Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 28)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 28)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین وہی بیٹھی آنسو بہاتی رہی’احتسام واپس نہی آیا۔
آخر کار رامین اٹھ کر نیچے کی طرف بڑھ گئی’احتسام کے کمرے پر ایک نظر ڈالی’کمرے کا دروازہ بند تھا۔
وہ تیزی سے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں جا کر لیٹ گئی’آنسو بہاتے بہاتے سو گئی۔
احتسام کی حالت بھی رامین سے کم نہی تھی۔
وہ کمرے میں جا کر سکتے کی حالت میں بیڈ پر لیٹ گیا۔
نیند کہاں آنے والی تھی اب اسے’سر میں شدید درد اٹھ رہا تھا۔
تیزی سے اٹھا اور دراز سے نیند کی گولی نکال کر کھا لی۔
آج بہت دن بعد پھر سے نیند کی گولی کھا لی اس نے’درد برداشت نہی ہو رہا تھا اس سے۔
وہ درد جو صلہ نے دیا اسے۔۔۔وہ ابھی بھی پرنس سے محبت کرتی تھی۔
یہ بات اس سے برداشت نہی ہو پا رہی تھی۔
آخر کار کچھ دیر بعد اسے نیند آ ہی گئی۔
اگلے دن رامین پورا دن اپنے کمرے سے باہر ہی نہی نکلی۔
احتسام کی نظروں کا سامنا کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا اس کو۔
سمجھ نہی آ رہی تھی کیا کرے’احتسام صبح سے کمرے میں بھی نہی آیا۔
آخر کار رانیہ اسے لے کر پارلر چلی گئی’باہر بھی اسے احتسام نظر نہی آیا۔
رامین کو لگا شاید میں نے بہت بڑی غلطی کر دی احتسام کو سب کچھ بتا کر۔
نہی۔۔۔میں نے کوئی غلطی نہی کی’اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔
جھوٹ کی بنیاد پر میں نیا رشتہ قائم نہی کر سکتی تھی۔
رامین مہرون رنگ کے لہنگے میں دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
بارات ہال میں پہنچی تو رامین بھی رانیہ اور روشنی کے ساتھ زوہیب کی گاڑی میں ہال پہنچی۔
احتسام بھی مہرون شیروانی پہنے پورے سٹیج کی چمک بنا ہوا تھا۔
رانیہ اور روشنی کے ساتھ رامین چلتی ہوئی آئی۔
احتسام نے رامین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا’
رامین نے احتسام کا ہاتھ تھام لیا اور سٹیج کی سیڑھیاں چرتی ہوئی سٹیج پر احتسام کے ساتھ جا رکی۔
جیسے ہی رامین سٹیج پر آئی’احتسام نے رامین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
لہجے میں واضح اجنبیت تھی’
رامین کی آنکھوں سے آنسو بہنے کو تھے۔
بہ مشکل اس نے اپنی آنکھوں میں آتے آنسو روک لیے۔
احتسام نے ایک بار بھی رامین کی طرف نظر اٹھا کر نہی دیکھا۔
رامین کو اپنا آپ بہت بے معنی لگنے لگا۔
اسے لگا احتسام بس گھر والوں کی خاطر مسکرا رہا ہے۔
وہ دل سے راضی نہی ہے اس شادی کے لیے۔
تو کیا ایک بار پھر سے میں خالی ہاتھ رہ گئی’احتسام مجھ سے بدگمان ہو چکے ہیں۔
اب میرا احتسام کے سوا اور کوئی بھی نہی اس دنیا میں۔
“یا اللہ احتسام کے دل میں میرے لیے پہلے جیسی محبت پیدا کر دے’
میں احتسام کو کھونا نہی چاہتی،،
رامین آنکھوں میں آنسو لیے دل سے دعا کر رہی تھی۔
بھابی کیا ہوا آپ کو؟
رانیہ ابھی سٹیج پر آئی ہی تھی’رامین کے چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں ڈگماتے آنسو دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔
کچھ نہی!
رامین گھبراتے ہوئے بولی’
شاید آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے’رامین جلدی سے ٹشو سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
احتسام دونوں کی طرف متوجہ ہوا’رامین کو آنسو صاف کرتے دیکھ لیا اس نے۔
مگر جلدی ہی رُخ موڑ گیا’
رامین نے احتسام کی اجنبیت بہت اچھی طرح محسوس کی۔
اچھا بھابی آپ کھڑی کیوں ہیں’تھک جائیں گی۔
بیٹھ جائیں پلیز!
رانیہ نے زبردستی رامین کو بٹھا دیا۔
بھائی آپ بھی بیٹھ جائیں’رانیہ نے احتسام کو وہی کھڑے دیکھا تو بول پڑی۔
احتسام مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا۔
رامین بت بنی بیٹھی رہی’جب کوئی آتا تو پھیکا سا مسکرا دیتی۔
احتسام کی بھی یہی حالت تھی’وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔
رخصتی کا وقت ہوا’رامین کے اماں،ابا تو اس کے ساتھ تھے نہی۔
کیسی رخصتی تھی یہ’رامین کی آنکھیں جھلک پڑیں۔
احتسام کے تایا ابو اور تائی اماں نے آگے بڑھ کر رامین کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ان کی اپنی تو کوئی بیٹی نہی تھی’انہوں نے رامین کو اپنی بیٹی سمجھ کر احتسام کے ساتھ رخصت کر دیا۔
بارات رخصت ہوئی تو سب مہمان اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔
رامین دلہن بنی احتسام کے کمرے میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا’کچھ سمجھ نہی پا رہی تھی۔
ایک طرف احتسام تھا’جو اس سے پوری طرح لا تعلق ہو چکا تھا۔
اور دوسری طرف اسے اپنے ماں،باپ کے بچھڑ جانے کا دکھ ستا رہا تھا۔
آخر کار کمرے کا دروازہ کھلا’
احتسام کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اندر داخل ہوا۔
احتسام الماری کے پاس جا رُکا’الماری کھول کر کپڑے نکالنے لگا۔
وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے رامین کمرے میں ہو ہی ناں۔
رامین سے اب برداشت نہی ہو رہی تھی احتسام کی خاموشی۔
رامین بیڈ سے اٹھ کر احتسام کے پاس چلی گئی۔
احتسام نے جیسے ہی الماری کا دروازہ کھولا’سامنے اسے رامین آنسو بہاتی نظر آئی۔
احتسام نے ہاتھ رامین کی طرف بڑھایا’
رامین کو لگا جیسے احتسام اس کے آنسو صاف کرنے لگا ہے۔
مگر نہی’احتسام نے اسے بازو سے پکڑ کر راستے سے ہٹایا۔
احتسام۔۔۔رامین نے پکارا’
احتسام رکا مگر پلٹا نہی۔
رامین نے آگے بڑھ کر احتسام کا بازو تھام لیا’اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہانے لگی۔
احتسام نے نرمی سے اپنے کندھے سے رامین کا سر ہٹایا اور رامین کی طرف پلٹا۔
کیا ہوا؟؟
احتسام نرمی سے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے بولا۔
رامین حیرت سے احتسام کو دیکھنے لگی’
آپ ناراض ہیں مجھ سے؟
رامین آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
احتسام نے ہاتھ بڑھا کر رامین کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
“صلہ میں تم ناراض ہو سکتا ہوں بھلا’
میری زندگی ہو تم صلہ’تم سے ناراض ہونے کا میں سوچ بھی نہی سکتا،،
تو پھر آپ صبح سے مجھ سے بات کیوں نہی کر رہے’اجنبیوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔
رامین آنسو بہاتے ہوئے بولی’
احتسام نے مسکراتے ہوئے رامین کو اپنے قریب کیا’
“میاں بیوی اجنبی نہی ہوتے صلہ’
“میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں’
ایک دوسرے کے بغیر زندگی مکمل نہی ہوتی میاں بیوی کی۔
میری کمی محسوس ہوئی تمہیں میں یہی دیکھنا چاہتا تھا۔
میرا ایک دن بات نا کرنا برداشت نہی ہو سکا میری مسز سے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کہی نا کہی تمہارے دل میں میرے لیے جگہ ہے۔
ایک چھوٹا سا امتحان لیا تمہارا اور تم اس میں کامیاب ہوئی۔
“پرنس تم سے محبت کرتا تھا’اور تم اس کی محبت سے محبت کرتی تھی’
وہ ایک ماضی تھا’گزر گیا۔
جو وقت گزر جائے اسے بھولنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔
پرانی یادیں،گزرے لمحے تکلیف کے سوا کچھ نہی دیتے۔
ماضی کے جھروکوں میں ہم اپنا مستقبل بھی گنوا دیتے ہیں۔
پرنس نے پیچھے مڑ کر نہی دیکھا’کیونکہ وہ تمہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا۔
تو کیا تم خوش رہی’نہی تم نے اپنی زندگی کو بس اس تک محدود کر لیا۔
اپنے دل و دماغ میں بس پرنس کو بسا لیا۔
اس جنگ میں رشتوں کو ہار گئی’
مگر اب یہ دل اور دماغ کی جنگ مزید نہی لڑنے دوں گا میں تمہیں۔
شاید پرنس جیسی محبت نہ کر سکوں میں لیکن کوشش کروں گا کہ کبھی تمہاری آنکھوں سے آنسو نہ بہنے دوں،،
ایک عام سا شخص ہوں میں’ محبت سے نا واقف ہوں میں۔
مگر اب میں محبت کرنا چاہتا ہوں’اپنی بیوی سے۔
اپنی شریکِ حیات رامین صدیق احمد سے’رامین احتسام سے’صلہ سے۔
مجھے محبت کرنی ہے رامین احتسام سے’تو کیا میری مسز میرا ساتھ دے گی اس سفر میں؟
احتسام نے رامین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا’
رامین نے مسکراتے ہوئے احتسام کا ہاتھ تھام لیا۔
میں بھی وعدہ کرتی ہوں آپ سے’کہ دل سے یہ سفر نبھاوں گی۔
اگر کبھی میرے قدم لڑکھڑائے’تو آپ ہیں نا میرے ساتھ’
میں بھی اس دل اور دماغ کی جنگ کو ختم کرنا چاہتی ہوں اب’
تھک چکی ہوں میں اب ایک پرچھائی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے۔
اب ایک مقام پر ٹہر جانا چاہتی ہوں میں’
ایک منزل پر ٹہر جانا چاہتی ہوں میں’
اپنی منزل آپ کو بنانا چاہتی ہوں میں’آپ کے دل میں ٹہر جانا چاہتی ہوں میں۔
رئیلی۔۔۔احتسام نے رامین کی ناک دبائی’جو رو رو کر سرخ ہو چکی تھی۔
احتسام۔۔۔رامین چلائی۔
نا کیا کریں ایسا رامین ناراضگی سے بیڈ پر جا بیٹھی۔
احتسام بھی مسکراتے ہوئے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔
اچھا اب نہی کرتا’احتسام رامین کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا۔
رامین مسکرا دی’
میری منہ دکھائی’رامین نے احتسام کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
احتسام نے مسکراتے ہوئے رامین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
یہی ہے تمہاری منہ دکھائی’میرا ساتھ۔
رامین مسکرا دی’مجھے قبول ہے۔
گڈ گرل!
احتسام مسکراتے ہوئے بیڈ سے اتر گیا۔
کھانا لا رہا ہوں میں’بہت بھوک لگ رہی ہے۔
صبح سے کچھ نہی کھایا’اور مجھے یقین ہے کہ تم نے بھی کچھ نہی کھایا ہو گا۔
جی’رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
لیکن مجھے بھوک نہی ہے’
رامین کی بات پر احتسام نے اسے گھوری سے نوازا۔
بھوک نا ہو پھر بھی کھانا پڑے گا’احتسام کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد احتسام کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔
رامین بے ساختہ ہنس پڑی’
احتسام نے مسکراتے ہوئے کھانے کی ٹرے رامین کے سامنے رکھ دی۔
ہنس لو جتنا ہنسنا ہے’اب شادی کی ہے تو بیوی کی خدمت تو کرنی پڑے گی۔
رامین مسکرا دی’
چلیں کھانا شروع کرتے ہیں’دونوں نے کھانا شروع کر دیا۔
کھانا کھانے کے بعد احتسام نے ٹرے اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
بھائی آپ؟
رانیہ پہلے سے ہی کچن میں موجود تھی۔
احتسام نے شرمندہ ہوتے برتن رانیہ کی طرف بڑھائے۔
واوو۔۔۔کیا بات ہے بھائی آپ بھابی کے لیے کھانا کمرے میں لے کر گئے۔
رانیہ برتن سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولی’
ویسے پہلے تو کبھی آپ نے خود کھانا گرم نہی کیا’اور آج نا صرف کھانا گرم کیا’
بلکہ ٹرے میں سجا کر کمرے میں لے کر گئے۔
نائیس چینج!
صلہ نے صبح سے کچھ کھایا نہی تھا’تم نے ہی تو بتایا تھا مجھے۔
اب میں تمہیں ڈسٹرب نہی کرنا چاہتا تھا’بس اسی لیے خود آ گیا کھانا لینے۔
ہممم ٹھیک ہے’خیر جائیں آپ آرام کریں۔
رانیہ مسکراتے ہوئے برتن سمیٹنے لگی۔
احتسام بھی کچن سے باہر نکل گیا۔
احتسام کمرے میں گیا تو رامین ویسے ہی سجی سنوری بیٹھی تھی۔
اپنے ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو چھو رہی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا’
تبھی اس کے فون کی رِنگ ٹون بجی!
رامین بھی احتسام کی طرف متوجہ ہوئی’
احتسام فون کان سے لگائے بات کرنے میں مصروف تھا۔
کال کاٹ کر رامین کی طرف بڑھا’
رامین تم چینج کر کے سو جاو’مجھے ایک ضروری کام سے آفس جانا ہے ابھی۔
بہت ضروری فائل پہنچانی ہے باس تک’ان کی فلائٹ ہے ایک گھنٹے بعد۔
اور وہ فائل ان کو چاہیے ابھی’
تم آرام کرو پلیز’میں تھوڑی دیر تک آ جاوں گا۔
احتسام رامین کا گال تھپکتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
رامین کے چہرے پر اداسی چھا گئی’ایسے کوئی چھوڑ کر جاتا ہے اپنی بیوی کو۔
رامین بستر پر گر گئی’کل سے سو نہی سکی ٹھیک سے۔
جلدی ہی آنکھ لگ گئی’وہ بنا کپڑے چینج کیے ہی سو گئی۔
رامین کی آنکھ کھلی تو کمرے میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔
احتسام۔۔۔رامین نے احتسام کو آواز دی۔
مگر کوئی جواب نہی ملا’اس کا مطلب تھا کہ احتسام ابھی تک گھر واپس نہی آیا۔
رامین اپنا بھاری بھرکم لہنگا سنبھالتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتری’
سائِیڈ ٹیبل پر موبائل ٹٹولنے لگی’مگر موبائل نہی ملا۔
میرا فون کہاں گیا؟
رامین موبائل ڈھونڈتے ہوئے بولی۔
رامین نے دونوں سائیڈ ٹیبلز پر ڈھونڈ لیا’مگر فون نہی ملا۔
اچانک کمرے میں مدھم سی روشنی ہوئی’کینڈل لائٹ کی روشنی۔
رامین روشنی کی طرف پلٹی!
سامنے ٹیبل پر رکھی موم بتی جل رہی تھی’
اس کے پاس بیٹھا ایک وجود رامین کے قدم لڑکھڑائے۔
اس نے نظریں اٹھا کر رامین کی طرف دیکھا’
مدھم سی روشنی میں بھی اس کی آنکھیں جگمگا رہی تھیں۔
چہرے پر آج بھی نقاب،سر پر کیپ۔
پرنس۔۔۔۔بے ساختہ رامین کے ہونٹوں پر یہ نام آیا۔
وہ اٹھ کر رامین کی طرف بڑھا’
رامین نے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے۔
نہی۔۔۔۔۔۔تم پرنس نہی ہو’
رامین نے سر نفی میں ہلایا۔
میں ضرور کوئی خواب دیکھ رہی ہوں’
رامین کے قدم پیچھے کی طرف بڑھ رہے تھے’جبکہ پرنس رامین کی طرف بڑھ رہا تھا۔
رامین نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو رکنے کا اشارہ کیا’مگر وہ نہی رُکا۔
رامین دیوار سے جا لگی’
اور پرنس رامین کے قریب آ رُکا۔
شادی مبارک ہو’
وہی مدھم سا لہجہ’
خوبصورت آواز،رامین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
