Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 19)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین کا سر چکرا گیا’اسے سامنے دیکھ کر۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں’میرے کمرے میں؟
آپ اوپر کیسے آئے؟
آپ کو اوپر کس نے آنے دیا؟
آپ کو اب کیا مسئلہ ہے مجھ سے؟
آپ میرے گھر تک پہنچ گئے۔
رامین صدمے سے دو چار سوال پر سوال کر رہی تھی۔
مگر وہ بس خاموشی سے مسکراتے ہوئے رامین کو دیکھ رہا تھا۔
وہ وہیں دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
آنکھوں پر آج بھی سن گلاسز لگائے ہوئے۔
رامین کو حیرت ہوئی اس کے مسکرانے پر۔
رامین جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی’ابا وہ ابھی بولنے ہی لگی تھی کہ وہ رامین کے سامنے آ رکا۔
اور رامین اس کے آگے کچھ نہی بول سکی۔
ہٹیں میرے راستے سے’رامین بنا ڈرے بولی۔
وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔
رامین کو کوفت سی ہونے لگی’اس کی مسکراہٹ دیکھ کر۔
اس نے رامین کا ہاتھ تھاما’اور اسے کرسی پر بٹھا دیا۔
عجیب بات ہے ویسے’میں نے تو سُنا تھا کہ “اچھی لڑکیاں اپنے شوہر کی بہت عزت کرتی ہیں۔”
مگر تم تو ابھی سے مجھے کمرے سے نکال رہی ہو۔
مسکراتے ہوئے بولا۔
اس کے ہونٹوں پر ایک فاتخانہ مسکراہٹ تھی۔
رامین کا رنگ فق پڑ گیا لفظ “شوہر” پر۔
“شوہر”_رامین نے زیرِ لب دہرایا۔
“جی میں ہی ہوں شوہر آپ کا”
“ابھی مجھ سے ہی نکاح ہوا ہے تمہارا”
“رامین سے مسسز اظہر بن گئی تم”
“ملک اظہر میں ہی ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے رامین کے سر پر بم پھوڑ رہا تھا۔
رامین سکتے کی حالت میں بیٹھی تھی۔
تو کیا میرا نکاح پرنس سے نہی ہوا’وہ صدمے کی کیفیت میں بولی۔
“آج نام لے لیا پرنس کا’آئیندہ میرے سامنے اس نام کا ذکر مت کرنا”
وہ دونوں ہاتھ کرسی پر رکھ کر رامین کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔
میرے غصے سے واقف نہی ہو ابھی تم’اسی لیے آگاہ کر رہا ہوں۔
اُمید ہے آئیندہ دھیان رکھو گی تم’ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔
رامین حیرت سے بس اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
سن گلاسز ابھی بھی اس کی آنکھوں پر ہی تھے۔
چلو میرے ساتھ’وہ رامین کا بازو تھامتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
رامین نے بازو آزاد کروانے کی بہت کوشش کی’مگر اس کی گرفت مظبوط تھی۔
مجبوراً رامین کو اس کے ساتھ چلنا پڑا۔
رامین کی چادر کندھوں پر آ چکی تھی۔
ماما یہ ہے آپ کی بہو’رامین کو ایک عورت کے سامنے لا کھڑا کیا۔
اور رامین کا بازو چھوڑ دیا۔
رامین نے جلدی سے اپنی چادر درست کی۔
ماشااللہ۔۔بہت خوبصورت ہے۔
میرے بیٹے کی پسند ہے’تو اچھی ہی ہو گی۔
میرا بیٹا کبھی کچھ غلط پسند نہی کرتا۔
وہ رامین کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولی۔
رامین کچھ نہی بولی۔
وہ بولنے کی کیفیت میں ہی نہی تھی۔
یہ سب کیا ہوا’کیسے ہوا؟
کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی وہ۔
اس کی یادداشت بس ایک نام پر اٹک چکی تھی۔
“پرنس”۔۔۔میرا نکاح پرنس سے نہی ہوا۔
بس یہی یاد تھا اسے’باقی کون کیا کہہ رہا ہے۔
وہ نہی سُن پا رہی تھی۔
آو نا بیٹا تم بھی بیٹھو یہاں’مسز ملک نے بیٹے کو رامین کے ساتھ بٹھا دیا۔
اس نے آنکھوں سے گلاسز اتارے’مگر رامین نے اس کی طرف نہی دیکھا۔
وہ تو بس سر جھکائے اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
یہ لو پہنا دو رامین کو مسز ملک نے ایک باکس بیٹے کی طرف بڑھایا۔
اس نے مسکراتے ہوئے وہ باکس تھاما۔
اسے کھولا تو اس میں چار کنگن تھے سونے کے۔
مسز ملک نے رامین کا ہاتھ بیٹے کی طرف بڑھایا۔
جو اس نے مسکراتے ہوئے تھام لیا۔
رامین نے چونک کر اپنے ہاتھ کو دیکھا’جو اس کی گرفت میں تھا۔
اس نے بہت نرمی سے رامین کے ہاتھ کو تھام رکھا تھا۔
دو کنگن باکس میں سے اٹھائے’جو اب مسز ملک نے اٹھا رکھا تھا۔
دونوں کنگن رامین کے ہاتھ میں ڈال دئیے۔
اور باقی کے دو کنگن دوسرے ہاتھ میں ڈال کر ہاتھ چھوڑ دیا۔
رامین نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف نہی دیکھا۔
ٹھیک ہے صدیق احمد ہمیں اجازت دو پھر۔
ایِک ہفتے بعد لینے آئیں گے اپنی بیٹی کو’ملک صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہاں بھائی صاحب’اور آپ کو کسی قسم کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔
اپنی بیٹی کے لیے ساری شاپنگ میں خود کر لوں گی۔
آپ بس دعاوں میں میری بیٹی کو رخصت کرنے کی تیاری کریں۔
مسز ملک کی آواز رامین کے کانوں میں پڑی’اور سب لوگ کمرے سے باہر نکل گئے۔
مگر وہ ابھی تک رامین کے پاس ہی بیٹھا تھا۔
آِئی ایم سوری’میں نے غصے سے بات کی تم سے۔
وہ رامین کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
میں بس اتنا چاہتا ہوں’تم بس میرے بارے میں سوچو۔
“بس میرا حق ہے تم پر”
“تم بھی اپنا حق جتاو’مجھے اپنا لو”
میں اس لہجے کا عادی نہی ہوں’بس تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔
“یہ نکاح اسی لیے جلدی میں کروایا ہے’تا کہ پرنس نہ جیت سکے”
مگر تمہارے منہ سے پرنس کا نام سن کر مجھے میری جیت بھی ہار لگی۔
اور اپنی ہار میں برداشت نہی کر سکتا۔
“میں جیت کا عادی ہوں۔
آئیندہ اس ٹاپک پر کبھی بات نہی کرنا چاہتا میں۔
امید ہے مجھے شکایت کا موقع نہی دو گی تم۔
تم نے وعدہ کیا تھا’جیتنے والے کو دل سے قبول کرو گی۔
امید ہے اپنے وعدے پر پورا اترو گی۔
چلتا ہوں’جلدی آوں گا۔
“ہمیشہ کے لیے تمہیں اپنے ساتھ لیجانے کے لیے”
خدا حافظ’
رامین کا ہاتھ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
رامین حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
وہ دروازے کے پاس پہنچ کر واپس پلٹا۔
آنکھوں پر گلاسز دوبارہ پہن چکا تھا۔
رامین بھی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی’وہ مسکرایا۔
اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ چلا گیا تو رامین اپنے ہاتھ کو تکنے لگی’جو اس نے اپنے ہونٹوں سے چھوا تھا۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا’تو کیا واقعی وہ سارے حق حاصل کر چکا ہے؟
کیا میں نے واقعی ہی اپنی زندگی اس کے نام کردی ہے۔
رامین حیرتوں کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔
تب ہی اماں ابا واپس کمرے میں داخل ہوئے۔
اماں نے رامین کو گلے لگا لیا۔
بہت بہت مبارک ہو میری بیٹی کو’وہ رامین کا ماتھا چومتے ہوئے بولی۔
ابا نے بھی رامین کے سر پر ہاتھ رکھا۔
رامین نے نظریں اٹھا کر دونوں کی طرف دیکھا۔
ان کے چہرے کی چمک سے لگ رہا تھا’کہ بہت خوش ہیں وہ دونوں۔
کیا ہوا رامین تم خوش نہی ہو بیٹا؟
اماں نے گم سم سی بیٹھی رامین کو دیکھا تو پریشان ہو گئی۔
اماں آپ دونوں خوش ہیں نا’تو میں بھی خوش ہوں۔
میرے لیے آپ دونوں کی خوشی بہت عزیز ہے۔
آپ کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔
رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
وہ دونوں بھی مسکرا دئیے’وہ جانتے تھے ان کی بیٹی کو ان کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہی ہو گا۔
بہت تھک گئی ہوں اماں کمرے میں جا رہی ہوں۔
رامین مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں جاتے ہی چادر اتار کر سائیڈ پر رکھی۔
بیڈ پر گر سی گئی’زندگی ایسے رُخ موڑے گی۔
اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اماں ابا کو بتانا چاہتی تھی’کہ وہ خوش نہی ہے۔
اس رشتے سے’جس سے رشتہ جڑا ہے اس سے۔
مگر اس کی بات دل میں ہی رہ گئی۔
ہونٹوں تک نا لا سکی وہ یہ بات۔
ان کے خوشی سے چمکتے چہروں کی خوشی بہت اہم تھی اس کے لیے۔
ان کی خوشی کے لیے وہ اس زہر کا گھونٹ پینے کو تیار تھی۔
ابھی ابھی تو اس کے دل میں پرنس کی محبت نے جنم لیا تھا۔
اور اب اس پر حکم صادر ہو چکا تھا’پرنس کو بھولنے کا۔
ہاں مجھے بھولنا ہی ہو گا پرنس کو۔
اسی میں بھلائی ہے۔
مجھے بھلانا ہی ہو گا اسے’رامین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو چکے تھے۔
________________________________________
صلہ کی آنکھ روشنی کی آواز پر کھلی۔
وہ چلا رہی تھی’صلہ باجی اٹھ جائیں۔
صلہ کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
بہ مشکل اس نے آنکھیں کھولیں۔
دونوں ہاتھوں سے سر کو تھامے اٹھ بیٹھی۔
کیوں چلا رہی ہو روشنی؟
صلہ بے زاری سے بولی۔
صلہ باجی آپ کے بابا کو کچھ ہو گیا ہے۔
کیا۔۔۔؟
کیا ہوا بابا کو’صلہ چلائی۔
اور جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی۔
کہاں ہیں بابا؟
وہ چلاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
روشنی بھی اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل آئی۔
صلہ باجی وہ آپ کی ماما ہاسپٹل لے کر گئیں ہیں ان کو۔
کیا ماما اکیلی کیسے چلی گئیں ہاسپٹل۔
تم نے مجھے جگایا کیوں نہی۔
صلہ اپنا فون ڈھونڈتے ہوئے بولی۔
وہ ایمبولینس منگوا دی تھی میں نے۔
اور آپ کو بہت دیر سے جگانے کی کوشش کر رہی ہوں میں۔
مگر آپ کو تو ہوش ہی نہی آ رہا تھا۔
آپ کل رات سے بے ہوش پڑی ہیں۔
رات کو کوئی لڑکا آپ کو گھر چھوڑنے آیا تھا۔
آپ کے بابا نے دیکھ لیا تھا۔
اس نے آپ کو بازووں میں اٹھا رکھا تھا۔
آپ کے بابا بہت غصے میں لگ رہے تھے۔
وہ آپ کو کمرے میں چھوڑ کر’مجھے آپ کے پاس بٹھا کر چلا گیا۔
صلہ کے دماغ میں دھماکا سا ہوا’اور رات کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
احتسام وہی تھا کوٹھے پر۔
جب وہ ناچ رہی تھی’وہ لمحہ بہت ازیت ناک تھا اس کے لیے۔
احتسام کی نظریں اسی پر جم سی گئیں تھیں۔
اس کی نظروں میں کچھ تو تھا’جو صلہ کے قدم ڈگمگائے تھے۔
اس کی نظر ساتھ بیٹھے احتسام کے باس پر پڑی’تو سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا۔
صلہ نے ایک کڑوی نگاہ اس پر ڈالی۔
بدلہ لیا تھا’اس نے کسی بات کا۔
سب سمجھ چکی تھی وہ۔
احتسام کی نظریں برداشت نا کر سکی وہ’آگے بڑھ کر بوتل اٹھائی اور منہ کو لگا گئی۔
اس کے بعد اس نے احتسام کو جاتے ہوئے دیکھا۔
وہ جاتے ہوئے رکا تھا’پلٹا تھا صلہ کی طرف۔
مگر اس کے بعد اسے کچھ یاد نہی۔
صلہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے وہی صوفے پر بیٹھ گئی۔
تو احتسام کو سب پتہ چل گیا’کہ میں طوائف ہوں۔
اب وہ مجھے کبھی نہی اپنائے گا۔
صلہ کے سر میں درد کی شدید لہر سی اٹھی’وہ درد سے چلائی۔
روشنی جلدی سے اس کے لیے پانی لے آئی۔
روشنی پین کلر لاو میرے لیے جلدی’صلہ پانی کا گلاس تھامتے ہوئے بولی۔
لیکن صلہ باجی آپ نے کچھ کھایا نہی ابھی تک’پہلے کچھ کھا لیں۔
روشنی فکر مندی سے بولی۔
نہی روشنی مجھے کچھ نہی کھانا’تم بس پین کلر لا دو۔
اور میرے کمرے سے بیگ لے آو میرا جلدی۔
روشنی جلدی سے کچن کی طرف بڑھی۔
پین کلر لا کر صلہ کو دی’اور اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی بیگ لینے۔
صلہ نے جلدی سے ٹیبلیٹ پانی کے ساتھ نگل لی۔
روشنی بیگ لے کر آئی تو صلہ جلدی سے بیگ اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
صلہ باجی میں بھی چلتی ہوں ساتھ’مجھے پتہ ہے کونسے ہاسپٹل لے کر گئے ہیں ان کو۔
ہاں ٹھیک ہے گیٹ کھولو جلدی۔
روشنی نے گیٹ کھولا تو صلہ نے گاڑی گھر سے باہر نکالی۔
روشنی جلدی سے گیٹ بند کرتے ہوئے گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔
صلہ نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
ہاسپٹل پہنچ کر صلہ جلدی سے ایمرجنسی کی طرف بڑھی۔
ایمرجنسی وارڈ کے باہر ہی اسے ماما کھڑِی ہوئی نظر آ گئیں۔
صلہ جلدی سے ان کی طرف بڑھی’بابا کہاں ہیں ماما۔
انہوں نے ایک نظر صلہ کے حلیے پر ڈالی’اور اس کے گلے لگ گئیں۔
ہارٹ اٹیک ہوا ہے تمہارے بابا کو’وہ روتے ہوئے بولیں۔
ہارٹ اٹیک کا نام سنتے ہی صلہ کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔
ماما آپ فکر مت کریں’وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔
آپ بیٹھیں یہاں میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتی ہوں۔
روشنی پانی دو ماما کو’وہ روشنی سے کہتی آئی سی یو کے دروازے سے باہر آتے ڈاکٹر کی طرف بڑھی۔
بابا کیسے ہیں اب’کیا میں ان سے بات کر سکتی ہوں۔
آپ کس پیشنٹ کی بات کر رہی ہیں’ڈاکٹر نے صلہ کے حلیے پر نظر ڈالی۔
جن کو کچھ دیر پہلے ہارٹ اٹیک ہوا ہے’صلہ جلدی سے بولی۔
اچھا۔۔بیڈ نمبر چار کی بات کر رہی ہیں آپ’ان کی حالت بہت خراب ہے۔
ابھی کچھ نہی کہہ سکتے ہم’ویسے ایسا کیا ہوا آپ کے گھر۔
جو ان کو اتنا شدید اٹیک ہوا ہے؟
صلہ رو رہی تھی’اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
مجھے نہی پتہ’بابا کو کیا ہوا ہے۔
آپ کے ساتھ کوئی میل نہی ہے؟
بہتر ہو گا آپ اپنے گھر سے کسی میل کو بلا لیں۔
آپ اکیلی یہاں کیا کیا کریں گی۔
ہمیں ان کی انجیوگرافی کرنی ہے ابھی۔
جلدی بلا لیں کسی کو’آپ لوگوں کے ساتھ کسی مرد کا ہونا بہت ضروری ہے۔
ایکسکیوزمی۔۔۔ڈاکٹر وہاں سے چل پڑا۔
جبکہ صلہ حیرتوں میں ڈوبی وہیں کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
کس کو بلاوں میں اب یہاں’صلہ کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا۔
پھر کچھ یاد آنے پر تیزی سے اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔
فون نکال کر احتسام کا نمبر ملایا۔
پتہ نہی وہ آئے گا بھی یا نہی؟
میری کال ایکسیپٹ کرے گا بھی یا نہی؟
صلہ کے دماغ میں بہت سے سوال پیدا ہو رہے تھے۔
مگر اس کے پاس اور دوسرا کوئی راستہ نہی تھا۔
وہ فون کر رہی تھی’بیل جا رہی تھی۔
مگر احتسام فون نہی اٹھا رہا تھا۔
احتسام پوری رات سو نہی سکا۔
نماز پڑھ کر آیا تو اس کا فون بج رہا تھا۔
سکرین پر جو نام چمک رہا تھا’اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے کان اٹھا کر کان سے لگا لیا۔
احتسام۔۔۔صلہ کی درد بھری آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
اور اس کا دل تڑپ اٹھا’کیا ہوا صلہ رو کیوں رہی ہو۔
احتسام بے چینی سے بس بولا۔
بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے’صلہ روتے ہوئے بولی۔
کیا؟۔۔احتسام چلایا۔
کونسے ہاسپٹل ہیں وہ’تم رونا بند کرو۔
پریشان مت ہو’میں آ رہا ہوں۔
جلدی سے ہاسپٹل کا ایڈریس سینڈ کرو مجھے۔
صلہ تم فکر نہی کرو’میں آ رہا ہوں۔
ٹھیک ہے۔۔۔صلہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے کال کاٹ دی۔
احتسام کو ہاسپٹل کا ایڈریس سینڈ کر کے پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
صلہ نے محسوس کیا کہ سب لوگ اسے عجیب نظروں سے گھور رہے ہیں۔
صلہ نے جب اپنے حلیے پر نظر ڈالی’تو سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا۔
وہ جلدی جلدی میں کپڑے چینج کیے بغیر ہی ہاسپٹل آ گئی۔
اب کیا کروں میں’ماما اور روشنی کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جاوں گھر۔
وہ وہی بینچ پر بیٹھی احتسام کا انتظار کرنے لگی۔
