گھر آ گیا۔
امی اور ہانیہ کھانا کھانے کے بعد برتن سمیٹ کر کچن میں چلی گئیں چائے بنانے۔تو احتسام نے رانیہ کو ڈانٹا۔
“یہ سب کیا تھا رانیہ”؟؟؟
کیا؟؟؟ رانیہ نے کندھے اچکا دئیے۔کیا ہوا بھائی میں نے کیا کر دیا اب۔؟
اس کے جواب پر احتسام نے اسے گھورا۔تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیا بات کر رہا ہوں۔
رانیہ مسکرا دی۔بھائی آپ کچھ بول نہی رہے تھے نہ تو میں پریشان ہو گئی تھی۔اسی لیے امی کو بتا دیا۔بڑے آرام سے اپنی بات مکمل کی رانیہ نے۔
آئیندہ ایسی بات برداشت نہی کروں گا میں۔مائینڈ اٹ۔ امی پہلے ہی پریشان رہتی ہیں۔اور تم نے ان کی پریشانی بڑھا دی ہے۔
ٹھیک ہے بھائی میں آئیندہ دھیان رکھوں گی۔رانیہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی۔
احتسام مسکرا دیا۔رانیہ بھی مسکرا دی۔چائے پینے کے بعد احتسام اپنے کمرے میں چلا گیا۔فائلز اور لیپ ٹاپ اٹھائے بیڈ پر بیٹھ گیا۔آفس کا کام ختم ہوا تو سونے کے لیے لیٹ گیا۔
مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔پھر سے وہی باتیں اس کے ذہن میں رقص کرنے لگیں۔اس کا سر درد سے پھٹنے لگ پڑا۔آخر کار اس نے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں سے ایک نیند کی گولی نکالی۔اور پانی کے ساتھ نگل کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔
________________________________________
رامین کے ابا نے پھر سے مینیجر سے بات کی ایڈوانس کے لیے۔کیونکہ اگلے دن اتوار تھا۔اور مالک مکان کو اگر کرایہ نہ دیا تو وہ پھر سے شور مچائے گا۔اسی لیے انہوں نے دوبارہ مینیجر سے بات کرنا کا سوچا۔
مینیجر نے ایڈوانس دینے سے صاف صاف انکار کر دیا۔یہ کہتے ہوئے کہ ابھی پہلے والا ایڈوانس تو واپس کرے۔
رامین کے ابا پریشانی کے عالم میں گھر واپس آ گئے۔ان کو پریشان دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ ایڈوانس پیسے نہی ملے ہو گے۔اسی لیے پریشان ہیں ابا۔وہ پیسے لے کر ابا کے پاس آئی۔
ابا یہ لیں آٹھ ہزار روپے۔یہ جا کر مالک مکان کو دے دیں۔باقی دو ہزار کل صبح مل جائیں گے۔
وہ حیرانگی سے رامین کی طرف دیکھنے لگے۔یہ پیسے کہاں سے تمہارے پیسے۔؟؟
ابا یہ ٹیوشن والے بچوں کی فیس ہے اور باقی پیسے میں نے ثوبیہ سے ادھار لیے ہیں۔تھوڑے تھوڑے کر کے اس کا قرضہ اتار دوں گی۔
وہ حیرانگی سے رامین کی طرف دیکھنے لگے۔ان کی سمجھ میں نہی آیا کہ کیا بولیں اپنی بیٹی کو۔کتنی بڑی پریشانی حل کر دی تھی اس نے۔ابا کیا سوچ رہے ہیں۔یہ لیں پیسے اور دے کر آئیں مالک مکان کو۔رامین مسکراتے ہوئے بولی تو وہ بھی مسکرا دئیے اور پیسے تھام کر باہر کی طرف بڑھ گئے۔
مالک مکان نے خوش دلی سے کرایہ وصول کیا۔باقی دو ہزار صبح لینے پر راضی ہو گیا وہ۔اسے تو اتنے پیسوں کی بھی امید نہی تھی۔
