No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
رات کی سیاہی نے ہر سو اپنے پر پھیلا رکھے تھے ۔ ایسے میں وہ تین بلیک اپنی منزل کی طرف بھر رہے تھے۔ ۔۔۔۔
تیز رفتار بائیکز پے سوار وہ ہر چیز سے بےفکر اپنی منزل کی طرف روا تھے ۔۔۔
اپنی منزل کے پاس آ کے انہوں نے آس پاس دیکھا ۔۔۔
کافی گارڈز اور پولیس والے جو اس وقت ڈیوٹی پے موجود تھے ۔۔۔
یہ منظر ایک میوزیم کا تھا جہاں صبح بہت بڑی نمائش لگنی تھی کسی جانے ماننے بزنس مین نے بیس کروڑ کے ہیرو کی بولی لاگنی تھی ۔۔۔۔۔۔
تینوں نے ایک نظر مسکرا کے سب گارڈز کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کا بٹن پریس کیا ۔۔۔
بٹن پریس ہوتے ہی اس میں سے ایک رسی نکلی ۔۔۔
اگلے دو منٹ میں وہ نقاب پوش دوسرے فلور پے تھے ۔۔
ذی نے ایک نظر نیچے دیکھا جہاں ابھی بھی وہ سب ویسے ہی کھڑے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔
وہ نہ میں سر ہلاتا اگے بڑ گیا ۔۔۔
وہ چھپتے چھپاتے ایک کمرے میں داخل ہوئے اور پھر انہوں نے آس پاس نظر گھوما کے دیکھی ۔۔
انہوں یہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئ جس سے انہوں کوئی خطرہ ہو۔۔۔
اے کے راستہ صاف ہے میں لے کے آتی ہوں ہیرے ۔۔ ریبل کہہ کے اگے بھری ۔۔
روکو یہ سب جال بھی ہو سکتا ہے لازمی نہیں جو نظر آے وہ سچ بھی ہو اے کے نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے روکتے ہوئے کہا اور اپنی جیب سے ایک سکہ نکلا پھر ان دونوں کی طرف دیکھ کے سکہ کمرے میں اچھال دیا ۔۔۔۔۔۔
جسے ہی سکہ کمرے میں انٹر ہوا پورے کمرے میں ریڈ لیزر سے جال سا بیچ گیا ۔۔۔
ہمممممم کافی کوشش کی مگر کیا ہے نہ ہمیں پکڑنا بچوں کا کھیل نہیں آاے کے نے سائیڈ سمائل کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اے کے میں جاؤ گی ربیل نے اگے اتے ہوئے کہا ۔۔۔
دھیان سے ہمارے پاس صرف دس سیکنڈ ہے یہ الام بجتے ہی باہر کھڑے گارڈ اندر کی طرف بھاگے گے ۔۔
ہمممممم سمجھ گئی اس نے کہتے ساتھ اپنے کندھے پے ڈالے بیگ سے رسی نکالی ۔۔۔
اس نے رسی گھوما کے چھٹ کی طرف اچھالی جو سیدھا جا کے روشندان سے لگ گئی ۔۔۔
اس نے اپنی طرف کھینچ کے رسی کے پکے ہونے کی تصدیق کی
پھر رسی کو اپنے پیٹ پے باندھ کے باقی دونوں کی طرف دیکھا ۔۔
تیار ہو ڈریگنز اس نے مسکرا کے باقی دونوں سے پوچھا جب وہ بھی مسکرا دیے ۔۔۔
وہ لیزر سے بچتی ہوئی کمرے کے درمیان میں پوہنچی جہاں پے ایک چھوٹا سا پیلر بنا ہوا تھا اور اس کے درمیان میں پڑے ہیرے پوری شان سے چمک رہے تھے ۔۔۔
ہممممم کوشش تو بہت کی مگر افسوس ان پے اب کسی اور کا حق ہے اس نے کہتے ساتھ ہاتھ بھرا کے ہیرے اٹھا لیے ۔۔۔
اس کے ہیرے اٹھتے ہی ہر طرف الام کے ساتھ ساتھ ہلچل سی مچ گئی بہت سے قدموں کی آوازیں اس طرف آتی ہوئی سنائی دی ۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنی کمر پے لگا بٹن پریس کیا جیسے ہی دروازہ کھلا وہ چھٹ پے پوہنچ گئی تھی اس کے پیچھے ہی باقی دونوں بھی تھے ۔۔۔
وہ چھٹ سے ایک سائیڈ کی طرف بھاگی اب انہوں نیچے جانا تھا ۔۔
اس سے پھلے وہ چھٹ سے کودتے پیچھے سے ایس پی کی آواز آئ
روک جاؤ نہیں تو شوٹ کر دوں گا ۔۔۔۔ ایس پی اس وقت شدید غصے میں تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا سب کچھ تبا کر دے ۔۔۔۔
ہمت ہے تو کر کے دیکھ لو اے کے کا اعتماد قابل دید تھا ۔۔ ایس پی نے اس کی ٹانگ کا نشانہ لے کے فائر کر دیا ۔۔۔۔
لیکن اس سے پھلے ہی وہ تینوں اتنی اونچی عمارت سے کود چکے تھے ۔۔۔
نوووو شیٹٹ ایس پی نے غصے سے چیخ کے کہا ۔۔۔
رومان پکڑو انہیں آج یہ مجھے کسی بھی قیمت پے چاہئے کان میں لگے آلے سے وہ رومان پے چیخا ۔۔۔
رومان بیچارہ جو اپنی گاڑی کے پاس کھڑا نیند کا رونا رو رہا تھا ایک دم انے والی آواز پے ڈر کے سیدھا ہوا ۔۔۔۔
ج ۔۔جی سر ۔۔اس نے فورن جواب دیا ۔۔۔۔
جب سامنے ہی اسے وہ تینوں بلیک سایے نظر آے ۔۔۔۔
روک جاؤ نہیں تو گولی چلا دو گا رومان نے ان کی طرف گن کرتے ہوئے تھوڑا سختی سے کہا یہ اور بات تھی کے لاکھ کوشش کے بعد بھی اس کے لہجے میں سختی نہیں تھی ۔۔۔
ریبل نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ مذاق کر رہا ہو ۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔میں سچ میں چلا دو گا گولی اس کی آواز میں موجود کپکپاہٹ ان تینوں نے محسوس کی تھی ۔۔
اوو سیریسلے تو چلاؤ نہ کس نے مانا کیا ہے ۔ریبل نے اپنے ہاتھ سینے پے بندتے ہوئے کہا ۔۔۔
دیکھو خود کو میرے حوالے کر دو نہیں تو۔۔۔
نہیں تو کیا ؟؟؟؟ ربیل نے اس کے پاس آ کے برے پیار سے اس کی گردن میں اپنی بہے ڈال کے پوچھا ۔۔۔
د ۔۔دور ر ۔۔رہو ۔۔وہ خود کو سمبھال کے بولا اتنی سی دیر میں اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے ۔۔۔
کیا ہوا ابھی تو کہا تھا خود کو تمہارے حوالے کر دوں اب کر تو رہی ہوں ۔۔وہ اپنی ہنسی دبا کے بولی اسے مزہ آ رہا تھا رومان کو تنگ کر کے ۔۔۔
م ۔۔میں ک ۔۔کہتا ہوں دور رہ کے بات کرو مجھے یہ سب پسند نہیں وہ اپنی نظرے جھکا کے بولا وہ جانتا تھا یہ لڑکی ہے اور رومان افندی لڑکیوں کی عزت کرنا بھی بہت اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی یہی ادا سامنے والی کے دل کی تار ہلا چکی تھی وہ تو پہلے ہی نہ جانے کب سے مر مٹی تھی اس پے اب اس کا یہ انداز تو قیامت تھا سامنے والی کے لئے ۔۔۔۔
ہممممممم چلو کچھ عرض کرتی ہوں ۔۔ وہ اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوئے بولی ۔۔۔
پیچھے کھڑے دونوں نے اپنے لب دبا کے ہنسی روکی ۔۔۔
یہ آئینہ کیا دیگا تمہیں، تمہاری شخصیت کی خبر💓
کبھی میری آنکھوں سے دیکھو، کتنی لاجواب ہو تم!💓
اس نے رومان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت شریر لہجے میں کہا رومان تو کھو سا گیا تھا جیسے ہر چیز تھم سی گئی ہو اسے یہ تک اندازہ نہیں ہوا کے ریبل اپنا کام کر کے جا چکی ہے ۔۔۔۔
رومان تمہیں کہا تھا وہ ہاتھ سے نا جائے ایک کام نہیں ہوتا تم سے چلو اب جلدی گاڑی نکالو ہمیں ان کا پیچھا کرنا ہے ایس پی نے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آ کے دانت پیس کے کہا زیادہ بھگنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول رہا تھا ۔۔۔
رومان نے ہوش میں اتے ہی اپنی گاڑی کی چابی دیکھی جو اس کے ہاتھ سے غایب تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا چلو بھی اب ایس پی نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔
سر وہ چابی لے گئے رومان سر جھکا کے منمینایا ۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو اور تم کہاں تھے تب ۔۔۔ ایس پی کا تو بس نہیں چل رہا تھا رومان کا خون کر دے
یہی تھا میں نے کہا جانا ہے اور آپ کے بھی تو سامنے سے آے وہ خود نے کون سا تیر مار لیا جو مجھے سنا رہے ہو وہ منہ بنا کے بولا ۔۔۔ یہ کہاں لکھا تھا رومان زیادہ دیر تک چپ رہ جائے
ڈی ایس پی بس اپنا غصہ پی کے رہ گیا ۔۔
🌺🌺🌺🌺
عبیرا اپنے کمرے کی طرح جا رہی تھی جب اسے کاظمی صاحب کے کمرے سے آتی آوازیں سنائی دی ۔۔۔
اندر سے انے والی آواز اسے ہلانے کے لئے کافی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس کی ماں اور بہن اتنی گھٹیا ہو سکتی ہے ۔۔۔ جان تو اس کی تب نکلی جب ان آوازوں میں اسے اپنے باپ کی بھی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔
شدید ضبط سے اس نے اپنی آنکھیں بند کی
اس نے ایک بار سوچا اندر چلی جائے لیکن پھر کچھ سوچ کے پیچھے کی طرف چل دی ۔۔۔ امبر کو آج وہ اپنے ساتھ لے آئ تھی
کچھ دیر بعد سب کھانا کھا رہے تھے اور وہ آج ضرورت سے زیادہ خاموش تھی ۔۔۔
سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ باہر لان میں بیٹھی تھی کچھ دیر پہلے امبر سونے کے لیے چلی گئی جب کے وہ ادھر ہی بیٹھی رہی پھر کچھ سوچ کے اٹھی اور اندر کی طرف چل دی ۔۔۔
اب اس کا رخ امبر کے کمرے کی طرف تھا ۔۔۔
بیئر کیا ہوا خریت تم اس وقت یہاں ۔۔امبر نے اسے دیکھ کے کہا جو رات کے دو بجے اس کے کمرے میں آئ تھی ۔۔۔
ہاں بات کرنی ہے تم سے وہ کہتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور جا کے صوفے پے بیٹھ گئی ۔۔۔۔
امبر نے دروازہ بند کیا جب تک وہ زری کو ویڈیو کال ملا چکی تھی زری بھی نیند کی حالت میں تھی
امبر بھی دروازہ بند کر آئ اور سوالیہ نظروں سے بیئر کی طرف دیکھا جو خود سکون سے بیٹھی تھی ۔۔۔
اس کے دیکھتے ہی بیئر نے اپنی بات شروع کی اور اسے سب بتایا جو جو وہ سن کے آئ تھی اور اپنا پلان بتانے کے بعد اس نے کل شام کو پلان انجام دینے کا کہہ
لیکن بیئر یہ سب کرنا ضروری ہے کیا ہم ویسے ہی ح۔۔۔۔
جو کہ دیا وہی ہوگا تم دونوں اگے کی تیاری کرو ۔۔وہ زری کی بات بیچ میں کاٹ کے دوٹوک انداز میں بولی ۔۔۔۔
دونوں نے مجبوری میں اثبات میں سر ہلا دیا
اوکے سو جاؤ اب تم دونوں وو کہتے ساتھ ان کی نیند اڑا کے خود اٹھ کے چلی گی ۔۔۔
جب کے وہ دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
🌺🌺🌺
صبح وہ سب ناشتے کے ٹیبل پے موجود تھے کاظمی صاحب آج کچھ زیادہ ہی پریشان لگ رہے تھے ۔۔
کیا بات ہے بابا آج آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں عبیرہ نے انہیں ایک نظر دیکھ کے سرسرے سے لہجے میں پوچھا ۔۔
ک ۔۔کچھ نہیں بیٹا بس بزنس کی تھوڑی پریشانی ہے آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہے انہوں نے جبڑا مسکرا کے کہا ۔۔۔۔
اوو اچھا ویسے بابا اپنے سنا رات پھر بیس کروڑ کے ہیرے چوری ہو گئے ویسے میں نے سنا ہے یہ چور صرف ان لوگوں کو لوٹے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں غریبوں کا حق مار رہے ہیں ویسے کتنے گریٹ ہے نہ یہ بلیک ڈریگنز ۔۔۔ عبیرہ نے چھکتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور کاظمی صاحب نے جلدی سے اپنی پیشانی پے ایا پسنا صاف کیا جیسے دیکھ عبیرہ نے ایک زخمی سے سمائل پاس کی اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
اوکے بابا اب ہمیں چلانا چاہئے دیر ہو رہی ہے اور آج شام ہمیں دیر ہو جائے گی کچھ ضروری کام ہے ۔۔۔
عبیرہ نے انہوں دیکھتے ہوئے کہا اور پھر بغیر ان کی طرف دیکھے باہر نکل گئی ۔۔۔
زمل کتنا ٹائم لگے گا تمہیں آیان آفندی سے شادی کرنے میں کچھ بھی ہو جائے یہ شکار ہاتھ سے نہیں جانا چاہئے نو سو کروڑو کا مالک ہے وہ اور جتنا ہمارا نقصان ہو چکا ہے اب ایک وہی ہماری آخری امید ہے نہیں تو کے زی گینگ کے ممبر تو مجھ کہی کا نہیں چھوڑے گے ۔۔۔ ان دونوں کے جاتے ہی کاظمی صاحب نے زمل کی طرف دیکھ کے کہا وہ یہ نہیں جانتے تھے ان کی باتیں کوئی اور بھی سن رہا ہے ۔۔۔۔
بابا بس کل کی رات پھر تو اسے مجھ سے شادی کرنی ہی پڑے گی وہ مکرور مسکراہٹ چہرے پے سجا کے بولی ۔۔۔۔۔
کیسا بےشرم باپ تھا دولت کے لئے اپنی بیٹی سے کیا کروانے والا تھا
عبیرا جو اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی ان کی آواز پے روکی اور نفرت و حقارت سے منہ موڑا اس نے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی یہ لوگ ایسا بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کر کے وہ باہر کی طرف چل دی غم و غصے سے برا حال تھا اس کا ۔۔۔۔۔
اب وہ ساری حدیں توڑ دے گی مگر زمل کی نہ پاک ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی یہ سوچ کے اس نے اپنا موبائل نکالا اور کسی کو کال ملائی
کال پے ہدایت دینے کے بعد وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دی ۔۔۔۔
🌺🌺
بیئر یار کہاں جا رہی ہیں عبیرہ جو اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی پیچھے سے آتی آواز پے روکی اور امبر کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
کہی نہیں بس یہ کچھ ضروری پپیرز ہیں جو اس کھڑوس بندے کو چیک کروانے ہیں اور یہ فائل بھی اسے دینی ہیں جتنا یہ بندا میرا خون جلتا ہے نہ دیکھ لی یے بہت جلد مجھے خون کی بوتل لگنی ہے میں بتا رہی ہوں ۔۔
عبیرہ جو تو موقع ہی مل گیا تھا مسٹر جلاد کو ایک بار پھر ذلیل کرنے کا ۔۔
میں بھی چلو تمہارے ساتھ میں بور ہو رہی ہوں اس بہانے میں تمہارے اس مسٹر ایان عرف جلاد کو بھی دیکھ لوں گی وہ منہ بنا کے کسی معصوم بچے کی طرف بولی جب عبیرہ نے مسکرا کے اسے انے کو کہا ۔۔۔
وہ بھی آ کے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔
یار تمہیں جاب کی ضرورت تو نہیں ہے ویسے تمہارے ڈیڈ کا جو ہے وہ ہمارا۔۔۔۔
نہیں امبر ان کا جو بھی ہے اس میں میرا کوئی حصہ نہیں وہ سمجھتے ہیں میں اپنی حقیقت سے انجان ہوں مگر یہ بات تم بھی جانتی ہو کے میں کچھ نہیں بھولی سب یاد ہے مجھے ۔۔عبیرہ نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
ابھی دو دن پھلے ہی تو اس نے سب کچھ بتایا تھا امبر اور زری کو
اچھا چھوڑ نہ یار سب کیا پتا ہمیں غلطی ہوئی ہو۔
اور ویسے یہ راستہ کہاں کو جاتا ہے امبر نے جان کے اس کا دھیان ہٹانا چاہا ۔۔۔
وہ اس وقت اپنے گھر پے ہیں اور مجھے یہ پیپرز سائن کروانے ہے عبیرہ نے سامنے دیکھتے ہوئے مختصر جواب دیا
همممم ۔۔ امبر نے بس اتنا کہا اور باہر دیکھنے لگی باقی کا راستہ خاموشی سے کٹ گیا ۔۔
کچھ دیر میں گاڑی ایک شاندار محل کے سامنے آ کے روکی
گارڈ بھاگ کے گاڑی کے پاس ایا ۔۔۔
جی میڈم کس سے ملنا ہے آپ کو اس نے نظرے جھکا کے بہت ادب سے پوچھا ۔۔
آیان آفندی سے جا کے کہو عبیرہ آئ ہے اس نے ایک ہاتھ سے اپنے گلاسز اتارتے ہوئے کہا ۔۔۔
اوکے میم ۔۔
وہ کہا کے اندر کی طرف گیا اور پھر کچھ دیر بعد واپس آ کے دروازہ کھولا اس نے اور انہیں اندر انے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
انہوں نے اپنی گاڑی اندر پورچ میں کھڑی کی اور گارڈ کے ہمرہ چلتی ہوئی حال تک آئ جب کے کچن میں ایان کھانا بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔
وہ اکثر ماہی اور زری کو خود کوکنگ سکھاتا تھا آج بھی وہ یہی کام کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
رومان نے انہوں دیکھا تو اس کے سر پے بجلی گری ہو جیسے یہی حال ان دونوں کا بھی تھا ۔۔۔
تمممممممممم امبر چیخ کے بولی ۔۔۔
تمممممم وہ بھی اسی کے انداز میں بولا ۔۔۔
سرکس کے بندر تم یہاں کیا کر رہے ہو امبر نے اسے دیکھتے ہہوئے ناک منہ چڑھا کے پوچھا ۔۔۔
اوو چڑیل تم یہاں کیا کر رہی ہو پہلے یہ بتاؤ نہ رومان بھی اسے کے انداز میں بولا ۔۔
تم دونوں اپنی بکواس بند کرو گئے کچھ دیر کے لیے عبیرہ نے دونوں کو گھور کے دیکھتے ہوئے کہا ۔رومان تک تو ٹھیک تھا مگر اپنی کم گو دوست کی چلتی زبان دیکھ۔اسے سچ میں حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔۔۔
میں نہیں یہ لڑ رہا ہے مجھ سے آنہہہہ بندر کہی کا امبر نے منہ بنا کے دیکھا اسے ۔۔۔
دیکھا دیکھا آپ نے اب بتاؤ لڑ کون رہا ہے رومان نے عبیرہ کو امبر کی بڑبڑاہٹ سناتے ہوئے کہا
عبیرہ اپنا سر پکڑ کے پاس پڑے صوفے پے بیٹھ گئی وہ جانتی تھی اب کچھ بھی ہو جائے یہ دونوں اپنی ہی کرے گے ۔۔
ارے اوو جعلی انسپکٹر کہاں رہ گئے ہو چلو بھی ۔۔روحان جو اپنی مارتا آ رہا تھا سامنے موجود دو لڑکیوں کو دیکھ کے روکا اور پھر سوالیہ نظروں سے رومان کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو ابھی لڑنے میں مصروف تھا ۔۔۔
رومان کیا ہو رہا یہ ایسے بات کرتے ہیں لڑکیوں سے روحان نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
یہ لڑکی نہیں چڑیل ہے رومان نے امبر کو دیکھتے ہوئے دانت پیس کے کہا
ہاں تو تم کون سا کہی کے شہزادے ہو کبھی شیشے میں دیکھا ہے خود کو جن سے کم نہیں ہو آنہہہہ ۔۔وہ منہ چڑھا کے ہاتھ نچا نچا کے بول رہی تھی اور اس کی ہر ادا رومان کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
روحان بیچارہ تو اپنا گھومتا سر پکڑ کے عبیرہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا یہ دونوں تو اس کے اور زری سے بھی زیادہ لڑتے تھے ۔۔۔
ارے آپ ہیں سوری میں نے پہچانا نہیں اس نے عبیرہ کو دیکھتے ہی کہا اسے اچھے سے یاد تھا یہ وہی لڑکی ہے
عبیرہ نے اس کی طرف دیکھ کے اپنی پوری بتیسی دیکھائی روحان بھی حیران تھا آج یہ لڑکی بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔
یار رومی بھائی کہاں رہ گے ہو آپ ۔۔۔۔زری جو اپنی ٹوں میں بولتی آ رہی تھی سامنے عبیرہ اور امبر کو دیکھ کے اس کی چلتی زبان کو بریک لگی ۔۔۔
بیئررررررررر امبررررررررر تم دونوں یہاں وہ خوشی سے چیخ کے بولی اس کی آواز اتنی اونچی تھی کے ادیان ماہی اور ایان بھی بھاگ کے ہال میں آے جہاں وہ ان تینوں ایسے چپک کے مل رہی تھی جیسے پچھلے جنم کی بچاری ہوں ۔۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ماضی “
آج کی رات شاید فاروقی منیشن پے قیامت بن کے ٹوٹی تھی جہاں ہر طرف رات نے اپنی سیاہی پھیلائی تھی وہی وہ تین درندے اپنے آدمیوں کے ساتھ منیشن میں داخل ہوئے جو فاروق صاحب کے وفادار گارڈز تھے انہیں وہ موت کی گہری نیند سلا چکے تھے ۔۔۔۔
فاروق صاحب یہ آوازیں کسی ہیں ؟ جنّت بیگم نے فکرمندی سے پوچھا باہر سے آتی فائرینگ کی آواز ان کا دل کانپ اٹھا تھا ۔۔۔۔
بیگم آپ ہماری بچیوں کا خیال رکھیں ہم دیکھتے ہیں کون ہے ۔۔۔۔
فاروق صاحب اپنی دونوں بچیوں اور بیگم کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس میں موجود تھے عبیرہ کی برتھڈے پارٹی یہی کی گئی تھی ۔۔۔۔۔
فاروق صاحب انہیں کمرے میں چھوڑ کے خود باہر آے جہاں ہر طرف خون ہی خون بکھرا ہوا تھا ۔۔۔
گارڈز کاظمی کہاں ہو سب انہوں نے فورن اپنی گن سمبھالتے ہوئے سب کو آواز لگائی کیوں کے اب وہاں ایسا کوئی انسان انہیں نظر نہیں آ رہا تھا جس سے خطرہ ہو اور یہ خاموشی انہیں کسی بڑے طوفان کے انے کی خبر لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
آرام سے فاروق صاحب اس عمر میں اب کیوں گلہ پھاڑ رہے ہو ۔۔۔ اپنے پیچھے سے انے والی مردانہ آواز پے وہ پلٹے جہاں سامنے ہی وہ شخص چہرے پے کمینی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
تم اور کیا ہے یہ سب ۔۔فاروق صاحب ایک دم غصے سے دھاڑے تھے انہیں ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا انہوں نے اپنی استین میں سانپ پال رکھا تھا ۔۔۔۔
آرام سے کیوں گلہ پھاڑ رہے ہو یہاں کوئی نہیں سنے والا تمہاری ۔۔۔ سامنے بیٹھے شخص نے کان صاف کرتے ہوئے تمسخرا اڑایا ۔۔۔۔
تم اس حد تک گر جاؤ گے نیچ انسان میں نے کبھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔
اوپر جا کے سوچنا جو کچھ بھی سوچنا ہے اب اس شخص نے کہتے ساتھ گولی چلائی جو جا کے فاروق صاحب کے پیٹ میں لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ساری گوليان ان کے جسم میں اتار دی ۔۔۔۔
ی۔۔۔ یہ۔ ۔۔ تم۔ ۔۔ ٹھ۔۔ٹھیک نہیں کیا ک ۔۔کا ۔۔زمی کاظمی ۔۔۔۔
وہ بامشکل ہی بول پا رہے تھے ۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔
