Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 16)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

رامین مغرب کی نماز پڑھ کر نیچے آ کر بیٹھ گئی۔اماں اور ابا کے پاس۔

ابا آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔

ہمارا رزق اللہ نے دینا ہے۔

ہمیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

“خدا پتھر میں کیڑے کو بھی رزق عطا کرتا ہے”

ہم تو پھر انسان ہیں ابا۔

جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے نا’تو سو دروازے کھلتے ہیں۔

“مایوسی گناہ ہوتی ہے”

“اللہ بہت بے نیاز ہے”

“وہ اپنے بندوں کو اتنا ہی نوازتا ہے’جس کا بوجھ وہ اٹھا سکیں۔

سب کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔

کبھی کسی کو قسمت میں لکھے سے زیادہ نہی ملتا’اور نا ہی کسی کو کم۔

اب دیکھیں نہ ابا’ہمارے پاس دولت نہی ہے۔

ہم تین وقت کی روٹی کھا کر’خدا کا شکر ادا کر کے سو جاتے ہیں۔

ہم سکون سے سوتے ہیں۔

ہمیں چوروں کا خوف نہی ہوتا۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں’ہمارے پاس ایسا کچھ ہے ہی نہی’جو چور ہمارے گھر ڈاکہ ڈالنے آئیں گے۔

ابا ہم باہر سڑک پر بے خوف چلتے ہیں۔

ہمیں یہ ڈر تو نہی ہوتا کہ کوئی ہمیں لوٹ لے گا۔

کوئی پیسے چھیننے کی خاطر ہمیں مار ڈالے گا۔

اب ہماری نسبت ایک امیر گھرانے کو دیکھ لیں۔

جن کی مہینے بھر کی کمائی لاکھوں،کڑوڑوں میں ہو۔

کیا اس گھر کے فرد اتنے سکون سے بیٹھ سکتے ہیں؟

سو سکتے ہیں’اتنی سکون کی نیند؟

کیا ہو گا اگر ان کے گھر کے باہر محافظ نا کھڑے ہو۔

کیا ہو گا اگر اس گھر کا کوئی بھی فرد خواہ وہ بڑا ہو،جوان ہو،یا پھر بچہ ہی کیوں نا ہو۔

اگر وہ محافظ کے بغیر گھر سے نگلے؟

تو وہ لوٹ لیا جائے گا’بچہ کو کڈنیپ کر لیا جائے گا’تاوان کی بھاری رقم مانگی جائے گی۔

مزاحمت کرنے پر جان جانے کا بھی خطرہ۔

مطلب اس ساری بات کا نچوڑ یہ ہے کہ ان کو ہر وقت دولت کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ان کی عورتیں،بچے،بوڑھے،جوان سب کو باہر جانے سے پہلے محافظ ساتھ رکھنا پڑے۔

کتنی تنگ زندگی ہے نہ یہ ابا’ان کے بچے آزادی سے باہر کھیل بھی نہی سکتے۔

کیا فائدہ ایسی تنگ سی زندگی کا۔

زندگی وہ ہوتی ہے جو آزادی سے جی جائے۔

زندگی کے سارے رنگوں کو محسوس کیا جائے۔

ہماری زندگی اچھی ہے نا ابا؟

ہمارے پاس دولت نہی ہے تو کیا ہوا۔

ہمارے پاس آزادی سے جینے کا حق ہے۔

ہمارے پاس سکون کی نیند ہے۔

ہمیں کسی دولت کے چھن جانے کا خطرہ نہی ہے۔

ہم آزاد ہیں۔

ہمیں اپنے ساتھ کسی محافظ کو رکھنے کی ضرورت نہی ہے۔

جانتے ہیں کیوں؟

کیونکہ۔۔۔

“ہمارے ساتھ اللہ ہے”

ہمارا محافظ،تو پھر ہمیں کس بات کی پریشانی ہے۔

صرف اس بات پر کہ ہمارے پاس دولت نہی ہے’نوکری چلی گئی۔

تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔

یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی رحمت کا سمندر بہت بڑا ہے۔

جسے جب چاہے اپنی رحمت سے نواز دے۔

ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے’حالات چاہے جیسے بھی ہو۔

اللہ کی رحمت سے مایوس نہی ہونا چاہیے۔

اللہ بہت بے نیاز ہے۔

غربت بھی ایک آزمائش ہوتی ہے اللہ کی طرف سے۔

جو اس آزمائش کو اللہ کا شکر ادا کرتے پار کر لے۔

اس کی دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے۔

کیا ہمارے نبیوں پیغمبروں نے نہی دیکھی یہ غریبی۔

یہ آزمائیشیں ان پر بھی گزری ہیں۔

مگر وہ مایوس نہی ہوئے’ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا انہوں نے۔

اور اپنی دنیا اور آخرت سنوار لی انہوں نے۔

ہمارے پیارے نبیؐ ان کی بیٹی نے بھی دیکھی یہ غربت۔

وہ چاہتے تو کیا نہی ہو سکتا تھا۔اگر وہ دولت کی دعا کرتے تو ان کا نا ملتی یہ ہو نہی سکتا تھا۔

جن کے صدقے میں یہ دنیا بنائی گئی’ان کی یہ دعا پوری ہو سکتی تھی۔

مگر انہوں نے دولت کی نہی ایمان کی دعا مانگی۔

انہوں نے دولت کو نہی دین کو چُنا۔

ہر آزمائیش پر پورا اترے۔

اور جب ہمارے نبیوں پیغمبروں پر بھی یہ آزمائیشیں گزری ہیں۔

تو ہم تو پھر معمولی سے انسان ہیں۔

ہم کیوں گھبرا جاتے ہیں۔

اللہ کا وعدہ ہے ہم سے رزق عطا کرنے کا’تو پھر ہم کیوں پریشان ہوتے ہیں۔

بس اللہ پر بھروسہ رکھیں’سب ٹھیک ہو جائے گا۔

میں چلتی ہوں۔اذان ہونے والی ہے۔

نماز پڑھ کر آتی ہوں’رامین مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف چل دی۔

جب کہ اس کے اماں ابا دونوں سوچوں میں ڈوب گئے۔

________________________________________

خوبصورت آرائیشوں سے سجا ہال۔

فرش پر خوبصورت قالین بچھے ہوئے۔

چھت پر خوبصورت بڑا سا فانوس۔

دیواروں کے ساتھ تکیے رکھے گئے۔

آنے والے مہمانوں کے لیے۔

مہمان نہی بلکہ تماشگین سہی رہے گا۔

یہ ایک کوٹھے کا منظر ہے۔

جہاں دن رات گھنگھرو کی چھن چھن بجتی ہے۔

ان گھنگروں کی چھن چھن سے کتنے دل خون کے آنسو روتے ہیں۔

کتنی ہی لاوارث لڑکیاں بٹھا دی جاتی ہیں’لا کر ان کوٹھوں پر۔

گھنگھروں کی چھن چھن پر ناچنے کے لیے۔

کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی عزت کی بولی لگا دی جاتی ہے یہاں لا کر۔

کچھ وہ ہوتی جن کو یتیم خانوں سے کوٹھے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

وہ یتیم خانے جہاں لوگ یتیم بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔

یا پھر وہ بچے جن کو پیدا ہوتے ہی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے’زندگی بھر کے لیے۔

اور یہ وہ یتیم خانے ہیں’جہاں آپ کو بہت اچھا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔

بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔

مگر وہ کہاوت تو سنی ہو گی’کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہی ہوتی۔

ایسا ہی کچھ حال ان بچوں کا بھی ہوتا ہے۔ان کے کپڑوں پر نا جائیں۔

ان کی آنکھوں میں موجود درد کو محسوس کرنے کی کوشش کریں۔

یہ جیسے خوشخال آپ کو نظر آتے ہیں’حقیقت دراصل اس کے بلکل الٹ ہے۔

ان کو اچھے کپڑے دئیے جاتے ہیں’اچھا کھانا بھی دیا جاتا ہے۔

اور ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ بھی رکھا جاتا ہے۔

مگر تب تب جب ان بچوں پر کیمروں کی نظر پڑنی ہو۔

بس تب تک کے لیے ہی’ورنہ ان بچوں کی زندگی بھی کسی جہنم سے کم نہی ہوتی۔

معصوم بچیاں جن کا کوئی وارث نہی ہوتا’انہی یتیم خانوں سے کوٹھوں تک پہنچا دی جاتی ہیں۔

اور کسی کو کانوں کان خبر نہی ہوتی۔

انتظامیہ میں ہی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔جو ان بچیوں کی عزتِ نفس کو تباہ کر دیتے ہیں۔

اور کچھ بچیاں اغوا کر کے ان کوٹھوں پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔

ماں باپ سے ساری زندگی کے لیے دور کر دیا جاتا ہے ان کو۔

ان کے ہاتھوں سے کتابیں کھینچ کر کھنگھروں تھما دئیے جاتے ہیں۔

اور یہی بچیاں،معصوم کلیاں ایک دن طوائف بن جاتی ہیں۔

ان کی پہچان چھین لی جاتی ہے۔اور نئی پہچان کو طوائف کا نام دے دیا جاتا ہے۔

اور کچھ حالات سے مجبور’تنگ دستیوں کا شکار ہوتی ہیں جو اپنوں کی خاطر ان کوٹھوں میں آ بیٹھتی ہیں۔

طوائف کا ناچ تو سب کو نظر آ جاتا ہے’ان کو گالی بھی اسی نام سے دی جاتی ہے۔

مگر کوئی ان کی آنکھوں کا درد پڑھنے کی کوشش نہی کرتا۔

کوئی ان کا درد نہی سمجھتا۔

تماشگین آتے ہیں۔ناچ دیکھتے ہیں۔

حوس بھری نگاہوں سے نوچتے ہیں ان معصوموں کے دل کو۔

پیسے لوٹاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

ابھی ابھی تماشگین آنے شروع ہوئے تھے’اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہال بھر گیا تماشگینوں سے۔

طوائف کا ناچ بس شروع ہونے ہی والا ہے۔

سب تماشگینوں کی نظریں اسی طرف ہے جہاں سے طوائف اس ہال میں داخل ہونے والی ہے۔

ماتھے پر بندیا،بال پراندے میں باندھے,زیورات سے لدی،سر پر ڈوپٹا اٹکائے،لمبا گھیرے دار سبز فراق پہنے وہ طوائف ہال میں داخل ہوتی ہے۔

پاوں میں باندھے گھنگھروں کی چھن چھن پورے ہال میں پھیل رہی ہے۔

ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہے۔

وہ دایاں ہاتھ چہرے کے سامنے کرتی’جھکی نظروں سے سر خم کرتے ہوئے سب کو آداب کر رہی ہے۔

گانا شروع ہو گیا۔

سب تماشگین اس کے ناچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

گانا بجتے ہی وہ ہال کے درمیان میں آ جاتی ہے’اور گانے کے ساز پر ناچنا شروع کر دیتی ہے۔

یہ کس کی ہے آہٹ۔

یہ کس کا ہے سایہ۔

ہوئی دل میں دستک۔

یہاں کون آیا۔

ہم پے یہ کس نے ہرا رنگ ڈالا۔

خوشی نے ہماری ہمیں۔۔مار ڈالا۔

گانا بج رہا تھا اور وہ ناچ رہی تھی۔

اچانک اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔

ایسا پہلے کبھی نہی ہوا تھا۔

سامنے موجود وجود کو دیکھتے ہی وہ لڑکھڑائی۔

اس کی نظروں کی تپش اس سے برداشت نہی ہو رہی تھی۔

وہ پھر سے لڑکھڑائی۔

مگر جلدی ہی خود کو سنبھالا۔

سامنے میز پر سجی بوتل اٹھائی’اور منہ سے لگا گئی۔

اب اس کے قدم نہی لڑکھڑائیں گے۔

وہ کمزور پڑ رہی تھی۔

سامنے موجود شخص کی نظروں میں ہزاروں شکوے تھے۔

درد تھا ان نظروں میں،

بے بسی تھی،

کچھ ٹوٹ سا گیا تھا،

اس شخص کا دل تھا شاید،

جس کے ٹوٹنے کی آواز اس طوائف نے سن لی تھی۔

اور آنسو بھی تھے جو اس شخص کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے۔

وہ آنسو اس طوائف کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔

وہ ہوش میں نہی تھی۔

اس کی آنکھیں سرخ پڑ چکی تھیں۔

درد سے،ظبط سے،کسی کو کھو دینے کے غم سے۔

اب اس شخص سے مزید یہاں رکنا مشکل ہو رہا تھا۔اس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے۔

کہ گانا بدلا تھا۔اور اس کے قدم بھی رک گئے تھے۔

دل چرکھے دا چکر کٹیا۔

وچوں نکلی تند ہائے۔

تند سونے ہتھ یار سجن دے۔

دل اڈے وانگ پتنگ۔

دل بھریا وی نئیں۔

اکھاں رجھیاں وی نئی۔

کیویں دل نوں میں سمجھاواں۔

وقت رکدا نہی میں جیویں چاواں۔

توں تھوڑی دیر اور ٹہر جا سوہنیا۔

توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا۔

توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا ظالماں۔

توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا۔

اس کے قدم رک چکے تھے’وہ پلٹا تھا۔

وہ طوائف وہیں زمین پر گر سی گئی’اس کے پلٹنے پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔

اور وہ ہوش سے بیگانی ہو گئی۔

وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

اسے بازوں میں اٹھاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھا۔

ایک دوسری طوائف اسے راستہ بتا رہی تھی’اس طوائف کے کمرے کا۔

اسے کمرے میں فرش پر بچھے کارپٹ پر ہی لٹا دیا۔

اور خود اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔شرٹ کے بازو سے آنسو صاف کر ڈالے۔

بس اب اور نہی۔۔۔اب اور دکھ نہی دیکھنے دوں گا میں تمہیں۔

اس کے معصوم چہرے پر نظریں جمائے دل ہی دل میں عہد کر ڈالا۔

________________________________________

رامین نماز پڑھ کر نیچے آئی تو حیران رہ گئی۔سامنے ثوبیہ کے امی،ابو بیٹھے تھے۔

رامین نے ان کو مسکراتے ہوئے سلام کیا۔

اس کی حیرانگی میں مزید اضافہ تب ہوا جب اس نے دروازے سے کسی کو اندر آتے دیکھا۔

وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔

اس کے جسم میں جیسے جان ہی نا رہی ہو۔

اس کا مطلب جو میں نے سوچا تھا وہی سچ تھا۔

ہم یہاں رامین بیٹی کے رشتے کی بات کرنے آئے ہیں۔

ثوبیہ کی امی کی مدھم سی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔

بس اتنا ہی سننا تھا کہ رامین جلدی سے اوپر بھاگ گئی۔

اسد ہی پرنس ہے۔

رامین کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔

وہ خود کو سنبھال نہی پا رہی تھی۔

ایسے لگ رہا تھا’جیسے ابھی دل پھٹ جائے گا۔

سامنے سے اندر آتے ثوبیہ اور اسد نے حیرانگی سے رامین کو اوپر جاتے دیکھا۔

اور وہ دونوں سلام کرتے ہوئے امی،ابو کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *