Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 25)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
احتسام اور صلہ دونوں ہی خاموش بیٹھے تھے۔شاید دونوں ہی بات کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔
نیا رشتہ جڑنے سے احساس بھی بدل چکے تھے۔
صلہ ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی’پھر اچانک صلہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی۔
تب ہی احتسام تیزی سے اس کے سامنے آ رکا۔
صلہ چونک کر پیچھے ہٹی۔
کہاں جا رہی ہو مسز؟
احتسام چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔
صلہ شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
مجھے پانی پینے جانا ہے’آپ پیچھے ہٹیں راستہ دیں مجھے۔
صلہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی۔
جبکہ احتسام اس کے دہکتے گال دیکھ کر مسکرا دیا۔
کیا ہوا صلہ گھبرا کیوں رہی ہو؟
احتسام شرارت بھرے انداز میں بولا۔
نننہی تو میں کہاں گھبرا رہی ہوں’وہ مجھے تو بس پیاس لگی ہے۔
احتسام نے صلہ کا ہاتھ تھاما’اور اسے صوفے پر بٹھا دیا۔
خود بھی صوفے پر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
صلہ تم خوش ہو نا اس نکاح سے؟
صلہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا۔
صلہ بس احتسام کی طرف دیکھتی رہی کچھ نہی بولی۔
کیا ہوا صلہ تم خوش نہی ہو کیا’تم بھی تو یہی چاہتی تھی ناں؟
تو پھر اب اس خاموشی کا کیا مطلب سمجھوں میں’جب صلہ نے کوئی جواب نا دیا تو احتسام پریشان ہوتے ہوئے بولا۔
صلہ نے آنسو بہانے شروع کر دئیے۔
اب تو احتسام سچ میں پریشان ہو گیا’اس نے تو امی سے کہا تھا صلہ سے پوچھنے کے لیے۔
تو کیا امی نے صلہ سے اجازت نہی لی اس نکاح کے لیے’احتسام کا سر چکرا گیا۔
تب ہی اچانک صلہ احتسام کے گلے لگ گئی’اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچے آنسو بہانے لگی۔
احتسام نے حیرت سے صلہ کو دیکھا۔
مسکراتے ہوئے صلہ کے گرد اپنے بازو پھیلا دئیے۔
صلہ کیوں رو رہی ہو’کچھ بتاو تو سہی اب میں پریشان ہو رہا ہوں یار۔
احتسام صلہ کے سر پر تھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا۔
صلہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی ناں وہ ہو تو گئی۔
ابھی نکاح ہوا ہے بس’شادی ہم دھوم دھام سے کریں گے۔
جب تم کہوں گی تب!
احتسام نے نرمی سے صلہ کو خود سے الگ کیا’اور اس کے آنسو صاف کیے۔
صلہ کی ناک رو رو کر سرخ ہو چکی تھی’احتسام نے آہستہ سے اس کی ناک دبائی۔
صلہ نے خفگی سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام مسکرا دیا۔
اب بتا بھی دو کیوں رو رہی ہو؟
بلکل پاگل ہو تم’
“پاس آتا ہوں تو بھی روتی ہو’دور جاتا ہوں تو بھی روتی ہو”
آخر چاہتی کیا ہو؟
ایک بار ہی بتا دو’احتسام نے پھر سے صلہ کی ناک دبائی۔
صلہ حیران ہوئی احتسام کے اس بدلتے روپ کو دیکھ کر۔
صلہ پہلے تو خفگی سے دیکھنے لگی احتسام کو”پھر ساتھ ہی مسکرا کر پھر سے احتسام کے گلے لگ گئی۔
احتسام نے مسکراتے ہوئے اس کے گرد بازو پھیلا دئیے۔
“میں بہت خوش ہوں اس نکاح سے’مجھے ابھی تک یقین نہی ہو رہا کہ میرے نام کے ساتھ آپ کا نام جڑ چکا ہے،،
“یہ آنسو تو خوشی کے آنسو ہیں’خدا اس طرح بھی مہربان ہو سکتا ہے،،
میں نے سوچا نہی تھا’
جب پہلی بار آپ کو دیکھا تھا پارک میں’اس دن سچے دل سے ایک دُعا کی تھی۔
وہ دعا یہ تھی کہ آپ میرا نصیب بن جائیں۔
مگر آپ کے رویوں نے میری اس خواہش کا دم توڑ دیا۔
مگر پھر وقت یوں بدلا کہ پتہ ہی نہی چلا۔
کاش ماما،بابا بھی میرے ساتھ ہوتے’وہ دیکھتے کہ ان کی بیٹی کا نصیب کتنا اچھا ہے۔
صلہ پھر سے آنسو بہانے لگی’احتسام نے دھیرے سے اس کے سر کو تھپکا۔
صلہ جانتی ہو زندگی میں ہمیشہ وہ نہی ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔
ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے’کون کہاں کب کس کا نصیب بن جائے۔
یہ سب قسمت کے کھیل ہیں’
تمہاری دُعا قبول ہوئی’کیونکہ تم نے سچے دل سے مجھے اللہ سے مانگا تھا۔
سچے خلوص سے مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں’یہ آج ثابت ہو گیا۔
جو ہونا تھا ہو چکا’اب زندگی کو نئے سرے سے شروع کرو۔
جو بُرا وقت گزر گیا’اسے بھول جاو!
آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو’میرے بارے میں،اپنے بارے میں سوچو۔
میں ہوں اب تمہارے ساتھ’کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے تمہیں۔
“اب تم میری زمہ داری ہو،
تمہیں تحفظ دینا اب میری زمہ داری ہے۔
چلو اب جلدی سے سامان پیک کر لو اپنا’اپنے گھر جانے کی تیاری کرو۔
احتسام مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے’ضروری بات کرنی ہے۔
صلہ ابھی بولی ہی تھی کہ دروازہ ناک ہوا’صلہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔
احتسام نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو رانیہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
روشنی بھی اس کے پیچھے کھڑی تھی۔
وہ بھائی ہمیں بھابی کا سامان پیک کرنا ہے’آپ باہر انتظار کر لیں۔
رانیہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
اچھا آو۔۔۔احتسام مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا۔
ایک نظر مسکراتی ہوئی صلہ پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
آہم_آہم۔۔رانیہ نے صلہ کو کمرے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
صلہ نے رانیہ کی کمر میں ہلکی سی تھپکی لگائی’تنگ مت کرو مجھے۔
صلہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی’رانیہ اور روشنی دونوں مسکرا دیں۔
اور صلہ کی الماری کی طرف بڑھ گئیں۔
صلہ باہر آ کر احتسام کی امی کے پاس بیٹھ گئی’انہوں نے پیار سے صلہ کو گلے لگا لیا۔
احتسام فون پر کسی سے بات کر رہا تھا’واپس پلٹا تو صلہ کو امی کے ساتھ بیٹھے دیکھ مسکرا دیا۔
اللہ کرے امی کے دل میں صلہ کے لیے محبت کبھی کم نا ہو’آمین
احتسام نے صدقِ دل سے دعا مانگی۔
احتسام کے پھوپھا جی اور تایا جی اپنے گھر واپس جا چکے تھے۔
کل سنڈے تھا’اور سب کو انوائٹ کیا گیا کل احتسام کی امی نے اپنے گھر۔
تا کہ سب مل لیں صلہ سے’اور شادی کی تیاری کے بارے میں ڈسکس کر سکیں۔
احتسام مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔
میں زرا دیکھوں ان لڑکیوں کو پیکنگ کہاں تک پہنچی ان کی۔
احتسام کی امی مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
احتسام آپ سے ضروری بات کرنی ہے’صلہ احتسام کی امی کے جاتے ہی احتسام کے پاس جا بیٹھی۔
احتسام فون سائیڈ پر رکھ کر صلہ کی طرف متوجہ ہوا۔
جی حکم کریں جناب!
احتسام سینے پر ہاتھ باندھے سر خم کرتے ہوئے متوجہ ہوا۔
صلہ مسکرا دی’احتسام مجھے آپ سے روشنی کے بارے میں بات کرنی ہے۔
کیا وہ بھی ہمارے ساتھ جائے گی؟
احتسام کو صلہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“یہ کیسا سوال ہے صلہ؟
روشنی تمہاری چھوٹی بہن ہے صلہ’ظاہری سی بات ہے ہم اسے اکیلا تو نہی چھوڑ کر جا سکتے ناں”
احتسام کی بات سُن کر صلہ مسکرا دی’تھینکس احتسام کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولی۔
میڈم ہم کمرے میں نہی ہیں’برائے مہربانی میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔
احتسام صلہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
صلہ شرماتے ہوئے جلدی سے پیچھے ہٹی’اور اٹھ کر کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
احتسام مسکراتے ہوئے اس جھلی سے لڑکی کو کمرے میں جاتے دیکھ رہا تھا۔
پیکنگ ہوئی تو احتسام نے سارے بیگز اٹھا کر گیراج میں رکھ دئیے۔
صلہ اچھی طرح دیکھ لو’کوئی چیز رہ تو نہی گئی۔
احتسام صلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
نہی۔۔۔میرا کچھ رہا ہی نہی اب یہاں’ماما بابا ہی میرا کل اثاثہ تھے۔
صلہ کی آنکھوں سے آنسو روا ہو گئے۔
احتسام کی امی نے صلہ کو گلے سے لگا لیا’بیٹا ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ۔
اب یہ آنسو پونچھ ڈالو’صبر کرو میری بچی۔
یہی زندگی ہے’حقیقت کو تسلیم کرو۔
مظبوط بناو خود کو’
صلہ کو روتے دیکھ احتسام کے چہرے پر بھی اداسی چھا گئی۔
آخر کار وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
امی پہلے آپ سب کو چھوڑ آوں گھر’پھر یہ بیگز لے آوں گا۔
ایک ساتھ سب کا جانا مشکل ہے۔
میں لے جاتی ہوں سب کو گھر اپنی گاڑی میں آپ سامان لے کر آ جانا۔
صلہ نے احتسام کی پریشانی دور کر دی۔
ہاں یہ ٹھیک ہے!
میرے ذہن میں نہی رہا کہ محترمہ کے پاس اپنی گاڑی ہے۔
احتسام مسکراتے ہوئے بولا’تو باقی سب بھی مسکرا دئیے۔
صلہ مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
صلہ سب کو ساتھ لے کر احتسام کے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ گھر جو اس کا اپنا گھر ہے اب’احساس بدل چکے تھے۔
اس گھر کے ساتھ کتنی یادیں جڑی تھیں اس کی’مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ گھر چھوڑنا ہی تھا۔
دل میں تھوڑی اداسی تھی’مگر وہ خوش تھی۔
احتسام کا نام جو جڑ چکا تھا اس کے نام کے ساتھ۔
اب وہ بلکل محفوظ تھی۔
اب کسی کوٹھے پر نہی جانا پڑے گا اسے’
یہی تو وہ چاہتی تھی کہ کوئی اسے اپنا لے’اسے اس دلدل بھری زندگی سے نجات دلا دے۔
وہ ایک عزت دار عورت کی طرح زندگی گزارنا چاہتی تھی۔
بلکل ویسے ہی جیسے ایک عورت اپنے شوہر کے مظبوط تحفظ میں رہتی ہے۔
احتسام اس کے لیے ایک گھنا سایہ ثابت ہوا تھا’زندگی پھر سے جی اٹھی۔
صلہ گھر پہنچ کر اندر کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ احتسام کی امی نے اس روک دیا۔
ابھی نہی’جب احتسام آ جائے تب ہی تم اندر آ سکتی ہو۔
صلہ گھبرا گئی’کیوں آنٹی کیا ہوا؟
صلہ گھبراتے ہوئے بولی’
نہی نہی بیٹا پریشانی والی کوئی بات نہی’
میں چاہتی ہوں تم دونوں ایک ساتھ گھر میں داخل ہو۔
احتسام بس آتا ہی ہو گا’رانیہ اور روشنی اندر کی طرف بڑھ گئیں جلدی سے۔
صلہ اور احتسام کی امی وہی کھڑیں احتسام کا انتظار کرنے لگیں۔
تھوڑِی دیر بعد ہی احتسام کی گاڑی گھر کے باہر آ رکی۔
احتسام پریشان سا گاڑی سے باہر نکلا۔
کیا ہوا آپ دونوں باہر کیوں رکی ہیں’اندر کیوں نہی جا رہی۔
احتسام پریشانی سے دونوں کو دیکھنے لگا۔
میں نے روکا ہے صلہ کو یہاں’میں چاہتی ہوں تم دونوں ایک ساتھ گھر میں قدم رکھو۔
اوہ۔۔۔امی میں تو ڈر ہی گیا تھا۔
احتسام دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
انہوں نے آگے بڑھ کر احتسام کے ہاتھ پر صلہ کا ہاتھ رکھ دیا۔
اب آ سکتے ہو تم دونوں اندر’وہ مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھیں۔
احتسام نے صلہ کا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔
ایک نظر صلہ پر ڈالی اس نے’صلہ مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
چلیں مسز’احتسام نے مسکراتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
صلہ بھی مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی اندر کی طرف بڑھی۔
جیسے ہی وہ دونوں گیٹ سے اندر داخل ہوئے’ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں رانیہ نے۔
اور روشنی پکچرز بنانے لگی’
یہ پھول رانیہ نے ابھی ابھی کیاریوں سے توڑے تھے۔
احتسام اور صلہ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دئیے۔
ویلکم بھابی’رانیہ پھول نچھاور کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
یہ لمحہ صلہ کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ لگا۔
اس کا ہاتھ اب بھی احتسام کے ہاتھ میں تھا’دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
آئی لو یو’احتسام نے صلہ کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔
صلہ نے شرما کر ایک ہاتھ چہرے پر رکھ لیا’اور مسکرا دی۔
احتسام کا صلہ کی طرف جھکنا’اور صلہ کا شرما کر چہرے پر ہاتھ رکھ کر مسکرانا۔
یہ سب کیمرے میں محفوظ ہو چکا تھا’
احتسام اندر ٹی وی لاونج میں پہنچا تو رانیہ نے صلہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
بس بھائی آپ کی انٹری ختم ہوئی’اب جا کر گاڑیاں پارک کریں۔
صلہ اور احتسام دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
اور دونوں مسکرا دئیے’احتسام نے آگے بڑھ کر رانیہ کا کان کھینچا۔
باز نہی آنے والی تم’
رانیہ چلانے لگی’چھوڑیں بھائی یہ ظلم ہے۔
احتسام نے ہنستے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔
اور صلہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
آئیں بھابی آپ کو آپ کا کمرہ دکھا دوں’رانیہ صلہ کو بازو سے کھینچتے ہوئے اوپر لے گئی۔
احتسام کے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے صلہ کو لیے اندر داخل ہوئی۔
کمرے کے سارے پردے’شیٹس،صوفے،دیواریں،یہاں تک کہ فرنیچر بھی سب کا رنگ سفید تھا۔
صلہ حیرانگی سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی’ہر چیز سے نفاست جھلک رہی تھی۔
بھابی یہ کمرہ اب آپ کا بھی ہے لیکن ابھی کچھ دن مزید انتظار کرنا پڑے گا آپ کو اس کمرے میں آنے کے لیے۔
رانیہ کی بات پر صلہ مسکرائے بنا نہ رہ سکی’
اچھا بھابی بیٹھیں میں کھانا لگا لوں امی کے ساتھ پھر آتی ہوں۔
رانیہ مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
سامنے دیوار پر لگی احتسام کی تصویر جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔
صلہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی تصویر کی جانب بڑھی’ تصویر کو چھو کر دیکھنے لگی۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ بنا پلکیں جھپکائے تصویر کو دیکھنے میں مگن تھی۔
اچانک اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا’وہ پلٹی تو سامنے احتسام کھڑا تھا۔
صلہ مسکرا کر دوبارہ تصویر کی طرف متوجہ ہو گئی۔
احتسام مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
صلہ کو احتسام کی نظریں کنفیوزڈ کر رہی تھی۔
وہ جان بوجھ کر تصویر پر نظریں گاڑھے کھڑی تھی۔
ویسے مجھ سے اچھی تو یہ میری تصویر ہے’کم ازکم اس کی طرف دیکھ تو رہی ہو تم۔
میں کب سے یہاں کھڑا ہوں’مجال ہے جو ایک نظر بھی مجھ پر ڈالی ہو۔
احتسام ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔
صلہ مسکرا دی’ویسے ایک بات پر میں بہت حیران ہوں۔
صلہ احتسام کی تصویر کو چھوتے ہوئے بولی۔
احتسام چونکا!
کس بات پر’جلدی سے ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوا۔
یہی کہ پہلے تو آپ مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہی کرتے تھے۔
اب اچانک سے محبت کا اظہار بھی کر دیا’چند گھنٹوں میں محبت بھی ہو گئی آپ کو مجھ سے۔
ویسے یہ بات کچھ ہضم نہی ہوئی مجھے۔
احتسام نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا’اور صلہ کو بازو سے کھنچتے ہوئے اپنے قریب کیا۔
“وہ اس لیے کہ اب تمہارا حق ہے کہ میں تم سے اظہارِ محبت کروں’
کیونکہ اب ہمارے درمیان ایک جائز رشتہ ہے،،
“ایک دوسرے سے اظہارِ محبت ہمارا حق ہے’
“محبت کا اظہار جائز رشتے کو مظبوط بناتا ہے،،
تب ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہی تھا’لیکن اب ہم میاں بیوی ہیں۔
“تمہارا مجھ پر پورا حق ہے’اور میرا تم پر،،
آ گئی سمجھ؟
جی۔۔۔صلہ نے مختصر جواب دیا’
تو پھر کرو اظہار مجھ سے محبت کا’احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔
صلہ نے چونک کر احتسام کی طرف دیکھا’اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔
احتسام مسکراتے ہوئے صلہ کا ہاتھ ہونٹوں تک لے گیا۔
صلہ شرما کر سر جھکا گئی’
رانیہ۔۔۔صلہ ڈرتے ہوئے بولی’
احتسام نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا’اور پلٹا۔
مگر رانیہ کہی بھی نہی تھی’
صلہ فوراً وہاں سے دوڑ لگا گئی۔
احتسام بھی مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ڈنر کرنے کے بعد رانیہ نے صلہ کو اس کا کمرہ دکھا دیا۔
رانیہ نے صلہ اور روشنی کو سارا گھر دکھا دیا’سوائے ایک کمرے کے۔
یہ کس کا کمرہ ہے’ یہ کمرہ کیوں نہی دکھایا تم نے روشنی احتسام کے کمرے کے ساتھ والے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
وہ اس لیے کہ یہ کمرہ بند ہے’اس کی چابی بھائی کے پاس ہے۔
ان کے علاوہ اس کمرے میں کوئی نہی جا سکتا’
کیوں؟
ایسا کیا ہے اس کمرے میں’صلہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
پتہ نہی!
صلہ نے کندھے اچکا دئیے۔
آپ خود ہی کیوں نہی پوچھ لیتی بھائی سے’رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
چلیں آپ دونوں آرام کر لیں اب’صبح سب نے آنا ہے۔ایسے میں آرام کرنے کا وقت نہی ملے گا آپ کو۔
رانیہ نے اپنا کمرہ صلہ اور روشنی کو دے دیا’اور خود امی کے کمرے میں چلی گئی۔
اگلے دن گھر میں خوب تیاریاں چل رہی تھیں’صلہ کچن میں گئی۔
لیکن احتسام کی امی نے اسے باہر بھیج دیا’
صلہ نے آج گرے کلر کا ڈیزائینر سوٹ پہن رکھا تھا’رانیہ نے زبردستی اس کا لائٹ سا میک اپ کر دیا۔
وہ حیران رہ گئی جب سیڑھیوں سے نیچے آتے احتسام کو دیکھا۔
احتسام نے بھی گرے کلر میں شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے صلہ کے ساتھ والے صوفے پر آ بیٹھا۔
اسلام و علیکم!
احتسام نے مسکراتے ہوئے سلام کیا’
وعلیکم اسلام’صلہ نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
یہ کیا۔۔؟
کچن سے نکلتی رانیہ کی آواز پر دونوں چونکے!
آپ دونوں نے سیم کلر پہن رکھے ہیں واہ۔۔۔رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں بائے چانس!
احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔
نہی نہی۔۔بائے چانس نہی پلاننگ سے ہوتا ہے ایسا’رانیہ صلہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔
رانیہ تم خود جاو گی یہاں سے یا پھر میں بھیجوں تمہیں’احتسام نے دھمکی لگائی۔
رانیہ کو یاد آ گیا’اس کا کان ابھی بھی درد ہو رہا تھا۔
نہی نہی بھائی میں جا رہی ہوں’رانیہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
احتسام کی دھمکی کام کر گئی۔
احتسام اور صلہ دونوں مسکرا دئیے۔
اچھی لگ رہی ہو’احتسام صلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
صلہ نے یہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔
وہ تیزی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
احتسام کے قہقے کی آواز صلہ کے کانوں میں پڑی۔
دوپہر تک تایا ابو کی فیملی اور پھوپھو کی فیملی پہنچ گئیں گھر۔
احتسام اور صلہ کو مبارک باد دی سب نے’اور صلہ کو بہت پسند کیا سب نے۔
ہانیہ بھی بہت خوش ہوئی صلہ کو بھابی کے روپ میں دیکھ کر۔
اگلے مہینے کی ڈیٹ فکس کر دی گئی شادی کی۔
