Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

تین دن کی چھٹی منانے کے بعد وہ آج یونی آئ تھی وہ سیدھا اپنی کلاس میں آئ اور کتاب کھول کے بیٹھ گئی ابھی بیٹھے کچھ دیر ہی گزاری تھی کے پاس سے ہی اسے مردانہ گھمبیر آواز سنائی دی ۔۔۔۔
”اسلام و علیکم کیسے مزاج ہیں آپ کے؟“ کمرے میں داخل ہوتے رومان کی نظر اس پے پڑی تو دور سے ہی بلند آواز میں کہا اس کی آواز پر امبر نے سر اٹھایا تو سامنے رومان کو دیکھ اس نے گہرا سانس کھینچا پھر اسکے سلام کا جواب دیا۔۔۔
”کیا بات ہے جناب بڑی ٹھنڈی آہیں بھری جا رہی ہیں ؟ خیریت تو ہے؟ ۔۔
ویسے میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ انسان ٹھنڈی آہیں صرف تین صورتوں میں بھرتا ہے۔ ایک جب وہ گھر سے مار کھا کر آیا ہوتا ہے، ۔۔
دوم جب اسے لگتا ہے کے اسکا اپنے مقابل سے بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے اور سوٸم جب اسے نیند آرہی ہوتی ہے۔ آپ کا تعلق کون سے والوں سے ہے؟“ رومان نے بنا کومہ اور فل اسٹاپ کے اس سے پوچھا۔۔۔
”دوسرے والوں سے۔۔۔۔؟“ اس نے زیر لب کہا لیکن رومان نے پھر بھی سن لیا۔۔۔
”اچھا تو آپ مجھے بھیس اور خود کو بین بجانے والی کہہ رہی ہیں۔۔۔
چلیں چھوڑے ان سب باتوں کو۔۔۔۔یہ بتاۓ کہ آپ کے گھر میں کتنے افراد رہتے ہیں؟ ویسے میرا اندازہ ہے کہ آپ کے گھر میں زیادہ سے زیادہ دو تین بندے ہی رہتے ہوں گے کیونکہ جتنی آپ کم گو ہیں آپ کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے“
”آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ کم بولتے ہیں انکے گھر میں کم افراد رہتے ہیں؟“ امبر نے اسکی انوکھی منطق پر اس سے پوچھا۔۔۔
”مجھے ہی دیکھ لیں میرے گھر میں کل پانچ افراد اور رہتے ہیں،
اس لئے کسی سے زیادہ بات نہیں ہوتی اور اب تو مجھے کم بولنے کی
عادت پڑ چکی ہے اس لیے میں زیادہ بولنا پسند ہی نہیں کرتا ۔۔۔
اففففف ابھی اتنا بولتا ہے اگر گھر میں دس بارہ افراد ہوتے تو کتنا بولا۔۔۔۔ یہ بس وہ سوچ ہی سکی تھی ۔۔۔
”میرے گھر میرے علاوہ اور کوئی نہیں رہتا “ امبر نے اسے ایک نظر دیکھ کے جواب دیا اور پھر سے کتاب پے جھک گئی ۔۔۔۔
کیوں ؟؟؟“رومان کی آنکھیں حیرت سے پھیلی” اسے یقین نہیں آ رہا تھا کے سامنے بیٹھی لڑکی کا اس کے اپنے علاوہ کوئی سہارا نہیں
”میرے ماں باپ مجھے میرے بچپن ہی چھوڑ گئے تھے اور ان کے بعد میری دو دوستیں ہے جن سے میں بات کر لیتی ہوں ۔۔ لیکن باہر والوں کے سامنے کم ہی بولتی ہوں“ امبر اتنے سولات کے جواب دینے کی عادی نہیں تھی لیکن یہ لڑکا اسے بولنے پر مجبور کررہا تھا
”اچھا!۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے آپ کی دوستیں کیا کرتی ہیں ۔۔۔ اچھا کے ساتھ ہی ایک اور سوال امبر کا دل کیا اپنا سر دیوار سے جا مارے
مسٹر آپ مجھے پڑھنے ڈے گے امبر نے سختی سے کہا ۔۔۔
”ابھی تو کافی ٹاٸم ہے کلاس میں لگتا ہے آپ میری باتوں سے بور ہوگی ہیں۔
چلے کوئی بات نہیں اب میں کچھ نہیں بولوں گا ، بلکہ میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ ابھی تو کوئی بھی سٹوڈنٹ نہیں آیا ۔۔۔
تو جب تک میں کیفے سے ناشتہ کر اتا ہوں“ اس نے کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا ۔ امبر نے خاموشی سے اسے جاتا دیکھا ۔۔
”یہ کیا کیا میں نے بیچارے کا دل دکھا دیا۔ مجھے جا کر اس سے معافی مانگنی چاہیۓ“
کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے معافی مانگنے کی میں نے ایسی کون سی غلط بات کہہ دی۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھ خود سے ہی ہمکلام تھی ۔۔۔
میں نے بیچارے کا دل دکھایا ہے اور یہ بہت غلط بات ہے مجھے چاہیۓ کے جا کے اسے سوری کہوں “۔۔۔
لیکن اگر میں نے اس سے جا کے معافی مانگی تو وہ پھر سے پٹر پٹر بولنا شروع ہوجاۓ گا ویسے ہی اتنی مشکل سے اس سے جان چھوٹی ہے
اففففف کیا کرو اب میں وہ سخت بدمزہ ہوئی اور آخر اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے باہر کی طرف چل دی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
کل میری چھٹی ہے مطلب پورا دل اس جلاد کریلے کی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی کل کا پورا دن ان کی شکل نہیں دیکھوں گی کتنا مزہ آے گا یاہوووو دل کر رہا ہے ناچوں جھموں ۔۔۔
کس کی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی ؟؟؟؟
ایان افندی کی شک۔۔۔۔۔وہ جو اپنے آپ میں مست کل کی چھٹی کا سوچ سوچ کے خوش ہو رہی تھی اپنے پیچھے سے انے والی گھمبر آواز پے فورن بولی مگر جیسے ہی ۔پلٹی اس کے چودہ طبقے روشن ہوئے تھے کیوں کے سامنے ہی ایان خطرناک تیور لیے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
تم نے میری اجازت لی ؟؟؟؟ ایان نے سرد لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
آپ کی شکل نا دیکھنے کی بھی اب مجھے اجازت لینی پڑے گی کیا ؟؟؟ عبیرہ نے ناک منہ چڑھا کے پوچھا ۔۔۔
چھٹی کے لیے پرمیشن لینی پڑتی ہے تم نے مجھ سے لی ؟؟؟ ایان۔ نے دانت پیس کے سوال کیا ۔۔۔
اس میں پوچھنا کیا تھا کل تو پوری دنیا کو چھٹی ہے اگر آپ کو یاد ہو تو کل سنڈے ہے آنہہہ . ۔وہ منہ چڑھا کے بولی ۔۔
لیکن تمہیں چھٹی نہیں ہے کل ۔ایان نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کے اپنے مخصوص سرد لہجے میں مقابل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیوں میں کیا پاکستان میں نہیں رہتی جیسے کل چھٹی نہیں ہے اور آپ کو یہ کس نے کہا کے میں آپ کی اجازت مانگ رہی ہوں چھٹی کے لیے ۔حق ہے میرا کل چھٹی کرنے کا ۔اس بار وہ بھی تیور چڑھا کے بولی ۔۔۔
نو کل میں کام کر رہا ہوں اس لیے تمہیں چھٹی ن۔۔۔۔
آپ کا کیا ہے آپ تو ہو ہی دماغ سے پیدل کل دنیا میں سب کو چھٹی ہے اب لوگ اسے مناۓ برباد کریں یا اچار ڈالے مجھے کیا لینا دینا اب آپ تو ہے ہی اتنے جیلے آپ کے کام ہی ختم نہیں ہوتے اس میں میری کیا غلطی ہے میں اپنا پورا کام کر چکی ہوں اب جب کام ہی نہیں تو کل کیا میں کانچے کھیلنے اؤ گی ۔۔۔ عبیرہ جو ایک بار شروع ہوئی تو بیچارے ایان کا منہ ہی کھول گیا ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا بولے ۔۔۔
ا اگر کام نکل جائے تو ۔۔ايان نے خود کو سمبھال کے اپنے سامنے کھڑی پٹاخہ کو دیکھ کے کہا
آپ ڈھونڈ لیجیے نکلے گا تو نہ ویسے بھی میں اتنا اچھا کام کرتی ہوں کوئی کمی نہیں نکل سکتا میرے کام میں سے ۔۔ وہ اپنی گردن اکڑا کے بولی ۔۔۔
ايان نے گھور کے اسے دیکھا نقاب کے پیچھے چھپا چہرہ کس کا ہے وہ حق حاصل ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا نہ ہی دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
رومان ۔۔ اس نے کیفے میں اکیلے بیٹھے رومان کو پکارا
ارے آپ یہاں مجھے بولا لیتی “ اس نے حیرت سے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے سامنے کھڑی اس معصوم سی گڑیا کو دیکھ کے کہا ۔۔۔
”تم کلاس میں آے نہیں تھے تو میں نے سوچا کے خود آ کے دیکھ لوں“
”میں بس آہی رہا تھا “ رومان نے مختصر جواب دیا اور ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھاکر اسکے ساتھ چلنے لگا ۔ وہ خاموش تھا تو امبر کو بےچینی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اسے اس کی خاموشی بلکل بھی پسند نہیں آئ آ رہی تھی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے شاید آپ نے میری بات کا ماٸینڈ کیا ہے۔ آٸم سوری، مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ امبر نے شرمندگی سے کہا ۔۔۔۔
پہلے رومان نے اسے حیرت سے دیکھا۔ اور پھر اسے چھوڑ کر واپس کیفے ٹیریا بھاگا ۔ ۔۔۔۔
امبر ہکا بکا کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔تھوڑی دیر بعد وہ واپس ایا تو اسکے ہاتھ میں دو آٸسکریم کے کپ تھے۔
”یہ لیں۔۔۔۔۔“ اس نے ایک کپ امبر کی جانب بڑھایا
”یہ کیا۔۔۔؟“ اس نے حیرت سے پوچھا
میرا بھائی کہتا ہی کہ جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاۓ اور وہ سامنے والے سے معافی مانگ لے تو ہمیں بدلے میں اسے کوئی میٹھی چیز کھلانی چاہیۓ۔
اس لۓ میں آپ کے لۓ یہ لیا ہوں۔ ویسے میں نے آپ کی بات کا برا نہیں منایا تھا۔جب مجھے کسی سے ڈانٹ پڑتی ہے نا تو مجھے بھوک لگنے لگتی ہے۔ بس میں اسے لۓ کیفے آ گیا تھا ۔۔۔۔
”اچھا۔۔۔۔۔“ امبر نے صرف اتنا کہا اور اسکے ہاتھ سے کپ لیا۔
”ویسے ! مجھے بچپن سے ہی آٸسکریم اتنی پسند ہے کہ میں کیا بتاٶ۔ بچپن میں امی مجھ سے آٸسکریم چھپا چھپا کر رکھتی تھی لیکن میں پھر بھی کسی نہ کسی طرح۔۔۔۔۔۔۔“ وہ بولتے بولتے آگے بھر گیا ۔۔۔
افففففف امبر کی بچی کس پاگل نے کہا تھا اس باتوں کی مشین سے معافی مانگ ۔۔۔۔۔اب پکاتا رہے گا یہ مجھے ۔۔۔وہ اس کی چلتی زبان کے جوہر دیکھ ایک جگہ کھڑی ہو کے سوچ رہی تھی۔۔۔
! آپ رک کیوں گئی ۔“ رومان نے اسے پکارا تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی
”میں بس آہی رہی تھی ۔“ اس نے رومان کو جواب دیا۔۔
”لگتا ہے مجھے کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کر لینا چاہئے جس حساب سے یہ بولتا ہے پکا ان قریب مجھے ضرورت پڑنے والی ہے “ اس نے اپنا ماتھا سہلاتے ہوۓ سوچا اور آگے بڑھ گی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ادیان کسی ضروری کام کی وجہ سے لیٹ ایا تھا آفس سے سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا باقی سب بھی کھانا کھانے کے بعد سونے کے لیے چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔
ماہی جو اسی کے انتظار میں اب تک جاگ رہی تھی فورن اس کے کمرے کی طرف آئ ۔۔۔
عدی ۔۔۔۔۔ عدی ۔۔۔۔ماہی اسے زور زور سے پکارتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔
ادیان جو اپنا سر پکڑ کر بیٹھا تھا ماہی کی آواز پر اس نے سر اٹھا کے اسے دیکھا جو کافی فکرمندی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“عدی تم کب آے میں تمہارے لیے کھانا لا۔۔۔ماہی کی نظر جب ادیان پر پڑی تو وہ بولتے بولتے رک گئی ۔۔ادیان کی آنکھیں لال انگار ہو رہی تھی جس سے کچھ پل کے لئے ماہی کو خوف محسوس ہوا
“تمہیں کیا ہوا ہے وہ یکدم پریشان ہو گئی تھی عدی کی حالت دیکھ کے اس لیے فورن اس کے پاس آ کے بولی ۔۔۔۔
“سر میں تھوڑا درد ہے اور کچھ بھی نہیں تم سوئی کیوں نہیں ابھی تک ۔۔۔ادیان نے تکلیف کی وجہ سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس سے سوال کیا جواب تو جانتا تھا مگر پھر بھی پوچھ لیا ۔۔۔۔
“کوئی میڈیسن لی تم نے کھانا کھایا ؟؟؟ وہ اس کا سوال کو نظر انداز کر کے فکرمندی سے بولی
“نہیں لی ٹھیک ہو جائے گا اور میں نے کھانا کھا لیا تھا تم فکر نہ کرو جاؤ سو جاؤ جا کے ۔۔۔ادیان نے ذرا سی آنکھیں کھول کے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گا کوئی جادو ہے کیا تمہارے پاس۔۔۔ ماہی نے تپ کے سوال کیا وہ سخت پریشان تھی عدی کی اس عادت سے ۔۔۔۔
“ادیان جانتا تھا وہ اسے لے کے کتنی احساس ہے اس لیے ہولے سے مسکرایا دیا ۔۔۔
“میڈیسن لے لو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ماہی نے ایک بار پھر کہا
“تمہیں پتہ ہے میں میڈیسن نہیں لیتا۔۔۔ادیان نے بند آنکھوں سے ہی جواب دیا ۔۔۔
اچھا تم یہی رکو میں آئی۔۔ ماہی کہ کے کمرے سے جانے لگی۔۔۔”
“کہاں جارہی ہو۔۔۔؟ادیان نے فوراََ سے اس کی کلائی پکڑ کے پوچھا۔۔۔”
“چپ کر کے بیٹھے رہو آتی ہوں ماہی نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔”
“عجیب لڑکی ہے یہ ۔۔۔ادیان نے مسکرایا ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کر لی ۔۔۔۔
“کچھ دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں دو کپ تھے۔۔۔”
“اس میں کیا ہے۔۔۔؟ادیان نے اس کی آہٹ پے آنکھیں کھولی تو سامنے ہی وہ کپ لیے کھڑی تھی ادیان نے کپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“زہر لائی ہوں کیوں نا آج دونوں اس دنیا کو خیر آ بعد کہ دیں محبت کی ظالم یہ دنیا ہمیں ایک نہیں ہونے دیتی ۔۔۔ماہی نے اپنی دائیں آنکھ کا کونا دبا کر فل ڈرامے انداز میں کہا۔۔۔”
“ادیان اس کے انداز پے مسکرا دیا ۔۔۔
“آج نہیں کہو گے تم سے یہی امید تھی؟۔۔۔ماہی نے ائبرو آچکا کر پوچھا۔۔۔”
“شاید۔۔۔نہیں۔۔۔ادیان نے ایک لمحہ سوچا اور پھر جواب دیا۔۔۔”
“واقع تم بیمار ہو خیر یہ چائے پیو ان شاءاللہ ٹھیک ہوجاؤ گے۔۔۔ماہی نے چائے کا کپ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔
“امید کرتا ہوں۔۔۔ادیان نے مسکراتے ہوئے کپ تھام لیا۔۔۔
فرق پڑا کچھ ؟؟؟؟ماہی نے کچھ دیر بعد پوچھا۔۔۔
“تھوڑا تھوڑا۔۔۔ادیان نے کہتے ساتھ آنکھیں موند لیں۔۔۔
“ماہی نے کچھ سوچا اور اس کے برابر میں بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔
“ادیان نے ماہی کے ہاتھ اپنے ماتھے پر محسوس کیے تو پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔”
“نہ۔۔۔نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے یار ۔۔۔ادیان نے اس کا ہاتھ ہٹانا چاہا۔۔۔”
“خاموش ہو جائے اب ماہی نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور اس کا سر دبانے لگی۔۔۔”
“ادیان جانتا تھا اب اس کی نہیں چلنے والی اس لیے وہ خاموشی سے واپس آنکھیں بند کرلیں۔۔۔
“ماہی کافی دیر تک اس کا سر دباتی رہی ادیان اب سو چکا تھا اور ماہی بھی وہی بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگائے سوگئی۔۔۔”
آدھی رات کو ادیان کی آنکھ کھلی تو اس نے محسوس کیا ماہی کا ہاتھ اب تک اس کے ماتھے پر تھا اس کی نظر بےاختیار ماہی ہر پڑی جو بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگائے دنیا جہاں سے بےخبر سورہی تھی۔۔۔”
“ادیان اسے دیکھ کر مسکرا دیا یہ لڑکی اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی ۔۔۔۔
کتنا سکون تھا اس چہرے میں سوتے ہوئے وہ بلکل بچی لگ رہی رہی ۔۔
ادیان نے اگے ہو کے اسے اپنی باہوں میں بھرا اور اپنے حصار میں بھر کے لیٹ گیا کتنا سکون تھا اسے اپنے پاس محسوس کر کے بےشک وہ لڑکی اس کا عشق تھی ۔۔۔
ادیان نے اگے ہو کے بےخودی میں اس کی پیشانی پے لب رکھے جب وہ نیند میں خسمسائی ادیان نے بھی سکون سے آنکھیں موند لی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
آج بھی صبح معامولی کے مطابق ہی ہوئی تھی اور افندی مینشن میں آج سب لوگ ہی ٹیبل پے موجود تھے جب کے ماہی آج ادیان سے نظرریں چورا رہی تھی
صبح جب نماز کے وقت ماہی کی آنکھ کھولی تو خود کو ادیان کی باہوں میں دیکھ اسے اپنی رات کی گئی غلطی کا شدت سے احساس ہوا ۔۔
وہ ادیان کے اٹھانے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں آ گئی تھی ۔۔۔
ايان نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا اور پھر اپنی بات شروع کی
میں نے ایک فیصلہ لیا ہے امید کرتا ہوں آپ سب میری بات کا مان رکھے گے آپ سب مجھے میرے بچوں کی طرح ہو اس لیے میں چاہتا ہوں اب باری باری آپ سب کا فرض بھی ادا کر دوں ۔۔۔
ايان نے زری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو ہر چیز سے بےخبر بس نیند میں جھول رہی تھی ۔۔۔
ک ۔۔کیسا فرض بھائی
روحان کو ایک دم کچھ غلط ہونے احساس ہوا اس لیے اپنا ہلک تر کرتے ہوا بولا دل شدت سے دعا گو تھا کے جو وہ سوچ رہا ہے ویسا نا ہو ۔۔۔
میرے ایک بزنس پاٹنر کا پرویز ایا ہے زری کے لیے سوچ رہا ہوں انہیں بولا لو۔۔۔
لیکن اتنی جلدی کیا ہے بھائی ابھی تو وہ پر رہی ہے ۔۔۔ ايان کچھ اور کہتا روحان نے بیچ میں ہی اس کی بات کاٹ کے جلدی میں کہا ۔۔۔
زری کی نیند تو بنگ سے اڑی تھی اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا تھا شادی کرنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
تم سب میری زمیداری ہو اور میں جانتا ہوں وہ پڑھنا چاہتی ہے مگر اچھے رشتے بار بار نہیں ملتے زری آپ کو کوئی اعترض تو نہیں میرے فیصلے سے ۔۔ايان نے روحان کو سختی سے جواب دینے کے بعد زری کی طرف دیکھ کے پیار سے پوچھا جو پہلے ہی ہنکے بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
ن ۔۔نہ ۔۔نہیں بھائی م۔۔مجھے کوئی اعترض نہیں جو آپ چاہے ۔۔۔ زری نے اپنے آنسوں ضبط کرتے ہوئے کہا وہ جانتی تھی روحان کے جذباتوں کو مگر وہ ایان کو منا نہیں کر سکتی تھی ایک یہی تو تھا جو ان سب کو ہر سردی گرمی سے بچا کے رکھتا تھا ان کی خاطر اس نے اپنا آپ گوا دیا تھا ۔۔۔
میرا بچا مجھے یہی امید تھی آپ سے اور آج شام وہ لوگ آ رہے ہیں تیاری کر لینا ماہی بچے ايان نے پیار سے اس کے سر پے ہاتھ رکھ کے کہا اور وہاں سے اٹھ کے چلا گیا ۔۔۔۔
روحان نے گھور کے زری کو دیکھا اور تن فن کرتا وہاں سے اٹھ کے نکل گیا ۔۔۔۔
زری بھی سب سے نظرے چوراتی باہر کی طرف نکل گئی اب اسے سکون چاہئے تھا جو صرف اسے ان دونوں کے پاس جا کے ملتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کو کیا ہوا ؟؟؟؟ ان کے جاتے ہی ماہی نے الجھ کے رومان اور ادیان کی طرف دیکھ کے سوال کیا جو ہر چیز فرموش کیے کھانے میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ کے دل اس کا
زوروں سے دھڑکتا ہے ۔۔۔
کسی اور کی چھٹ پے کیوں اس کا چاند چمکتا ہے ۔۔۔۔
وہ ڈوب گیا جانا آنکھوں کے پانی میں ۔۔۔
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو کنارہ ملا ۔۔۔۔
آہہہہہ ظالم بڑا بھائی ہوں کچھ تو شرم کر ۔۔۔ رومی نے اپنا کندھا سہلاتے ہوئے کہا وہ جو سامنے روحان کو دیکھ کے اونچی آواز میں گانا گا رہا تھا روحان نے دور سے ہی گلاس اٹھا کے اس کے کندھے پے مارا ۔۔۔
جعلی انسپکٹر خود تو اس کالی چورنی کے پیچھے پاگل ہوئے پھرتے ہو اور اگر یہاں بچے کو کسی سے عشق ہو ہی گیا ہے تو کیسے جلے پے نمک لگا رہے ہو اور جناب آپ کیا ہی کہنے آپ کے اپنی باری تو کروا لی میری معصوم بہن سے شادی میری باری آئ تو اس جلاد کے سامنے آپ کی چوں نہیں نکلی آپ جیسے ہوتے ہیں بھائی جو چھوٹے بھائی کو اس کی محبت نہیں دلوا سکتے ارے میں پوچھتا ہوں کون سے وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی خواہش پوری کرنے کے لیے بڑے بڑے طوفانوں سے لڑ جاتے ایک آپ دونوں ہو جن سے یہ بابا آ اعظم کے زمانے کے بھائی نہیں سمبھالے جاتے ۔۔
روحان منہ بنا کے اگلی پچھلی ساری کثر نکل رہا تھا اور رومی اور عدی بیچارے اپنا قہقا ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو رہے تھے جب کے ماہی بیچاری تو ابھی بھی شاک میں تھی ۔۔۔۔
اوو تیری گئی بلی تلاب میں تمہیں اس سے کب عشق ہوا ؟؟؟ ماہی نے تو جیسے کچھ اور سنا ہی نہ ہو بات بھی وہ کی جس کا کوئی سر پار ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
یار اپنی بیوی کو سمجھا لے کم سے کم مہاورے کی ہڈیاں تو نا توڑا کرے اور میری اتنی لمبی تحریر میں سے جناب نے پکڑا بھی تو کیا ۔۔۔ روحان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔۔
ہاں تو جب تم اٹھ کے اپنی پکی دشمن کو اپنا عشق بتاؤ گے تو ہم جیسے معصوم لوگ تو ہارٹ اٹیک سے ہی مر جائے گے نا ۔۔
ماہی نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔
بہن تم نہیں لگی اتنی جلدی مرنے اور پلز اب اپنا اپنا دماغ لگاؤ اور بتاؤ یہ رشتہ کیسے روکے ۔۔روحان نے اسے گھورتے ہوئے چپ کروا کے باقی دونوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔۔
دیکھ بھائی اب تو ایک ہی بندی ہے جو ہمارے بھائی کو خوشیوں کی طرف لا سکتی ہے اور وہی ہے جو یہ رشتہ بھی روکوا سکتی ہے ۔
ادیان نے ان تینوں کی طرف دیکھ کے کہا جب ان تینوں کی آنکھیں چمکی ۔۔۔۔
اوو یسسسسس اور وہ ہے عبیرہ بھابھی روحان نے خوشی سے اچھل کے کہا ۔۔۔
جی بلکل وہی ہیں اب بس انہیں کسی طرح یہاں بولنا
ہوگا ۔۔ ادیان نے اس کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اس کی فکر نہ کریں آپ بس دیکھتے جائے وہ آج شام یہاں ہوگی ۔۔روحان نے کمینی سی مسکراہٹ چہرے پے سجا کے کہا
جاری ۔۔۔۔۔