No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
صائم اپنے کچھ آوارہ دوستوں کے ساتھ یونی کے گیٹ پے کے پاس کھڑا تھا ہاتھ میں سیگرٹ پکڑے وہ بھی ایک طرح کا آوارہ ہی لگ رہا تھا
زری جو اپنے مخصوص سٹائل میں یونی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی اپنے سامنے صائم کو دیکھ اس کے بھرتے قدم رکھ گئے ۔ وہ عبیرہ کو امبر کے پاس چھوڑ کے خود یونی آئ تھی ۔۔۔
صائم جو اس کے سامنے بازو کیے کھڑا تھا زری نے اسے ایک آئ برو اچکا کے دیکھا جیسے پوچھنا چاہتی ہو یہ کیا بتمزی ہے ۔۔۔
چلو میرے ساتھ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے بولا ۔۔
کیا بتمزی ہے یہ صائم چھوڑو میرا ہاتھ وہ غصے سے غرائی تھی دل کسی انہونی کے ڈر سے زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔
آج نہیں میری جان آج تمہیں میری ہر بات مانی ہوگی چلو میرے ساتھ ورنہ تمہیں کہی منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ابھی تو بہت سے حساب نکالنے ہیں تم سے اپنے صائم نے اسے گھورتے ہوئے کہا اس کا ہاتھ پکڑ کے ایک طرف بھرا ۔۔۔۔
صبح صبح کا وقت تھا یونی میں بہت کم سٹوڈنٹ موجود تھے جس کا فائدہ آج صائم نے اٹھایا ۔۔۔۔
وہ مسلسل خود کو اس کی گیرف سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کی پکڑ بہت مضبوط تھی ۔۔۔
صائم میرا ہاتھ چھوڑو پلرز ۔صائم کی پکڑ کافی سخت تھی زری کو اس کی انگلیاں اپنے ہاتھ میں پستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی شدید درد کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھر آئ تھی مگر آج صائم حیوان بنا سب کچھ بھلا چکا تھا ۔۔۔
سنا نہیں تو نے اس نے کہا ہاتھ چھوڑ تو مطلب ہاتھ چھوڑ اس کا ۔۔۔۔
اچانک سے روحان نے صائم کے سامنے اتے ہوئے کہا زری کی آنکھوں میں موجود آنسوں اس کے بھرتے غصے کو ہوا دے رہے تھے شدید ضبط سے اس نے اپنی آنکھیں باندھ کر کے کھولی ۔۔۔
اپنے سامنے روحان کو دیکھ ایک بار تو صائم کانپ اٹھا تھا پچھلی بار کا حال یاد کر کے مگر جلد خود کو سمبھال کے بولا ۔۔۔
کیوں تیرا کیا جاتا ہے میں اس کا ہاتھ پکڑروں یا ۔۔۔وہ معنی خیز سے بولا اور اپنی بات ادھوری چھوڑ دی اور شاید یہی اس نے غلطی کر دی ۔۔۔
روحان نے شدید غصے میں اس کا ہاتھ اتنی زور سے پکڑا کے خود با خود اس کے ہاتھ کی گیراف زری کے ہاتھ پے کم ہوتی گئی ۔۔۔
اور ایک پنچ مر کے اسے زری سے دور کرنے کے بعد روحان نے زری کا ہاتھ پکڑا جو لال سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کے سامنے کھڑی اپنی جان عزیز محبت کو دیکھا جس کی آنکھوں میں درد کی وجہ سے آنسوں بھرے ہوئے تھے ۔۔۔
یہاں اس کے دیوانہ پین کی انتہا ہوئی تھی ۔۔۔
اس نے دوبارہ کچھ نہیں دیکھا اور صائم اور اس کے دوستوں کو مارنا شروع کر دیا ۔۔۔
مار مار کے انہیں آدھ مرا کرنے کے بعد اس نے وہاں موجود سب سٹوڈنٹ کی طرف دیکھا جو ابھی وہاں جمع ہوئے تماشا دیکھ رہے تھے ۔۔۔
پھر سب کو اگنور کے اس نے زری کی بازو پکڑی اور وہاں سے تن فن کرتا نکل گیا ۔۔۔
زری ابھی تک شاک میں تھی اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کے روحان نے اس کے لیے لڑائی کی آج اس کی آنکھوں میں اپنے لئے کچھ الگ ہیجذبات محسوس کر کے زری کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ۔۔۔۔
بیٹھو روحان نے اسے بینچ پے بیٹھنے کو کہا وہ اسے گراؤنڈ میں لے ایا تھا جہاں فلحال کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔
زری بھی چپ کر کے بیٹھ گئی ۔۔۔
اپنے بیگ سے ٹیوب نکال کے وہ اس کے ہاتھ پے لگا رہا تھا زری تو کہی کھو سی گئی تھی ۔۔۔
سی ۔۔۔ اس کے منہ سے ایک ہلکی سی سسی نکلی جب روحان نے اس کی بازو کو نرمی سے چھوا چھوا روحان کے ہاتھوں کا لمس اپنی کلائی پے محسوس کر کے اس کی دھڑکیں تیز ہو رہی تھی وہ فلحال اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔
خود پے نظروں کی تپش محسوس کر کے روحان نے سر اٹھا کے اسے دیکھا جو اس کے چہرے میں کھو سی گئی تھی ۔۔
کیا ہوا پہلے کبھی ہینڈسم لڑکا نہیں دیکھا جو یوں ٹار رہی ہو ۔۔روحان نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے اسے زچ کیا ۔۔
اس کی آواز پے وہ بےساخت نظریں چورا گئی اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا ۔۔۔
شکل دیکھی ہے کبھی اپنی ایا بڑا ہینڈسم وہ منہ بنا کے بولی اپنی خجل مٹانے کے لئے ۔۔۔۔
اوو شکل پے نہ جانا ساری یونی کی لڑکیاں مارتی ہیں مجھ پے روحان نے گردن اکڑا کے کہا ۔۔۔
آنہہہ ایا بڑا وہ منہ بنا کے بولی اور اٹھ کے چلی گئی آج اسے روحان کی نظرے کنفیوژ کر رہی تھی ۔۔۔۔
بہت جلدی میری ہیروئن پھر صرف تم میرا ہی نام لیا کرو گی جتنی محبت میں تم سے کرتا ہو تم بھی کرو گی ۔۔اس کے جاتے ہی روحان خود سے بڑبڑایا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
آج رات بارہ بجے لڑکیاں ٹینک کے زاریہ دبئی بھجی جانی تھی ۔۔۔
وہ تینوں اپنے مخصوص سٹائل میں آدھا گھنٹہ پہلے ہی اس جگہ پے پوھنچ چکی تھی ۔۔۔
ریبل دوربین سے علاقے کا جائزہ لے رہی تھی ۔اور زی اور اے کے نے اپنی پوزیشن سمبھال رکھی تھی ۔۔۔۔
اپنی اپنی پوزیشن سمبھال لو ٹینک آ رہا ہے ریبل جلدے سے زمین پر پڑا بیگ اٹھا کر پہنتے ہوئے بولی وہ دونوں بھی ہوشیار ہو کر اپنی اپنی پوزیشن سمبھال چکے تھے۔۔۔
جب انہیں احساس ہوا وہاں اور کوئی بھی ہے ۔۔۔
لیکن فلحال انہوں کسی بھی طرح یہ سب ہونے سے روکنا تھا ۔۔۔
دوسری طرف رومان کی ٹیم اس جگہ کو گھیرے میں لے چکی تھی تاکہ کسی طرف سے بھی ان کے لیے راہ فرار نہ ملے…
اے کے تم رائٹ سائڈ جاؤں اور زی تم لفٹ سائڈ میں اور میں سامنے سے وار کرتی ہوں ریبل نے دونوں کو ان کی پوزیشن بتاتے ہوئے کہا
نہیں تم سامنے سے نہیں جاؤ گئی ریبل یہ میرا ارڈر ہے سے کے نے سخٹ لہجے میں کہا
زی سر ہلا کر ایک سمت بڑھا مگر ریبل وہی کھڑی تھی…
جاؤ بھی ابھی تک یہں کھڑی ہو…
اے کے نے غصے سے گھور کر اسے بولا ٹینک قریب آ رہے تھے دوسری طرف سے بھی گاڑیوں اور ٹرک کی آوازیں سنائ دے رہی تھیں… مگر وہ ضدی انداز میں وہی کھڑی تھی ۔۔۔۔
میں اس طرف نہیں جاؤں گی میں سامنے کی طرف سے وار کروں گی…
ریبل جتنے آرام سے بولی اے کے کو اتنا ہی اس پر غصہ ایا ….
پاگل ہو کیا بہت رسک ہے یہاں کوئی بھی گولی آخری گولی ثابت ہو سکتی ہے جاؤ تم چپ کر کے اس طرف…
اے کے نے دانت پیس کر ایک طرف اشارہ کیا .
کیا کر رہے ہو تم دونوں مرنا ہے کیا چھپ جاؤ اپنی اپنی جگہ پر جا کے ۔۔۔۔
رومان جو انہوں پہچان چکا تھا جلدی سے بولا وہ اتنا تو جانتا تھا یہ یہاں کس کام کے لئے آے ہیں ۔۔۔۔
اس نے جب دونوں کو اڑییل گھوڑے کی طرح کھڑے لڑتے ہوئے دیکھا تو غصے سے پاس آ کے بولا
تم یہاں کیا بات ہے آج تم وقت سے پہلے پوھنچ گئے منا پڑے گا پولیس زمیدار ہو رہی ہے آہستہ آہستہ ریبل نے اسے دیکھتے ہی طنزیہ انداز میں کہا ۔۔۔
ہم اپنا حساب پھر کبھی دیکھ لیں گے پہلے ان کو دیکھ لیں رومان نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
اوکے ریبل جاؤ تم اس طرف اے کے نے رومان کو جواب دینے کے بعد پھر ریبل کو مخاطب کیا ۔۔۔
مجھے چھپ کر وار کرنا پسند نہیں میں ہمیشہ سامنے والے کی آنکھوں میں دیکھ کے وار کرتی ہوں
ریبل ایک نظر رومان کو دیکھ کر اے کے سے بولی…
اب ٹینک کا فاصلہ بامشکل اتنا ہی تھا کہ کسی بھی وقت وہ یہاں پہنچ سکتے تھے …
اے کے اور رومان غصے سے اسے دیکھ کر جلدی سے دوسری طرف جھاڑیوں میں گم ہو گئے
ریبل نے جلدی سے بیگ سے کیل نکال کر سڑک پر ڈالے کسی ماہر لڑکی کی طرح درخت پر چڑھنے لگی , اے کے اور زی تو جانتے تھے اسے رومان بس حیرت سے اس آفت کے پریا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
افففف کیا چیز ہے یہ لڑکی وہ خود سے بڑبڑایا
یہ سڑک پے کیل ڈالنے والا تو رومان کے زیہن میں تھا ہی نہیں ….جو بھی تھا یہ لڑکی سب کا دماغ گھما سکتی تھی…
جیسے ہی ٹینک وہاں سے گزرے کیلوں نے اپنا کام دیکھایا جس کی وجہ سے انکو ٹینک روکنے پڑے …
دوسری ٹیم کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اپنی بھی گاڑیاں اور ٹرک لیے وہی پر گئے اب وقت تھا کہ مشن شروع کیا جاتا…
ریبل آرام سے درخت سے گاڑی کے چھت پر اتری .
ایک نظر سب کو دیکھ کر گاڑی سے نیچے اتری اور جھک کر ایک ایک گاڑی کی چابی نکال کر بیگ میں رکھتے ہوئے مسکرائ گدھے کہی کے وہ آنکھوں میں چمک لے کے بولی …یہ سب اس نے اس قدر ہوشیاری سے کیا کے رومان کی ٹیم تک کو خبر نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔
اب کیسے جاؤ گے بھاگ کر گدھو بھنسے جیسے وجود میں عقل نام کی تو چیز ہے ہی نہیں …ریبل دل ہی دل میں ان سے محاطب ہوئی …
سر کسی نے سڑک پر کیل بیچھا رکھے ہیں اسی وجہ سے ٹائر پنکچر ہوئے ہیں….
ابھی رومان سب کی پوزیشن دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کو ایک آدمی کی آواز سنائ دی…
آر یو ریڈی؟
رومان کی مائیکرو فون سے آواز ابھری…
نہیں کوئی بھی ابھی باہر نہیں آئے گا جب تک میں نہیں بولتی .
اے کے کے جواب دینے سے پہلے ہی ریبل نے سختی سے کہا
اے کے اور زی پیچ و تاب کھا کے رہ گئے
جلدی سے گاڑیاں سٹارٹ کرو لگتا ہے کسی نے جال پیچھا رکھا ہے. ان میں سے ایک نے سب کو کہا وہ
سب بوکھلاہٹ میں گاڑیوں کی جانب بڑھے…
ریبل پاگل ہو کیا وہ سب بھاگ جائیں گے. ہماری ساری محنت بےکار جائے گی
ذی چیخ کر بولی…
شٹ اپ منہ بند رکھو چابیاں نکال لیں ہیں میں نے …ریبل نے کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں
وہ دانت پیس کے بولی…
اب ایک بار تو تینوں کو جھٹکا لگا یہ لڑکی سچ میں ان سے چار نہیں دس ہاتھ آگے تھی…
سر چابیاں کہاں ہیں …
سب گاڑی کے ڈرائیور سر باہر نکالے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے.
میرے پاس ہیں سب کی چابیاں…
اے کے کی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائ …
سب کی نگاہیں آواز کی جانب اٹھی جہاں ریبل روڈ کے بیچ میں سکون سے کھڑی ببل چبا رہی تھی ۔۔۔۔
اے کے زی اور رومان سر پیٹ کر رہ گئے ..
افففففف کیا ضرورت تھی سامنے آنے کی مروائے گی یہ لڑکی کبھی کوئی سیدھا کام نہیں کر سکتی پتا نہیں کیا سوچ کے تم لوگوں نے اسے چوری کی ڈگری دی تھی
رومان نے غصے سے زی اور اے کے کو کہا ۔۔۔
مسٹر چوری کی کوئی ڈگری نہیں ہوتی اور مجھے نہ سکھاؤ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں چپ کر کے اپنا کام کرو اے کے ۔کے جواب دینے سے پہلے ہی کان میں لگے آلے میں ریبل کی سرد آواز گونجی ۔۔۔۔
اے کون ہے تو ؟؟؟؟
ان میں سے ایک آدمی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
تم سب کی موت یہ اب تم لوگ خود سوچ لو کیسے مارنا چاہتے ہو ۔۔۔ وہ سکون سے جواب دینے کے بعد ہاتھ باندھ کے کھڑی ہوگی
غصے سے اس کی آنکھیں سرخ انگارہ بن چکی تھی نقاب میں صرف اس کی آنکھیں ہی نظر آ رہی تھی
ہاہا ہاہا ایک لڑکی مارے گی ہمیں چل دیکھ لتے ہے کتنا دم ہے تجھ میں ۔۔ان میں سے ایک کہتا ہوا اگے بھرا رہا تھا پھلے وہ ڈر گے تھے مگر لڑکی کی آواز سن کے انہیں تھوڑا حوصلہ ہوا آخر ایک لڑکی کر بھی کیا سکتی ہے
اگے مت بڑھنا گندی پرورش کی کیڑے ورنہ اتنی گولیاں تمھارے سینے میں اتاروں گی کہ گنتی بھی نہیں کر پاؤ گے…ریبل غراتے ہوئے بولی…
یہ سب کیا چل رہا ہے….
ان سب کا باس چنگھاڑا….
بھونک مت کتے تیرے بھونکنے سے یہ شیرنی ڈرے گی نہیں…سمجھا مختصر یہ کہ تم لوگوں کی بربادی کا وقت مقرر ہو چکا ہے اب تمھارا پالا کسی نمک حرام سے نہیں ڈریگنز سے پڑا ہے
پیٹھ پیچھے وار کر کے خود کو بڑا مرد سمجھتے ہو…
اگر ہمت ہو تو سامنے سے وار کیا کرو بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں گناہوں کا کاروبار خوب چمکا رہے ہو…
وہ غصے سے غرائی تھی
بس بول لیا تم نے؟ اب میری سنو موت کو تم بلا رہی ہو ایک چیونٹی کی خثیت رکھتی ہو تم ہمارے لیے یوں مسل دیں گے…
ان کا بوس ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولا….
ریبل کا اس کی بات پے چہٹ پھاڑ قہقا کونجا …وہ
ہنس ہنس کر پیٹ پکڑے وہی سڑک پر بیٹھ گئی….
سب حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے لیکن اگلے ہی پل ریبل دونوں طرف سے پسٹل نکال کر سیدھی ہوتے چلائ …
نعرہ تکبیر.
اور ساتھ ہی دونوں پسٹل سے فائرنگ شروع کر دی …
مقابل گھبرا کر ادھر ادھر چھپنے کے لے بھاگے…
مگر …..اللہ اکبر کی گھونج کے ساتھ ہی چاروں طرف ٹیم نکل کر میدان میں آ چکی تھی.
ریبل کیوں کے سامنے ہی کھڑی تھی سامنے سے آتی گولی اس کے بازو کو چھو کر گزر گئی…
ایک پل کو ریبل کا سر چکرایا مگر اگلے ہی پل وہ درخت کی آڑ لے چکی تھی…
رومان کی پوری ٹیم میں بھی سب نے ماسک پہن رکھے تھے۔۔
ریبل نے بھی درخت کی آر میں چھپ کر گلے میں لٹکے بیگ سے زہریلی گیس کے گولے نکال کر ان کی طرف پھینکی..
اگلے کچھ منٹوں میں سب وہاں ڈھیر ہوئے پڑے تھے….
رومان کی ٹیم اکھٹی ہو کر سب لوگوں کو اپنی گاڑی میں ڈال رہی تھی تاکہ کال کوٹھڑی میں ڈال کر ان سے مزید معلومات لے سکیں….
زی ریبل کہاں ہے…
اے کے کو جب ریبل نہ دیکھی تو زی
سے پوچھا
پتا نہیں میں نے اسے نہیں دیکھا ابھی تک یہی کہی ہوگی
زی نے پریشانی سے کہا
دونوں پریشانی سے ادھر ادھر اسے تلاش کر رہے تھے جب رومان کی نظر درخت سے ٹیک لگائے بیٹھی ریبل پر پڑی جو بازو کو دبائے ہونٹوں کو باہم جکڑے شاید درد کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی…
ڈریگنز وہ رہی ریبل
بولتے ساتھ وہ تینوں اس کی طرف بھاگے…
تم ٹھیک ہو؟
ریبل کو دیکھ کے اے کے نے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔۔
ہیں ٹھیک ہوں سونے کے لیے بیٹھی تھی یہاں دیکھ نہیں رہا گولی لگی ہے….
ریبل نے ان سب کو پریشان دیکھ کر بات کو مذاق میں ٹالنا چاہا
شٹ اپ…
اٹھو یہاں سے اب ۔۔۔
اے کے نے اسے ڈانٹ کر کہا اور اسے سہارا دے کر اٹھایا
رومان اسے غصے سے گھور رہا تھا…
بڑی اماں بن رہی تھی اب بھگتو
میں سامنے سے جاؤں گی…
رومان نے اسکی کی نقل اتارتے ہوئے بولا.
بعد میں لڑ لینا آپ مجھے درد ہو رہا ہے. اور کبھی وقت پے اپنا کام بھی کر لیا کریں مسٹر رومان وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
زی اسے گاڑی میں لے کے جاؤ اے کے ریبل کو گھورتے ہوئے زی کو کہا
ان کے جاتے ہی اے کے نے رومان کی طرف دیکھا جو ابھی بھی ریبل کی پست کو گھور رہا تھا ۔۔۔
چلے مسٹر اب اگلی ملاقت اگلی چوری پے ہوگی۔۔۔۔۔
بہت جلد اب تو میں بھی جانا چاہو گا ڈریگنز آخر ہے کیا اتنا تو میں بھی جانتا ہوں اتنی لڑکیوں کی عزت بچانے والے کبھی غلط نہیں ہو سکتے ۔۔۔
اے کے کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی رومان نے کاٹ دی ۔۔۔
ضرور کیوں نہیں اوکے مسٹر ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
