Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 23)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
رامین بھاری قدموں کے ساتھ اس کے پاس پہنچی۔
پرنس!
اس نے دبی دبی سی آواز میں پرنس کا نام پکارا۔
پرنس اس کی طرف پلٹا’چاند کی روشنی میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
چہرے پر آج بھی نقاب تھا’سر پر کیپ تھی۔
“کس کے نام کی مہندی سجا رکھی ہے ہاتھوں میں’وہ رامین کے ہاتھوں میں چمکتی مہندی کو دیکھتے ہوئے بولا۔
آواز میں گہرا درد تھا’
پرنس۔۔۔وہ میرا کوئی قصور نہی!
رامین ہکلاتے ہوئے بولی۔
اماں،ابا کی مرضی سے ہوا یہ سب!
اور تم!
“تمہاری کوئی مرضی شامل نہی تھی اس میں’پرنس کی آواز میں کچھ کھونے کا غم تھا۔
میں کچھ نہی کر سکی’
رامین سر جھکائے بولی۔
“شادی بہت بہت مبارک ہو تمہیں’
چلتا ہوں’خوش رہو میری دعا ہے’
اتنی جلدی!
رامین پرنس کا ہاتھ تھام چکی تھی’کچھ دیر اور رُک جائیں۔
ابھی تو آئے ہیں۔
پرنس نے ایک نظر رامین کے مہندی اور گجروں سے سجے ہاتھ میں لپٹے اپنے ہاتھ پر ڈالی۔
اور ایک نظر رامین کے چہرے پر’رامین کی نظروں میں التجا تھی۔
اس نے نرمی سے رامین کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ کیا’
رامین کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے’کبھی یہ شخص اسے اپنا سا لگتا تھا۔
مگر آج اس شخص کی آنکھوں میں اجنبیت کے آثار نظر آ رہے تھے رامین کو۔
“اگر میں کہوں کہ تم رُک جاو!
تو رُک جاو گی’
رامین چونکی پرنس کے سوال پر’مطلب وہ بے ساختہ بولی؟
مطلب یہ کہ میرے ساتھ چلو ہمیشہ کے لیے’سب کچھ چھوڑ کر۔
کر سکو گی ایسا میرے لیے’وہ محبت کا امتحان لے رہا تھا۔
نکاح ہو چکا ہے پرنس!
رامین ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
جانتا ہوں!
نکاح ہو چکا ہے تمہارا’ملک اظہر سے’
میں یہ نکاح ختم بھی کروا سکتا ہوں!
اگر تم میرا ساتھ دو’
چلو میرے ساتھ’وہ رامین کا ہاتھ تھام کر دروازے کی طرف بڑھا۔
کہاں۔۔۔رامین گھبرا گئی؟
نیچے۔۔۔بتا دو اپنے اماں،ابا کو سب کچھ ‘
ان کو بتا دو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو’یہ شادی نہی کرنا چاہتی۔
رامین نے سر نفی میں ہلا دیا’اور پرنس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
نہی میں ایسا نہی کر سکتی’
ان کو دُکھ نہی دے سکتی میں’
پرنس نے اپنے خالی ہاتھ پر نظر ڈالی’جس ہاتھ میں چند لمحے پہلے رامین کا ہاتھ تھا۔
تو کیا تم مجھ سے محبت نہی کرتی رامین؟
پرنس کا لہجہ بہت ٹوٹا سا لگا رامین کو۔
رامین خاموش رہی’کچھ نا بولی۔
کچھ دیر تک وہ رامین کے بولنے کا انتظار کرتا رہا’
جب رامین کچھ نہی بولی تو کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ سوچتے ہوئے پلٹا’
“تمہاری خاموشی نے سب بتا دیا مجھے’تمہیں مجھ سے محبت نہی تھی رامین۔
“محبت تو میں نے کی تھی’تو سزا بھی تو مجھے ہی ملنی تھی۔
“تم نے بے وفائی کی مجھ سے’بے وفا ہو تم’
رامین نے سر نفی میں ہلایا’نہی پرنس۔
بس!
پرنس نے ہاتھ کے اشارے سے رامین کو مزید بولنے سے منع کر دیا۔
اب کچھ کہنے کی ضرورت نہی’سب ختم ہو چکا ہے۔
“میں کوشش کروں گا کہ دوبارہ کبھی تمہارے راستے میں نا آوں۔
میں بس اتنا کہوں گی کہ میں بے وفا نہی ہوں’
کیا جانے سے پہلے میری ایک خواہش پوری کر سکتے ہو’رامین کی آواز میں ایک مان سا تھا۔
کیا خواہش’وہ بنا پلٹے بولا۔
جانے سے پہلے ایک بار آپ کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں میں’
وہ پلٹ کر رامین کی طرف بڑھا’
کبھی نہی!
یہ چہرہ تم کبھی نہی دیکھ سکو گی!
وہ پھر سے کھڑکی کی طرف بڑھ گیا’
میں خواہش کروں گی’مرنے سے پہلے ایک بار یہ چہرہ دیکھ سکوں۔
رامین کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رک گئے’وہ پلٹ کر رامین کی طرف آیا۔
پسٹل نکال کر رامین کے سر پر رکھ دیا’ چاہوں تو تمہاری یہ خواہش ابھی پوری کر دوں۔
مگر نہی میں ایسا نہی کر سکوں گا’جانتی ہو کیوں؟
کیونکہ تم بے وفا ہو رامین!
تمہیں کوئی حق نہی ہے میرا چہرہ دیکھنے کا’
رامین مسکرا دی!
کر دیں میری یہ خواہش ابھی پوری’اگر آپ کو لگتا ہے میں بے وفا ہوں۔
اگر تم بے وفا نا ہوتی تو کبھی یہ نکاح نہی کرتی’پسٹل واپس جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔
“میری مجبوری تھی’اماں،ابا کی عزت کا سوال تھا’رامین نے فوراً جواب دیا۔
“اور میری محبت!
“میری محبت کا کیا رامین؟
“محبت ماں باپ کی عزت سے بڑھ کر نہی ہوتی”
رامین نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔
اگر ماں باپ اولاد کے ساتھ زبردستی کریں’بیٹی کا ہاتھ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دیں جو دولتمند ہو۔
صرف دولت کی خواہش میں بنا جانچ پڑتال کے اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی کے بھی ہاتھ میں رکھ دیں تو؟
کیا تب بھی تمہارا جواب یہی ہو گا؟
پرنس نے رامین کو سوچ میں ڈال دیا’
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں’رامین سوچوں میں ڈوبی بولی۔
رامین میں یہ کہنا چاہتا ہوں بس کہ تم رُک جاو۔
انکار کر دو اس شادی سے’میں تمہاری زندگی برباد ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتا۔
“ہر چمکتی چیز سونا نہی ہوتی”
بلکل اسی طرح ملک اظہر جو نظر آ رہا ہے درحقیقت وہ ویسا ہے نہی’
رامین میری بات مان لو’پلیز میرے ساتھ چلو۔
ملک اظہر بہت خطرناک انسان ہے’تم سمجھ کیوں نہی رہی۔
رامین جھنجلا چکی تھی’ایک طرف اظہر اسے کہہ رہا تھا کہ پرنس سہی انسان نہی ہے’غنڈہ ہے۔
اور دوسری طرف پرنس ہے’اس کا کہنا ہے کہ اظہر سہی انسان نہی ہے۔
کس پر یقین کرے اور کس پر نا کرے’رامین کچھ نہی سمجھ پا رہی تھی۔
دونوں ہی مجھ سے محبت کے دعوٰے دار ہیں۔
لیکن جو بھی ہو اظہر میرے شوہر ہیں اب!
مجھے ان کا ساتھ دینا چاہیے’
“میرے شوہر کے بارے میں ایسی کوئی بھی بات برداشت نہی کروں گی میں۔
مسٹر پرنس!
آپ آئیندہ کچھ بھی بولنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیجیے گا’کہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
یہ میرے ماں باپ کا فیصلہ ہے’اور ماں باپ اپنی اولاد کے لیے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہی کر سکتے۔
پرنس چونکا رامین کے اس اجنبی روئیے پر!
آپ یہاں سے جا سکتے ہیں اب’رامین رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے بولی۔
پرنس نے رامین کو بازو سے کھینچتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
اور گن نکال کر رامین کے سر پر رکھ دی۔
“ابھی ختم کر دوں گا میں تمہیں بھی اور خود کو بھی۔
رامین نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں’اس کا بازو ابھی بھی پرنس کی گرفت میں تھا۔
رامین کے چہرے کی معصومیت’اس کی مہندی کی بھینی بھینی سی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی۔
اس نے ایک جھٹکے میں رامین کا بازو چھوڑا’رامین لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر جا گری۔
مار دیں مجھے’چلا دیں گولی۔
یہی آپ کی اصلیت ہے’مارنا اور مرنا یہ سب تو کھیل ہے آپ کے لیے۔
سہی کہا تھا اظہر نے!
آپ ایک غنڈے ہیں’
میں ہی یقین نہی کر رہی تھی ان کی بات کا’
مگر اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا’
میں شکر ادا کرتی ہوں اللہ کا’
اللہ نے بچا لیا مجھے!
آپ جیسے آوارہ اور غنڈے انسان سے’
جب دل چاہا’جس پر مرضی گولی چلا دی۔
جب دل چاہا کسی کو لوٹ لیا’
یہی ہے نا آپ کی زندگی؟
رامین تلخ لہجے میں بولتی گئی۔
پرنس جہاں کھڑا تھا’وہیں کھڑا رہ گیا۔
ملک اظہر رامین کے دل میں اس کے لیے اتنی نفرت بھر چکا تھا ‘
رامین کے ذہر گھولتے الفاظ’پرنس کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
کیا یہ وہی رامین ہے؟
“اس کو مجھ سے زیادہ ملک اظہر پر یقین ہے’
وہ رامین کی طرف بڑھا’
ہاں یہی ہے میری زندگی!
آوارہ ہوں میں’
غنڈہ بھی ہوں ‘
اور چور بھی ہوں۔۔۔ایک لمحے کے لیے وہ رُکا۔
رامین کو لگا کہ ابھی وہ کہے گا’میں شریف چور ہوں۔
مگر ایسا نہی کہا اس نے’کچھ ٹوٹا تھا۔
پرنس کی آواز میں درد تھا’ہاں وہ پرنس کا دل تھا۔
جو ابھی ٹوٹا ہے’
گولیاں بھی چلاتا ہوں میں مگر’
وہ ایک پل کے لیے رُکا’ رامین کی آنکھوں میں دیکھا۔
مگر میں بے وفا نہی ہوں”
“میری دُعا ہے تم سدا خوش رہو”
میں گزار لوں گا زندگی تمہاری یادوں کے سہارے’
“جب موت آئے گی نا مجھے تب بھی میری آنکھوں کے سامنے جو چہرہ ہو گا وہ تمہارا ہو گا۔
“میری آخری سانس پر بھی تمہارا نام ہو گا’
“میرا دل تمہارے نام پر ہی دھڑکے گا’
“میری ہر سانس میں تمہارا ہی نام ہو گا رامین’
چلتا ہوں!
وہ کھڑکی کی طرف بڑھا’چند پل رُکا۔
مگر پلٹا نہی’
مجھے تم سے نفرت ہے رامین’
بس اتنا ہی بولا’اور کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
رامین تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھی’مگر وہ جا چکا تھا۔
رامین کا چہرہ آنسووں سے تر ہو چکا تھا’وہ وہی کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر سر گھٹنوں میں رکھ کر آنسو بہانےگی۔
“میں بے وفا نہی ہو پرنس!
“میں چاہتی ہوں کہ آپ نفرت کریں مجھ سے۔
نفرت کریں گے تو بھلا سکیں گے مجھے شاید’
مگر محبت کرتے رہے’تو برباد ہو جائیں گے۔
مجھے پورا یقین ہے آپ پر’آپ کی محبت پر۔
مجھے یقین ہے کہ آپ آوارہ نہی ہیں’نہی ہیں آپ غنڈے۔
“آپ شریف چور ہیں بس’
رامین سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہاتے ہوئے بول رہی تھی۔
آج کی رات منا لے جتنا منانا ہے ماتم اے دل!
کل سے نا تو یہ رات ہو گی اور نا ہی غم منانے والے!
ساری رات کھڑکی کے پاس بیٹھے گزار دی رامین نے’
صبح فجر کی نماز پڑھ کر بیڈ پر جا لیٹی!
سر بری طرح چکرا رہا تھا’آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔
مگر دل کا غم تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہا تھا۔
آج رامین کی شادی کا دن تھا’اور اسے اپنے سارے غم’ساری یادیں اسی کمرے میں دفن کر کے جانی تھیں۔
اظہر کو دل سے اپنانا ہے اسے’مگر اس کے دل میں تو پرنس کا قبضہ ہے۔
اس دل کو نکالنا پڑے گا’پرنس کی یادوں کے سمندر سے۔
رامین پرنس کی یادوں کے سمندر میں کھو سی گئی۔
دور کسی ویرانے میں رات کے اندھیرے میں کسی نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
وہ آنکھیں رامین اچھی طرح پہچان سکتی تھی’چہرے پر نقاب نہی تھا۔
مگر آنکھوں کے سوا سارا چہرہ دھندلا سا تھا۔
“میں ہی ہوں تمہارا پرنس’تمہارا شریف چور’
پرنس مسکراتے ہوئے بولا’
یہ آواز رامین کو پاگل کر رہی تھی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ان آنکھوں کو چھونا چاہا’مگر اس کا ہاتھ روک دیا گیا۔
چہرے سے مسکراہٹ ختم ہوئی’سکڑتی آنکھوں میں ہنسی کی جگہ نفرت نے لے لی۔
تمہیں کوئی حق نہی میرا چہرہ دیکھنے کا’
تم بے وفا ہو”
” رامین تم بے وفا ہو’نفرت کرتا ہوں میں تم سے”
رامین کا ہاتھ چھوڑ کر وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔
رامین بے بس سی اسے دور جاتے دیکھ رہی تھی۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندھیرے میں کہیں غائب ہو گیا۔
رامین کی آنکھ کھل گئی’وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔
پرنس۔۔۔اس کے لبوں سے یہ نام آزاد ہوا۔
وہ پھر سے رونے لگی’
چہرہ پسینے اور آنسووں سے تر ہو چکا تھا۔
تب ہی اس کی نظر فون پر پڑی’فون کی رِنگ ٹون بج رہی تھی!
رِنگ ٹون مسلسل بج رہی تھی’رامین نے نمبر دیکھا تو اظہر کا تھا۔
رامین نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور خود کو ریلیکس کرتے ہوئے کال پِک کر لی۔
رامین کہاں بزی ہو؟
کب سے فون کر رہا ہوں’اظہر پریشانی سے بولا۔
وہ رات کو دیر تک جاگتی رہی’صبح آنکھ لگ گئی نماز پڑھنے کے بعد۔
پتہ ہی نہی چلا’
فون کی آواز پر آنکھ کھلی میری ابھی’
رامین نے بہانہ بنانا چاہا’
تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے’تم روئی ہو رامین؟
اظہر کے سوال پر رامین چونکی!
ننہی تو’وہ کولڈ ڈرنک پی لی تھی کل شاید اسی وجہ سے گلہ خراب ہو گیا۔
اوہو۔۔۔تم اپنا بلکل خیال نہی رکھتی ہو رامین’
اب ٹائم دیکھو کیا ہو رہا ہے’تم اب اٹھی ہو مطلب تم نے ناشتہ بھی نہی کیا ابھی تک؟
ویِری سیڈ!
اٹھو جلدی سے فریش ہو کر ناشتہ کرو’
پھر گاڑی بھیج رہا ہوں میں’پارلر جانا ہے تمہیں۔
مام کب سے فون کر رہی تھیں تمہیں’وہ پہنچ جائیں گی۔
‘تم گاڑی میں چلی جانا’مام وہاں آ جائیں گی۔
گھبرانے کی ضرورت نہی ہے’ماما تھوڑی لیٹ ہو سکتی ہیں۔
ڈرائیور باہر ہی ویٹ کرے گا’ماما تمہیں ساتھ لے کر ہال پہنچیں گی۔
جی ٹھیک ہے’رامین نے مختصر جواب دے کر فون بند کر دیا۔
________________________________________
قل خوانی کے ختم کے بعد سب محلے والے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔
احتسام کی فیملی ابھی یہیں پر تھی۔
احتسام کی امی’صلہ اور اس کی ماما کو تسلیاں دیتے ہوئے گھر واپس آ گئیں۔
احتسام ان کو واپس گھر چھوڑ کر دوبارہ صلہ کے گھر کی طرف نکل پڑا۔
وہ صلہ سے بات کرنا چاہتا تھا’مگر مہمانوں کی وجہ سے اس کی بات ہی نہی ہو پائی۔
اور پھر رانیہ کی وجہ سے بھی محتاط ہو چکا تھا وہ’
صلہ کی ماما سو رہی دوائیوں کے زیرِاثر’روشنی ان کے کمرے میں ہی تھی۔
احتسام ایک نظر ان کے کمرے میں ڈالتے ہوئے صلہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ کمرے میں اندھیرا کیے کھڑکی کے پاس کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔
اس کے ہاتھ میں فون جگمگا رہا تھا’
کمرے کی لائٹ آن ہونے پر وہ نہی چونکی!
بند رہنے دو یہ لائٹ’ان روشنیوں سے کوئی فرق نہی پڑتا۔
اب زندگی میں جو اندھیرے چھا گئے ہیں۔
“ان روشنیوں سے زندگی میں چھائے اندھیرے ختم نہی ہو سکتے’
وہ احتسام کی آہٹ پہچان چکی تھی’بنا پلٹے بولی۔
احتسام دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے پاس پہنچا’
“زندگی میں چھائے اندھیروں کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
روشنی کی نئی کرنیں نئی امید پیدا کرتی ہیں’
کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی رُک نہی جاتی صلہ’
جانتا ہوں تمہارا نقصان بہت بڑا ہے’مگر اپنے ساتھ جڑے رشتوں کے بارے میں تو سوچو۔
ان کا بھی نقصان ہوا ہے’مگر ان کی امیدیں تم سے جڑی ہیں۔
اپنی ماما کا اور روشنی کا سوچو!
ان کا تمہارے سوا کون ہے اس دنیا میں’
“رونے سے کچھ حاصل نہی ہوتا’بس تکلیف ہی ہوتی ہے۔
خود کو مظبوط بناو’اتنے غم ڈٹ کر سہہ جانے والی لڑکی اب کیسے کمزور پڑ سکتی ہے۔
“یہی اللہ کی مرضی تھی۔
“ہر انسان اتنا ہی جیتا ہے جتنا اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔
قسمت کے لکھے سے زیادہ کوئی ایک منٹ بھی نہی جی سکتا۔
“یہ زندگی تو اللہ کی امانت ہے”
ہمیں اسی کے پاس واپس جانا ہے’بس کسی کا جلدی جانا طے ہے۔
اور کسی کا دیر سے جانا طے ہے’
صلہ کے فون کی رِنگ ٹون پھر سے بجی!
صلہ نے فون سائیڈ پر رکھ دیا کال کاٹ کر۔
مگر فون کرنے والا بہت ڈھیٹ تھا’صلہ کے بار بار فون کاٹنے پر بھی اس پر کوئی اثر نہی پڑا تھا۔
کس کا فون ہے’اٹھا کیوں نہی رہی؟
احتسام صلہ کے بار بار فون کاٹنے پر بول پڑا۔
کسی کا نہی!
صلہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
احتسام نے صلہ کے ہاتھ سے فون پکڑا’سامنے روبینہ بائی کا نام جگمگا رہا تھا۔
صلہ نظریں جھکا گئی’
احتسام کی آنکھیں غصے سے سکڑیں۔
اس نے کال اٹھا کر فون کان سے لگا لیا’
کیا ہوا میری رانی چھوکرا مل گیا تو بھول گئی ہمیں۔
روبینہ بائی کی نخوست بھری آواز احتسام کے کانوں میں پڑی۔
تو حُکم تو کر رانی’ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت امیر چھوکروں کی لائن لگا دوں گی تیرے لیے۔
چھوڑ اس کو اور واپس آ جا’
مہمان انتظار کر رہے ہیں’
“وہ چھوکرا تیری ماں کا علاج نہی کروا سکے گا’اور اپنے باپ کا سوچ اس کی دوائیوں کا خرچہ کہاں سے اٹھائے گی تو!
اور مکان کا کرایہ’اگر دو ماہ کرایہ ادا نا کیا تو نے’تو مالک مکان تیرا بوری بستر اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دے گا۔
اسی لیے سمجھا رہی ہوں واپس آ جا’ابھی بھی وقت ہے۔
بعد میں میرے سامنے ہاتھ مت پھیلانا’میں کوئی مدد نہی کروں گی پھر تیری!
کچھ نہی رکھا اس پیار محبت میں’کچھ دن تک اس کے سر سے محبت کا بھوت اتر جائے گا۔
پھر چھوڑ دے گا وہ تجھے تنہا!
احتسام نے ظبط سے مٹھیاں بھینچی!
بس۔۔۔!
وہ چلایا’خبردار جو اب صلہ کے بارے میں ایک اور لفظ بھی منہ سے نکالا’تو مجھ سے بُرا کوئی نہی ہو گا۔
صلہ اب کوٹھے پر نہی آئے گی’
“ابھی میں زندہ ہوں!
جب تک میں زندہ ہوں’صلہ کو اس دلدل میں واپس نہی جانے دوں گا۔
آپ جیسی عورتیں معصوم لڑکیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں گناہوں کے اس دلدل میں دھکیل جاتی ہیں۔
مگر اب اور نہی!
صلہ کی ضروریات میں پوری کر سکتا ہوں’
صلہ اب میری زمہ داری ہے’
دوبارہ یہاں فون کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت’ورنہ انجام کی زمہ دار آپ خود ہو گی۔
اور آپ کی انفارمیشن کے لیے بتا دوں’صلہ کے بابا کا انتقال ہو چکا ہے۔
اوہ۔۔۔یہ تو بہت بُرا ہوا’
“اللہ صبر دے صلہ کو’
ویسے تو نے ٹھیک نہی کیا چھوکرے!
خیر اگر ساتھ نبھانے کا سوچ ہی لیا ہے تو آخری سانس تک سانس نبھانا۔
بس اتنا کہتے ہوئے روبینہ بائی نے فون بند کر دیا۔
صلہ بس حیران سی کھڑی احتسام کو دیکھ رہی تھی۔
احتسام نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
اور صلہ کے سامنے آ رُکا’
اگر یہ دوبارہ فون کریں تو مجھے بتا دینا!
“میرے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی تمہیں’
“میں تمہارے ساتھ ہو’
سو جاو اب تم’میں کل شام کو آوں گا۔
“اپنا خیال رکھنا!
احتسام صلہ کو حیران کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اگلی صبح احتسام آفس گیا اور باس کے کمرے میں داخل ہوا۔
ارے واہ بھئی کہاں گُم ہو گئے تھے تم؟
لڑکی مل گئی تو یہ بھی بھول گئے کہ دفتر جانا ہے۔
لگتا ہے اب ہوش آیا ہے تمہیں!
باس نخوست سے مسکراتے ہوئے بولا!
ویسے کیا لگتی ہے وہ لڑکی تمہاری!
تمہارے لیے اتنی بڑی قربانی دی اس نے’پانچ لاکھ کی رقم کا انتظام چند منٹوں میں کر دیا اس نے۔
احتسام بس مٹھیاں بھینچے ظبط کیے سُن رہا تھا۔
بہت اچھا بدلہ لیا میں نے اس سے’ویسے تو کبھی بات بھی نہی کرتی تھی مجھ سے۔
جب کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو ناکامی ہاتھ لگتی۔
اور تم!
باس غصے سے اٹھ کھڑا ہوا!
تمہاری خاطر وہ میرے آفس تک آ گئی’ایک معمولی سے ایمپلائے کے لیے۔
اور میں اتنی بڑی کمپنی کا مالک’مجھے ٹھکرایا اس نے’
جب اس نے تمہارے لیے مجھے چیک سائن کر کے دیا’اور یہ بات تم سے چھپانے کو بولی۔
اُسی دن میں سمجھ گیا کہ تمہارا اس سے کوئی خاص رشتہ ہے۔
میں نے بدلے میں اس سے کوٹھے پر آنے کی ڈیل کی’اور اس نے ہاں کر دی۔
پھر میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر گیا’کیونکہ تم اس کی سچائی سے انجان تھے۔
اور دیکھو’اس دن میں نے اس کو ہارتے ہوئے دیکھا۔
بہت سکون محسوس ہوا اس دن مجھے’اس کو تمہارے لیے تڑپتا دیکھ کر۔
میرا بدلہ پورا ہوا!
ویسے ناچتی بہت کمال ہے وہ!
جاوں گا دوبارہ جلدی کوٹھے پر’اس کی ٹوٹی ہوئی اکڑ دیکھنے’
اگر چاہو تو تمہیں بھی ساتھ لے چلوں گا’وہ نخوست بھری ہنسی سجائے آنکھ دباتے ہوئے بولا۔
اب تم بتاو کیوں آئے ہو یہاں؟
باس اپنی بات ختم کرتے ہوئے واپس کرسی پر بیٹھ گیا۔
احتسام نے ظبط سے مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں’وہ تیزی سے باس کی طرف بڑھا۔
اور گریبان سے کھینچتے ہوئے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
میری ہونے والی بیوی ہے وہ’احتسام چلایا۔
خبردار!
خبردار’جو دوبارہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا سوچا بھی آنکھیں نوچ لوں گا میں۔
بس اتنا کہتے ہوئے اسے چھوڑ کر آفس سے باہر نکل گیا۔
ریزائِننگ لیٹر مینجر کے پاس پھینکتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔
باس کو غصہ نہی آیا’بلکہ وہ تو انجوائے کر رہا تھا احتسام کی حالت کو۔
احتسام دوبارہ آفس نہی گیا’گھر پر اس نے یہ بتایا کہ ہانیہ کی شادی کے لیے چھٹیاں لی ہیں۔
مینِجر کی کال آئی تھی اسے’احتسام تم نے پانچ لاکھ کا قرضہ لیا ہے۔
تم اس طرح جاب چھوڑ کر نہی جا سکتے’تم پر پولیس کیس بن سکتا ہے۔
مگر احتسام پر کسی بات کا اثر نہی ہوا’
ہانیہ کی شادی کی تیاریوں میں بہت مصروف ہو چکا تھا وہ۔
صلہ سے ملنے چلا جاتا تھا کبھی کبھی’یا پھر فون پر بات کر لیتا تھا۔
ہانیہ کی شادی پر انوائٹ کیا اس نے صلہ کو مگر وہ امی کی طبیعت کا بہانہ بنا کر نہی گئی۔
احتسام کی امی خود گئی ان کے گھر ان کو انوائٹ کرنے’وقت مناسب تو نہی تھا۔
مگر اب کچھ کر نہی سکتے تھے’احتسام کی پھوپھو کہاں ڈیٹ بڑھانے والی تھیں شادی کی۔
احتسام کا دل تو نہی چاہ رہا تھا صلہ کو اس حال میں اکیلا چھوڑنے کا مگر کیا کرتا۔
ساری تیاریاں اسے ہی تو کرنی تھیں’آخر کار شادی کا دن بھی آن پہنچا۔
ہانیہ کی رخصتی خیریت سے ہو گئی’وہ پیا گھر سدھا گئی۔
اب رانیہ اور امی گھر ہوتے’احتسام دن بھر کہی باہر چلا جاتا۔
اور شام کو واپس گھر آ جاتا’گھر والوں کو یہی ظاہر ہوتا کہ وہ آفس گیا ہے۔
مگر آخر کب تک یہ بات چھپائے گا وہ گھر والوں سے۔
صلہ کے بابا کو گزرے ایک مہینہ ہونے والا تھا۔
احتسام ابھی سونے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ فون بجنا شروع ہو گیا۔
صلہ کی کال تھی’احتسام نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔
بھائی آپ جلدی سے آ جائیں صلہ آپی کی ماما کو کچھ ہو گیا ہے۔
صلہ آپی بہت رو رہی ہیں’روشنی روتے ہوئے بول رہی تھی۔
میں آ رہا ہوں روشنی تم فکر مت کرو!
احتسام فون بند کرتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف دوڑا۔
بائیک نکال کر جلدی سے صلہ کے گھر پہنچا’
صلہ بیڈ پر بیٹھی اپنی ماما کا ہاتھ تھامے رو رہی تھی۔
احتسام کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔
احتسام جلدی سے آگے بڑھا’ان کی نبض چیک کی’نبض تھم چکی تھی۔
دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی’ان کا ٹھنڈا ہاتھ احتسام کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
صلہ پر ایک اور قیامت ٹوٹی تھی’اس کی ماما بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
احتسام نے جلدی سے امی کو فون کر کے یہاں بلایا۔
وہ رانیہ کو ساتھ لیے یہاں آ گئیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے سارے محلے میں یہ خبر پھیل گئی۔
ابھی باپ کو گزرے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ماں بھی رخصت ہو گئی۔
بے چاری جوان بچیاں یتیم ہو گئیں’محلے کی عورتیں میت کے اردگر بیٹھی افسوس کا اظہار کر رہی تھیں۔
احتسام کو آج پھر سے سب کچھ سنبھالنا تھا۔
صلہ اب رو نہی رہی تھی’وہ تو بس بت بنی اپنی ماما کو دیکھی جا رہی تھی۔
روشنی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا اپنا’
آخر کار اگلی صبح میت کو اپنی آخری منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
صلہ بس صدمے کی حالت میں بیٹھی اپنی ماما کو جاتا دیکھ رہی تھی۔
وہ نا تو کچھ بول رہی تھی’اور نا ہی رو رہی تھی۔
آخر کار وہ وہی فرش پر ڈھے سی گئی۔
بہت دیر تک اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔
مگر وہ ہوش میں نہی آ سکی’
احتسام جیسے ہی گھر واپس آیا جلدی سے صلہ کو لے کر ہاسپٹل پہنچا۔
رانیہ اور امی روشنی کے پاس ہی تھیں۔
ہاسپٹل پہنچا تو صلہ کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا۔
ان کو کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہے’اس حالت میں ان کا بے ہوش ہونا خطرے سے خالی نہی ہے۔
اگر ان کو چوبیس گھنٹوں تک ہوش آ گیا تو ٹھیک ورنہ یہ کومہ میں بھی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر بس اتنا بول کر وہاں سے چلا گیا’جبکہ احتسام وہی کھڑا رہ گیا۔
کومہ کے نام پر اس کا دل کانپ اٹھا۔
وہ وہی بینچ پر بیٹھ گیا۔
نہی صلہ’تم ایسے مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتی۔
احتسام ڈاکٹر کی اجازت سے صلہ کے پاس جا بیٹھا۔
اس کا ہاتھ تھامے کتنے ہی پل اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
بکھرے بال،پیلی رنگت،آنکھوں پر گہرے حلقے احتسام کا دل تڑپ اٹھا۔
صلہ اٹھ جاو پلیز!
میری خاطر اٹھ جاو’مجھے چھوڑ کر مت جاو۔
ایک اور صدمہ برداشت نہی کر سکوں گا میں’تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہی جا سکتی۔
احتسام کتنے ہی پل اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا۔
نرس نے اسے باہر جانے کو کہا’تو بے دلی سے صلہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے واپس چلا گیا۔
رانیہ بار بار احتسام کو فون کر کے صلہ کا حال پوچھ رہی تھی۔
صبح سے دوپہر ہو چکی تھی’مگر صلہ ابھی تک ہوش و حواس سے بیگانی پڑی تھی۔
آخر کار شام کو صلہ کو ہوش آ ہی گیا’وہ ہوش میں آ تو گئی تھی۔
مگر اس کا رویہ بیگانہ سا تھا’وہ ہوش میں آ کر بھی ہوش میں نہی تھی۔
صلہ کو ہوش آیا تو ڈاکٹر نے گھر جانے کو کہہ دیا۔
وہ نا تو رو رہی تھی’اور نا ہی کوئی بات کر رہی تھی۔
احتسام ڈرائیونگ کرتے ہوئے بار اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
احتسام نے گاڑی سائیڈ پر پارک کی۔
صلہ’اس نے پکارا۔
مگر صلہ نے کوئی جواب نہی دیا۔
احتسام نے اسے کندھے سے ہلایا’تو صلہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔
صلہ تمہاری ماما نہی رہی’تم رو کیوں نہی رہی۔
ہوش میں آو صلہ’احتسام نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
نہی میری ماما کہی نہی گئی’تم جھوٹ بول رہے ہو۔
وہ میرے ساتھ ہیں’
صلہ تم ایسے کیوں بی ہیو کر رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔
ایسے کرنے سے کیا ہو گا’تمہاری ماما اب اس دنیا میں نہی ہیں۔
اس سچائی کو مان لو۔
نہی۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو’صلہ احتسام کو گریبان سے کھنچتے ہوئے بولی۔
میری ماما زندہ ہیں سمجھے تم’وہ احتسام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
آہستہ آہستہ اس کی گرفت ڈھیلی پڑی’اور وہ احتسام کے سینے پر سر رکھ کر آنسو بہانے لگی۔
میری ماما مجھے چھوڑ کر چلی گئیں’بابا بھی چلے گئے۔
میں اکیلی رہ گئی احتسام’
احتسام نے آہستہ سے صلہ کو خود سے الگ گیا’اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔
اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
نہی صلہ تم اکیلی نہی ہو’
“میں ہوں نا تمہارے ساتھ”
“میں وعدہ کرتا ہوں’تمہیں کبھی اکیلا نہی چھوڑوں گا۔
حالات چاہے جیسے بھی ہو’کچھ بھی ہو جائے میں تمہارا ساتھ نہی چھوڑوں گا۔
احتسام نے اپنے آپ سے بھی اور صلہ سے بھی ایک وعدہ کر لیا آج’
چند دن گزر گئے’احتسام امی کو اور رانیہ کو روز صلہ کے پاس چھوڑ دیتا اور شام کو واپس لے جاتا۔
ایک شام احتسام صلہ کے گھر کے باہر پہنچا تو محلے کے چند مرد اس کے گرد گھیرا بنائے کھڑے ہو گئے۔
احتسام نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا۔
کیا رشتہ ہے تمہارا اس گھر سے’ایک آدمی احتسام کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
مطلب؟
احتسام چونکا!
مطلب یہ کہ گھر میں دو جوان لڑکیاں ہیں’اور ان کے سر پر اب کسی محرم کا سایہ نہی ہے۔
ایسے میں تمہارا یہاں آنا جانا ٹھیک نہی ہے۔
محلے دار ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے ان بچیوں کا خیال رکھنا۔
سب باری باری بولتے گئے’اور احتسام حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھتا گیا۔
میں نکاح کرنا چاہتا ہوں صلہ سے ابھی!
کیا آپ لوگ اس نکاح کے گواہ بنیں گے؟
احتسام کی بات پر سب نے حیران نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
ٹھیک ہے’ تم اپنے کسی بڑے کو لے آو ساتھ۔
ہمیں کوئی مسئلہ نہی’بلکہ ہمارے لیے تو بہت بڑی سعادت ہو گی۔
احتسام وہاں سے واپس چلا گیا’
گھر جا کر امی کو ساری صورتحال بتائی۔
وہ بہت خوش ہوئیں اپنے بیٹے کے اس قدم پر۔
ٹھیک ہے احتسام میں تمہارے چاچو اور پھوپھا کو بلوا لیتی ہو۔
ان کا ہمارے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے’ان کے بغیر ہم ایسا کوئی قدم نہی اٹھا سکتے۔
“میں نہی چاہتی کوئی میرے بیٹے کے کردار پر انگلی اٹھائے۔
رانیہ تو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی’
بھائی ہم کب جائیں گے بھابی کو لینے’وہ بہت خوش ہو گی ناں؟
رانیہ کے سوال پر احتسام سوچ میں پڑ گیا’کیاجھے صلہ سے اس کی رضا مندی پوچھنی چاہیے؟
نہی۔۔ابھی میں وہاں نہی جا سکتا’اور فون پر ایسی بات کر نہی سکتا۔
امی سے کہوں گا’نکاح سے پہلے ایک بار صلہ کی رضا مندی جان لیں۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا’بات کرتا ہوں امی سے۔
کچھ دیر بعد احتسام کے چاچو اور پھوپھا جی بھی آ گئے۔
ان کو کوئی اعتراض نہی ہوا اس نکاح سے’
ان کے آنے کے بعد سب لوگ صلہ کے گھر چل پڑے۔
وہان پہنچے وہ لوگ تو’وہ آدمی ابھی بھی باہر کرسیوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
احتسام کو آتے دیکھا تو اس کی طرف بڑھے’اور باقی سب کو سلام کیا۔
بہت اچھا فیصلہ کیا بیٹا’اور آپ لوگوں نے اپنے بیٹے کا ساتھ دے کر بہت بڑی نیکی کمائی ہے۔
ان میں سے ایک آدمی نکاح خواں کو لینے چلا گیا’جبکہ باقی سب لوگ گھر میں چلے گئے۔
روشنی تو حیران ہو گئی اچانک اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر۔
رانیہ جلدی سے صلہ کے کمرے کی طرف بڑھی۔
جا کر صلہ کے گلے لگ گئی’آج میں بہت خوش ہوں’مسکراتے ہوئے بولی۔
صلہ حیران ہوئی رانیہ کی بات پر’کیوں کیا ہوا؟
آج ہم آپ کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں۔
احتسام بھائی کی دلہن بنا کر’اوہ مائی گاڈ۔۔میں کیسے بتاوں آپ کو میں کتنی خوش ہوں۔
احتسام کے نام پر صلہ چونکی!
تب ہی احتسام کی امی کمرے میں داخل ہوئیں صلہ کا ماتھا چومتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
میں اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں تمہیں’اپنے احتسام کی دلہن بنانا چاہتی ہوں۔
احتسام چاہتا تھا کہ ایک بار تم سے پوچھ لوں’بیٹا اس نکاح سے کوئی اعتراض تو نہی تمہیں؟
صلہ سر جھکائے آنسو بہانے لگی’اور سر نفی میں ہلا دیا۔
احتسام کی امی نے صلہ کو گلے سے لگا لیا’اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔
صلہ کو رانیہ کو امی کے کہنے پر ایک بڑی چادر اوڑھا دی۔
ایک طوائف کے سر پر آج عزت کی چادر اوڑھا دی گئی۔
یہ وہی چادر تھی جو احتسام نے ہاسپٹل میں اس کے سر پر اوڑھائی تھی۔
صلہ نے چادر کو مظبوطی سے تھام لیا’جیسے ڈر ہو کہ کہیں کوئی ہوا کا جھونکا اڑا نا لے جائے اس چادر کو۔
کچھ دیر بعد سب لوگ کمرے میں داخل ہوئے نکاح خواں کے ساتھ’سوائے احتسام کے۔
نکاح پڑھایا گیا’صلہ نے بہتے آنسووں کے ساتھ نکاح قبول کیا۔
یہ آنسو خوشی کے تھے یا غم کے’وہ نہی سمجھ پا رہی تھی۔
کانپتے ہاتھوں سے صلہ نے نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔
احتسام کا نام نکاح نامے پر چمکتا ہوا نظر آیا اسے’آنکھیں بند کر کے وہ اس لمحے کو محسوس کرنے لگی۔
کچھ خواب ایسے بھی پورے ہوتے ہیں’اس نے سوچا نہی تھا۔
نکاح کے بعد دعا ہوئی’اور سب نے مبارک باد دیتے ہوئے صلہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کمرے سے باہر نکل گئے’سوائے رانیہ کے۔
اب میں آپ کو بھابی بلا سکتی ہوں نا؟
رانِیہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی’
صلہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
تبھی رانیہ کی نظر دروازے پر کھڑے احتسام پر پڑی۔
بھائی اندر آئیں نا’وہاں کیوں کھڑے ہیں۔
رانیہ احتسام کو بازو سے کھینچتے ہوئے اندر لے آئی’اور صلہ کے ساتھ بٹھا دیا۔
یہاں بیٹھیں بھابی کے پاس’رانیہ کے بھابی کہنے پر احتسام نے چونک کر رانیہ کی طرف دیکھا۔
رانیہ نے کندھے اچکا دئیے’کیا؟
اب تو میں بھابی کہہ سکتی ہوں’ابھی ابھی میرے بھائی سے نکاح ہوا ہے ان کا’رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
آپ دونوں بیٹھیں میں امی کو دیکھ کر آتی ہوں۔
رانیہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
