Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 26)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
سب نے صلہ کی خوب تعریفیں کی۔
اب وہ ان کے گھر کی عزت جو بن چکی ہے۔
وہ کون ہے’کہاں سے آئی ہے۔
اس کا خاندان کہاں ہے’کسی نے کوئی سوال نہی کیا۔
سب کو یہ اطمینان تھا کہ احتسام کے ساتھ پڑھتی تھی۔
احتسام نہی جانتا امی نے چاچو اور پھوپھو سے کیا کہا’اس نے تو بس امی کو کہا کہ آپ بس چاچو اور پھوپھا جی کو بلا لیں۔
انہوں نے بھی کوئی خاص انفارمیشن نہی مانگی’البتہ حیران ضرور ہوئے تھے۔
گڑیا کو صلہ بہت پسند آئی’اور روشنی کو تو سب نے لاڈلی ہی بنا ڈالا۔
سب کا پیار اور توجہ حاصل کر کے روشنی بہت خوش ہوئی۔
زوہیب کی شرارتیں ویسے کی ویسی ہی تھی رانیہ کے ساتھ۔
رانیہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد زوہیب کو ایک عدد گھوری نواز دیتی۔
مگر زوہیب پر اس کی گھوریوں کا کوئی اثر نہی پڑ رہا تھا۔
وہ کسی نا کسی بہانے سے رانیہ کو تنگ کر رہا تھا۔
صلہ بس چپ چاپ بیٹھی ان دونوں کی حرکتیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
مرد حضرات سب ڈرائینگ روم میں بیٹھے گپیں لڑا رہے تھے’سوائے زوہیب کے۔
اور خواتین ٹی وی لاونج میں جمع تھیں۔
گڑیا نے صلہ کے کان میں سرگوشی کی’ان دونوں کی شادی ہونے والی ہے’
ابھی تک یہ دونوں”چوہے،بلی کی طرح لڑتے ہیں۔
پتہ نہی شادی کے بعد ان کا کیا ہو گا۔
گڑِیا کی بات پر صلہ محض مسکرا سکی’
ویسے چچی جان میں تو کہتی ہو کہ اب رانیہ کو بھی رخصت کرنے کی تیاری کر لیں آپ’
گڑِیا کی بات پر زوہیب اور رانیہ نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
زوہیب مسکراتے ہوئے فون کان سے لگائے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
رانیہ بھی روشنی کو ساتھ لیے کچن میں گھس گئی۔
صحیح کہا نا امی میں نے؟
گڑیا اپنی ساس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
چچی جان کے پاس تو اب صلہ آ گئی ہے۔
بلکہ اکیلی صلہ نہی’دو بیٹیاں آ گئی ہیں آپ کی’صلہ اور روشنی۔
اب رانیہ کو ہمیں دے دیں آپ’ویسے بھی میرا دیور بیچارا سوکھ رہا ہے شادی کے انتظار میں۔
گڑیا کی بات پر سب نے ایک ساتھ قہقہ لگایا۔
ہاں بھئی سوچتی ہوں کچھ’کرتی ہوں بات احتسام سے۔
یونہی دیر رات تک سب گپیں لڑاتے رہے’لنچ،ڈنر سب نے یہی کیا آج۔
آخر کار گیارہ بجے سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔
صلہ ابھی تھکی ہاری اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی۔
احتسام شاید کہی بار گیا ہوا تھا۔
روشنی صلہ کے کان کھاتے کھاتے آخر کار تھک کر سو گئی۔
صلہ کو نیند نہی آ رہی تھی’عجیب سی بے چینی نے گھیر رکھا تھا اسے۔
اسے اپنے ماما،بابا کی کمی محسوس ہو رہی تھی شدت سے۔
آنکھوں سے آنسو پھر سے جھلک آئے تھے۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
تب ہی اچانک اس کے کانوں میں احتسام کی آواز پڑی۔
صلہ’احتسام نے آہستہ سے اسے پکارا۔
صلہ پلٹی تو احتسام دروازے کے پاس کھڑا تھا’ہاتھ کے اشارے سے صلہ کو باہر بلایا۔
صلہ جلدی سے آنسو پونچھ کر کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
احتسام اسے چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر کھڑا نظر آ گیا۔
صلہ بھی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی’احتسام نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
صلہ نے مسکراتے ہوئے احتسام کا ہاتھ تھام لیا’اور دونوں چھت کی طرف بڑھ گئے۔
چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
‘احتسام صلہ کو ساتھ لیے لے چھت پر رکھے جھولے کی طرف بڑھ گیا۔
دونوں جھولے پر بیٹھ گئے۔
چاند کی چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔
تیز ہوا سے صلہ کے بال اڑ کر بار بار اس کے چہرے کو چھو رہے تھے۔
وہ بار بار اپنے بال کانوں کے پیچھے سمیٹ رہی تھی۔
احتسام کو یہ منظر بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
“کاش ٹہر جائے یہ رات’
تیری زلفوں کے سائے میں’
یہ ہوائیں بھی تیری دیوانی سی لگتی ہیں’
جو گزرتی ہیں یہ تجھے چھو کر۔
تو یہ منظر ان آنکھوں کو پیارا لگے،،
احتسام مدھم لہجے میں بولتا صلہ کے دل کی دھڑکن بڑھا گیا۔
صلہ نے مسکراتے ہوئے احتسام کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
کیوں بلایا ہے آپ نے مجھے؟
اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا’صلہ احتسام کے کندھے پر سر ٹکائے بولی۔
صلہ کا ہاتھ ابھی بھی احتسام کی گرفت میں تھا۔
احتسام مسکرا دیا’کوئی دیکھ بھی لے گا تو کچھ نہی کہے گا۔
بس یہی سوچے گا کہ احتسام اپنی بیوی کے ساتھ ہے۔
کون کیا سوچے گا اس کی پرواہ نہی ہے مجھے’میں اپنی بیوی کے ساتھ ہوں۔
ہر بات کا جواب ہوتا ہے آپ کے پاس صلہ مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں یہ تو ہے’احتسام بھی مسکرا دیا۔
صلہ اصل میں مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے۔
دراصل بات یہ ہے کہ میں وہ جاب چھوڑ چکا ہوں۔
اس وقت میں جاب لیس ہوں۔
لیکن گھر میں یہ بات کسی کو نہی پتہ۔
میں یہ بات صرف تم سے شئیر کر رہا ہوں۔
تم بھی یہ بات اپنے تک ہی رکھنا۔
دو تین کمپنیز میں اپلائے کیا ہے میں نے’جلدی مل جائے گی جاب مجھے۔
لیکن ایک مسئلہ ہے’کل مجھے باس کی طرف سے ایک لیٹر آیا تھا’جس میں یہ لکھا تھا کہ میں ان کے آفس سے جاب نہی چھوڑ سکتا۔
کیونکہ میں نے پانچ لاکھ کا لان لیا ہوا ہے۔
اور کمپنی رولز کے مطابق جب تک میں اپنا لان ادا نا کر دوں۔
میں اس کمپنی کو نہی چھوڑ سکتا۔
اگر میں نے ایسا کیا تو پولیس کیس بن سکتا ہے۔
اسی وجہ سے پریشان ہوں میں’سمجھ نہی آ رہا کیا کروں۔
احتسام نے اپنی پریشانی صلہ کے ساتھ شئیر کر کے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔
آپ کی پریشانی کا حل ہے میرے پاس’صلہ احتسام کے کندھے سے سر اٹھاتے ہوئے بولی۔
وہ کیا؟
احتسام نے حیرانگی سے صلہ کی طرف دیکھا۔
وہ یہ کہ جو پیسے باس نے آپ کو دئیے تھے’وہ میرے پیسے تھے۔
اور اس بات کا ثبوت ہے میرے پاس’کل صبح ہم آفس جائیں گے۔
اور سارا معاملہ کلئیر کر دیں گے۔
ثبوت مطلب؟
میں کچھ سمجھا نہی’اور وہ پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟
احتسام نظریں چرا گیا’مطلب اس نے کوٹھے کی کمائی سے اپنی بہن کی شادی کی۔
ڈونٹ وری!
آپ جیسا سمجھ رہے ہیں ویسا نہی ہے۔
وہ پیسے بابا نے مجھے جمع کروائے تھے’ان کی محنت کی کمائی کے پیسے تھے وہ’
وہ ہر مہینے بیس ہزار دیتے تھے مجھے’میری شادی کے لیے پیسے جوڑ رہے تھے وہ۔
صلہ اداس ہو گئی’میری شادی تو پتہ نہی کب ہوتی’یا پھر شاید ہوتی ہی نا۔
تو میں نے سوچا کیوں نا آپ کی تھوڑی مدد ہی کر دوں۔
اس دن جب میں آپ کے گھر آئی تھی’تو آپ کی اور آنٹی کی ساری باتیں سن لی تھیں میں نے۔
اسی دن میں نے سوچ لیا کہ کسی طرح یہ پیسے آپ تک پہچانے ہو گے۔
پھر میں نے آپ کے آفس جانے کا سوچا’
آپ کو یاد ہو شاید جس دن آپ کو باس نے لان دینے کی اجازت دی تھی۔
اس دن صبح آپ کے آفس میں ایک برقعہ پوش عورت آئی تھی۔
احتسام نے ذہن پر زور ڈالا’ہاں مجھے یاد ہے۔
احتسام چونکا!
تو کیا وہ تم تھی؟
جی۔۔۔صلہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
احتسام کو یہ لڑکی مزید حیرتوں میں دھکیلتی جا رہی تھی۔
اتفاق سے آپ کے باس کو میں بہت بار دیکھ چکی تھی کوٹھے پر۔
اور انہوں نے بھی مجھے پہچاننے میں دیر نہی لگائی۔
میں نے ان کے سامنے پانچ لاکھ کا چیک رکھ دیا۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے چیک تھام لیا’اور بدلے میں کوٹھے پر آنے کی فرمائش کر ڈالی۔
لیکن مجھے یہ نہی پتہ تھا کہ وہ آپ کو بھی ساتھ لے آئے گا۔
جب میں نےآپ کو وہاں دیکھا تو ایسے لگا جیسے وہاں آپ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہی۔
مجھے آپ کی الجھن اور دکھ بھری آنکھوں کا سامنا کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
ایسا لگ رہا تھا’جیسے سب ختم ہو گیا ہو۔
ساری خواہشیں دم توڑ چکی تھیں۔
اور اس دن پہلی بار میں نے شراب کو ہاتھ لگایا۔
درد کی شدت برداشت سے باہر ہو چکی تھی’اب اس درد کو کم کرنے کے لیے کوئی دوا تو چاہیے تھی ناں۔
آپ وہاں سے چل پڑے’مجھے لگا میری زندگی ختم ہو رہی ہے۔
میری سانس ابھی رُک جائے گی۔
مگر جیسے ہی آپ نے میری طرف پلٹ کر دیکھا’تو ایسے لگا جیسے زندگی پھر سے جی اٹھی ہو۔
دل میں امید کی ایک نئی کرن جاگی۔
صلہ احتسام کے کندھے پر سر رکھے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔
احتسام نے صلہ کے گرد اپنے بازو پھیلا دئیے’
“میں تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا تھا’نرمی سے صلہ کے ماتھے کو چھوا۔
جو ہونا تھا وہ ہو چکا’سب بھول جاو۔
اب زندگی میں بس خوشیاں ہی تمہاری منتظر ہیں۔
“میں وعدہ کرتا ہوں اپنی آخری سانس تک تمہارا سانس نبھاوں گا،،
صلہ سر احتسام کے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی۔
کچھ دیر تک دونوں یونہی بیٹھے رہے’احتسام نے صلہ کو پکارا مگر صلہ کچھ نہی بولی۔
احتسام نے صلہ کا گال تھپتپایا تو وہ سو چکی تھی۔
احتسام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔احتسام نے صلہ کو بازوں میں اٹھایا اور نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے کا دروازہ کھولا’اور بنا لائٹ آن کیے کمرے میں داخل ہو گیا۔
صلہ کو بیڈ پر لٹا کر اس پر چادر اوڑھا دی۔
صلہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر مسکراتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کیے باہر نکل گیا۔
صلہ گہری نیند میں تھی’ایسے لگ رہا تھا جیسے کئی راتوں سے سو نا سکی ہوں۔
آج جیسے سکون سا مل گیا ہو اسے’احتسام مسکراتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
صبح صلہ کی آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
اسے یاد آیا کہ وہ رات کو احتسام کے پاس تھی’شاید وہیں سو گئی تھی۔
تو پھر میں کمرے میں کیسے آئی’سوچ کر ہی صلہ کے گال چمک اٹھے۔
وہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی’روشنی بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گئی۔
صلہ نے نماز پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔
اللہ کی بہت شکر گزار تھی وہ کہ اللہ نے اسے احتسام کی صورت میں محبت کرنے والا شوہر عطا کیا۔
روشنی نے بھی نماز پڑھی’اور دل سے صلہ کی خوشیوں کی دعا مانگی۔
روشنی نے نماز پڑھ لی تو دونوں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
رانیہ امی کے ساتھ کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔
روشنی اور صلہ دونوں سلام کرتے ہوئے کچن میں داخل ہوئیں۔
احتسام کی امی نے باری باری دونوں کا ماتھا چوما۔
احتسام بھی ابھی ابھی مسجد سے واپس آیا’سب کی کچن سے آتی آوازیں سن کر کچن میں ہی آ گیا۔
وائٹ شلوار قمیض پہنے’وہ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔
اسلام و علیکم!
مسکراتے ہوئے سب کو مشترکہ سلام کیا۔جب کہ نظریں صلہ پر ہی جمی تھیں۔
صلہ شرما کر نظریں جھکا گئی’رات والی اپنی حرکت سوچ کر وہ احتسام سے نظریں نہی ملا پا رہی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے کچن سے باہر آ گیا۔
پھر واپس پلٹا’
صلہ میرے کپڑے نکال دو آفس کے لیے پلیز!
احتسام کی بات پر صلہ نے چونک کر سب کی طرف دیکھا۔
ہاں بیٹا جاو نکال دو کپڑے احتسام کو’احتسام کی امی مسکراتے ہوئے بولیں۔
پہلے تو آپ اپنے کپڑے خود ہی نکال لیتے تھے بھائی!
بھابی کو آئے ابھی ایک رات ہی ہوئی ہو’اور امی دیکھ رہی ہیں آپ۔
ابھی سے بھائی نے حُکم چلانے شروع کر دئیے بھابی پر’رانیہ کہاں چپ رہنے والی تھی۔
تم چپ رہو’اور آملیٹ پر دھیان دو جل رہا ہے۔
امی نے رانیہ کو ڈانٹا تو احتسام ہنسنے لگا۔
رانیہ نے غصے سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام صلہ کو ساتھ لیے کچن سے باہر نکل گیا۔
روشنی رانیہ کی مدد کروانے لگی’بہت منع کیا رانیہ نے اسے مگر روشنی پر کوئی اثر نہی پڑا۔
صلہ نے احتسام کے کپڑے نکال دئیے’وہ ایک کر کے ساری شرٹس احتسام کو دکھا رہی تھی۔
احتسام سر نفی میں ہلا دیتا’وہ جان بوجھ کر صلہ کو تنگ کر رہا تھا۔
صلہ نے حیرانگی سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام میں ساری شرٹس نکال چکی ہوں’
تو میں کیا کروں’جو شرٹ مجھے چاہیے وہ تو نہی دکھائی تم نے۔
ڈھونڈ کر دو مجھے احتسام ڈھٹائی سے بیڈ پر لیٹ گیا۔
دوسرے کمرے کی چابی دیں مجھے’شاید اس کمرے کی الماری میں رکھی ہو آپ کی شرٹ۔
صلہ کی بات پر احتسام چونک کر اٹھ بیٹھا’کونسا کمرہ؟
احتسام گھبراتے ہوئے بولا’
یہ ساتھ والے کمرے کی بات کر رہی ہوں میں’یہ کمرہ بھی تو آپ کا ہے۔
تو ہو سکتا ہے وہاں پر ہو آپ کی شرٹ جو آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔
نہہی وہاں کوئی شرٹ نہی ہے’میں تو بس ایسے ہی تنگ کر رہا تھا تمہیں۔
لاو ان میں سے کوئی بھی شرٹ دے دو مجھے’
صلہ نے احتسام کے لہجے میں گھبراہٹ اور اس کے چہرے کا بدلتا رنگ واضح محسوس کیا۔
لیکن احتسام کے سامنے اس نے ظاہر نہی کیا۔
مسکراتے ہوئے بلیو شرٹ اور بلیو جینز احتسام کی طرف بڑھا دی۔
احتسام کپڑے صلہ کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
وہ صلہ سے نظریں نہی ملا پا رہا تھا۔
صلہ سمجھ گئی’کچھ تو ہے اس کمرے میں جو احتسام سب سے چھپا رہا ہے۔
صلہ ساری شرٹس دوبارہ الماری میں سیٹ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
احتسام تھوڑی دیر بعد تیار ہو کر نیچے آ گیا۔
مسکراتے ہوئے صلہ کی طرف دیکھا’صلہ بھی مسکرا دی۔
سب نے ایک ساتھ ناشتہ کیا’
صلہ میرے ساتھ چلنا ہو گا تمہیں’وہ امی دراصل صلہ نے جن سے مکان لے رکھا تھا۔
ان کی طرف کچھ پیسے رہتے ہیں صلہ کے’اور چابی بھی واپس کرنی ہے ان کو۔
تو ایسے میں صلہ کا ساتھ جانا بہت ضروری ہے۔
ہاں کوئی بات نہی’جاو صلہ بیٹا تیار ہو جاو۔
صلہ سر ہلاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے باہر آ گئی۔
صلہ آئی تو احتسام اس کو ساتھ لیے خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
احتسام نے گاڑی باہر نکالی’اور صلہ کے پرانے گھر کی طرف موڑ دی۔
مالک مکان کو ساری صورتحال بتائی’اور ان کو چابی واپس کر دی گھر کی۔
کچھ مہینوں تک ایڈوانس واپس کرنے کا بول دیا مالک مکان نے۔
مالک مکان کا گھر کچھ فاصلے پر تھا صلہ کے گھر سے’
صلہ پرانے گھر کے پاس ہی کھڑی تھی’سوچوں میں ڈوبی۔
بہت سی یادیں جڑیں تھیں اس گھر سے مگر اب یہ گھر چھوڑنا’صلہ بہت دکھی ہو رہی تھی۔
احتسام کی نظر دور کھڑی صلہ پڑ پڑی’تو وہ مالک مکان کو خدا حافظ کہتے ہوئے صلہ کی طرف بڑا۔
چلیں’احتسام صلہ کے پاس آ رکا۔
صلہ احتسام کی طرف دیکھ کر مسکرا دی’اور دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
احتسام نے گاڑی آفس کے باہر روک دی’اور صلہ کو ساتھ لیے آفس میں داخل ہوا۔
سب نے حیران کن نظروں سے احتسام اور صلہ کو ساتھ آتے ہوئے دیکھا۔
احتسام صلہ کو ساتھ لیے آفس میں داخل ہو گیا۔
سیکرٹری چلاتی رہی سر آپ ایسے اندر نہی جا سکتے۔
مگر احتسام نے اس کی ایک بات نہی سنی’اور آفس میں داخل ہو گیا۔
باس نے حیرانگی سے احتسام کی طرف دیکھا’اور پھر صلہ پر نظر پڑی تو ایک کڑوی مسکراہٹ اچھالی احتسام کی طرف۔
ارے ارے آئیں جناب تشریف رکھئیے!
باس نخوست سے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔
ہم یہاں بیٹھنے نہی آئے’احتسام نے لیٹر باس کے سامنے ٹیبل پر پھینکا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے احتسام؟
باس غصے سے چلایا’
یہی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا بدتمیزی ہے یہ!
احتسام دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکائے باس کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔
یہ بدتمیزی نہی ہے مسٹر احتسام’تم نے معاہدہ کیا تھا میرے ساتھ پانچ لاکھ لان لیا ہے۔
اور کمپنی رولز کے مطابق جب تک تم پانچ لاکھ واپس نہی کر دیتے’تب تک ریزائن نہی کر سکتے۔
سہی کہا آپ نے یہ کمپنی رولز ہیں’مگر یہ رولز مجھ پر تب لاگو ہوتے ہیں۔
جب یہ پیسے مجھے کمپنی نے دئیے ہو’امید ہے میری بات آپ سمجھ گئے ہو گے سر!
احتسام کا اشارہ صلہ کی طرف تھا۔
اور باس نے احتسام کا اشارہ سمجھ لیا۔
وہ پیسے تمہیں کمپنی نے ہی دئیے تھے’باس ڈھٹائی سے بولا۔
صلہ نے اپنے فون احتسام کو دیا’احتسام نے آڈیو پلے کی۔
جی جی میں نے دے دیا ہے میڈم صلہ آپ کا دیا ہوا پانچ لاکھ احتسام کو۔
“شک تو نہی ہوا احتسام کو”
یہ صلہ کی آواز تھی۔
نہی نہی کوئی شک نہی ہوا احتسام کو آپ بے فکر ہو جائیں’یہ باس کی آواز تھی۔
اور کوئی کام میرے لائق؟
باس نخوست سے بولا’
مگر صلہ نے اس کی بات کا جواب دئیے بغیر ہی کال کاٹ دی۔
باس کے چہرے کے رنگ بدلے’
اب کیا خیال ہے آپ کا سر؟
احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔
“سوچ سمجھ کر بولئے گا پولیس کیس بن سکتا ہے’اور یہ بھی سوچ لیں جب آپ کی فیملی کو پتہ چلے گا کہ آپ کوٹھوں پر جاتے ہیں۔
تو کیا بیتے گی ان پر،،
کیا چاہتے ہو تم؟
باس نہایت غصے میں بولا’
احتسام نے ریزائیننگ لیٹر باس کی طرف بڑھایا۔
اس پر سائن کر دیں’اور میری پچھلے منتھ کی سیلری کا چیک بنا دیں۔
احتسام صلہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا’بدلے میں صلہ بھی مسکرا دی۔
باس نے ایک نظر ان دونوں کے مسکراتے چہروں پر ڈالی۔
غصے سے پین اٹھا کر سائن کر دئیے’اور چیک پھاڑ کر اس پر بھی سائن کر کے احتسام کی طرف بڑھا دیا۔
احتسام نے مسکراتے ہوئے چیک تھام لیا’تھینک یو سر!
دونوں مسکراتے ہوئے آفس سے باہر نکل آئے۔
چلیں؟
احتسام گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا’
کہاں؟
صلہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا’
اپنے گھر۔۔۔اور کہاں احتسام نے مسکراتے ہوئے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔
صلہ مسکرا دی۔
احتسام مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
میں یہ بات نکاح سے پہلے ہی آپ سے کرنا چاہتی تھی مگر موقع ہی نہی ملا۔
ہاں بتاو ناں’کیا بات کرنی ہے۔
احتسام وہ دراصل میں صلہ’
صلہ ابھی بولنے ہی لگی تھی کہ احتسام کا فون۔بجنے لگا۔
احتسام نے گاڑی سائیڈ پر روک دی’اور فون کان سے لگا لیا۔
فون پر بات کرتے ہوئے احتسام بہت خوش لگ رہا تھا۔
فون بند کر کے احتسام صلہ کی طرف مڑا۔
جاب انٹرویو کے لیے کال تھی’ابھی جانا ہے مجھے۔
میں گھر ڈراپ کر دوں تمہیں پھر چلتا ہوں۔
صلہ مسکرا دی’مبارک ہو۔
احتسام بھی مسکرا دیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
تم بہت لکی ہو میرے لیے صلہ’
پچھلے ایک ماہ سے میں جاب کے لیے خوار ہو رہا تھا۔
اور دیکھو تمہارے میرے زندگی میں آنے سے جاب مل گئی مجھے۔
احتسام کی بات پر صلہ کھلکھلا کر ہنس دی’احتسام بھی مسکرا دیا۔
ایسے ہی ہنستی رہا کرو اچھی لگتی ہو’احتسام گھر کے باہر گاڑی پارک کرتے ہوئے بولا۔
گھر آ کر بات کرتا ہوں’احتسام صلہ کا گال تھپتپاتے ہوئے بولا۔
صلہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل گئی۔
احتسام نے ہارن دیا تو رانیہ نے دروازہ کھول دیا۔
صلہ اندر چلی گئی’تو احتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
احتسام کا انٹرویو بہت اچھا ہو گیا’جاب مل گئی اسے۔
اس کی زندگی بہت مصروف ہو گئی تھی۔اس جاب میں ٹائمنگ صبح نو سے رات دس بجے تک تھی۔
سیلری پیکیج اچھا تھا’بس یہی وجہ تھی احتسام نے اس جاب سے انکار نا کر سکا۔
گھر پہنچتے پہنچتے گیارہ بج جاتے احتسام کو’جب گھر آتا تب سب سو چکے ہوتے۔
صبح بھی بس مختصر سی بات ہوتی سب سے پھر سے وہی روٹین۔
دن اسی طرح گزرتے گئے’یہاں کہ احتسام اور صلہ کی مہندی کا دن آ گیا۔
احتسام وائٹ شلوار قمیض پہنے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
صلہ نے بھی وائٹ شلوار قمیض اور ساتھ چنری لے رکھی تھی۔
پھولوں سے بنے زیورات اور ہلکا سا میک اپ’احتسام کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا صلہ کے چہرے سے۔
سب کی نظریں اس خوبصورت جوڑی پر ہی ٹکی تھیں۔
رانیہ اور زوہیب کا آج شام نکاح کر دیا گیا’رخصتی تین ماہ بعد رکھی گئی۔
اب تو زوہیب کو پورا حق مل چکا تھا رانیہ کو تنگ کرنے کا۔
رانیہ زوہیب سے چھپتی چھپاتی چھت پر جا بیٹھی’مہندی کا فنکشن ختم ہو چکا تھا۔
ابھی ابھی سب گھر پہنچے تھے تھکے ہارے۔
صلہ اپنے کمرے میں چلی گئی’بہت تھک چکی تھی وہ۔
کچھ دیر تک سب اپنے گھر واپس چلے گئے۔
رات کافی ہو چکی تھی’سب سو چکے تھے۔
صلہ احتسام کے کمرے کی طرف بڑھی’دروازہ ناک کیا۔
احتسام نے دروازہ کھولا تو سامنے صلہ کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
بیوی کو کب سے ضرورت پڑنے لگی کہ شوہر کے کمرے میں آنے سے پہلے اجازت مانگنی پڑے۔
صلہ مسکرا دی’میں نے سوچا اگر آپ جاگ رہے ہوئے تو دروازہ کھول دیں گے۔
اور اگر سو رہے ہو گے تو نہی کھولیں گے۔
ویسے اتنی رات کو میرے کمرے میں آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی جناب کو۔
احتسام دونوں بازو سینے پر باندھے بولا۔
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ابھی!
ہاں ہاں آو اندر بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں’احتسام دروازے سے پیچھے ہٹا۔
نہی یہاں نہی’
صلہ جلدی سے بول پڑی’
کیوں۔۔۔؟
مجھ پر اعتبار نہی کیا’کوئی شک ہے؟
احتسام شرارت والے انداز میں بولا۔
صلہ مسکرا دی’ایسی کوئی بات نہی۔
ہم چھت پر چلتے ہیں۔
تو ٹھیک ہے چلتے ہیں’احتسام کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے صلہ کا ہاتھ تھامے اوپر کی طرف بڑھا۔
پوری چھت لائیٹوں سے جگمگا رہی تھی’احتسام مسکراتے ہوئے جھولے پر بیٹھ گیا۔
صلہ بھی مسکراتے اس کے پاس بیٹھ گئی’
ہاں جی!
تو اب بتائیں کیا بات کرنی ہے۔
صلہ نے اپنے تیز ہوتی دھڑکن کو محسوس کیا۔
آنکھیں بند کی۔
ایک لمبی سانس لی’اور بولنا شروع کیا۔
احتسام آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ”” میرا اصل نام صلہ نہی رامین ہے””””
میرے نام سے تو واقف ہیں آپ’مگر میں رامین سے صلہ کیسے بنی یہ جاننا بہت ضروری ہے آپ کے لیے۔
میری زندگی کے ایسے بہت سے راز ہیں جن سے آپ واقف نہی ہیں۔
آج میں وہ سارے راز آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔
