Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi NovelR50495 Tu Qadar Naw Jani (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Tu Qadar Naw Jani (Episode 15)
Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi
“رامین کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔
“اسد وہی کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اس کے دیکھنے سے تو ایسا لگ رہا تھا’جیسے اس نے سب دیکھ لیا ہو۔
رامین بری طرح پھنس چکی تھی۔
پہلے اس کو یہ ٹینشن تھی’کہ گھر جا کر اماں کو کیا بتائے گی۔
کیوں اتنی دیر گھر آئی ہے۔
ابھی تک اس کے لیے بہانہ نہی سوچ پا رہی تھی وہ۔
کہ سامنے سے ایک اور ٹینشن کھڑی تھی’اسد کی صورت میں۔
رامین اسد کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے ہی لگی تھی’کہ اس کے کانوں میں اسد کی آواز سنائی دی۔
رامین!
اسد نے اسے پکارا۔
رامین کو نا چاہتے ہوئے بھی رکنا پڑا۔
وہ اسد کی طرف پلٹی’مگر نظریں زمین پر ٹکائے بولی۔۔۔جی۔
“رامین کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی۔
اس کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔
پسینے سے چہرہ تر ہو چکا تھا۔
یہ سوچ سوچ کر کہ اگر اسد نے پوچھ لیا۔
اس گاڑی کے بارے میں تو کیا جواب دوں گی۔
اسد نے رامین کی طرف ایک شاپر بڑھایا۔
جو رامین نے نا سمجھی سے جلدی سے تھام لیا۔
یہ بھی پوچھنا ضروری نہی سمجھا کہ اس میں کیا ہے۔
مجھے کیوں دے رہے ہو۔
گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے لگ رہا تھا’جیسے وہ ہوش میں نہی تھی۔
وہ بس جلد از جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی۔
وہ اس سیچوایشن میں نہی تھی’کہ اسد کے کسی سوال کا جواب دے سکے۔
وہ یہی چاہتی تھی’کہ اسد اس سے کوئی سوال نا کرے۔
اور ایسا ہی ہوا تھا’اسد نے اس سے کوئی سوال نہی کیا۔
“اسد بغیر کوئی سوال کیے وہاں سے چل پڑا۔۔چند قدم چل کر رکا۔
“یہ پرنس نے دیا تھا’تمہارے لیے”
کسی ضروری کام کی وجہ سے وہ نہی آ سکے گا۔
اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم تک پہنچا دوں۔
اسد پلٹا نہی۔۔رخ دوسری طرف موڑے کھڑا بولا۔
اور بس اتنا ہی بول کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
“پرنس کے نام پر رامین ہوش میں آئی”
“پرنس”
“یہ پرنس نے دیا ہے میرے لیے”
“اسد تم کیسے جانتے ہو پرنس کو؟
“تمہیں پرنس نے کب بتایا’کہ وہ مجھے جانتا ہے؟
وہ یہ سب سوال اسد سے پوچھنا چاہتی تھی۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اسد جا چکا تھا۔
اسے حیرانگی کے سمندر میں چھوڑ کر وہ یہاں سے جا چکا تھا۔
رامین کے لیے یہ سب سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
اسد کیسے جانتا ہے پرنس کو؟
“میرا شک درست تھا شاید’اسد ہی پرنس ہے”
میں تو بھول ہی گئی تھی’مجھے اسد کی آنکھیں دیکھنی تھیں۔
مگر میں نہی دیکھ سکی۔
اگر میں تھوڑی سی ہمت کر کے اسد کی آنکھوں میں دیکھ لیتی تو جان لیتی’کہ وہی پرنس ہے یا نہی۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب میرے ساتھ”
اب اس فون کا کیا کروں؟
اماں میرا انتظار کر رہی ہو گی’اور اگر ابھی انہوں نے میرے ہاتھ میں یہ فون دیکھ لیا تو پتہ نہی کیا سوچیں گی وہ۔
مجھے یہ ابھی واپس کر دینا چاہیے’ابھی میں فیکٹری کے نزدیک ہی تو ہوں۔
ہاں یہ ٹھیک ہے’رامین جلدی سے فیکٹری کی طرف بڑھی۔
رحیم چچا!
اس نے جلدی سے پکارا۔
رامین کی آواز پر وہ تیزی سے رامین کی طرف بڑھے۔
کیا ہوا رامین بیٹا’تم گھر نہی گئی ابھی تک یہی ہو؟
سب خیریت تو ہے نا؟
وہ فکر مندی سے بولے۔
جی رحیم چچا یہ فون ہے آپ کے صاحب جی کا’وہ اس دن مجھ سے ٹوٹ گیا تھا نہ؟
رامین نے ان کو یاد دلانے کی کوشش کی۔
ہاں مجھے یاد ہے بیٹا۔
یہ فون ٹھیک کروا دیا ہےمیں نے’ان کا نقصان جو ہوا تھا میری وجہ سے۔
آپ یہ ان کو دے دیجئے گا’میں خود پہنچا دیتی۔
مگر میں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہوں’اسی لیے آپ ان تک پہنچا دیجیے گا۔
لیکن ابا سے اس بات کا ذکر بھول کر بھی مت کرنا آپ’خوامخواہ پریشان ہو جائیں گے وہ۔
اچھا بیٹا میں یہ دے دوں گا ان کو’تم جاو دھیان سے گھر۔
رامین سر ہلاتے ہوئے جلدی سے فیکٹری کا دروازہ پار کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے گھر کی طرف چل دی۔
پرنس کا راز اب بھی راز ہی تھا۔
وہ جو سوچ رہی تھی آج اس راز سے پردہ اٹھا لے گی۔
مگر ایسا ممکن نہی ہو سکا۔
انہی سوچوں میں گم رامین گھر پہنچی۔
اماں اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔
رامین کے پیروں تلے جیسے زمین ہی نکل گئی ہو۔
اماں کو کیا جواب دوں میں’سوچ سوچ کر اس کا حلق تک خشک ہو گیا۔
اماں وہ میں تھوڑا لیٹ ہو گئی’بہ مشکل وہ بس اتنا ہی بول پائی۔
ہاں ہاں جانتی ہوں’تم ثوبیہ کے گھر چلی گئی تھی۔
اسد بتا گیا تھا مجھے’کہ تم ان کی طرف ہو۔
کچھ دیر تک آ جاو گی۔
کوئی بات نہی’تم نے صبح سے کچھ نہی کھایا مجھے بس اس بات کی فکر لگی ہوئی تھی۔
آجاو ہاتھ،منہ دھو کر کھانا کھا لو۔
میں گرم کر کے لا رہی ہوں۔
اماں کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
مگر رامین جہاں کھڑی تھی’وہی کھڑی رہ گئی۔
اسد نے جھوٹ کیوں بولا؟
تو کیا اسد مجھے گاڑی میں بیٹھ کر جاتے دیکھ چکا تھا؟
اس نے اگر مجھے دیکھ لیا تھا تو مجھ سے کچھ پوچھا کیوں نہی؟
اور وہ فون اسد کے پاس کیسے آیا؟
یہ سب کچھ اتفاق نہی ہو سکتا’ایسا کچھ تو ہے۔
جو میری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر نہی آ رہا۔
رامین تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو؟
اماں کی آواز پر رامین چونکی۔
جی اماں’بس جا رہی ہوں۔
رامین جلدی سے ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔
________________________________________
وہ اپنے آفس میں داخل ہوا’کچھ دیر کمرے میں ٹہلتا رہا۔
آخر تھک کر بیٹھ گیا۔
سمجھ نہی آ رہا کچھ بھی کیسے بات کرو ڈیڈ سے۔
اپنی اور رامین کی شادی کی۔
پتہ نہی کیسا ری ایکشن ہو ان کا۔
جو بھی ہو مجھے بات تو کرنی ہی ہے۔
مجھے ہمت کرنی پڑے گی۔
کہی ایسا نا ہو کہ دیر ہو جائے۔
پھر ساری عمر پچھتاتا رہوں میں۔
رامین اچھی لڑکی ہے’اور معصوم بھی۔
بلکل پرفیکٹ ہے میرے لیے۔
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ انہی سوچوں میں گُم بیٹھا تھا’تب ہی دروازہ ناک ہوا۔
کم ان۔۔۔اس نے جواب دیا۔
رحیم اندر آیا۔
صاحب جی یہ آپ کا سامان ہے’رامین بیٹی دے کر گئی ہے۔
انہوں نے وہ شاپر ٹیبل پر رکھ دیا۔
ٹھیک ہے آپ جائیں میں دیکھ لیتا ہوں۔شکریہ
رحیم آفس سے باہر نکل گیا۔
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
جانتا تھا اس میں کیا ہے۔
شاپر کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنا فون باہر نکالا۔
یہ فون تو بس ایک بہانہ تھا۔
دراصل میں تو تم سے جڑے رہنا چاہتا تھا۔
سوچا تھا تم یہ فون ٹھیک نہی کروا سکو گی جلدی’تو بار اسی بہانے سے ملاقات کر سکوں گا۔
“مگر اس پرنس نے سب بگاڑ دیا”
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’جو بھی ہو تم نپٹ لوں گا میں تم سے۔
ڈیڈ سے بات ابھی کرنی ہو گی مجھے۔
کوئی رسک نہی لینا چاہتا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی فیصلہ کر لے’مجھے فیصلہ کرنا پڑے گا۔
وہ اپنا فون اٹھاتے ہوئے اپنے آفس سے باہر نکل گیا۔
اور دروازہ ناک کیے بغیر آفس میں داخل ہو گیا۔
کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
ڈیڈ کیسے ہیں آپ؟
مختصر سا سوال پوچھا گیا۔
ہممم ٹھیک ہوں۔تم کیسے ہو۔
کب بڑے ہو گے تم’کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں جب کسی کے کمرے میں جاو’دروازہ ناک کر کے جایا کرو۔
مگر تم ٹہرے اپنی مرضی کے مالک’کہاں سنتے ہو میری باتیں۔
ان کا لہجہ افسردہ سا تھا۔
ڈیڈ آپ دروازے کی بات دروازے تک ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔
مزید پھیلاو نا پھیلائے آپ۔۔پلیز
اس کی آواز میں بے رخی سی تھی۔
اور یہ کسی کا دروازہ نہی آپ کے کمرے کا دروازہ ہے۔
میرا جب دل چاہے گا’بنا ناک کیے آوں گا میں’اس نے گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھ دئیے۔
وہ پھیکا سا مسکرا دئیے’خیریت تو ہے آجکل گلاسز نہی اتارتے آنکھوں سے۔
جی ڈیڈ۔۔۔آپ تو جانتے ہی ہے کتنی لڑکیاں دیوانی ہیں ان آنکھوں کی۔
اگر آپ کے بیٹے کو نظر لگ گئی تو’اسی لیے میں رسک نہی لیتا۔
گلاسز آنکھوں پر سجائے رکھتا ہوں۔
اس کی بات پر ان کا قہقہ گونجا’ہاں یہ تو ہے۔
اچھا کتنے پیسے چاہیے؟
وہ کام کی بات پر آئے۔
ڈیڈ کیا میں صرف پیسوں کے لیے آتا ہوں آپ کے پاس۔
مجھے پیسے نہی چاہیے’بلکہ کچھ اور چاہیے آپ سے۔
اُمید ہے آپ مجھے خالی ہاتھ نہی موڑیں گے۔
حکم کریں جناب!
آج سے پہلے کبھی کوئی بات’کوئی فرمائش ٹالی ہے میں نے جناب کی۔
بولو کیا چاہیے۔ملک اظہر کے بیٹے ہو تم’اور ملک اظہر کے ہوتے ہوئے تمہاری کوئی خواہش ادھوری نہی رہے گی۔
بولو!
ڈیڈ مجھے صدیق احمد کی بیٹی سے شادی کرنی ہے۔
واٹ۔۔۔۔وہ حیران ہوئے۔
اگر یہ مزاق تھا’تو مجھے زرا پسند نہی آیا۔
وہ ہنستے ہوئے بولے۔
نہی ڈیڈ۔۔یہ مذاق نہی ہے’میں واقعی صدیق احمد کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
تم جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو؟
ملک صاحب کو اپنے بیٹے کی دماغی حالت پر شک ہوا۔
جی ڈیڈ۔۔میں جانتا ہوں’میں کیا کہہ رہا ہوں۔
آپ نے ابھی ابھی کہا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے میری کوئی خواہش ادھوری نہی رہے گی۔
مجھے یقین ہے کہ آپ میری یہ خواہش بھی پوری کر سکتے ہیں۔
وہ پر امید ہو کر بولا۔
تم جس لڑکی سے بھی شادی کرنا چاہو کر لو’مگر وہ ہمارے سٹینڈرڈ کی ہو۔
یہ رشتہ مجھے منظور نہی’لوگ کیا سوچے گا۔
ملک اظہر نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی فیکٹری کے چپڑاسی کی بیٹی سے کر دی۔
لوگ کیا کہیں گے’یہ میں نہی جانتا ڈیڈ۔
“میں بس اتنا جانتا ہوں’کہ میں اس لڑکی سے محبت کرتا ہوں”
اور اسی سے شادی کروں گا۔
آپ کو منظور ہو یا نا ہو’وہ اپنے گلاسز اٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔
رکو تو سہی یار’مجھے منظور ہے یہ رشتہ۔
واپس آو۔
ملک صاحب کی آواز پر وہ پلٹا’اور واپس کرسی پر آ بیٹھا۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں نا ڈیڈ؟
اس نے تصدیق کرنا چاہی۔
ہاں بھئی سچ کہہ رہا ہوں۔
اب یہ بتاو’کب جانا ہے پھر ہمیں اپنی بیٹی کا ہاتھ مانگنے۔
ملک صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔
آج ہی جانا ہو گا ڈیڈ’مام کو کیسے منانا ہے یہ آپ پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔
آپ مام کو لے شام کو تیار رہیں۔پھر چلتے ہیں ہم۔
سب سے مشکل کام مجھے دے دیا تم نے’خود ہی بات کر لو اپنی ماں سے۔
میرے ساتھ پتہ نہی کیا سلوک کرے وہ یہ سب سن کر۔
آپ کی بیوی ہے آپ ہی سنبھالیے ڈیڈ’مجھے دور رکھیں آپ اس معاملے سے۔
ابھی میں چلتا ہوں’شام کو جلدی تیار رہنا پھر آپ۔
گلاسز اٹھاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
اس کے باہر جاتے ہی ملک صاحب نے مینیجر کو کمرے میں بلایا۔
اور اس سے کہا کہ صدیق احمد کو ابھی اس نوکری سے فارغ کر دو۔
________________________________________
رامین بچوں کے پاس بیٹھی ان کو پڑھا رہی تھی۔
تب ہی ابا پریشان سے گھر میں داخل ہوئے۔
ابا آپ اس وقت گھر’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟
رامین فکر مندی سے ان کی طرف بڑھی۔
ہاں بیٹا میری طبیعت تو ٹھیک ہے مگر۔
وہ بولنے سے رک گئے۔
مگر’کیا ہوا ابا۔
آپ کچھ بول کیوں نہی رہے۔
رامین پریشان ہو چکی تھی۔
رامین کی امی نے پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا۔
انہوں نے پانی کا گلاس تھام لیا۔
مجھے نوکری سے نکال دیا مینیجر نے۔
اور وجہ بھی نہی بتائی۔
کہنے لگا تمہاری اس مہینے کی تنخواہ گھر پہنچ جائے گی۔
ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ ابا’آپ نے ان سے وجہ تو پوچھنی تھی۔
آخر کیوں نکالا ہے نوکری سے۔
میں بات کروں گی کل ان سے’ابا آپ فکر مت کریں۔
ایسے کیسے نکال سکتے ہیں وہ آپ کو نوکری سے۔
نہی رامین تم رہنے دو’میں کل دوبارہ جاو گا بات کرنے۔
اگر مان گئے تو ٹھیک ہے’ورنہ دوسری نوکری ڈھونڈ لوں گا۔
ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازہ ناک ہوا۔
رامین کے ابا دروازے کی طرف بڑھے۔
دروازہ کھولا تو سامنے رانی کی ماں کھڑی تھیں۔
اسلام و علیکم بھائی صاحب۔
وعلیکم اسلام آ جائیں اندر بھابی۔۔وہ مسکرا کر سلام کا جواب دیتے ہوئے سائیڈ پر ہٹ گئے۔
وہ سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔
آج ہم لوگ جا رہے ہیں یہاں سے’تو سوچا جانے سے پہلے مل لوں آپ سب سے۔
بہت اچھا وقت گزرا اس محلے میں آپ سب کے ساتھ۔
آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں’رامین کی اماں فکر مندی سے بولیں۔
میری رانی کی شادی طے ہو گئی ہے نا’بہت اچھے گھرانے میں۔
نکاح کر دیا ہے’اب شادی ہے اسی مہینے۔
میرا داماد بہت اچھا ہے۔
اس نے ہمیں نیا گھر تخفے میں دیا ہے۔
بہت امیر لوگ ہیں وہ۔
میری بیٹی راج کرے گی وہاں۔
ان کا گھر’گھر نہی محل ہے۔
ہم تو کبھی سوچ بھی نہی سکتے تھے کہ ہماری قسمت یوں کھل جائے گی۔
یہ رانی کی شادی کا کارڈ ہے’آپ سب آنا ضرور اب میں چلتی ہوں۔
خدا حافظ۔۔
وہ مسکراتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئیں۔
رامین بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔
اس کی سمجھ میں نہی آ رہا تھا’اچانک سے ابا کو نوکری سے کیوں نکال دیا انہوں نے۔
کوئی تو بات ہوئی ہو گی۔
کہی اس نے تو نہی’میں نے فون رحیم چچا کے ہاتھ بھجوایا۔
اس لیے تو نہی نکال دیا’ابا کو نوکری سے۔
عجیب ہی انسان ہے یہ’انسانیت تو بس نام کی ہی رہ گئی ہے دنیا میں۔
رامین کے ابا کمرے میں چلے گئے۔
ان کے دل میں بھی دولتمند داماد کی خواہش پیدا ہوئی۔
کاش ہماری قسمت بھی ایسے ہی کھل جائے۔
وہ سوچوں میں گُم ہو چکے تھے۔
بس ایک یہی حل تھا’ان کی پریشانیاں ختم ہونے کا۔
________________________________________
