Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

آیان اسٹڈی روم بیٹھا تھا جب اس کے گارڈ اس کے پاس ایا ۔۔۔
سر وہ ۔۔۔۔
بولو اگے انتہائی سخت لہجے میں اس نے سامنے والے کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
سر وہ زمل میم آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔۔گارڈ نے ڈرتے ڈرتے بتایا کیوں کے ایان افندی کے غصے سے وہ اچھی طرف واقف تھا ۔۔۔
واپس بہج دو مجھے کسی سے نہیں ملنا وہ دانت پیس کے بولا اسے ایسی لڑکیاں بلکل بھی نہیں پسند تھی جو خود کو دوسروں کے سامنے اتنا گرا لیں کے اپنی عزت و نفس کا بھی خیال نہ رہے ۔۔۔
اوکے س۔۔۔۔
کیا بات ہے يان تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو اچھا چھوڑو نہ سب یہ بتاؤ ہم شادی کب کریں گے ۔۔۔
گارڈ کوئی جواب دیتا اس سے پہلے ہی انتہائی بولڈ ڈریس پہنے جس سے اس کے جسم کا ہر حصہ نمایا ہو رہا تھا ایک بائیس سالہ لڑکی اندر آئ اور آ کے سیدھا آیان کے گلے میں باہے دال کے لاڈ سے بولی ۔۔۔
دور رہ کے بات کیا کرو تم آیان نے دانت پیس کے کہا عجیب چیپکو لڑکی تھی جتنا اس سے دور بھاگتا اتنا پاس آتی ۔۔۔
گارڈ جا چکا تھا ۔
کیوں يان میں تو تم سے محبت کرتی ہوں نہ چلو نہ آج ہر دوری کو ختم کر دے میرا یہ پیاسا دل تمہاری قربت چاہتا ہے وہ اپنی شرٹ کے سامنے کے بٹن کھولتے ہوئے اگے بری اور اپنے لب آیان کے ہونٹوں پے رکھنے چاہے ۔۔۔
ہوش میں تو ہو تم جاہل لڑکی یہ کیا کر رہی ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے اس سے پہلے میں تمہارا خون کر دوں ایان آفندی تم جیسی لڑکیوں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا جو خود کو پلیٹ میں سجا کے کسی کے سامنے پیش کرتی ہوں ۔۔
جو لڑکی خود کی عزت کرنا نہیں جانتی وہ میری عزت کبھی نہیں بن سکتی تم جیسی لڑکوں سے نفرت ہے مجھے دفع ہو جاؤ یہاں سے دوبارہ کبھی اپنی شکل نہ دیکھنا ورنہ میں ہر لہٰذ بھول جاؤ گا ۔۔۔
آیان نفرت و حقارت سے اسے دیکھتے دھاڑا تھا اس کی آنکھوں میں جیسے خون اتر ایا ہو اسے ۔سامنے کھڑی لڑکی سے شاید نفرت تھی ۔۔۔
يان میں ت۔۔۔۔۔
سنا نہیں تمہیں دفع ہو جاؤ یہاں سے وہ ایک بار پھر چیخ کے بولا ۔۔
اس کی آواز سن کے گارڈز بھی بھاگتے ہوئے وہی اندر آے تھے لیکن سامنے کھڑی لڑکی اور ایان کا غصہ دیکھ وہ سب سمجھ گئے تھے اس لیے نظرے جھکا گئے ۔۔۔
زمل کا چہرہ اپنی اتنی بیزتی پے دھوا دھوا ہو رہا تھا خون تو سارا جیسے چہرے پے آ گیا ہو اس لیے تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
دوبارہ یہ لڑکی مجھے یہاں نظر نہ آے وہ انتہائی سخت لہجے میں کہتا وہاں سے تن فن کرتا نکل گیا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ لوگ آئسکریم کھاکر جب گھر واپس آئے تو لاؤنج میں ایان کو اپنا منتظر پیا ۔ مارے گئے آج تو پکا ۔۔
گئی بھنس کھو میں ماہی نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
پاگل ٹیچر کھو نہیں پانی میں جاتی ہے بھنس ۔ روحان نے دانت پیس کے اس کا محاورا سہی کیا ۔۔۔
جہاں بھی گئی بھنس تمہیں اس سے کیا لینا دینا آج تو ہم پکا گئے یہ بات تہ ہے ماہی نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
اوہو اپنی بکواس بند کرو گے کچھ دیر کے لیے پہلے ہی دشمنوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں آج تو پکا ھمارے نصیب میں شہادت ہی آے گی رومان نے ایان کے خطرناک تیور دیکھ کے ہلک تر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
ایان سامنے صوفے پر بیٹھے انھیں ہی خطرناک تیور لیے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
کہاں سے آرہے ہو تم سب ۔۔۔۔۔۔ایان نے غصیلے تاثرات لیے ان سب کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ وہ بھائی وہ ۔۔۔۔۔
وہ وہ کیا لگا رکھی ہے سیدھی طرح بکواس کرو ۔۔۔۔ ایان روحان پے برسا تھا وہ جتنا سخت دل تھا اتنا ہی نرم طبیت کا مالک بھی تھا اس کے لیے سب سے پہلے ان سب کی حفاظت ضروری تھی جس کو لے کے وہ کبھی بھی نرمی نہیں برتا تھا ۔۔۔
وہ بھائی ماہی کو آئسکریم کھانی تھی اس لیے ادیان بھائی ہم سب کو بھی لے گئے
زری نے معصومانہ انداز میں سارا الزام ان دونوں میا بیوی پے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اس کی بات پر ماہی اور ادیان کا منہ ہی کھل گیا ۔۔
بھائی یہ جھوٹ بھول رہی ہے میں نے نہیں کہا تھا یہ سب خود مجھے لینے آے تھے ماہی نے جلدی سے اپنی صفائی پیس کی
اور دونوں کو گھور کے کر حساب برابر کیا ۔۔
میں کب آیا تھا جھوٹی توبہ توبہ کتنا جھوٹ بولتی ہے یہ موٹی روحان نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگتے ہوئے افسوس کیا ۔۔۔۔ چپ کرو تم دونوں ایان نے چلا کر انھیں چپ کروایا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں خاموشی سے سر جھکا کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔
ادیان مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ایان نے ادیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
ادیان نے شرمندگی سے مزید سر جھکالیا ۔سوری یار آج کے بعد ایسی غلطی نہیں ہوگی میں سمجھتا ہوں تیری فکر مگر میں تھا نا ان کے ساتھ ۔۔ادیان نے جھکے سر سے چھوٹی سی دلیل پش کی
آج میں تم سب کو چھوڑ رہا ہو مگر آئیندہ تم لوگ اس ٹائم باہر گئے تو تم سب کو سزا ملے گی سمجھے تم سب ۔۔۔۔۔ایان نے سنجیدہ انداز لیے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
جی بھائی سب نے ایک آواز ہوکر کہا ۔۔۔۔۔ چلو سب سونے جاو ٹائم بہت ہوگیا ہے ایان اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گیا
وہ سب بھی منہ بناتے اپنے اپنے کمرے کی طرف چل دیے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
صبح ٹھیک نو بجے معمول کے مطابق تمام لوگ ٹیبل کے گرد موجود تھا۔سوائے آعلیٰ مقام انسپکٹر رومان صاحب کے،جو اتنے پہونچے ہوئے آعلیٰ درجے کے ڈھیٹ تھے کے روزانہ عزت افزائی کرانے کے باوجود اپنے لیٹ انے والی عادت سے باز نہیں آتے تھے وہ صرف گھر میں ہی نہیں بلکے ہر جگہ لیٹ ہی جاتے تھے ۔۔۔۔۔
رومان کہاں ہے؟”ایان نے سب پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“میں یہاں ہوں بھائی ،وہ بس ایک فائل ڈھونڈھ رہا تھا اس لیۓ تھوڑا لیٹ ہوگیا،۔۔
ورنہ میں آج بہت جلدی اٹھا تھا رومان ہاتھ میں كیپ پکڑے پورے بتیس کے بتیس دانتوں کی نمائش کرتا جلدی جلدی ٹیبل کے پاس آیا۔۔۔۔یہ جانے بغیر کی اس کے سفید جھوٹ کا راز اسکی سرخ ہوتی آنکھیں کر رہی ہے۔
“اچھا ویری گُڈپھر فائل کہاں ہیں؟۔ ایان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے سے روکتے ہوئے بھاری آواز میں استفسار کیا۔جس پر سب نے اپنے اپنے پلیٹ میں سر ڈال کر مسکراہٹ چھپائی تھی۔
“ففف۔۔فائل۔۔وہ بھائی ۔”رومان کے چہرے کا رنگ پل میں فق ہوا تھا۔
مطلب کی جھوٹ پکڑا گیا اور ساتھ ناشتہ بھی گیا۔
جی جناب آپ زیادہ جلدی جاگ گئے تھے شائد اسی لیۓ آنکھیں سرخ اور دماغ سُن ہوگیا ہے تبھی ایک بار کی بات آپ کے سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔
ایان اب کے سپاٹ لہجے میں بولے اور اس کے جلال پر رومان نے تھوک نگلتے ہوئے مسکین شکل بنا کر سب کی طرف دیکھا جو بامشکل اپنی ہنسی ضبط کیے بیٹھے تھے ۔۔
رومان کی روتی بسورتی شکل دیکھ کر تو روتا بندہ ہنس دے۔۔۔۔
جواب نہیں دیا جناب فائل کہاں ہیں؟
ایان بھی اسی کا بھائی تھا اپنے سوال پر زور ڈال کے کڑک لہجے پوچھا۔۔۔۔
جس پر رومان نے آس پاس نظر دوڑائی اور پریشان مگر افسوس آج بیچارے کا بچنا نہ ممکن تھا ۔۔۔
جناب آپ نے جواب نہیں دیا ابھی تک ایان نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
و ۔۔۔وو ۔۔وہ بھائی شاید روم میں بھول ایا ہوں اس نے ماسكین سی بوتھی بنا کے کہا ۔۔۔
چلو پھر آج ناشتہ بھی بھول جاؤ کیوں کے ناشتے کا وقت ختم ہو گیا ہے ایان نے کڑک انداز میں کہا رومان بیچارہ اتنی سی بوتھی لے کے رہ گیا ۔۔۔۔
رومان بیچارہ اپنی اتنی سی بوتھی لے کے وہاں سے چلا گیا وہ جانتا تھا اس گھر میں اصول بہت سخت ہے سزا ملی تھی تو معافی کی کوئی گنجائش نہیں تھی اس کے جاتے ہی ایان بھی اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف چل دیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
عبیرا اپنے روم میں آئ تو سامنے ہی اس کا موبائل بج رہا تھا اس نے کال اٹینڈ کی جب دوسری طرف سے انے والی آواز پے اس نے ایک دم بیڈ کا سہارا لیا
ک ۔۔کہاں ہو تم ۔۔
اوکے میں آتی ہوں۔۔۔
وہ کہتے ساتھ باہر کو بھاگی ۔۔۔
کیا ہوا بیئر سب ٹھیک.. زری نے اس کا زرد رنگ دیکھ کے سوال کیا ایسا پہلی بار ہوا تھا کے وہ اپنے ہوش میں نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔
زری اس سے ملنے آج اس کے گھر آئ رہی یہاں سے ان کا امبر کو ملنے جانے کا پیلن تھا ۔۔۔
و ۔۔وہ ۔۔ ۔۔و۔۔وہ ۔۔ہ۔۔زین ۔۔اس نے اٹک اٹک کے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔
بیئر تم ہمت سے کام لو ہم کچھ نہیں ہونے دے گے اسے چلیں ہمیں نکلنا ہوگا ابھی چلیں ۔۔۔زری نے کہتے ساتھ اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف بھاگی وہ اب کچھ سمبھال گئی تھی ۔۔۔۔ زری نے فورن امبر کو میسج بھجا ۔۔۔۔۔
دونوں نے اپنی اپنی بائیکز لی اور وہاں سے نکلی ۔۔۔۔
ان دونوں نے ہی الگ الگ راستے سے جانا تھا ۔۔
وہ کبھی بھی ایک راستہ استعمال نہیں کرتی تھی
🌺🌺🌺🌺🌺
برو آج آپ کہاں جا رہے ہیں آج تو سنڈے ہے نہ ۔روحان نے ایان کی طرف دیکھ کے کہا جو بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے شہزادہ لگ رہا تھا ۔۔۔
کچھ کام تھا کچھ دیر میں آ جاؤ گا ویسے یہ رومی کدھر ہے ایان نے رومان کو نہ پا کے کہا ۔ اسے اپنے کچھ دیر پہلے والی روایہ پے غصہ آ رہا تھا مگر پھر یہ اصول بیچ میں آ جاتے تھے ۔۔
برو آج تو وہ کسی روڈ پے کھڑے اپنی قسمت کو رو رہے ہوں گے ہاہا ہاہا ہاہا روحان نے ہنستے ہوئے بتایا ۔۔۔
ایان بھی مسکرا دیا رات والی اذیت وہ اپنے اندر ہی چھپا چکا تھا اسے اتا تھا اپنے بھائیوں کے لیے جینا ۔۔۔
اوکے اپنا خیال رکھنا تم ۔۔۔ایان کہہ کے نکل گیا
وہ افندی منشن سے سیدھا قبریشان ایا تھا وہ روز ہی پہلے یہاں اتا اور پھر تیار ہو کے آفیس جاتا آج سنڈے تھا اور سنڈے کو وہ پورا پورا دن بھی یہاں گزر دیا کرتا تھا ۔۔۔
ایک لائن میں چھ ساتھ قبریں تھی جو سب ہی اس کے اپنوں کی تھی
وہ ایک قبر کے پاس گھٹنوں پے بیٹھا نہ جانے کتنے ہی آنسوں آنکھوں سے بےمول ہو کے گرے مگر اس کی تکلیف تھی کے کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
سامنے ہی قبر کی تختی پے بہت سنہرے الفاظ میں لکھا تھا ۔۔۔
” عبیرہ ایان شاہزیب افندی “
ہاں وہ لڑکی ایان آفندی کی زوجہ تھی جو اپنے ساتھ ساتھ اس کی سانسے بھی ساتھ لے گئی تھی۔۔
وہ اس کے جینے کی وجہ تھی ۔جو زندگی کا سفر شروع ہونے سے پہلے ہی اسے بیچ میں چھوڑ گئی بلکل تنہا ۔۔۔
وہ کافی دیر وہاں بیٹھا بےآواز روتا رہا ۔۔
چار گھنٹوں بعد وہ وہاں سے نکلا ۔۔۔
اور اپنی گاڑی تک ایا آنکھیں لال انگاڑا بن چکی تھی وہ بہت مضبوط تھا مگر یہاں آ کے وہ اپنا دل ہلکا کر لیتا تھا وہ آج تک یہ نہیں جان سکا تھا کے ایسا کیا ہوا تھا اس رات کے اس کا پورا خاندان مٹی میں جا سویا ۔۔
اس نے گاڑی شارٹ کی جو تھوڑی دور جا کے ہی بند پر گئی ۔۔۔
افففف اب کیا مسلہ ہوا اس کے ساتھ وہ سخت کوفیت کا شکار ہوا تھا جتنا مرضی یہ گاڑی اسے ذلیل کر لے مگر نیو نا لینے کی قسم اٹھا رکھی تھی اس نے بھی ۔۔۔
وہ گاڑی سے باہر ایا اور اپنے گارڈز کو لوکیشن بھجی ۔۔ ابھی وہ موبائل کے ساتھ ہی لگا ہوا تھا کے ایک تیز رفتار میں بائیک پاس سے گزرا
اور روڈ پے موجود کیچڑ اچھل کے اس کی وائٹ شرٹ داغ دار کر گیا ۔۔
وہت ربیشششش وہ غصے سے سامنے دیکھتے ہوئے چیخا تھا ۔۔۔
بائیک والے نے ایک نظر پیچھے دیکھتے ہوئے اپنے ہلیمت کا شیشہ اوپر کیا ۔۔
وہی
آیان کو لگا جیسے دنیا روک سی گئی ہے سامنے والی کی آنکھیں یہ آنکھیں تو اسے کبھی بھول ہی نہیں سکی ان آنکھوں میں موجود کشش اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔
اسے تو یہ تک یاد نہیں رہا کے اس کے ساتھ کچھ دیر پہلے کیا ہوا اسے یاد تھا تو بس اتنا کے بائیک پے موجود اس شخص کی آنکھیں وہی آنکھیں تھی جس سے اسے عشق تھا جو اس کا جنون تھی اٹھارہ سال سے تڑپ رہے دل کو آج ان آنکھوں میں دیکھ کے سکون ملا تھا ۔۔
بائیک دور جا چکی تھی ۔۔۔
وہ وہی اسے حالت میں کھڑا تھا بلکل ساکت وقت تو جیسے تھم سا گیا تھا ۔۔۔
ہوش تو تب آئ جب پاس سے کسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔
برو آپ ٹھیک ہیں اور یہ کس نے کیا ۔۔
وہ جو کسی اور ہی دنیا میں گم تھا پاس سے انے والی روحان کی آواز پے ہوش میں ایا ۔۔۔
ر ۔۔رو ۔۔روحان ۔۔م۔۔میں نے اسے دیکھا و وہ زندہ ہے میری پرنسز زندہ ہے م میں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں وہ روحان کو دیکھ اسے کے گلے لگے بچوں کی طرف اسے بتا رہا تھا ۔۔۔
بھائی بھائی رلیکس آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی بھابھی کیسے ہو سکتی ہیں ۔۔روحان نے اسے سمجھنا چاہا ۔۔
نہیں رونی وہ میری پرنسز ہی تھی میں نے اس کی آنکھیں دیکھی ۔۔۔
ٹھیک ہے بھائی ہم انہیں ڈھونڈ لیں گے آپ پھلے گھر چلیں ۔۔۔
وہ کہتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔