Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 20)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین کا مطلب جانتی ہو تم؟
“رامین کا مطلب ہے’کامیاب عورت”
مگر تم مجھے اپنے نام جیسی بلکل نہی لگتی۔
تم بہت ڈرپوک ہو۔
اپنے نام جیسی بننے کی کوشش کرو۔
میں چاہتا ہوں’تم کامیاب عورت بنو۔
“آخر اتنی ڈرپوک کیوں ہو تم”
آخر کب تم یونہی آنسو بہاتی رہو گی۔آنسو بہانے سے مسلے حل نہی ہوتے۔مشکلات سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔
اگر تم پہلے ہی دن ایک ایک تھپڑ دونوں کے منہ پر لگا دیتی تو وہ دوبارہ تمہارے راستے میں نہی آتے۔مگر تم نے ہمت نہی دکھائی۔۔میں پوچھتا ہوں آخر کیوں۔۔؟؟؟
میں وہی ہوں جس نے تمہیں کل ان لڑکوں سے نجات دلائی تھی۔
کامیاب عورت” وہ ہوتی ہے جو خود کو معاشرے میں ثابت کرے۔مشکلات کا سامنہ کرے،رکاوٹوں کا ڈٹ کر سامنا کرے۔اور کبھی ہار نہ مانے۔
مگر ان میں سے ایک بھی خوبی مجھے نظر نہی آئی تم میں۔تم بہت ہی ڈرپوک لڑکی ہو۔جو محض دو لڑکوں کے راستہ روکنے پر گھبرا جاتی ہو۔اپنے نام جیسی تو بلکل بھی نہی ہو تم۔
رات کو دو بجے آپ چوروں کی طرح میرے کمرے میں گھسے ہیں۔یہ کوئی شریفوں والا کام تو نہی کیا آپ نے۔
کیوں میں شریف انسان ہوں ہی نہی۔وہ مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔چور ہوں میں۔اور چوروں کی طرح ہی آوں گا نہ۔۔ وہ چلتا ہوا رامین کے پاس آ کر دونوں بازوں سینے پر باندھے آ کھڑا ہوا۔
ابھی تو تم کہ رہی تھی کہ ڈروں گی نہی۔اور پھر سے ڈر رہی ہو۔
میں اتنا برا چور نہی ہوں۔مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔اب میں چلتا ہوں۔وہ لڑکے دوبارہ تنگ نہی کریں گے تمہے۔امید ہے تم کامیاب عورت بن کر دکھاوں گی۔بلکل اپنے نام کی طرح۔
پرنس کی کہی ہوئی ساری باتیں رامین کے ذہن میں آ رہی تھیں۔
اس کی کہی گئی ہر ایک بات’اس کا مدھم سا لہجہ۔
بات کرنے کا انداز’خوبصورت آواز۔
رامین بہت بے بس محسوس کر رہی تھی خود۔
کچھ خواب اتنی جلدی کیوں ٹوٹ جاتے ہیں۔
ابھی ابھی تو اس کے خواب دیکھنا شروع کیے تھے میں نے۔
پھر اتنی جلدی کیوں ٹوٹ گیا میرا خواب۔
کیوں کے خواب ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں۔
خواب کبھی مکمل نہی ہوتے۔
ہمیشہ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
کبھی بھی بیچ راستے میں ہماری آنکھ کھل جاتی ہے۔
خواب ٹوٹ جاتا ہے’اور ہم حقیقت کی دنیا میں آ جاتے ہیں۔
وہی دنیا جو حقیقت ہوتی ہے ہماری۔
خواب ہمیں اس دنیا سے کہی دور لے جاتے ہے۔
ہم ان خوابوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔
ان کے تصور میں جینے لگتے ہیں۔
مگر جیسے ہی آنکھ کھلتی ہے’ہم حقیقی دنیا میں واپس لوٹتے ہیں۔
تو سارے خواب چھن سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
اسی لیے بہتر ہے کہ ہم ان خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آئیں۔
حقیقی زندگی میں خوش رہیں۔
کیونکہ خواب جب ٹوٹتے ہیں’تو یہی زندگی ہمیں پھر سے ایک نیا خواب دیکھنے کی امید دلاتی ہے۔
ہم پھر سے ایک نیا خواب بنتے ہیں’ٹوٹنے کے لیے۔
کیونکہ خواب کبھی مکمل نہی ہوتے۔
رامین سوچوں کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔
وہ چاہتا ہے کہ میں کامیاب عورت بن کر دکھاوں اسے’مگر میں تو ابھی سے ٹوٹ رہی ہوں۔
نہی مجھے سنبھالنا ہو گا خود کو’ایسے ٹوٹ کر بکھر نہی سکتی میں۔
حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا مجھے۔
سہی کہا تھا پرنس نے’رونے سے کچھ حاصل نہی ہوتا۔
مجھے ہارنا نہی اظہر کے سامنے’یہ پرنس کی محبت کی توہین ہے۔
میں پرنس کو ہارنے نہی دوں گی۔
ثابت کر کے دکھاوں گی اسے’کہ تم جیت کر بھی ہار گئے ہو۔
ہاں ایسا ہی ہو گا’مسٹر اظہر صاحب۔
آپ نے دولت کے گھمنڈ میں مجھے حاصل تو کر لیا ہے۔
مگر میری روح’اس کو کیسے حاصل کریں گے آپ۔
آپ تو جیت کر بھی ہار چکے ہیں۔
یہی چاہتے ہیں نا آپ کہ میں پرنس کو بھول جاوں۔
تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے’پرنس کو میں نہی بھول سکتی۔
آپ نے دو محبت کرنے والوں کو جدا کیا ہے۔
اس کا نتیجہ زندگی بھر بھگتنا پڑے گا آپ کو۔
یہ میرا وعدہ ہے آپ سے اظہر صاحب۔
رامین آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
اس کے ہاتھوں میں پہنے گنگن کھنکے تھے۔
رامین کو ان کی کھنک بلکل پسند نہی آئی۔
اس نے کنگن اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔
“وعدہ کیا تھا تم نے’جو جیتا اسے دل سے اپناو گی”
رامین کے ہاتھ رک گئے۔
وہ چاہ کر بھی وہ کنگن نا اتار سکی۔
وہ دل اور دماغ کی جنگ میں پھنس کر رہ گئی تھی۔
ایک طرف پرنس ہے جو’اس سے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔
اور دوسری طرف اظہر’جو اس کا شوہر بن چکا ہے۔
اس کا مجازی خدا’
کچھ سمجھ نہی آ رہا کیا کروں’رامین سمجھ نہی پا رہی تھی کہ کیا کرے وہ۔
یہ کیسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے زندگی نے’کاش کہ اس دن میں فیکٹری جاتی ہی نا۔
نا میں اظہر سے ٹکراتی’نا ان کا فون ٹوٹتا۔
اور نا بات یہاں تک پہنچتی۔
افف۔۔۔اب کیا ہو سکتا ہے’نکاح ہو چکا ہے۔
اب کچھ بھی ممکن نہی’فرار کی کوئی راہ نظر نہی آ رہی مجھے۔
رامین اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی۔
نماز پڑھ کر نیچے کی طرف بڑھی ہی تھی’کہ اماں اور ابا دونوں کی باتوں کی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
دیکھا رامین کی اماں کتنی اچھی قسمت نکلی ہماری بیٹی کی۔
میں تو کبھی سوچ بھی نہی سکتا تھا’کہ جس فیکٹری کا میں چپڑاسی ہوں۔
اسی فیکٹری کی مالک بن جائے گی میری بیٹی۔
اکلوتا بیٹا ہے اظہر ان کا۔
ساری جائیداد،فیکٹری کا اکلوتا وارث۔
اور جو کچھ شوہر کا ہے’وہ بیوی کا بھی ہوا۔
راج کرے گی ہماری رامین۔
شکر ہے میں نے وہ پہلے والے رشتے کے لیے ہاں نہی کی۔
ورنہ خوامخواہ ذلت اٹھانی پڑتی وہاں سے۔
وہ لڑکا کوئی اتنا خاص امیر نہی تھا’فی الحال تو اس کے پاس نوکری بھی نہی تھی۔
باپ کا چھوٹا سا کاروبار ہے اس کے۔
اچھا ہوا جو میں نے ہاں نہی کی۔
ورنہ کل کو پچھتانا پڑتا’باپ کے سر پر لے جا کر بٹھا دیتا ہماری رامین کو۔
اور خود بھی باپ کے سہارے بیٹھا رہتا۔
اور دیکھو تو سہی ان کو ابھی جواب دیا نہی’اور اتنا اچھا رشتہ ہمارے دروازے پر آ گیا۔
لیکن ایک بات مجھے سمجھ نہی آئی رامین کے ابا’اتنی جلدی نکاح کیوں کروایا انہوں نے۔
ہمیں کچھ سوچنے سمجھنے کا وقت ہی نہی دیا انہوں نے۔
اچانک سے نکاح’ہم نے رامین سے بھی کوئی رائے نہی لی۔
کہی ہم نے اپنی بیٹی کی ساتھ زیادتی تو نہی کر دی۔
وہ کچھ بول ہی نہی جب سے نکاح ہوا ہے’بہت چپ چپ سی ہے۔
حالانکہ لڑکیاں تو بہت کھل اٹھتی ہیں نکاح کے نام پر۔
مگر ہماری رامین اتنی خاموش کیوں ہو گئی ہے۔
کہی کوئی غلط فیصلہ تو نہی لے لیا ہم نے یہ نکاح کروا کر۔
ہمیں ایک بار رامین سے پوچھ لینا چاہیے تھا’رامین کی اماں پریشان ہوتے ہوئے بولیں۔
بس کر دو رامین کی اماں’تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو۔
اور اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی پریشان کر رہی ہو۔
رامین بہت خوش ہے’وہ بس ہم سے دور جانے کا سوچ کر پریشان ہو رہی ہے۔
ہر لڑکی کے لیے یہ وقت بہت مشکل ہوتا ہے۔
ٹھیک ہو جائے گی وہ’جب رخصت ہو کر اپنے شوہر کے گھر چلی جائے گی۔
تو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دل لگ جائے گا وہاں۔
وہ پریشان نہی ہے’اداس ہے۔
تم سنبھالو اس کو’اور اس کی آنے والی زندگی کے لیے دعا کرو۔
انشااللہ سب بہتر ہو گا۔
ہماری بیٹی راج کرے گی اس گھر میں۔
شہزادی بن کر رہے گی وہاں’اظہر کسی شہزادے سے کم تھوڑی ہے۔
کتنے اچھے لگ رہے تھے دونوں ایک ساتھ۔
اللہ ان کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے۔
اور دوسروں کی بری نظروں سے بچائے آمین۔
آمین۔۔۔کہہ تو آپ سہی رہے ہیں۔
رامین کی ساس بھی کتنے لاڈ اٹھا رہی تھی’رامین کے۔
سونے کے کنگن لے کر آئی’بہت مہنگے لگ رہے تھے مجھے۔
کتنے خوبصورت لگ رہے تھے وہ کنگن رامین کے ہاتھوں میں۔
بس اللہ اسی طرح میری بیٹی کی عزت قائم رکھے آمین۔
اور اسے سسرال میں شان و شوکت والی زندگی عطا کرے۔آمین
مگر ایک بات میری سمجھ میں نہی آ رہی’اب ہم اسد کے گھر والوں کو کیا جواب دیں گے۔
وہ لوگ بہت مان سے آئے تھے رشتہ لے کر۔
وہ سب تم چھوڑ دو’میں سنبھال لوں گا سب۔
دروازے پر دستک ہوئی تو رامین کے ابا باہر چلے گئے۔
رامین آنسو صاف کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھی۔
اس رشتے سے میرے ماں،باپ کی خوشیاں جڑی ہیں۔
مجھے اس رشتے کو دل سے نبھانا ہو گا’بھلانا ہو گا پرنس کو۔
“اظہر کو اپنانا ہو گا مجھے”
رامین سوچوں میں گُم اماں کے پاس آ بیٹھی۔
اماں کھانا نہی کھلانا کیا آج’یا پھر میرے نکاح کی خوشی میں مجھے بھوکا رکھنا ہے۔
رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
ارے ہاں ہاں کیوں نہی ابھی لاتی ہوں کھانا’تم بیٹھو
وہ مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
________________________________________
احتسام نے جلدی سے اپنی بائیک باہر نکالی’اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر ہی ہاسپٹل کے لیے نکل پڑا۔
ہاسپٹل گھر سے زیادہ دور نہی تھا۔
احتسام جلدی ہاسپٹل پہنچ گیا۔
بائیک پارک کرتے ہی جلدی سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف دوڑا۔
صلہ اسے سامنے بینچ پر بیٹھی نظر آ گئی۔
مگر اس کا حلیہ دیکھ کر احتسام کو شدید افسوس ہوا۔
وہ رات والے حلیے میں ہی آ گئی ہاسپٹل’احتسام کو کوفت سی ہونے لگی۔
رات کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔
وہ سر جھٹکتے ہوئے صلہ کی طرف بڑھا۔
وہ سر جھکائے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔
احتسام چلتا ہوا صلہ کے پاس جا رُکا۔
صلہ۔۔۔مدھم لہجے میں اسے پکارا۔
صلہ نے احتسام کی آواز پر سر اوپر اٹھایا’اور پھر سے سر جھکا کر رونے لگی۔
احتسام اس کے پاس ہی بیٹھ گیا بینچ پر۔
صلہ سنبھالو خود کو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کچھ نہی ہو گا انکل کو’احتسام اسے تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
صلہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔
احتسام نے محسوس کیا کہ اردگرد سے گزرنے والے لوگ عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں ان دونوں کو۔
وہ تیزی سے وہاں سے اٹھ گیا۔
چند منٹوں بعد واپس آیا’اور ایک بڑی سی شال صلہ کے گرد پھیلا دی۔
صلہ نے جھکا سر اٹھا کر احتسام کو دیکھا۔
اور ایک نظر چادر پر ڈالی’احتسام صلہ کو چادر اوڑھا کر ڈاکٹر کی طرف بڑھ گیا۔
صلہ ہکا بکا سی اسے ڈاکٹر سے باتیں کرتا دیکھ رہی تھی۔
یہ منظر روشنی،اور صلہ کی ماما نے بھی دیکھا۔
روشنی صلہ کی ماما کو سب بتا چکی تھی۔
وہ بس دور بیٹھی بیٹی کے سر پر اوڑھی گئی چادر کو دیکھ رہی تھیں۔
احتسام ڈاکٹر سے کچھ پیپرز لیتے ہوئے صلہ کی طرف بڑھا۔
ان پر سائن کرنے ہو گے تمہیں’اس نے پیپرز صلہ کی طرف بڑھائے۔
انکل کا آپریٹ کرنا ہے ابھی’اور اس کے لیے خونی رشتے کے سائن چاہیے۔
صلہ نے کانپتے ہاتھوں سے پیپرز تھامے’اور سائن کر کے پیپرز احتسام
کے حوالے کر دئیے۔
احتسام نے پیپرز ریسیپشن پر جمع کروا دئیے۔
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں’احتسام صلہ سے کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
صلہ وہاں سے اٹھ کر ماما اور روشنی کے پاس بیٹھ گئی۔
وہ ماما سے نظریں نہی ملا پا رہی تھی۔
کیا جواب دیتی ان کو’کہ کیوں ہے اس حلیے میں۔
وہ بس خاموشی سے اچھی طرح خود پر چادر اوڑھے بیٹھی رہی۔
ماما نے اس سے کوئی سوال نہی کیا’وہ دعائیں مانگنے میں مصروف تھیں۔
کچھ دیر احتسام واپس آیا۔
اس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھا’اور ناشتے کا کچھ سامان تھا۔
احتسام نے شاپنگ بیگ صلہ کی طرف بڑھایا۔
صلہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
اس میں کپڑے ہیں’جا کر چینج کر لو۔
آپ بھی ان کے ساتھ جاو’احتسام روشنی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
روشنی جلدی سے صلہ کے ساتھ چل پڑی۔
احتسام صلہ کی ماما کے پاس بیٹھ گیا۔
ناشتے کا سامان ان کی طرف بڑھایا۔
آنٹی آپ کچھ کھا لیں’آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔
انکل کو کچھ نہی ہو گا’آپریٹ ہو گا ان کا پھر وہ بلکل ٹھیک ہو جائیں گے پہلے کی طرح۔
وہ گم سم سی بس احتسام کو دیکھے جا رہی تھیں۔
کون ہے یہ وہ نہی جانتی تھیں’اتنی فکر کیوں کر رہا ہے وہ ان کی۔
وہ بہت حیران ہو رہی تھیں۔
صلہ کے سر پر چادر اوڑھانا’پھر اس کے لیے کپڑے لے کر آنا۔
اب ناشتہ’ایسا خیال تو کوئی اپنا ہی رکھ سکتا ہے۔
تم کون ہو بیٹا’آخر ہمت کر کے وہ بول ہی پڑیں؟
احتسام مسکرا دیا’مجھے اپنا بیٹا سمجھ لیں آپ۔
صلہ اور میری بہنیں دوست ہیں آپس میں’صلہ آتی جاتی رہتی ہے ہمارے گھر۔
میری بہن نے بتایا مجھے کہ صلہ کے بابا ہاسپٹل میں ہیں۔
تو جیسے ہی پتہ چلا میں چلا آیا یہاں۔
احتسام جھوٹ بول رہا تھا’اور کچھ سمجھ ہی نہی آیا اسے۔
اب کیا بتاتا وہ ان کو کہ آپ کی بیٹی سے ایک بار پارک میں ملاقات ہوئی تھی۔
تب سے ہی پیچھے پڑ گئی ہے میرے’سوچ کر احتسام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
صلہ کی ماما نے احتسام کے سر پر ہاتھ رکھا۔
بہت شکریہ بیٹا’اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔
شکریہ کس بات کا’ماں بیٹے کا شکریہ ادا کرتے اچھی نہی لگتی۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا’تو صلہ کی ماما بھی مسکرا دیں۔
آپ کچھ کھا لیں پلیز’بیٹے کی بات نہی مانیں گی آپ۔
احتسام کا اپنائیت بھرا رویہ دیکھ کر نا چاہتے ہوئے بھی انہوں نے ایک سینڈوچ اٹھا لیا۔
میں صلہ کودیکھ کر آتا ہوں’آئی نہی وہ لوگ ابھی تک۔
احتسام اٹھ کر وہاں سے چلا گیا’تبھی اسے صلہ اور وہ لڑکی دونوں آتے ہوئے دکھائی دیں۔
صلہ اس سمپل سے جوڑے میں بھی بہت نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔
لائٹ پنک کلر صلہ کی رنگت مزید نکھار رہا تھا۔
احتسام وہی رک کر اسے دیکھنے لگا۔
وہ روشنی سے کچھ بولتے ہوئے آ رہی تھی۔
احتسام کو سامنے کھڑے دیکھا تو خاموش ہو گئی۔
جاو روشنی میرا بیگ لے آو۔
صلہ احتسام کے پاس آ رکی’تھینکس ان کپڑوں کے لیے۔
صلہ جھجکتی ہوئی بولی’اس سے پہلے کے احتسام کچھ بولتا اس کے فون پر رِنگ ٹون بجی۔
احتسام نے فون دیکھا تو رانیہ کی کال تھی۔
احتسام نے کال پِک کرتے ہوئے فون کان سے لگایا۔
اور آگے کی طرف بڑھ گیا’صلہ اپنی ماما کی طرف بڑھ گئی۔
بھائی آپ صبح صبح کہاں چلے گئے ہیں؟
امی بہت پریشان ہو رہی ہیں۔
آپ بتا کر بھی نہی گئے’اور ناشتہ بھی نہی کیا۔
بھائی کہاں ہیں آپ؟
رانیہ بنا رکے بولی جا رہی تھی۔
رانیہ’تم خاموش ہو گی تو کچھ بتاوں گا نا میں’احتسام نے رانیہ کو ٹوکا تو وہ خاموش ہوئی۔
اوہ سوری بھائی’رانیہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
اچھا میری بات سنو اب خاموشی سے’میں ہاسپٹل آیا ہوں۔
صلہ کے بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے’ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے۔
کیا بھائی صلہ کے بابا کو ہارٹ اٹیک’وہ بہت پریشان ہو گی۔
ہاں وہ بہت پریشان ہے’اسی لیے تو میں یہاں ہوں۔
تم ماما کو بتا دو کہ بھائی کے کسی دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے وہ ہاسپٹل ہیں۔
ان کو صلہ کے بارے میں کچھ مت بتانا’میں خود بتا دوں گا بعد میں۔
ابھی جیسا بولا ہے’ویسا ہی کہنا۔
احتسام التجا کرتے ہوئے بولا رانیہ سے۔
میں جھوٹ کیوں بولوں بھائی؟
وہ بھی صبح صبح’اور ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ صلہ کے بابا ہاسپٹل میں ہیں۔
صلہ کا فون آیا تھا مجھے’احتسام گھبراتے ہوئے بولا۔
اچھا’آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ اس کو جانتے ہی نہی۔
پھر اس کے پاس آپ کا نمبر کہاں سے آیا؟
رانیہ کی تشویش شروع ہو چکی تھی۔
صلہ کے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا یہ تو میں گھر آ کر پوچھوں گا تم سے۔
ابھی ان باتوں کے لیے وقت نہی ہے میرے پاس۔
فون بند کرنے لگا ہوں میں۔
اوپس’صلہ کو بھائی کا نمبر میں نے ہی تو دیا تھا۔
اب میری خیر نہی۔
خیر جو بھی ہوا اچھا ہوا’بھائی صلہ کے ساتھ تو ہیں اب۔
امی کو بتا دوں’پریشان ہو رہی ہو گی۔
رانیہ فون چارچنگ پر لگاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
احتسام فون جیب میں رکھتے ہوئے واپس پلٹا تو صلہ ہاتھ میں کوئی سلپ پکڑے چلتی آ رہی تھی۔
کہاں جا رہی ہو’احتسام نے اسے روکا۔
یہ ماما کی دوائیاں لینے جا رہی ہوں’بہت ضروری ہیں۔
لاو مجھے دو میں لا دیتا ہوں’تم ناشتہ کر لو جا کر۔
نہی میں لے آوں گی’مجھے بھوک نہی ہے۔
میں نے کہا نا کہ میں لے آتا ہوں’تم جا کر ناشتہ کرو۔
اور وہ لڑکی’کیا نام لیا تھا ابھی تم نے اس کا؟
روشنی’صلہ نے جواب دیا۔
ہاں روشنی’اس کو بھی ناشتہ کروا دو۔
ہوں۔۔صلہ سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گئی۔
اور احتسام دوائیاں لینے چلا گیا۔
دوائیاں لے کر واپس آیا اور صلہ کو تھما دیں۔
صلہ نے ماما کو دوائی کھلا کر واپس بیگ میں رکھ دیں۔
صلہ نے ناشتہ نہی کیا’ویسے کا ویسا ہی پڑا تھا۔
احتسام ابھی کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ نرس بھاگتی ہوئی باہر آئی۔
صلہ کون ہے’وہ عجلت میں بولی۔
صلہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ پیشنٹ کی حالت بہت زیادہ خراب ہو رہی ہے’آپ کا نام پکار رہے ہیں وہ بار بار۔
آپ اندر آئیں جلدی۔
نرس بولی تو صلہ نے ایک نظر مڑ کر سب کی طرف دیکھا’اور آئی سی یو میں داخل ہو گئی۔
اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔
اس کے بابا مشینوں میں جکڑے بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے۔
سانس اکھڑ رہا تھا’وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مگر بول نہی پا رہے تھے’صلہ نے ان کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیا۔
بابا کچھ نہی ہو گا آپ کو’آپ ہمت نہی ہاریں۔
سب ٹھیک ہو جائے گا’صلہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔
انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے صلہ کے سامنے’جیسے معافی مانگ رہے ہو۔
صلہ نے ان کے جڑے ہوئے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیے۔
نہی بابا’آپ معافی مت مانگیں۔
جو ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہی تھا۔
آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔
ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی زرا سی۔
اور صلہ کے ہاتھوں سے ان کے ہاتھ چھوٹ گئے۔
صلہ کے پیروں تلے جیسے زمین ہی نکل گئی۔
وہ چلائی بابا’نہی۔۔۔آپ ہمیں چھوڑ کر نہی جا سکتے۔
سسٹر ان کو باہر لے جائیں’ڈاکٹر عجلت میں بولا۔
اور ان کو شاک دینے لگا۔
نرس صلہ کو بازو سے کھینچتے ہوئے باہر لے آئی۔
صلہ کی آنکھوں کے سامنے بابا کا چہرہ آیا’ان کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔
ہاتھ ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔
صلہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا محسوس ہوا۔
وہ احتسام اور ماما کی طرف دیکھ رہی تھی’اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
احتسام نے اسے گرنے سے بچا لیا تھا’اس نے صلہ کو پاس پڑے بینچ پر بٹھا دیا۔
صلہ سنبھالو خود کو’احتسام کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
روشنی جلدی سے پانی کی بوتل لے کر احتسام کی طرف بڑھی۔
احتسام نے پانی کے چھڑکا صلہ کے منہ پر تو صلہ نے آنکھیں کھول دیں۔
احتسام بابا’وہ بس اتنا ہی بول پائی۔
اور اٹھ کر ماما کی طرف دوڑی’جو دیوار سے سر لگائے آنسو بہا رہی تھیں۔
ماما کچھ نہی ہو گا بابا کو’آپ رونا بند کر دیں۔
وہ ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے ان کو تسلی دے رہی تھی۔
تبھی ڈاکٹر باہر آیا’احتسام جلدی سے ان کی طرف بڑھا۔
ڈاکٹر نے سر نفی میں ہلا دیا’آئی ایم سوری۔
ہم ان کو نہی بچا سکے’ہارٹ اٹیک بہت شدید تھا ان کا۔
ہم بس انجیوگرافی کے لیے لے کر جانے ہی والے تھے ان کو۔
مگر اس سے پہلے ہی ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔
صلہ صدمے کی حالت میں ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی۔
ماما کے رونے میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔
احتسام بھی وہی بینچ پر بیٹھ گیا’سر دونوں ہاتھوں میں تھامے۔
