Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Naw Jani (Episode 05)

Tu Qadar Naw Jani by Khanzadi

رامین اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔اس پر تو جیسے خوف سا طاری ہو گیا۔سمجھ میں نہی آ رہا تھا کیا کرے۔کرسی کا رخ کھڑکی کی جانب تھا۔

وہ جو کوئی بھی تھا۔رامین کی طرف اس کی پُشت تھی۔رامین اسے دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ کون ہے۔مگر اس کا چہرہ کھڑکی کی طرف تھا۔اور سر پر اس نے کیپ پہن رکھی تھی۔

آخر کار رامین ہمت کر کے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی۔ابھی اس نے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کا ہاتھ کسی نے روک دیا۔رامین جیسے ہی پیچھے مڑی اسے لگا اب وہ مزید سانس نہی لے سکے گی۔

رامین ابھی چلانے ہی لگی تھی کہ اس کے منہ پر ٹیپ لگا کر اسے اس شخص نے کرسی پر بٹھا دیا۔رامین مکمل طور پر اس کی قید میں تھی۔اس کے ہاتھ اور پیر بھی باندھ دئیے اس نے۔یہ سب اتنی جلدی جلدی میں ہوا کہ رامین کچھ سمجھ ہی نہ سکی۔

رامین کو کرسی سے باندھنے کے بعد وہ دوسری کرسی جو کھڑکی کے پاس رکھی تھی جس پر وہ بیٹھا تھا۔اسے رامین کے سامنے رکھتے ہوئے اس پر بیٹھ گیا۔چند پل وہ رامین کی طرف دیکھتا رہا۔

رامین کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔اور وہ اپنا سر مسلسل نہ میں ہلا رہی تھی۔جیسے کہنا چاہ رہی ہو مجھے چھوڑ دو۔وہ بہت محفوظ ہو رہا تھا رامین کی بے بسی دیکھ کر۔

اس نے کرسی سے اٹھ کر سوئچ بورڈ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔اور چند سیکینڈز بعد اس نے لائٹ آن کر دی کمرے میں اب مکمل روشنی تھی۔لائٹ آن کرتے ہی وہ واپس رامین کی طرف پلٹا۔

اس نے اپنے چہرے پر رومال باندھ کر چہرے کو چھپا رکھا تھا۔اور سر پر کیپ پہن رکھی تھی۔وہ کھڑکی اور کمرے کا دروازہ اچھی طرح بند کرتے ہوئے دوبارہ رامین کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔

رامین خالی خالی سی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔مگر بہت کوشش کے باوجود بھی رامین اسے پہچان نہی سکی۔

میں ٹیپ ہٹانے لگا ہوں۔تم چیخوں گی تو نہی۔؟؟؟وہ رامین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

اس کی آواز جیسے ہی رامین کے کانوں میں پڑی۔وہ دھنگ رہ گئی۔اتنی خوبصورت آواز،اور اتنا مدھم لہجہ اس نے پہلے کبھی نہی سنا تھا۔وہ جلدی سے سر کو نفی میں ہلانے لگی۔

اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے رامین کے ہونٹوں سے ٹیپ الگ کر دی۔رامین دم سادھے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ککککون ہیں آپ۔۔؟؟؟؟

رامین آہستہ آواز میں گھبراتے ہوئے بولی۔اس کے ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا۔کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب۔پلیز مجھے چھوڑ دیں۔رامین ایک ساتھ بہت کچھ بول گئی۔

وہ کچھ نہی بولا۔رامین نے محسوس کیا کہ وہ مسکرا رہا ہے۔رامین نقاب کے پیچھے سے اس کے مسکراتے چہرے کو محسوس کر رہی تھی۔وہ ایک ہاتھ تھوڑی کے نیچے ٹکائے بڑے آرام سے بیٹھا تھا۔ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

رامین پھر سے آنسو بہانا شروع ہو گئی۔دیکھیں آپ پلیز یہاں سے چلے جائیں۔مجھے چھوڑ دیں۔میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا۔؟؟

ششششش۔۔۔رامین کو روتے دیکھ کر اس نے رامین کو چپ رہنے کو کہا۔اگر تم چپ چاپ بیٹھوں گی تو کچھ نہی کہوں گا۔مگر اگر تم نے زرا سا بھی شور شرابہ کرنے کی کوشش کی تو ابھی گلا دبا دوں گا تمہارا۔۔۔وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا۔

اور آگے بڑھ کر رامین کے ہاتھ پاوں کھول دئیے۔رامین جلدی سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔وہ حیران بھی ہوئی اس کے اس ردِعمل پر کہ اتنی آسانی سے اس نے چھوڑ کیسے دیا اسے۔

مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی۔اس سے پہلے کہ رامین آگے بڑھتی۔وہ رامین کے سامنے آ گیا۔

“بیٹھ جاو” ہاتھ کے اشارے سے اس نے رامین کو کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔

رامین کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہی تھا۔وہ چپ چاپ واپس کرسی پر بیٹھ گئی۔اسے سمجھ نہی آ رہا تھا اس کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے۔اس کی نظر گھڑی پر پڑی تو رات کے دو بج رہے تھے۔

کیا نام ہے تمہارا؟؟؟ مدھم لہجے میں سوال پوچھا گیا۔

رارارارامممیییین۔۔۔رامین نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔

یہ کیسا نام ہے۔۔ررررراامممیین۔۔۔وہ بھی اسی کے انداز میں آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولا۔

مممیرا مطلب ہے۔رامین۔۔۔رامین نام ہے میرا۔رامین اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے پھر سے اپنا نام دہرانے لگی۔

ہمممم۔۔رامین۔۔۔”اچھا نام ہے”۔۔۔مطلب پتہ ہے اپنے نام کا؟؟

نہہی۔۔رامین نے سر نا میں ہلا دیا۔

رامین۔۔۔مطلب “کامیاب عورت”۔۔یہ معنی ہیں تمہارے نام کے۔۔۔لیکن تم اپنے نام جیسی تو بلکل بھی نہی ہو۔

“کامیاب عورت” وہ ہوتی ہے جو خود کو معاشرے میں ثابت کرے۔مشکلات کا سامنہ کرے،رکاوٹوں کا ڈٹ کر سامنا کرے۔اور کبھی ہار نہ مانے۔

مگر ان میں سے ایک بھی خوبی مجھے نظر نہی آئی تم میں۔تم بہت ہی ڈرپوک لڑکی ہو۔جو محض دو لڑکوں کے راستہ روکنے پر گھبرا جاتی ہو۔اپنے نام جیسی تو بلکل بھی نہی ہو تم۔

رامین نے ایک دم نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔جو ابھی تک سر جھکائے بیٹھی تھی۔آپ کیسے جانتے ہیں یہ سب۔۔؟؟؟ الٹا اسی سے سوال کر بیٹھی۔

ہمممم۔۔۔وہ لمبی سانس لیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔کیونکہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں کل ان لڑکوں سے نجات دلائی تھی۔مسلسل کئی دنوں سے دیکھ رہا تھا میں یہ سب۔امید کر رہا تھا کہ تم کوئی ردِعمل ظاہر کرو گی۔بہادری دکھاوں گی۔منہ توڑوں گی ان دونوں کا۔مگر ایسا کچھ نہی ہو سکا۔

آج جب معاملہ اتنا بگڑا تو مجبوراً مجھے سامنے آنا پڑا۔۔۔”آخر اتنی ڈرپوک کیوں ہو تم” وہ دونوں ہاتھ کرسی پر جمائے رامین کی طرف غصے سے جھکا۔کیوں جواب نہی دیا ان لڑکوں کو۔

رامین ڈر کر پیچھے ہٹی۔اور آنسو بہانہ شروع ہو گئی۔سر جھکائے بس وہ بس آنسو بہائے جا رہی تھی۔رامین نے چہرہ اوپر اٹھایا۔وہ ابھی تک ایسے ہی دونوں ہاتھ کرسی پر جمائے اس کی طرف جھکا ہوا تھا۔

اس کی آنکھوں میں غصہ تھا یا کچھ اور رامین سمجھ نہ سکی۔وہ پھر سے نظریں جھکا کر آنسو بہانے لگی۔

وہ رامین کو مسلسل آنسو بہاتے دیکھ پیچھے ہٹ گیا۔یہ میرے سوال کا جواب نہی ہے۔آخر کب تم یونہی آنسو بہاتی رہو گی۔آنسو بہانے سے مسلے حل نہی ہوتے۔مشکلات سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔

اگر تم پہلے ہی دن ایک ایک تھپڑ دونوں کے منہ پر لگا دیتی تو وہ دوبارہ تمہارے راستے میں نہی آتے۔مگر تم نے ہمت نہی دکھائی۔۔میں پوچھتا ہوں آخر کیوں۔۔؟؟؟

وہ پھر سے دونوں ہاتھ کرسی پر جماتے ہوئے رامین کی طرف جھکا۔اس کا لہجہ بہت تلخ تھا۔

رامین نے دونوں ہاتھوں سے پوری قوت لگاتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا۔۔وہ رامین سے اس حملے کی بلکل بھی توقع نہی کر رہا تھا۔ایک دم لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہٹا۔

مجھ میں بہت ہمت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں میں بہت ڈرپوک ہوں۔نہی۔۔میں آپ کو غلط ثابت کروں گی۔اور خود کو “کامیاب عورت” بن کر دکھاوں گی۔آپ کا بہت شکریہ جو آج آپ نے میری مدد کی۔آپ کا احسان زندگی بھر یاد رکھوں گی میں۔لیکن ایک بات کا جواب دیں آپ مجھے۔یہ کونسا طریقہ ہے آپ کا بات کرنے کا۔

رات کو دو بجے آپ چوروں کی طرح میرے کمرے میں گھسے ہیں۔یہ کوئی شریفوں والا کام تو نہی کیا آپ نے۔

کیوں میں شریف انسان ہوں ہی نہی۔وہ مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔چور ہوں میں۔اور چوروں کی طرح ہی آوں گا نہ۔۔ وہ چلتا ہوا رامین کے پاس آ کر دونوں بازوں سینے پر باندھے آ کھڑا ہوا۔

نقاب کے پیچھے اس کی مسکراہٹ رامین محسوس کر سکتی تھی۔

چور۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔وہ ڈر کر تھوڑا پیچھے ہٹی۔

ہاں چور۔۔رامین کا الفاظ دہرائے اس نے۔رامین کو پیچھے ہٹتے دیکھ مسکرا دیا۔ابھی تو تم کہ رہی تھی کہ ڈروں گی نہی۔اور پھر سے ڈر رہی ہو۔

میں اتنا برا چور نہی ہوں۔مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔اب میں چلتا ہوں۔وہ لڑکے دوبارہ تنگ نہی کریں گے تمہے۔امید ہے تم کامیاب عورت بن کر دکھاوں گی۔بلکل اپنے نام کی طرح۔بس اتنا کہنا تھا کہ وہ کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے کھڑکی کی طرف بڑھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

رامین جلدی سے کھڑکی کی طرف بڑھی۔مگر وہ جا چکا تھا۔اس نے جلدی سے کھڑکی بند کی۔اور بیڈ پر آ بیٹھی۔۔عجیب انسان تھا۔زیرِ لب دہراتی وہ لیٹ گئی۔گرمی کی وجہ سے اس نے کمرے کی کھڑکی کھول رکھی تھی۔

یہ کھڑکی گلی کی طرف کھلتی تھی۔اور ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بالکونی بنی ہوئی تھی۔رامین کی سمجھ میں نہی آیا کہ وہ کیسے اوپر آیا۔اور دوسری بات اس نے اپنا چہرہ کیوں چھپا رکھا تھا۔

کچھ دیر سوچتی رہی پھر سو گئی۔صبح اسے سکول جانا تھا۔تو وہ جاگ کر پہلے ہی دن لیٹ نہی ہونا چاہتی تھی۔اسی لیے سو گئی۔

________________________________________

احتسام گھر آیا تو امی، رانیہ اور ہانیہ اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔احتسام اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔چینج کر کے آیا تو امی اور ہانیہ کھانا لگا رہی تھیں۔امی کھانا ہم لوگ باہر سے کھا لیں گے۔آپ کھانا مت لگائیں۔احتسام سیڑھیوں سے نیچے آتے ہوئے بولا۔

نہی بیٹا گھر کا کھانا ہی ٹھیک ہے۔باہر کا کھانا ٹھیک نہی ہوتا۔ایسے ہی طبیعت خراب ہو جائے گی۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

احتسام بس ہلکا سا مسکرا دیا۔اور کھانا کھانے بیٹھ گیا۔وہ جانتا تھا امی ایسے اس لیے کہہ رہی تھیں کہ کہیں میرے پاس پیسے نہ کم پڑ جائیں۔کہیں بہنوں کی شاپنگ ادھوری نہ رہ جائے۔

احتسام نے اپنےاکاونٹ سے سیونگ کی ہوئی رقم نکلوا لی۔جو دس ہزار تھی۔کئی مہینوں سے جمع کر رہا تھا وہ۔تا کہ ہانیہ اور رانیہ کو شاپنگ کروا سکے۔

کھانا کھانے کے بعد احتسام نے گاڑی باہر نکالی اور سب شاپنگ کے لیے نکل پڑے۔گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ سب مال کی طرف بڑھ گئے۔

احتسام کاونٹر کے پاس رک گیا۔اور ان سے کہہ دیا جب شاپنگ کر لیں تو یہیں آ جائیں۔پیمنٹ کر دو گا میں۔وہ تینوں آگے بڑھ گئیں۔اور احتسام وہیں فون پر مصروف ہو گیا۔

کچھ دیر بعد وہ تینوں واپس آئیں تو احتسام نے پیمنٹ کر دی۔بس تین ہزار بل بنا۔احتسام نے واپس مڑ کر ان تینوں کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیں۔بھائی بس اتنی ہی شاپنگ کرنی تھیں ہمیں۔باقی شاپنگ عید پر کر لیں گے ہم۔۔رانیہ بولی۔

احتسام نے پیمنٹ کی۔اور وہ سب باہر کی طرف بڑھ گئے۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے احتسام کا ذہن کہی اور ہی الجھا ہوا تھا۔شاید میں اپنی بہنوں کی ضروریات کبھی پوری نہی کر پاوں گا۔میری بہنیں ایک ایک چیز خریدنے سے پہلے یہ سوچتی ہیں کہ بھائی کے بجٹ میں آئے گی یا نہی۔یہ احساس بہت درد ناک تھا اس کے لیے۔

گاڑی اشارے پر رکی۔اچانک اس کی نظر اپنے دائیں طرف کھڑی گاڑی پر پڑی۔ظبط سے آنکھیں بھینچ گیا۔اور منہ پھیر لیا۔اشارہ کھلا تو اس نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

اچانک اس کی نظر بیک ویو مرر پر پڑی تو دھنگ رہ گیا۔وہ گاڑی اس کی گاڑی کو فالو کر رہی تھی۔پہلے تو اس نے سوچا کہ شاید میرا وہم ہے۔اس نے جان بوجھ کر گاڑی دوسری طرف موڑ دی۔

وہ گاڑی بھی مڑ گئی۔اس نے پھر اپنی گاڑی آئسکریم پارلر کے پاس روک دی۔تو وہ گاڑی بھی رک گئی۔احتسام نے غصے سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔کیا مسلہ ہے اس کے ساتھ۔وہ دل ہی دل میں بولا۔

کیا ہوا احتسام۔گاڑی کیوں روک دی بیٹا۔۔احتسام کی امی بولی تو وہ حوش میں آیا۔

کچھ نہی امی۔۔میں نے سوچا آئیسکریم کھلا دوں آپ لوگوں کو۔وہ گاڑی سے باہر نکل گیا۔اور ان کے لیے آئیسکریم لے آیا۔ان سب کو آئسکریم دی۔اور اپنی پیک کروا لایا۔وہ اس نے رانیہ کی طرف بڑھا دی۔

اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔اس نے بیک ویو مرر پر نظر ڈالی تو گاڑی ابھی بھی وہیں کھڑی تھی۔اس نے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔وہ گاڑی اب بھی اسے فالو کر رہی تھی۔

گھر پہنچ کر اس نے گاڑی گھر کے باہر روک دی۔امی آپ لوگ چلیں مجھے ایک ضروری کام تھا۔کچھ دیر تک آ جاوں گا۔وہ تینوں اندر چلی گئیں۔

احتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔وہ گاڑی اب بھی اسے فالو کر رہی تھی وہ جھنجلا گیا۔اور گاڑی روک دی۔وہ گاڑی بھی رک گئی کچھ فاصلے پر۔احتسام گاڑی سے باہر نکلا۔اور اس گاڑی کی طرف بڑھا۔

گاڑی کے پاس پہنچا۔شیشہ ناک کیا۔اب اس گاڑی والے کے پاس شیشہ نیچا کرنے کے سوا کوئی حل نہی تھا۔گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا۔اور ایک مسکراتا چہرہ نظر آیا احتسام کو۔

احتسام غصے سے کھڑکی پر جھکا۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ مجھے کیوں فالو کر رہی ہیں؟؟؟؟؟۔غصے سے سوال پوچھا گیا۔

صلہ مسکرا دی۔میں کیوں کروں گی آپ کو فالو۔شاید آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔میں تو آپ کو جانتی تک نہی۔ویسے اچھا لگا آپ سے دوسری دفعہ مل کر۔

مائی سیلف صلہ۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے احتسام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

احتسام نے اس کا ہاتھ نہی تھاما۔لیکن مجھے بلکل بھی اچھا نہی لگا۔آپ سے مل کر۔آئیندہ مجھے فالو کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہی ہو گا۔احتسام بس اتنا کہہ کر وہاں سے چل پڑا۔

صلہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی اور احتسام کی طرف بڑھی۔اتنا ایٹیٹیوڈ کس لیے دکھاتے ہو۔کیا ہو جائے گا اگر دو منٹ بات کر لو گے مجھ سے۔

اس کی آواز پر احتسام رکا۔مگر پلٹ نہی۔جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔صلہ وہیں کھڑی اس کی گاڑی کو دور جاتے دیکھتی رہی۔جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گئی تو وہ بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

سٹوپڈ۔۔۔مسکراتے ہوئے اپنے ماتھے پر ہلکے سے تھپکی لگاتے ہوئے بولی۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔دیکھتی ہوں کب تک دور بھاگتے ہو مجھ سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *