Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

صبح معلوم کے مطابق سبھی آٹھ بجے ٹیبل پر موجود تھے اور خلافِ معمول آج لیٹ لطیف کے ہونریبل ایوارڈ سے نوازے گئے انسپکٹر صاحب بھی سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ کھا کم جمائیاں زیادہ لے رہے تھے۔۔۔۔
کیا بات ہے رومی بھائی آپ رات سویے نہیں کیا زری نے اس کی طرف دیکھ کے سوال کیا جس کی حالت کسی اجاڑے چم سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
نہیں یار کیا بتاؤ اب ۔۔۔۔
گیا کتا نالی میں
اس کا مطلب رات بھی آپ کو چونا لگا گئے وہ لوگ ماہی نے افسوس کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
بہن کتا نہیں نالی میں گیا بھنس پانی میں جاتی ہے زری نے تپ کے جواب دیا ۔۔۔۔
ہاں ہاں برو بتاے سب کو کیسے رات پھر آپ کو ان ڈریگنز نے بیوقوف بنایا ۔۔۔۔
روحان اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول پڑا سب نے رومان کی طرف دیکھا جو اتنی سی بوتھی لیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ویسے آپ کو دیکھ کے مجھے ایک گانا یاد اتا ہے ۔۔
بےوفا تیرا معصوم چہرہ بھول جانے کے قابل نہیں ہے ۔۔۔۔
بینڈ جو تو نے بجائی ہے میری غم اب تک گیا ہی نہیں ہے ۔۔۔
جھوٹی آفواوں کی جھوٹی کہانی تو نے سنائی مجھے ۔۔۔
میرے لیے تو دن ہی تھے کافی راتیں جگائی تو نے ۔۔۔۔۔
بسسسسسسس کر جا بھائی کیوں صبح صبح ہمارے دماغ کی ڈھی کر رہا ہے اپنی یہ ڈھول جیسی آواز سنا کے ۔۔ادیان نے تنگ آ کے کہا
تم لوگوں کو اگر مستیوں سے فرصت مل جائے تو کبھی اپنے کام پے بھی دھیان دے دیا کرو سال ہونے کو ہے اور ابھی تک ایک کیس تک سولوے نہیں ہوا تم سے نہ جانے کیا سوچ کے میں نے تمھیں پولیس میں برتی کروایا ۔۔ایان نے رومان کو گھور کے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
آنہہہ میں تو اس منحوس گھڑی کو کوس رہا ہوں جس دن آپ کی باتوں میں آ کے میں نے پولیس میں بھرتی کروائی ۔۔۔
اور آپ کیا جانے میری راتوں کی نیند اور دن کا چین و سکون تو وہ ڈریگنز برباد کر ہی چکے ہیں رہی سہی کثر آپ کی باتوں سے پوری ہو جاتی
رومان منہ بنا کے منہ میں بڑبڑایا۔۔
روحان نے منہ کے اگے ہاتھ رکھ کے اپنی انے والی ہنسی کا گلہ دبایا وہ جانتا تھا اس کے بھائی کی کیا حالت ہو رہی ہے اس كیس کے چکر میں ۔۔۔
کچھ کہا آپ نے برخوردار ایان نے رومان کی بڑبڑاہٹ سن کے طنزیہ کہا ۔۔۔
نہ۔۔نہیں بھائی رومان نے اپنی پوری بتیسی دیکھا کے جواب دیا ۔۔۔
ہمممممم چلو میرے ساتھ آج مجھے کام ہے تھوڑا ۔۔۔
ایان کے اگلے حکم پے رومان کا نوالہ گلے میں ہی اٹک گیا تھا ۔۔۔
بھائی کہاں جانا ہے رومان نے اتنی سی بوتھی بنا کے پوچھا ۔۔۔۔۔
برخوردار اب تم اتنے بڑے ہو گئے ہو کے مجھ سے سوال کرو گے ؟؟؟؟
ایان کی گرجدار آواز پے رومان نے بےبسی سے منہ بنا کے سب کی طرف دیکھا جو اپنی ہنسی ضبط کیے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔
ن ۔۔نہیں ۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا بھائی میں بس ابھی ایا ۔۔۔ رومان نے فورن بات سمبھالی اور اندر کی طرف بھاگا اس کے جاتے ہی ایان بھی داینینگ ٹیبل سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
تم نے کس لڑکی کو میری نیو سیکٹری رکھا ہے جس کو وقت کی پابندی کا نہیں پتا یا شاید تم اسے بتانا بول گئے تھے کے آفس ٹائمینگ کیا ہے ۔۔۔ایان نے اپنے سامنے بیٹھے ادیان کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔
کل کسی ضروری کام کی وجہ سے وہ خود انٹرویو نہیں لے سکا اور ادیان کو اپنی جگہ بیٹھا دیا تھا ۔۔۔
یار پہلا دن ہے لیٹ تو بندا ہو ہی جاتا ہے کیا ہوا اگر وہ بھی ہو گئی پہلا دن ہے بیچاری کا کچھ بولی نہ ۔۔غصہ کنٹرول میں رکھی یار آتی ہوگی ۔
ویسے بھی کم بولنے والی معصوم سی لڑکی لگتی ہے اور
کیا پتا بیچاری لوکل آ۔۔۔۔۔
کیااااا کہا الو سو روپے کیلو بھائی کچھ تو خدا کا خوف کرو میں بتا رہی ہوں میں بیس روپے سے ایک روپیا اوپر نہیں دوں گی الو بیچ رہے ہو یا گوسٹ جو اتنے مہگے توبہ توبہ غریب بیچارہ کرے تو آخر کرے کیا ہاں مر جائے کیا ہماری کوئی فیلنگس نہیں ہے کیا ۔۔۔۔
ادیان جو عبیرہ کی معصومیت پے مضمون لکھا رہا تھا اس کی آواز کو اندر انٹر ہوتی عبیرہ کی آواز نے بیچ میں ہی کہی چھوڑ دیا اور وہ دونوں منہ کھول کے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
اوو ہیلو میڈم کون ہو اور کیا الو مٹر گوبی گاجر جو بھی چاہئے وہ باہر جا کے مانگو یہ میرا آفس ہے کوئی سبزی منڈی نہیں جو تم ۔۔۔۔۔
ہوگیا آپ کا یا کچھ اور بھی بولنا باقی ہے میری مرضی میں جہاں مرضی جا کے الو خریدوں یا کچھ بھی اور خریدوں آپ کا کیا جاتا ہے اور مجھے بھی نظر آ رہا ہے یہ آفس ہے میرے پاس بھی آنکھیں ہے مگر لگتا ہے آپ اس چیز سے محروم رہ گئے جو آپ کو یہ نظر نہیں آ رہا جب کوئی بندا فون پے بات کر رہا ہو تو اسے ڈسٹرب نہیں کرتے آپ کی وجہ سے میری اتنی ضروری بات بیچ میں رہ گئی اب ذرا چپ رہنا ۔۔۔
وہ آیان کو اچھی خاصی سنانے کے بعد فون دوبرا کان کے ساتھ لگا چکی تھی ۔۔۔۔
ہیں تو بھائی میں کیا کہ رہی تھی کے الو تو میں بیس روپے کیلو ہی لوں گی اور۔۔۔۔
میڈم آپ ب۔۔۔۔
چمکادار تم ذرا چھپ نہیں کر سکتے بات کر رہی ہوں نہ میں ابھی ۔۔۔عبیرہ نے فون کان سے ہٹا کے ایان کو گھور کے دیکھتے ہوئے کہا ۔
ادیان تو ایان کی اتنی عزت پے اپنا قہقا روکنے کے چکر میں لال ہو رہا ہے ۔۔
جب کے ایان اس لڑکی سے اپنی عزت پے دانت پیس کے رہ گیا ۔۔۔۔
کون ہے یہ لڑکی ایان نے ادیان کو گھور کے دیکھتے ہوئے پوچھا اسے اس دن کی ملاقات بلکل بھی یاد نہیں تھی ۔۔۔
یار تیری بری قسمت آج سے اگلے دو سال تک یہی تیری سیکٹری ہے جسے تو اب نکال بھی نہیں سکتا ۔۔ادیان نے ہلک تر کرتے ہوئے بتایا ۔۔۔
واٹٹٹٹ ایان بےیقینی سے چیخا تھا اسے تو اپنے کانوں پے یقین نہیں آ رہا تھا کے جو اس نے ابھی سنا وہ سچ ہے ۔۔۔۔۔
افففف دو منٹ جو یہ بندا چپ کر جائے پتا نہیں کیسے گزرے کے میرے دو سال یہاں وہ ایان کو گھور کے بولی
ہاں ہاں بھائی نہیں آپ کو نہیں کہا چلو میں واپسی پے لے لوں گی وہ کیا ہے نہ ابھی میرے سامنے میرا کھڑوس باس کھڑا ہے ۔۔۔
وہ منہ بنا کے بولی اور فون بند کر گئی ۔۔۔
مس آفس کے کچھ رولز ہوتے ہیں جنہے فالو کرنا سب۔۔۔۔
دیکھو مسٹر چمکادار مجھے سے کسی بات کی امید نہ رکھنا میں کوئی رول فالو نہیں کرنے والی ۔۔۔۔
یہ چمکادار کیا ہوتا ہے ۔۔ایان نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
کیا مطلب آپ کو چمکادار کا نہیں پتا آپ کو اس آفس کیا بوس کس نے بنا دیا مجھے تو افسوس ہو رہا ہے مجھے ایک ایسے انسان کے ساتھ کام کرنا پڑے گا جو اس حد تک نکما ہے کے اسے چمکادار کا نہیں پتا ارے االو کا رشتدار چمکادار اور کون ۔۔۔۔وہ تو ایسے افسوس کر رہی تھی جیسے ایان صاحب کو آفس کا بوس بنے کے لیے چمکاداروں کی ہستورے پڑھنی چاہئے تھی ۔۔۔
واٹ ایان نے اپنا گھومتا سر سمبھال کے سامنے کھڑی پٹاخہ کو دیکھا۔۔۔۔
افففف اتنا نكما آدمی میں نے آج تک اپنی لائف میں دیکھا تھا عبیرہ نے ایک ہاتھ اپنے سر پے مرتے ہوئے کہا ۔۔۔
تم چپ نہیں کر سکتی کچھ دیر کے لیے ۔۔۔آیان نے ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔
چپ ہی تو تھی میرا نہ لائف میں بس سمپل سا فاندا ہے کم بولنا اور کم کھانا مجھے تو سمجھ نہیں آتی لوگ اتنا بول کیسے لتے ہیں قسم لے لیں مسٹر سڑو میں تو چوبس گھنٹے سے زیادہ بول ہی نہیں سکتی ۔
وہ بولتے ساتھ جا کے ایک سائیڈ پے پڑے صوفے پے بیٹھ گئی ۔۔۔
آیان نے گھور کے ادیان کو دیکھا جو منہ کھول کے کھڑا تھا
ارے آپ دونوں کھڑے کیوں ہیں بیٹھے نہ اپنا ہی آفس ہے آپ کا اس نے دونوں کو دیکھ کے ان کی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔۔۔
ج ۔جی شکریہ بتانے کا اگر اب کام کر لیں کچھ تو بڑی مہربانی ہوگی آپ کی آیان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا یہ لڑکی آج اسے اسے کانٹوں پے نچا چکی تھی ۔۔۔
جی جی مسٹر سڑے کریلے ضرور وہ کیا ہے نہ۔۔۔۔
پلز مس عبیرہ کام پے دھین دیں ۔۔۔
اسے ایک بار پھر شروع ہوتا دیکھ ایان نے دانت پیس کے کہا وہ بیچاری منہ بنا کے رہ گئی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
آج میں اتنی لیٹ ہوگی اففففف آج تو مجھ معصوم
کو شہید کروا کے دم لیں گی اففف میم نصرت کلاس میں نہ ہو بس یا رب آج سن لے میری پلزز ۔۔۔
وہ ہاتھ اٹھا کے دعا کرتی ہوئی جا رہی تھی جب سامنے سے اتے انسان کے ساتھ ٹکرائی ۔۔۔
سوری سوری پلرز ۔۔۔ اس نے نیچے گرے موبائل کو دیکھ کے کہا لیکن جیسے ہی سر اٹھا کے دیکھا شدید غصے کی ایک لہر اٹھی تھی اس کے اندر ۔۔۔
سامنے والے نے بھی جب سر اٹھا کے دیکھا تو دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔۔
تمممممممممم
افففففف آنکھیں ہے یا بٹن دیکھ کے نہیں چل سکتے تم وہ دانت پیس کے اپنے سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کے بولی جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
اوو ہیلو میڈم یہ سوال میں بھی کر سکتا ہوں ایک تو میرا اتنا نقصان کر دیا اوپر سے مجھے ہی سنا رہی ہو ۔۔۔روحان نے جل کے کہا کیوں کے اس کا موبائل زمین پے گرا اپنی بےقدری کو رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
تمارا کون سا نقصان ہاں نقصان تو میرا ہوا جو صبح صبح تمہاری منحوس شکل دیکھ لی اب تو پکا میرا دن خراب ہی گزرے گا ۔۔۔زریش نے دانت پیس کے جواب دیا ۔۔۔۔
تمہارا مسلہ کیا ہے جب بھی سامنے آتی ہو کوئی نہ کوئی نقصان کر دیتی ہو ۔۔۔۔روحان نے اسے گھورتے ہوا کہا ابھی تو پچھلی بار والی بات اسے نہیں بولی تھی ۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا وہ بھی منہ بنا کے بولی ۔۔۔
ہاں ہاں تم کہاں کچھ کرتی ہو یہ تو تمہیں دیکھتے ہی میرا موبائل خود زمین بوس ہو گیا تم جان بوج کے ٹکرائی ہو مجھ سے یہ سب تم اس دن کا بدلہ لینے کے لیے کر رہی ہو ۔۔۔وہ بھی دانت پیس کے بولا ۔۔۔
اوو ہیلو پہلی بات کے میں نہیں تم ٹکرائے مجھ سے اور دوسری بات میں تمہاری طرح ویلی و بےکار نہیں ہوں جو بدلے لینے کے پلان بناتی رہو ۔۔۔وہ بھی اسے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔
اوو ہیلو میں کوئی ویلا یا بےکار نہیں ہوں بہت جلد آفس جوائن کرنے والا ہوں اور یہ سب میں تمہیں کیوں بتا رہا ہوں آنہہہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ یہ سب بولے کی ۔۔۔۔۔وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
پھر سے بول کے دیکھاؤں ۔۔وہ بھی مزے سے بولی انداز صاف جلانے والا تھا ۔۔۔۔
کون بےکار ہے کون کیا کرتا ہے دوسروں کے معاملے میں اپنی ٹانگ آرانے کا بہت شوک ہے نہ تمہیں ۔۔۔ وہ اسے گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔
دوسروں کا پتا نہیں مگر تم اپنی ٹانگ نہ سمبھال کو رکھو مجھے ٹانگ توڑنے کا بھی بڑا شوق ہے وہ بھی اسی کے انداز میں بولی ۔۔۔
ہاہا ہاہا اچھا مذاق تھا ۔۔۔ روحان نے ہستے ہوئے اس کا مذاق اڑایا ۔۔۔۔
جا جا بہت دیکھے تیرے جیسے ۔۔۔ زریش نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔
میرے جیسا تو کوئی نہیں دیکھا ہوگا وہ ایک آنکھ دبا کے بولا
مگر سامنے والی کو آگ لگا گیا تھا ۔۔۔۔
تمہاری تو وہ دانت پیس کے اگے کو ہوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا گلہ پکڑنے کے لیے مگر اس سے پہلے ہی کوئی اسے پیٹ سے ہاتھ ڈال کے پکڑ چکا تھا ۔۔۔۔
زریش کنٹرول کیا کر رہی ہو چھوڑو سب چلو یہاں سے ۔۔۔
زریش نے صائم کی آواز پے اس کی طرف دیکھا جو اسے پیٹ سے پکڑ کے کھڑا تھا ۔۔۔۔
چھوڑو مجھ انتہائی غصے سے اس نے صائم کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور روحان کو ایک گھوری سے نوازا ۔
روحان کو صائم کا یوں اسے ہاتھ لگنا بلکل پسند نہیں ایا تھا وہ بس اپنا غصہ ضبط کیے کھڑا تھا ۔۔۔
زریش نے دونوں کو گھور کے دیکھا اور وہاں سے تن فن کرتی چلی گئی اسے صائم ویسے بھی پسند نہیں تھا ۔۔۔۔
روحان نے دور تک اسے دیکھا اور پھر اس کے جاتے ہی ایک دم غصے سے صائم کا کالر پکڑا ۔۔۔
تیری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی ۔۔برف جیسا سرد لہجہ تھا کچھ پل کے لیے تو صائم بھی کانپ گیا لیکن پھر خود کو سمبھال کے بول ۔۔
کیوں تیری کیا لگتی ہے جو تجھے اتنی آگ لگی میں اسے ہاتھ لگاؤ یا اس کے ساتھ ۔۔اس نے معنی خیز سے بولتے ہوئے اپنی بات ادھوڑی چھوڑ دی مگر یہی اس نے سب سے بھری غلطی کی تھی ۔۔
روحان نے نہ اؤ دیکھا نہ تاؤ اسے مارنا شروع کر دیا پوری یونی کے سٹوڈنٹز پاس کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے کیسی میں ہمت نہیں تھی اسے روک سکے ۔۔۔۔
چند منٹ میں اس کی حالت بگاڑ چکا تھا روحان ۔۔۔
ایک بات کان کھول کے سن لے وہ صرف روحان آفندی کی ہے دوبارہ اس کے پاس نظر بھی ایا تو جان لے لوں گا تیری یہاں موجود ہر انسان یہ جانتا ہے کے اس میں میری جان بسی ہے اگر اسے نظر اٹھا کے دیکھا بھی تو دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا سمجھا تو ۔۔۔
انتہائی غصے میں اسے کہتے ہوئے اس کے پیٹ میں لات مار کے وہ وہاں سے تن فن کرتا نکل گیا ۔۔۔
چ ۔۔چھوڑوں گا نہیں تجھے ۔۔۔ پیچھے صائم بھی غصے سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔