Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495
Last updated: 31 January 2026
No Download Link
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
Novel Code : NovelR50495
"او مسٹر میں تم سے بات کر رہی ہوں" اس لڑکی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟؟ اس لڑکی کے دوبارہ متوجہ کرنے پر اس نے فون سے نظریں ہٹا کر اس لڑکی کی طرف دیکھا۔اگر میں نے جواب نہی دیا تو اس کا مطلب ہے کہ میں آپ آاپ سے بات نہی کرنا چاہتا۔برائے مہربانی آپ یہاں سے کہی اور تشریف لے جائیں۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ دوبارہ فون میں متوجہ ہو گیا۔ اس لڑکی نے ہنستے ہوئے کندھے اچکا دئیے اور بینچ پر اس لڑکے کے ساتھ بیٹھ گئی۔اور پانی پینے لگی۔ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے کوئی بات سنی ہی نہی۔وہ اس لڑکے کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے آرام سے اس کے ساتھ ایسے بیٹھ گئی جیسے اس کو بہت اچھی طرح جانتی ہو۔ اس لڑکی کے اس طرح اس کے ساتھ بیٹھنے پر لڑکے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ایسے جیسے اسے یقین نہ آیا ہو اس کی اس حرکت پر۔ "کیا بدتمیزی ہے یہ محترمہ" وہ تقریباً چلایا۔ میں نے آپ سے کہا ہے کہ کہی اور چلی جائیں مگر آپ زبردستی یہاں بیٹھ گئیں ہیں۔وہ حقارت سے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ وہ پانی کی بوتل سائیڈ پر رکھتے ہوئے مسکرا دی۔کمال ہے ویسے جتنے شریف تم بن رہے ہو اتنے لگتے نہی۔چپ کر کے بیٹھو یہ بینچ تمہارے باپ کی جاگیر نہی ہے۔جو تم یہاں کسی اور کو بیٹھنے نہی دے رہے۔ جاگیر تو یہ آپ کی بھی نہی میڈم۔برائے مہربانی آپ یہاں سے تشریف لے جائیں لوگ دیکھ رہے ہیں۔وہ ایک آخری نظر اس بولڈ لڑکی پر ڈالتے ہوئے بولا۔ نہایت ہی بدتمیز انسان ہو تم۔لڑکیوں کی عزت نہی کرنی آتی تمہیں۔شکر کرو کہ کوئی لڑکی تمہارے پاس خود آ کر بیٹھی ہے۔اور کیا چاہیے تمہیں۔تمہں تو خوش ہونا چاہیے۔وہ پھر سے بول پڑی۔ ایم سوری میڈم۔۔مجھے زرا خوشی نہی ہوئی اس بات سے۔میرے گھر میں بھی دو بہنیں ہیں۔اگر آج میں کسی کی بہن، بیٹی کو اپنے پہلو میں بٹھا کر خوش ہوا۔تو کل کو کوئی میری بہن کو بھی پہلو میں بٹھا کر خوش ہو گا۔ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔اور مجھ میں ابھی خوفِ خدا باقی ہے۔ اگر آپ یہاں سے نہی جا سکتیں تو میں چلا جاتا ہوں۔آپ آرام سے بیٹھیں یہاں۔۔وہ اٹھا اور بنا اس لڑکی کی طرف دیکھے وہاں سے چلا گیا۔اس نے مڑ کر پیچھے نہی دیکھا۔ صلہ وہی بیٹھی حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گئی۔اتنا غیرت مند مرد پہلی بار دیکھا ہے اس نے۔وہ اسے جاتے دیکھ مسکرا دی۔پانی کی بوتل اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔ مگر وہ اپنی بائیک سٹارٹ کر کے وہاں سے جا چکا تھا۔صلہ افسوس سے اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔آئی وِش کے ہم دوبارہ ملیں۔کہتے ہوئے اپنی گھر کی طرف بڑھ گئی۔
