Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 06)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 06)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین جب صبح نماز پڑھنے کے بعد نیچے جانے لگی تو اس کی نظر دروازے کے پاس پڑے استری سٹینڈ پر پڑی۔اس کی گھڑی پڑی تھی۔اور ساتھ ایک پیپر پڑا تھا۔رامین کو یاد آیا کہ کل جب اس لڑکے نے چادر کھینچی تھی تو اس کی گھڑی بھی ساتھ اٹک کر گر گئی تھی۔
مگر اس وقت مجھے اپنا حوش نہی تھا۔تو گھڑی کا کہاں سے ہونا تھا۔خود ہی اپنی سوچ پر جھنجلا دی۔سہی کہا تھا اس نے میں اپنے نام جیسی بلکل بھی نہی ہوں۔
بہت ڈرپوک ہوں میں۔خود ہی اپنے آپ کو کوسنے لگی۔پھر نظر دوبارہ پڑی سامنے پڑے پیج پر تو اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔کھولا تو اوپر کچھ لکھا تھا۔رامین کرسی پر بیٹھ گئی۔تا کہ آرام سے پڑھ سکے۔
اسلام و علیکم!!
یہ گھڑی کل وہیں بھول گئی تھیں محترمہ۔بہت آوازیں دیں روکنے کی کوشش کی مگر رکی ہی نہیں۔۔اسی لیے سوچا خود جا کر دے آوں۔جانتا ہوں یہ سہی طریقہ نہی لگے گا محترمہ کو گھڑی پہچانے کا۔مگر میں اسی طریقے کا عادی ہوں۔
چور جو ہوں۔نہی نہی ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔میں چور ہوں لیکن شریف چور ہوں۔برا چور نہی ہوں۔معزرت کرنا میں ضروری نہی سمجھتا محترمہ۔معزرت تو آپ کو کرنی پڑے گی۔ایک تو میں نے آپ کی مدد کی۔اور میرا شکریہ ادا کرنے کی بجائے وہاں سے بھاگ آئیں۔یاد رکھنا محترمہ۔جلدی ملاقات ہو گی۔
خدا حافظ۔
اففففف۔۔کیسا عجیب انسان ہے یہ۔مدد بھی کرتا ہے اور تعریف بھی کروانا چاہتا ہے۔خود کو چور کہتا ہے۔اور وہ بھی “شریف چور”۔حد ہے ویسے چور بھی کبھی شریف ہوتے ہیں بھلا۔ہاں شاید۔۔سہی ہی کہہ رہا تھا وہ شریف چور ہی ہے۔غلط انسان تو نہی لگ رہا تھا ویسے۔
جب کبھی دوبارہ ملاقات ہوئی تو شکریہ ادا کر دوں گی۔میں اتنی احسان فراموش نہی ہوں۔جو شکریہ بھی نہ ادا کر سکوں۔وہ تو کل میں بہت گھبرا گئی تھی۔سمجھ میں نہی آیا کیا کروں۔
اسی لیے تیزی سے وہاں سے بھاگ آئی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہی کہ میں احسان فراموش ہوں۔
خیر ملاقات ہو بھی گئی تو میں پہچانوں گی کیسے۔چہرہ تو چھپا رکھا تھا شریف چور نے۔رامین خود ہی اپنی کہی بات پر مسکرا دی۔چلیں جب ملیں گے۔تب کی تب دیکھی جائے گی۔
ابھی میں یہاں اپنا وقت کیوں ضائع کر رہی ہوں۔مجھے سکول جانا ہے۔رامین جلدی سے الماری کی طرف بڑھی۔اور گھڑی کے ساتھ ہی وہ پیج بھی تہہ لگا کر رکھ دیا۔اور الماری بند کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
نیچے گئی تو اماں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔رامین بھی ان کی ناشتہ بنانے میں مدد کرنے لگی۔ناشتہ کرنے کے بعد ابا فیکٹری کے لیے نکل گئے اور رامین اپنے کمرے میں چلی گئی۔سکول کے لیے تیار ہونے۔تیار ہو کر نیچے آئی تو ثوبیہ پہلے سے ہی موجود تھی۔
رامین کو نیچے آتے دیکھ ثوبیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔جلدی کرو رامین ہم لیٹ نہ ہو جائیں کہی۔رامین اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔چلو چلتے ہیں میں تو کب سے تیار تھی۔تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔ثوبیہ مسکرا دی۔اور دونوں خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئیں۔
رامین باہر نکلی تو ثوبیہ کا بھائی بھی تھا سامان۔رامین نے اسے سلام کیا۔یہ ہمیں چھوڑنے جائے گا اور لے کر بھی آئے گا۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے اپنے بھائی کے ساتھ آنے کی وجہ بتانے لگی۔یہ ہمارا باڈی گارڈ ہے۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
اسد نے اسے گھورا تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔سہی تو کہا ہے میں نے اسد تم باڈی گارڈ ہو ہمارے۔ثوبیہ پھر سے بولی۔تو رامین بھی مسکرا دی۔بس کرو تم ثوبیہ اب چپ چاپ چلو۔ورنہ گھر جا کر اماں کو تمہاری شکایت لگا دوں گا۔کہ تم بازار میں باتیں کرتی ہوئی چل رہی تھی۔
رامین مسکرا دی۔جبکہ ثوبیہ تپ گئی۔جاو بتا دوں جا کر اماں کو۔جاسوسی کرنے آتے ہو میری۔اسد مسکرا دیا۔اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
دفع ہو جاو تم!!۔۔خبردار جو کل سے میرے ساتھ آئے تو۔کوئی ضرورت نہی میرے ساتھ آنے کی۔میں اور رامین خود ہی چلی جایا کریں گی اب۔تمہاری زمہ داری اب ختم۔ثوبیہ تپ چکی تھی اسد پر۔
زمہ داری ختم نہی ہوئی میری بلکہ اب تو بڑھ گئی ہے۔اسد رامین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔رامین جو مسکرا رہی رہی تھی۔ایک دم اس کی ہنسی کو بریک لگی۔وہ چہرہ دوسری طرف موڑ گئی۔سکول آ چکا تھا۔دونوں اندر کی طرف بڑھ گئیں۔
اسد وہی کھڑا رہا۔رامین نے مڑ کر ایک نظر اسد پر ڈالی۔وہ رامین کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔رامین کو کچھ عجیب سا لگا۔اسد کا اس کی طرف دیکھ کر کہنا کہ زمہ داری اب بڑھ گئی ہے۔اور مسکرانا۔رامین تیزی سے بنا مڑے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
_________________________________________
احتسام گھر آیا۔گاڑی گیراج میں پارک کی۔اندر آیا تو رانیہ اس کی طرف بڑھی۔بھائی آپ کی آئیسکریم میں کھا گئی۔رانیہ معصوم سی گھبرائی ہوئی شکل بنا کر بولی۔
احتسام مسکرا دیا۔کوئی بات نہی ویسے بھی میرا دل نہی کر رہا تھا کھانے کو۔احتسام بس اتنا کہہ کر مسکراتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
“وہ لڑکی کون تھی بھائی”۔؟؟ رانیہ کے سوال پر احتسام کے اوپر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔وہ تیزی سے پلٹا۔
“کون لڑکی”۔۔؟؟؟؟
رانیہ مسکرا دی۔بھائی وہی جو ہماری گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی۔میں نے دیکھ لیا تھا۔آپ اسی سے ہی ملنے گئے تھے ناں۔وہ ہمارے گھر تک آ گئی تھی۔رانیہ بنا رکے بولی جا رہی تھی۔
احتسام کے سر پر حیرانگی کا پہاڑ گرا۔وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا کہ رانیہ اسے فالو کر رہی تھی۔وہ تو اپنی ہی دھن میں گاڑی اِدھر اُدھر موڑے جا رہا تھا۔اسے کیا خبر تھی رانیہ سب کچھ نوٹ کر رہی تھی۔
ایسا کچھ نہی ہے رانیہ۔۔تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔میں کسی لڑکی کو نہی جانتا۔کوئی لڑکی ہماری گاڑی کو فالو نہی کر رہی تھی۔یہ سب تمہارے دماغ کا وہم ہے بس۔احتسام نے خود کو لاتعلق ظاہر کیا۔
نہی بھائی میں نے خود دیکھا تھا۔سگنکل پر آپ نے اس لڑکی کی طرف دیکھا تھا۔اس نے بھی آپ کی طرف دیکھا تھا۔مگر تب آپ اس کی طرف نہی دیکھ رہے تھے۔اس کے بعد وہ ہماری گاڑی کا پیچھا کرنے لگی۔
آپ نے گاڑی آئیسکریم پارلر کے پاس روکی تو اس نے بھی گاڑی روک دی۔پھر وہ آپ کو فالو کرتے ہوئے ہمارے گھر کے پاس رک گئی۔پھر آپ باہر گئے اس سے ملنے۔ویسے میں نے امی اور ہانیہ کو نہی بتایا کچھ بھی۔رانیہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی۔
رانیہ۔۔۔احتسام اس کی طرف بڑھا۔رانیہ نے جلدی سے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی اور دروازہ بند کر دیا۔احتسام اوپر کی طرف بڑھنے لگا۔جب اسے پھر سے رانیہ کی آواز سنائی دی۔
“بھائی”۔۔۔۔رانیہ نے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔اور وہی سے بولی۔
احتسام پلٹا۔۔اور ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“بہت پیاری تھی وہ بھائی۔اگر آپ کہو تو بات کروں امی سے”۔۔رانیہ نے مسکراتے ہوئے جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔احتسام کے بڑھتے قدم دیکھ چکی تھی وہ۔اس سے پہلے کہ اس کی شامت آتی۔جلدی سے دروازہ بند کر دیا اس نے۔
احتسام وہی سوچوں میں گم کھڑا رہا۔وہ مسکرا بھی نہی سکا۔کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔کمرے میں گیا۔نیند کی گولی نکالی دراز میں سے کھا کر پانی پی لیا۔اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔
نیند کی گولی اس کی عادت بن چکی تھی۔ڈپریشن کا مریض بن چکا تھا وہ۔اسے خود کو ریلیکس کرنے کا یہی طریقہ سہی لگتا تھا۔خود کو ازیت دینا اچھا لگتا تھا اسے۔خود کو بہت تھکا ہوا،ہارا ہوا محسوس کرتا ہے۔ذہنی ٹینشن سے خود کو نجات دلانے کا یہی طریقہ ڈھونڈا تھا اس نے۔
اگر یہ لڑکی مجھے دوبارہ نظر آئی تو اس کی جان لے لوں گا میں۔۔۔پاگل بنا کر رکھ دیا ہے اس نے مجھے۔اپنی زندگی میں جو مرضی کرے۔خوش رہے۔مگر اپنی زندگی میں دخل اندازی نہی کرنے دوں گا میں اسے۔۔۔احتسام سوچوں میں ڈوبا نیند کی وادی میں اتر گیا۔
_________________________________________
رامین کا پہلا دن بہت تھکاوٹ بھرا گزرا تھا۔بچوں کو پڑھانا جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہوتا نہی ہے۔پورا دن بس زور زور سے چیختے رہو۔بیٹھنا بھی نہی۔سر پر کیمرہ جو لگا ہے۔زرا سا آپ بیٹھ گئے ریلیکس ہونے کے لیے۔۔اُدھر سے میڈم جی حاظر۔
رامین اور ثوبیہ اسد کے انتظار میں بیٹھی تھکں۔کیونکہ امی کا حکم تھا کہ بھائی کے بغیر نہی آنا۔آنے دو آج اس کو امی کو شکایت لگاوں گی اس کی روز آدھا گھنٹہ لیٹ ہو جاتا ہے۔ابھی ثوبیہ بات ہی کر رہی تھی کہ چوکیدار نے ثوبیہ کا نام پکارا۔
ارے واہ۔۔۔آج تو بڑی جلدی آ گیا۔چلو رامین چلیں۔اس کا کچھ پتہ نہی ابھی واپس پلٹ جائے۔اور پھر ہمیں اس کا انتظار کرنا پڑے۔ثوبیہ نے کہا تو رامین جلدی سے اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اس کے ساتھ باہر کی طرف چل پڑی۔
رامین نے اسد کی طرف دیکھنے کی غلطی نہی کی دوبارہ۔۔۔نا جانے کیوں اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو اسد کان سے فون لگائے۔اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔رامین کے دیکھنے پر مسکرا دیا۔
رامین جلدی سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔اسے اپنی غلطی پر افسوس ہوا۔مگر کیا کہہ سکتی تھی۔یہ اسد پہلے تو ایسے نہی کرتا تھا۔اب ایسی حرکتیں کیوں کر رہا ہے۔رامین کو اسد کا اس کی طرف دیکھ کر مسکرانا زرا اچھا نہی لگا۔
رامین کا گھر آیا تو رامین خدا حافظ کہتے ہوئے اندر چلی گئی۔اسد کی طرف دیکھنے کی غلطی اب نہی کی تھی اس نے۔مگر اسد کی خود پر جمی نظریں محسوس کر سکتی تھی۔وہ تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا۔
اماں کو سلام کرتے ہوئے فریج سے پانی نکال کر گلاس میں ڈال کر پینے لگی۔اماں کھانے کا ٹفن تیار کیے بیٹھی تھیں۔رامین پانی پی چکی تو اماں نے اس کی طرف شاپر بڑھا دیا۔یہ پہلے اپنے ابا کو دے آو۔پھر آ کر خود بھی کھانا کھا لو۔اور آرام کر لو کچھ دیر۔
رامین مسکرا دی۔جی اماں۔اپنی چادر درست کی اور کھانے والا شاپر اٹھایا۔باہر کی طرف بڑھ گئی۔خوف نے پھر سے آ گھیرا تھا اسے۔وہ ڈرتے ڈرتے قدم اٹھا رہی تھی۔سہی کہا تھا اس نے مجھے ڈرنا نہی چاہیے۔اگر اسی طرح میں ڈرتی رہی تو وہ لوگ مجھے اور ڈرائیں گے۔
مجھے ہمت پیدا کرنی پڑے گی اپنے اندر۔۔مجھے “کامیاب عورت” بننا چاہیے۔بلکل اپنے نام کی طرح۔اب مزید میں کسی کی بدتمیزی برداشت نہی کروں گی۔رامین سوچوں میں ڈوبی کب فیکٹری پہنچ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔
رحیم چچا کو سلام کرتے ہوئے کھانے والا شاپر ان کی طرف بڑھایا۔اور واپس مڑ گئی۔اب وہ ڈر تو نہی رہی تھی۔مگر پھر بھی اس کے لیے واپسی کے لیے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔رامین تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل رہی تھی۔
جب اس کی نظر سامنے پڑی تو دھنگ رہ گئی۔وہ دونوں لڑکے آج بھی وہیں کھڑے تھے۔جب رامین یہاں سے گزر کر گئی تب تو نہی تھے۔اب اچانک سے آ گئے۔رامین رکی نہی خود کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھی۔جیسے وہ ان کے پاس پہنچی وہ دونوں اس کے راستے میں آ رکے۔
