Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 14)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
“رامین کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا”
“وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے’غصے سے دروازہ بند کرتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔
“رامین چپ چاپ کھڑی رہی’وہ جانتی تھی یہاں سے بچ کر نکلنا ناممکن ہے۔
“اس کی بات سنے بغیر جانے نہی دے گا یہ مجھے”
“اس وقت رامین فیکٹری کے آخری کونے کے پاس کھڑی تھی۔
“تیز تپتی دھوپ’ویران گلیاں’دور دور تک کوئی دکھائی نہی دے رہا تھا۔
“وہ تیزی سے رامین کی طرف بڑھا’آج بھی آنکھوں پر سن گلاسز لگا رکھے تھے۔
“ہمیشہ کی طرح ویل ڈریسڈ’وائٹ شرٹ،بلیو پینٹ کوٹ،اور بلیو ٹائی،آنکھوں پر بلیو شیڈز سن گلاسز۔
“اتنی میچنگز’رامین دل ہی دل میں سوچنے لگی’اتنی میچنگز تو لڑکیاں بھی نہی کرتی ہو گی۔
“اُفف۔۔خیر مجھے کیا!
“وہ رامین کے سامنے آ رکا”
“میرا فون کہاں ہے؟
“سوالیہ انداز تھا’غصے سے بھر پور”
“ایک پل کے لیے رامین کا دل کیا کہ اس سے پوچھے کونسا فون؟
“کیسا فون؟
کب دیا مجھے فون؟
“مگر وہ ایسا کچھ نہی بولی”
“آپ کا فون کل تک مل جائے گا’ٹھیک کروانے کے لیے بھیجا ہے۔
“رامین نے بے دلی سے جواب دیا۔
“کس کو دیا ہے میرا فون ٹھیک کروانے کے لیے؟
“غصے بھرے انداز میں پوچھا گیا۔
“جس کو بھی دیا ہو آپ کو اس بات سے مطلب نہی ہونا چاہیے۔
“آپ کو بس اپنے فون سے مطلب ہے۔
“وہ میری غلطی کی وجہ سے ٹوٹا۔
“آپ کا نقصان ہوا”
“وہ میں بھرنے کو تیار ہوں”
“حالانکہ آپ کا نقصان اتنا بڑا نہی تھا’کہ آپ مجھے اس طرح سے بلیک میل کرتے۔
“خیر جو بھی ہو’آپ کا فون آپ کو کل مل جائے گا۔
“اس کے بعد آپ کا راستہ الگ اور میرا الگ۔
“دوبارہ میرے راستے میں آنے کی کوشش مت کرئیے گا۔
“ورنہ اچھا نہی ہو گا”
“اپنی بات مکمل کرتے ہوئے رامین وہاں سے چل پڑی۔
“اس نے رامین کو بازو سے کھینچ کر آگے بڑھنے سے روکا۔
“رامین گاڑی کے دروازے کے ساتھ جا لگی۔
“کون ہے وہ لڑکا؟
“غصے سے سوال پوچھا گیا۔
“کون لڑکا؟
“رامین جان بوجھ کر انجان بنی۔
“تم اچھی طرح جانتی ہو’میں کس لڑکے کی بات کر رہا ہوں۔
“وہی جس کو تم میرا فون دیا ہے ٹھیک کروانے کے لیے۔
“تمہارا نام کیسے جانتا ہے وہ؟
“مجھ سے کہہ رہا تھا’کہ میں تم سے دور رہوں۔
“کیا بتایا تم نے اسے میرے بارے میں۔
“کیسے جانتی ہو تم اسے؟
“مجھے ان سارے سوالوں کے جواب چاہیے ابھی کے ابھی۔
“وہ ایک ہاتھ گاڑی پر ٹکائے’اور دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے رامین کے پاس کھڑا تھا۔
“اس کا لہجہ بہت عجیب لگا رامین کو۔
“میں ضروری نہی سمجھتی آپ کو ان سارے سوالوں کے جواب دینا۔
“آپ کو آپ کا فون کل مل جائے گا۔
“اب مجھے جانے دیں یہاں سے’مجھے دیر ہو رہی ہے۔
“اس نے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر رامین کو گاڑی میں بٹھا دیا۔
“اور خود جلدی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔
“اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے’رامین چلائی۔
“گاڑی روکیں مجھے جانے دیں۔
“رامین چلا رہی تھی’مگر وہ رامین کی کوئی بات نہی سن رہا تھا۔
“گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی۔
“رامین کو لگا آج وہ زندہ گھر نہی جا پائے گی۔
“آخر کار اس نے گاڑی روک دی’ایک سنسان جگہ پر۔
“خالی سڑک’دور دور تک کوئی نظر نہی آ رہا تھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے’کہاں لے آئے ہیں آپ مجھے؟
“بدتمیزی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔
“رامین بولی جا رہی تھی”
“مگر اس پر رامین کی کسی بات کا کوئی اثر نہی پڑ رہا تھا۔
“وہ سٹیرنگ وہیل پر سر گرائے بیٹھا تھا۔
“ایک دم سر اوپر اٹھایا”
“چُپ۔۔بلکل چُپ۔۔اب اگر تم ایک لفظ بھی بولی تو گلہ دبا دوں گا میں تمہارا۔
“اور کسی کو تمہاری لاش بھی نہی ملنی دفنانے کو۔
“انگلی اٹھا کر وہ رامین کو چپ ہونے کا کہنے لگا۔
“اور دوبارہ سر سٹئیرنگ وہیل پر جھکا دیا۔
“رامین کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔
“وہ بہت بری طرح پھنس چکی تھی۔
“اسے یہاں سے بچ کر نکلنے کی کوئی راہ نہی نظر آ رہی تھی۔
“بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
“رامین کی سسکیوں کی آواز گاڑی میں پھیل رہی تھی۔
“اس نے سٹئیرنگ وہیل سے سر اٹھا کر رامین کی طرف دیکھا۔
“اور ہاتھ بڑھا کر رامین کے آنسو صاف کیے۔
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے’شادی کرنا چاہتا ہوں۔
“ہمارے درمیان کسی تیسرے کا وجود برداشت نہی کر سکتا میں’رامین کا دایا گال پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اپنے دل کی بات کہہ رہا تھا۔
“رامین بس الجھی الجھی نگاہوں سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ رہی تھی۔
“گلاسز کے پیچھے چھپی اس کی آنکھوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“مگر اس کی آنکھوں کو نہی دیکھ پائی۔
“رامین ہوش میں آئی’اور غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
“رامین کے ہاتھ جھٹکنے پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“واہ۔۔۔کیسی محبت ہے آپ کی’دو دن میں آپ کو مجھ سے محبت بھی ہو گئی۔
“دو دن میں آپ کو اتنا بھی حق مل گیا’کہ آپ مجھے زبردستی کہیں بھی لے جا سکتے ہیں۔
“جب آپ کا دل چاہے آپ میرا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔
“رامین کا لہجہ بہت غصے طنزیہ تھا۔
“یہ محبت نہی ہے’یہ غرور ہے۔
“پیسے کی طاقت ہے۔
“آپ امیر ہیں’بہت بڑی فیکٹری کے مالک۔
“اور میں غریب ہوں’آپ کی فیکٹری کے چپڑاسی کی بیٹی۔
“اسی لیے آپ کا حق بنتا ہے’یہ سب کچھ کرنے کا۔
“کیوں؟
“کیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہی ہوتی؟
“کیا امیروں کو حق ہے’غریبوں کی عزت کو پامال کرنے کا؟
“بس کر دیں آپ!
“میں ان لڑکیوں میں سے نہی ہوں’جن کو آپ اپنی گاڑی میں بٹھا کر حسین خواب دکھا کر اپنی محبت پر یقین دلوا لیں گے۔
“میں صدیق احمد کی بیٹی ہوں’جو غریب تو ہے مگر بہت غیرت مند ہے۔
“اور اپنے باپ کی عزت کا خیال ہے مجھے’بہتر یہی ہو گا کہ آپ نے مجھے جہاں سے گاڑی میں بٹھایا تھا۔
“وہی پر مجھے واپس چھوڑ آئیں۔
“ہمارے درمیان جو امیری،غریبی کا فرق ہے’اس فرق کو ایسے ہی رہنے دیں۔
“اور رہی بات اس لڑکے کی’تو میں آپ کو بتا دوں۔
“وہ میرا ہونے والا شوہر ہے۔
“بہت جلد ہماری شادی ہونے والی ہے۔
“اور میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی میں’اگر آپ کی اس حرکت کے بارے میں پتہ چل گیا’میرے ہونے والے شوہر کو۔
“تو اچھا نہی ہو گا’آپ کے لیے۔
“امید ہے میری بات آپ سمجھ گئے ہو گے۔
“اب بہتر یہی ہو گا’کہ آپ مجھے جہاں سے لے کر آئے تھے’وہی چھوڑ آئے۔
“رامین کی باتیں سُن کر اس کی سٹئیرنگ وہیل پر گرفت مظبوط ہوئی۔
“وہ بہت ظبط سے سُن رہا تھا۔
“رامین خاموش ہوئی’تو وہ رامین کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔
“یہ جو امیری،غریبی کا فرق ہے نہ؟
“یہ میرے لیے کوئی معنی نہی رکھتا۔
“میں بس تمہیں چاہتا ہوں’اور تمہاری خاطر اس فرق کو ختم بھی کر سکتا ہوں۔
“اور رہی بات تمہارے فیوچر ہسبینڈ کی’تو اسے بھول جاو۔
“اور اپنے دل و دماغ میں میرا خیال بسا لو۔
“کیونکہ تمہاری یہ خواہش میں پوری نہی ہونے دوں گا۔
“بتا دینا اسے’اور وارن کر دینا اسے’کہ اب دوبارہ تم سے ملنے کی کوشش نہ کرے۔
“ورنہ اچھا نہی ہو گا۔
“اب تم میری امانت ہو اس گھر میں’بہت جلد اپنی زندگی میں شامل کرنے والا ہوں میں۔
“اُمید ہے میری بات تم اچھی طرح سمجھ گئی ہو گی۔
“آخری بات پر وہ مسکرایا’اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“ایسا ہونے نہی دے گا وہ’وہ پرنس ہے۔
“جیتنے کا عادی ہے وہ’کسی بھول میں مت رہنا تم۔
“رامین کے لہجے میں پختگی سی تھی۔
“اگر وہ پرنس ہے تو میں کنگ ہوں۔
“اور پرنس جتنا بھی طاقتور بن جائے’کنگ سے نہی جیت سکتا۔
“وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔
“اس کے لہجے میں بھی پختگی تھی۔
“کبھی کبھی بادشاہ کو بھی ہار کا مزہ چکھنا پڑ جاتا ہے’رامین اس کی بات پر بدمزہ ہوئی۔
“میں ان بادشاہوں میں سے نہی ہوں’میں نے ہمیشہ جیت کا مزہ چکھا ہے۔
“ہار کیا ہوتی ہے’میں نہی جانتا۔
“میں نے بس جیتنا سیکھا ہے”
“جیت کنگ کی ہو گی یا پرنس کی’یہ تو وقت ہی بتائے گا’رامین کھڑکی سے باہر سڑک پر نظریں گاڑے بولی۔
“ٹھیک ہے یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا’لیکن تم بھی وعدہ کرو۔
“جو جیتا تم اس کو دل سے قبول کرو گی۔
“وعدہ۔۔۔رامین بے بسی سے بولی۔
“وہ بس جلد از جلد اس گاڑی سے باہر نکلنا چاہتی تھی۔
“اس کا دم گھٹ رہا تھا اس گاڑی میں۔
“گاڑی فیکٹری کے پاس وہی لا کر روک دی اس نے جہاں سے چلی تھی۔
“رامین جلدی سے دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔
“اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’مگر رامین کو اس کی مسکراہٹ زہر لگی۔
“رامین جلدی سے گھر کی طرف چل پڑی’اس نے واپس مڑ کر نہی دیکھا۔
“سامنے سے اسد آ رہا تھا’اور یقینً وہ رامین کو گاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔
“رامین بھاری قدموں کے ساتھ آگے بڑھنے لگی۔
________________________________________
“احتسام کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔
“صبح سے کاموں میں لگا تھا تھک چکا تھا۔
“صبح آفس بھی جانا تھا۔
“احتسام کی آنکھ لگ گئی۔
“کچھ دیر بعد ہی رانیہ اسے آوازیں دینا شروع ہو گئی۔
“بھائی آپ کا فون!
“رانیہ کی آواز پر احتسام جلدی سے اٹھ بیٹھا۔
“کس کا فون ہے’جلدی سے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“رانیہ نے مسکراتے ہوئے فون احتسام کی طرف بڑھایا۔
“بھائی فون تو بند ہو گیا’کسی لڑکی کا ہو گا’میرا مطلب ہماری ہونے والی بھابی کا۔
“رانیہ باز آ جاو تم!
“احتسام نے اسے وارن کیا۔
“رانیہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی’پھر پلٹی بھائی دروازہ بند کر لیں۔
“پھر بات کر لیجئیے گا’رانیہ جلدی سے بول کر بھاگ گئی۔
“احتسام کے دماغ میں دھماکا سا ہوا’اس کے ذہن میں رانیہ کی بات گونجی۔
“کسی لڑکی کا ہو گا”
“احتسام کے دل میں صلہ کا خیال آیا۔
“کہی صلہ تو نہی’نہی یہ نہی ہو سکتا۔
“اس کے پاس میرا نمبر کہاں سے آئے گا۔
“ویسے بھی وہ اس دن کے بعد سے گھر نہی آئی۔
“اور نہ ہی مجھے کبھی دوبارہ ملی۔
“مگر یہ ہو بھی سکتا ہے’وہ گھر تک پہنچ گئی ہے۔
“اس کے لیے میرا نمبر حاصل کرنا کوئی مشکل کام تو نہی۔
“ابھی پتہ چل جائے گا’احتسام نے وہی نمبر ڈائل کیا۔
“بہت دیر تک نمبر ملاتا رہا’مگر کال ریسیو نہی کی کسی نے۔
“آخر کار احتسام نے تھک کر فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
“اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔
کچھ دیر بعد احتسام کو فون بجنے کی آواز آئی۔
“اس نے کال ریسیو کی’دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
“جب پتہ ہے میں بات نہی کرنا چاہتا تو کیوں روز روز فون کرتی ہو۔
“اپنا اور میرا وقت ضائع کیوں کرتی ہو۔
“احتسام نے خاموشی توڑی۔
“کیا کروں’دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔
“صلہ کی آواز گونجی احتسام کے کانوں میں۔
“احتسام کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھی’وہ ایک ہاتھ سے اپنا ماتھا مسلنے لگا۔
“مگر میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور نہی ہوں۔
“میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہی دیتی تم’احتسام کی آواز تھکی تھکی سی تھی۔
“کیونکہ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکی ہوں۔
“میں جتنی بھی کوشش کر لوں’تم سے دور جانے کی۔
“میرا دل تمہاری طرف کھینچتا ہے۔
“کوئی قوت سی ہے’جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے۔
“میں نا چاہتے ہوئے بھی تم سے دور نہی جا پاتی۔
“میں نہی جانتی’پتہ نہی کیوں؟
“پر میرا دل مجھے تمہاری طرف جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
“میں چاہتی ہوں کہ تم سنواروں’میں زندگی کی رنگینیوں میں کھو سی گئی ہوں۔
“میں چاہتی ہوں تم میرا نصیب بن جاو۔
“میں اپنے نام کے ساتھ تمہارا نام دیکھنا چاہتی ہوں۔
“کیا تم میری یہ خواہش پوری نہی کر سکتے؟
آخر کیوں؟
“احتسام بس خاموشی سے صلہ کی آواز سُن رہا تھا۔
“اب صلہ خاموش ہو چکی تھی’اس کی سسکیاں فون میں گونج رہی تھیں۔
سو جاو’احتسام نے بس اتنا بول کر کال کاٹ دی۔
“صلہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’وہ بس اتنی بات پر خوش ہو گئی۔
“احتسام نے بس یہ کہا کہ سو جاو’یہ نہی کہا کہ دوبارہ مجھے فون مت کرنا۔
“وہ مسکراتے ہوئے اپنے آنسو صاف کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
“احتسام فون سائیڈ پر رکھ کر سوچوں میں گم ہو گیا۔
“آخر کار جب بہت دیر تک بھی نیند نہی آئی’تو اس نے اٹھ کر دراز میں سے نیند کی گولی نکالی۔
“اور پانی کے ساتھ نگل کر’سونے کے لیے لیٹ گیا۔
