Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

گولیوں کی آواز سنتے ہی میسز فاروق نے اپنے دل پے ہاتھ رکھا یہ سوچ ہی جان لینے کے لئے کافی تھی کے ان کے محبوب شوہر کو کچھ ہو نا جائے ۔۔۔۔
ب ۔۔بی بی جی آپ جلدی چلیں میرے ساتھ ہمیں فورن پیچھے کے راستے سے نکلنا ہوگا کاظمی نے صاحب جی کو دوکھا دیا ہے اور اپنے آدمیوں کے ساتھ مل کے ان کی جان لے لی ۔۔۔۔۔
بوا نے روتے ہوئے بتایا میسز فاروق تو ایک دم سن سی ہو گئی تھی جیسے کسی نے شیشہ پیگلا کے ان کے کانوں میں ڈال دیا ہو دل کر رہا تھا دھاڑے مار مار کے رویے مگر ابھی انہیں اپنی بچوں کی جان بچانی تھی ۔۔۔۔۔
ب۔۔بیئر میرا بچا اپنی بہن کا خیال رکھنا کچھ بھی جو جائے کمرے سے باہر نہیں انا اور آپ کو اس ننھی سی جان کا خود سے زیادہ خیال رکھنا ہے آپ سمجھ رہی ہیں نا میری بات کو ۔۔انہوں نے خود کو سمبھال کے اپنی دونوں معصوموں بچوں کی طرف دیکھ اپنے آنسوں ضبط کرتے ہوئے کہا ۔
عبیرہ نے فورن فرمابرداری سے اثبات میں سر ہلا دیا میسز فاروق نے دونوں کو الگ الگ چھپا دیا وہ جانتی تھی کے اگر عبیرہ پکڑی بھی گئی تو اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا مگر امبر اس کی ۔جان کو خطرہ تھا اس لیے انہوں نے امبر کو یہاں سے بھجنے کا فیصلہ کیا عبیرہ کو اس لیے وہی چھپا دیا کیوں کے وہ جانتی تھی کاظمی اپنے مطلب کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہے گا مگر اس معصوم کی جان لینے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچے گا ۔۔۔
(امبر فاروق صاحب کے دوست کی بیٹی تھی جب وہ پانچ ماہ کی ہوئی تو اس کے ماں باپ اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے فاروق صاحب نے اپنے دوست کی آخری نشانی کو بہت سمبھال کے رکھا تھا ) ۔۔۔۔۔
انہوں نے پچھلے دروازے سے امبر کو شازیہ بوا کے ساتھ بھگا دیا شازیہ بوا یہاں کی پرانی ملازم تھی اور ان کے لئے امبر اور عبیرہ دونوں اپنی بچوں کی طرف تھی ۔۔۔۔
انہیں بھگانے کے بعد ابھی میسز فاروق پلٹی ہی تھی کے ہوا کی چیرتی ہوئی ایک گولی آ کے سیدھا ان کے سینے میں لگی ۔۔
بول کہاں ہے تیری بچی نہیں تو تیری جان لے لو گا جلدی بول ۔۔۔ کاظمی غصے سے دھاڑ رہا تھا مگر میسز فاروق کے چہرے پے سکون دیکھ اسے اور آگ لگی ۔۔۔۔
دوسری گولی اس نے ان کے پیٹ میں ماری ۔۔۔۔
آہہہہ جب وہ درد سے کرہ اٹھی تھی ۔۔۔
بول کہاں ہے ۔۔۔ کاظمی کی نظر جب اسٹڈی روم پے گئی تو اس کے چہرے پے مکروہ مسکراہٹ آئ جسے دیکھ کے میسز فاروق کا سارا سکون ہوا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
حال
زری تم یہاں کیسے وہ بھی اس جلاد کے گھر عبیرہ نے ایان کی طرف ایک نظر دیکھ کے ناک منہ چڑھا کے زری سے پوچھا ۔۔
ارے یار یہ میرے بھائی ہیں ایان بھائی جن کے بارے میں۔
میں نے تم دونوں کو بتایا تھا مگر تم یہاں کیسے زری نے جواب دینے کے بعد الٹا اسی سے سوال کیا ۔۔
کیا یہ بندا تمہارا بھائی ہے قسم سے زری مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے یہ بتاتے ہوئے کے تمہارا یہ بھائی ایک نمبر کا جلاد کھڑوس سڑا کریلا ہے عبیرہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اسے بتایا ۔۔۔
باقی سب کے ساتھ ساتھ ایان بھی منہ کھول کے کھڑا تھا ۔
خود تو جیسے تمہارے منہ سے شہد ٹپک رہا ہے ہنا ۔۔ایان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔۔
آپ چپ رہے ابھی ذرا میں اپنی دوست سے بات کر لوں اس نے فورن ایان کو حکم دیا اور ایان بیچارہ منہ بنا کے چپ ہوگیا یہ دوسرا جھٹکا تھا ان سب کے لئے ايان افندی کسی کی بات مان کے چپ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
کیا مطلب تم جس انسان کی بات کر رہی تھی یہ وہی ہیں زری نے رازداری سے پوچھا ۔۔
ارے ہاں یار یہی ہے وہ بندا جس نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے وہ ناک منہ چڑھا کے بولی کافی بیزار لگ رہی تھی ۔۔
ارے بیٹھ جائے آپ سب آپ کا اپنا ہی گھر ہے ۔۔۔ عبیرہ نے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔جو منہ کھول کھڑے تھے ۔۔۔۔
ايان کا بس نہیں چل رہا تھا اسے اٹھا کے کہی دور پہنک آے مطلب کیا عجیب لڑکی تھی حد ہی ہوگی ساری غلطی اس کی نکل کے خود کتنے آرام سے اپنا پلا چھوڑوا گئی تھی ۔۔
نہیں یار یہ میرے بہت سویٹ بھائی ہیں ۔۔۔زری نے پیار سے ایان کی طرف دیکھ کے کہا اس کے لہجے میں اپنے بھائی کے لئے محبت ہی محبت تھی ۔۔۔۔۔
آنہہہ سویٹ نہیں کڑوا کریلا بولو جب بھی بولے گے کڑوا ہی بولے گے قسم سے بہن بس دو دن صرف دو دن میں اس بندے کے ساتھ رہتے ہوئے میں تو پاگل ہی گئی۔۔۔
میڈم آپ پہلے سے ہی پاگل ہیں آپ کو پاگل کرنے کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں اور کیا آپ میری بہن کو میرے خلاف کر رہی ہیں ایان نے اس کی چلتی زبان میں بیچ میں کاٹ کے دانت پیس کے کہا آخر کب تک برداشت کرتا اس کی باتیں ۔۔۔۔۔
جیسے آپ کے کام ہے نہ مجھے تو ضرورت ہی نہیں کسی کو آپ کے خلاف کرنے کی آے بارے میرے بہن بھائیوں کو میرے خلاف نہ کر دینا ۔۔عبیرہ نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا ۔۔۔ایان نے دانت پیس کے اپنے سامنے بیٹھی کالی آنکھوں والی لڑکی کو گھورا جس کے باقی چہرے پے نقاب تھا ۔۔۔
لڑکی تم ۔۔۔۔
افففف تمہارے بھائی کو اتنا بڑا آفس دیا کس نے ایک میرا نام تو انہیں یاد نہیں ہو رہا ایا بڑا میرا باس تمہیں پتا ہے بات بات پے یہ آدمی مجھے اپنے باس ہونے کا روب دیکھتا ہے عبیرہ نے ناک چڑھا اس کی شکایات لگائی سب کو ۔۔۔۔
ادیان اور روحان کا تو قہقا ضبط کرنے کے چکر میں پورا چہرہ لال ہوگیا تھا جب کے ماہی اور رومان اپنا پیٹ پکڑ کر کے ہنس ہنس کے پاگل ہو رہے تھے ۔۔۔
ہوگیا آپ کا مس عبیرہ تو پلز وجہ بتاے گی اپنے تشریف لانے کی آیان نے دانت پیس کے پوچھا اب اس کو برداشت جواب دے گئی تھی ۔
اوو ہاں میں تو بھول ہی گئی تھی میں کیوں آئ تھی ۔ دیکھا زری تم نے تمہارا یہ بھائی مجھے کسی دن پاگل کر دے۔۔۔۔
مس عبیرہ کام کی بات کریں ایان نے دانت پیس اس کی چلی زبان کو بریک لگائی ۔۔۔
مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ کے منہ لگنے کا میں تو بس اپنی دوست کو آپ کے الٹے کام بتا رہی تھی آنہہہ سڑا کریلا ۔۔وہ منہ بنا کے بولی اور ایک فائل اس کے سامنے کی جسے ایان نے پکڑ لیا ۔۔۔
امبر کے میسج کی توں بجی جب اس نے میسج پڑھنے کے بعد ان دونوں کی طرف دیکھا آنکھوں سے اشارہ کرنے کے بعد امبر نے ایان کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
بھائی کیا میں زری کو اپنے ساتھ لے جاؤ امبر نے انتہائی نرم لہجے میں پوچھا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔مختصر جواب ایا رومان کی طرف سے ابھی ایان اپنے لب کھولنے ہی لگا تھا کے رومان نے منا کر دیا ۔۔۔
تم تو چپ ہی رہو تم سے کسی نے پوچھا نہیں ہے امبر نے اسے گھور کے کہا اور پھر ایان کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
امبر کوئی ضرورت نہیں ہے سڑے ۔ کریلے سے پوچھنے کی اس نے مانا ہی کرنا ہے اور مسٹر ہم اپنی دوست کو لے جا رہے ہیں بائے ۔۔۔
وہ اپنی سنانے کے بعد زری کا ہاتھ پکڑ کے ساتھ کھنچتے ہوئے لے گئی پیچھے ایان اس کی ہمت پے عش عش کر اٹھا ۔۔۔
ویسے بھائی لڑکی ٹکر کی ملی ہے مزہ آے گا اب تو رومان نے اس کے جاتے ہی اس کی پست دیکھ کے کہا مگر جیسے ہی نظر ايان کے چہرے پے پڑی وہاں سے بھگنے میں ہی آفت جانی ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
محبت اتنی زور آور ہوتی ہے کہ جو بھی اس کے حصار میں آتا ہے اس کا قیدی بن جاتا ہے۔ تاعمر قیدی جس کے لیے کوئی رہائی نہیں ہوتی۔
پتا ہے ایک عرصہ بیت جانے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں بھی اس گھیرے میں آ کے تمہارے دل کا قیدی بن گیا ہوں۔
جسے اب اس دنیا کی کوئی بھی چیز تسخیر نہیں کرسکتی۔ جیسے جیسے وقت بیتا جا رہا ہے میرا وجود تم میں ڈھل کر تمہاری پرچھائی بنتا جا رہا ہے۔ میری آنکھوں میں تمہاری ذات کا چمکتا دیا اب مزید روشن ہونے لگا ہے اور روشنی بھی ایسی جو دیکھنے والوں کو اپنا اسیر کر دے۔ ۔۔۔
جانتی ہو لوگ جب میری آنکھوں کی تعریف کرتے ہیں تو میں آئینے میں انہیں دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ تم مجھ سے کبھی جُدا ہی نہیں ہوئیں کیونکہ جُدا ہو جانے والے تو کسی کی ذات میں اِس طرح بسیرا نہیں کیا کرتے جس طرح تم میرے اندر سما گئی ہو۔ ۔۔۔
یا شاید لازوال محبت کی داستانیں ہمیشہ ایسی ہی ہوا کرتی ہیں جن میں جدائی کی ڈور کھینچ جانے کے باوجود مقابل کی بچی کچی راکھ ہمارے اندر ہی کہیں رہ جاتی ہے۔۔۔۔
عجب تو یہ ہے کہ جب کبھی میرا سانس گھٹنے لگتا ہے تو میں تمہیں اپنے تخیل میں لا کر تم سے ہم کلام ہو جاتا ہوں اور تمہاری آواز کے طلسم میں گرفتار ہو کر خود کو خوش قسمت سمجھنے لگتا ہوں۔ تمہاری سحر انگیز آواز کے حصار میں قید ہو کر میں دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہوں۔تمہاری کھلکھلاتی ہنسی مجھے زندگی جینے کی طاقت دیتی ہے اور یہی میرے مسکرانے کی وجہ ہے۔
لیکن تم میرے جذبات سے بے خبر ہو۔ اگر تمہیں میرے ان احساسات کی خبر ہو جائے تو تمہیں اپنا آپ قابل رشک لگنے لگے گا اور لگنا بھی چاہیے کیوں کہ تم چاہے جانے کے قابل ہو۔
وقت کی ریت مُٹھی سے پھسل جانے کے باوجود میں تم سے اپنی چاہت کا اقرار نہیں کر سکتا کیونکہ میں تمہیں وہ اذیت نہیں دینا چاہتا جو برسوں سے اکیلا سہتا آ رہا ہوں.
اور جانتی ہو۔۔۔
محبت کیسی ہونی چائیے۔۔۔
محبت ایسی ہو جس میں الہام ہوں۔۔۔۔
جس میں ایک کی تکلیف دوسرے کو ہے قرار کر دے۔۔۔۔
جس میں محبت کی شراکت داری یکساں ہوں۔۔۔
جس میں روٹھنا ہے تو منانا بھی ہو۔۔
کیونکہ روٹھ جانا سنت عائشہ اور منا لینا سنت رسول ہے۔۔۔
جہاں تکرار ہو تو جینا محال ہو جائے۔۔۔
محبت ایسی ہو۔۔۔
جسے دیکھ کے لوگ کہیں اللہ انھیں کبھی الگ نہ کرے۔۔۔
جس میں محبوب اول ہو۔۔۔۔
محبت ایسی ہو۔۔۔
جس میں ایک دوسرے کے بنا رہنے كا تصور نہ ہو۔۔۔
محبت تو بچوں کی طرح لاڈ کرنے کا نام ہے۔۔۔
جس میں زندگی کا دارو مدار ایک انسان کے گرد گھومے۔۔۔۔
لوگ دیکھیں تو کہیں۔۔۔ اف اللہ یہ دونوں۔۔۔
کہا لکھا ہے۔۔۔
محبت ازیت ہے ؟.
محبت تو ایک دوسرے کے درد سمیٹ لینے کا نام ہے۔۔۔
محبت تو یہ ہے جاناں
جہاں ستانا ہو جہاں پاگل پن ہو۔۔ جہاں مستی ہو۔۔۔
جہاں زندگی کے سنہرے رنگ بھر دینے والے دو لوگ ہوں۔۔۔
جہاں اپنی دنیا ہو۔۔۔
کھٹا میٹھا رشتا ہے محبت۔۔۔۔
المختصر ۔۔۔
محبت ایسی ہو۔۔
جس میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہو ۔۔
کہ دونوں میں سے کون زیادہ محبت کرتا ہے۔۔۔
اور اگر آپ کی محبت ایسی ہے۔۔۔
تو مبارک ہو۔۔۔
آپ محبت کے اعلیٰ درجے په ہیں۔۔۔
شہزادی
میں بھی بلکل ایسی محبت کرتا ہوں تم سے تم صرف میری ہو صرف و صرف میری زری ۔۔۔
میں تمہیں بتا نہیں سکتا میرے دل میں تمہارے لیے کتنی محبت وہ دن بھی آے گا جب تم صرف میری ہو کے اس گھر میں اؤ گی اس دن میں دنیا کے سامنے اپنی محبت کا اکرار کرو گا ۔۔۔۔۔۔
روحان کھڑکی میں کھڑا چاند کی روشنی میں اس کے عکس کو دیکھ رہا تھا اور خود سے ہم کلم تھا وہ اس وقت کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تھا ۔
یہ کہنا بھی غلط نہیں تھا کے وہ دیوانہ تھا زری کا اس کے عشق میں پاگل عاشق و دیوانگی کی ہر حد پار کرنے کو تیار تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
‏ہمیں نا اپنی خواہشات کو محدود کرنا پڑتا ہے بہت سی خواہشات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ۔۔۔۔
بہت سے خوابوں کو آنکھوں میں دفن کرنا پڑتا ہے –
جہاں ہماری جگہ نہیں وہاں سے خود کو کھیچ کر نکلنا پڑتا ہے اذیت کو پیروں تلے کچلنا پڑتا ہے خواہ مخواہ قہقہے لگانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر زندگی گزرتی ہے.۔۔۔
آج پھر یہ رات ایان پے نہ جانے کتنے ظلم لے کے آئ تھی تکلیف تھی کے کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
شاید آج کی رات اس کے درد کی آخری رات تھی کل کا سورج اس کی زندگی میں روشنی کی نئی کرن لانے والا تھا یا شاید کل سے اس کی زندگی ہی بدلنے والی تھی۔۔۔۔
ابھی اسے سویے کچھ دیر ہی گزاری تھی کے اس کا فون بجا جسے سنتے ہی وہ فورن آفس کی طرف بھگا ۔۔۔
جاری ۔۔۔