Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

تھکا دینے والی رات کے بعد رومان صبح پانچ بجے گھر ایا اور اتے ساتھ ہی سو گیا ابھی اسے سوے مشکل سے کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے کے اس کی آنکھ کھول گئی ۔۔۔۔
جب نظر اپنی بیگم پے جاتے ہی وہ فورن اپنا بسٹر چھوڑ کے اس کے پاس پوھنچا ۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہیں آپ ؟؟؟؟
رومان نے اسے تیار ہوتا دیکھ کے سوال کیا کیوں کے رومان جب ایا تھا اسے محسوس ہو گیا تھا امبر بخار میں تپ رہی ہے اس نے اسے اٹھنا چاہا مگر وہ اپنی ذرا سا ہی کسمسائی۔ ۔۔۔
یونی جا رہی ہوں ۔مختصر جواب ایا مصروف انداز میں ۔۔
آپ کہی نہیں جائے گی رومان نے سختی سے منا کیا پیار سے تو مانے گی نہیں ۔۔
میں نے آپ سے پوچھا نہیں مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں نا ہی میں نے آپ کو اتنا حق دیا کے آپ مجھ پے پابندیاں لگا سکے ۔۔ امبر نے سخت لہجے میں دانت پیس کے کہا اور وہاں سے جانے لگی ۔۔۔
رومان نے اس کی بازو پکڑ کے اسے دیوار سے پن کیا یہ سب اتنی جلدی ہوا کے امبر کو سمجھ ہی نہیں آئ ۔۔
آہہہہ چھوڑو پاگل انسان ۔۔۔ درد کی ایک لہر سی اٹھی تھی اس کی بازو میں اس لیے کرا کے بولی ۔۔
رومان نے پہلے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں درد کا ایک جہاں آباد تھا لیکن آنسوں کہی نہیں تھے ۔۔
اور پھر بازو کی طرف دیکھا جہاں اسے کچھ گیلا گیلا محسوس ہو رہا تھا اس نے جب اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر بےیقینی سے امبر کی طرف دیکھا جو اس سے نظریں چورا رہی تھی ۔۔۔
ی یہ چوٹ کیسے لگی آپ کو ؟؟؟ دیکھاؤ مجھے رومان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا اور ساتھ ہی اس کا زخم دیکھنا چاہا ۔۔۔
نہ۔۔نہیں چوٹی سی چوٹ ہے ٹھیک ہو جائے ہی خودی مجھے دیر ہو رہی ہے آپ راستہ چھوڑے میرا وہ کہتے ساتھ اسے ایک سائیڈ پے کر کے تیز تیز قدم اٹھاتی باہر کی طرف بھری ۔۔۔
رومان بس اس کی پست کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
کہاں جا رہی ہو تم ۔۔۔ ابھی وہ ہال سے گزر کے باہر کی طرف ہی جا رہی تھی جب زری نے اسے تیزی سے باہر کی طرف قدم اٹھا دیکھ کے کہا
یونی مختصر جواب دے کے وہ پھر سے بھرنے لگی۔۔۔
زری بھی اپنی یونی ہی جا رہی تھی مگر راستے میں اسے دیکھ کے روک گئی
امبر آج تم یونی نہیں جاؤ گی گھر ہی رہو دیکھو نہ کتنا تیز بخار ہے تمہیں یار کچھ تو خیال کرو اپنا ۔۔۔
زری نے اسے پیار سے سمجھنا چاہا اس کے لہجے میں فکر اور پیار دیکھ کے امبر ہلکا سا مسکرائی ۔۔
مگر امبر میڈم نے کہاں مانی تھی آج تک کسی کی تو آج سنتی ۔۔
یار میں بلکل ٹھیک ہوں تم فکر نہ کرو ویسے بھی آج ضروری کام ہے جانا ضروری ہے اوکے شام کو ملے گے وہ جلدی سے زری کے گال چوم کے وہاں سے بھاگی جانتی جو تھی اگر زری اپنی آئ پے آ گئی تو وہ بےبس ہو جائے گی ۔۔۔۔
اففف یہ لڑکی کب سمجھے گی پیچھے زری جھجھلا کے بولی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
امبر کے جانے کے بعد وہ بھی یونی آ گئی تھی مگر اب اس کی بےچین نظریں کب سے اس دشمن جان کو ڈھونڈ رہی تھی جو کل رات سے نا جانے کہاں غایب تھا اس کا آج کہی بھی دل نہیں لگ رہا تھا اور ایسا کیوں ہو رہا ہے یہ بات وہ مانے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اففففف مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے میں کیوں کل سے اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں کہی مجھے اس سے محبت ۔۔۔۔ نہیں نہیں زری ایسا کچھ نہیں ہے تو بس اس کا شکریہ کرنا چاہتی ہے اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔
وہ کب سے اپنی کلاس میں بیٹھی اسے ڈھونڈ رہی تھی جو نہ جانے کہاں رہ گیا تھا آج تو زری کا دل کسی اور ہی لیے پے دھڑک رہا تھا ۔۔
افففف یہ آ کیوں نہیں رہا آخر کہاں رہ گیا ۔۔
اسے خود پے غصہ آ رہا تھا مگر دل نے کب کسی کی سنتا ہے ۔۔
🌺🌺🌺🌺
ايان اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب اس کی سیکٹری دروازہ ناک کر کے انداز آئ ۔۔۔
سر وہ آج آپ کی مسٹر کاظمی کے ساتھ میٹنگ ہے ۔۔
کتنے بجے ۔۔ اس نے مصروف سے انداز میں پوچھا ۔
سر ایک گھنٹے بعد ۔۔
اوکے آپ تیاری کریں جا کے ۔۔ اس نے ایک نظر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کے کہا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا مطلب صاف تھا کے وہ اب جا سکتی ہے ۔۔۔
ثانیہ وہی کھڑی نروس سی اپنی انگلیاں مرور رہی تھی ۔۔۔
کیا بات ہے مس ثانیہ کوئی کام تھا آپ کو ۔ایان نے فائل بند کرتے ہوئے اسے دیکھ کے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔
و وہ سر کاظمی سر کی طبیت خراب ہونے کی وجہ سے میٹنگ آج ان کی بیٹی اٹینڈ کریں گی ۔۔۔ ثانیہ نے ڈرتے ڈرتے بتایا وہ جانتی تھی ايان اس بات کے لیے کبھی نہیں مانے گا
کینسل کر دیں میٹنگ ۔۔۔۔ اس نے ناگواری سے کہا شدید ضبط سے اس نے اپنے جبڑے بیچھ لیے تھے ۔۔۔۔
سر آج اگر ہم نے میٹنگ کینسل کی تو ہماری کمپنی کو نقصان اٹھنا پڑے گا ۔۔۔ثانیہ نے اسے دیکھتے ہوئے ڈرتے ڈرتے کہا وہ اچھے سے جانتی تھی اپنے بوس کو جیسے زمل جیسی لڑکیوں سے انتہا کی نفرت تھی ۔۔۔۔
ہممممم آپ تیاری کرے میٹنگ کی کچھ دیر سوچنے کے بعد ایان نے بیزاری سے کہا اور ایک بار پھر سے فائل میں جھک گیا ۔۔۔۔
پہلے اسے عبیرہ کے نا انے کی فکر ستا رہی تھی اوپر سے یہ زمل وہ سخت بیزار تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ۔۔۔۔۔
وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب ایک بار پھر دروازہ ناک کر کے ثانیہ اندر آئ ۔۔۔
سر آپ کی میٹنگ کا وقت ہو گیا ہے ۔۔
ہممم چلو وہ کہتے ساتھ کھڑا ہوا اور میٹنگ روم کی طرف چل دیا ۔۔۔
آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی تھی بلیک ڈریس میں وہ کہی کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا آنکھوں میں سردپن تھا مسکرانا تو جیسے اس نے کبھی سیکھا ہی نہ ہو ۔۔۔
جیسے ہی اس نے میٹنگ روم کا دروازہ کھولا سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا ۔۔۔
زمل تو اسے سامنے دیکھ ایک بار پھر اپنا دل ہار بیٹھی تھی ۔
وہاں آفس کا اور بھی ستاف موجود تھا مگر زمل کو کیسی شرم وہ بس بےشرموں کو طرح اسے ٹار رہی تھی ۔۔۔
ايان نے بھی آ کے سب کو مشترکہ سلام کیے اپنی جگہ پے سمبھال لی ۔۔
بیٹھے۔۔۔۔ اس نے زمل کو دیکھ کے دانت پیس کے کہا جو اسے دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کے اپنے آس پاس کی ہر چیز فرموش کر چکی تھی ۔۔۔۔
ایان کی آواز۔پے ہوش میں آئ اور اپنی جگہ پے بیٹھ گئی ۔۔۔۔
میٹنگ شروع کریں اس نے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
اور روم کی لائٹ اوف کر دی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی اور بات کرتا میٹنگ روم کا دروازہ ایک بار پھر کھلا ۔۔۔
اور کوئی لڑکی بلیک ہی ڈریس میں بلیک حجاب کیے اپنی مغرور چال چلتی ہر چیز سے بےفکر اندر داخل ہوئی ایسے جیسے آفس اس کی مالکیت ہو ۔۔
ایان نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا لائٹ بند ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ آندھرے میں تھا ۔۔۔۔
ایان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کے وہ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
کون ہیں آپ اور اندر کیسے آئ ايان ایک دم غصے سے دھاڑا ۔۔۔
آرام سے چمکادڑ اور
میرے بغیر میٹنگ شروع کر دی ویسے مجھے نہیں پتا تھا آپ اتنے بیوقوف بھی ہیں میٹنگ کرنے چلے بھی تو کس کے ساتھ جیسے یہ تک نہیں پتا کے وہ کمپنی کس کے نام ہے وہاں کی اونر کون ہے۔۔۔ اس نے طنزیہ انداز میں زمل کی طرف دیکھ کے کہا
ویسے پتا نہیں کیا سوچ کے بابا نے آپ کے ساتھ ڈیل کی ہوگی ۔۔۔۔ اس نے ايان کی طرف دیکھ کے ایک بار پھر افسوس ظاہر کیا
ایان آواز سن کے بےساخت کھڑا ہوا تھا اس آواز کو تو وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتا تھا اور یہ بات کرنے کا انداز تو صرف ۔۔۔ اگے وہ کچھ سوچ بھی نہیں سکا
میں ہوں عبیرا کاظمی کاظمی گروپ اوف کمپنی کی اونر ۔۔
وہ بولتے ہوئے تھوڑا اگے ہوئی اور اپنا ہاتھ ایان کی طرف بھریا ۔۔۔۔
ایان کی تو جیسے دنیا روک سی گئی تھی سامنے کھڑی لڑکی وہی تو تھی جس میں بچپن سے اس کی جان بسی تھی اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں جس لڑکی کو وہ رب سے مانگتا ایا تھا وہ آج اس کے سامنے کھڑی تھی اور قدرت کا کرشمہ یہ کے وہ اس پے ہر حق رکھتا تھا ایک منٹ لگیا تھا اس نے یہ جانے میں کے وہ اور کوئی نہیں عبیرہ ايان افندی ہی ہے ۔۔۔۔۔۔
مگر وہ یہاں سب کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا اسے اس لیے جلدی خود کو سمبھال کے اس نے ثانیہ کی طرف دیکھا اسے کچھ اشارہ کرنے کے بعد وہ لمبے لمبے دنگ بھرتا میٹنگ روم سے نکل گیا کتنا مشکل تھا اپنے دل پے بند باندھنا یہ وہی جانتا تھا مگر وہ کسی کے سامنے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا تھا جو عبیرہ کے لیے غلط ثابت ہو کیوں کے کوئی نہیں جانتا تھا یہی ہے وہ ہستی جو ايان افندی پے ہر حق رکھتی ہے وہ اسے دنیا کے سامنے اپنا بنا چاہتا نہ کے اسے رسوا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی ثانیہ نے ان سب کی طرف دیکھا ۔۔۔
سوری آج سر کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں اس لئے میٹنگ کینسل کی جاتی ہے ۔۔۔
اور مس عبیرہ آپ میرے ساتھ چلیں وہ سب کو کہتے ہوئے بیئر کو اپنے ساتھ لے کے ایان کے آفس میں آئ جہاں وہ بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
وہ تن فن کرتی اندر داخل ہوئی جہاں سامنے ہی وہ اپنی جگہ پے بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
عبیرا کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا اسے سامنے بیٹھا انسان اس وقت زہر ہی لگ رہا تھا جس نے اس کا اتنا وقت برباد کر دیا ۔۔۔۔۔
ایان تو اپنے سامنے اسے دیکھ کہی کھو سا گیا تھا ۔۔۔
اس کے ایک ایک نقش کو اپنی پياسی نظروں سے چھو رہا تھا ۔۔۔
کمر سے نیچے تک اتے بھورے گھنے بال ۔ وہی نرم و نازک لب
سمندر سے گہری جھیل جیسی بلیو آنکھیں جن کے سحر میں وہ آج تک تھا آنکھ کے پاس موجود تل جس کا وہ ہمیشہ سے دیوانہ تھا ۔۔۔۔۔
جن میں اس وقت بلا کا غصہ لیے وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
گھورنا بند کریں مجھے خود کے پاس تو کوئی کام ہے نہیں پورا دن یہ کرسی توڑوا لو ان سے اور آج کا میرا اتنا امپورٹنٹ دن آپ کے چکر میں برباد ہوگیا ۔۔۔ وہ غرائی تھی کیوں کے ایان کا اسے یوں دیکھنا اسے ناگوار . گزارا تھا ۔۔۔
بیٹھ جایں آپ کا ہی آفس ہے میسز ایان۔ ۔۔۔ ایان اس کی آواز پے ہوش میں اتا ہوا بولا ۔۔۔۔
زیادہ غلط فہمیاں نہ پالے مسٹر یہ نہ بھولیں کے آپ کو مجھ جیسی لڑکی کے ساتھ نہیں رہنا نا ہی آپ کو عادت ہے اس سب کی ۔۔
وہ بھی اسے گھورتی ہوئی غرائی اور بیٹھ گئی ۔۔
آنہہہ ٹھرکی۔۔ لوفر کہی کے بلکل ٹھیک سوچتی ہوں میں ان کے بارے میں وہ خود سے بڑبڑائی ۔۔۔
آواز اتنی تھی کے ایان نے باآسانی سن لی وہ ہلکا سا مسکرایا شاید وہ آج پہلی بار ہی اتنے خوبصورت انداز میں مسکرایا ہو ۔۔۔
آپ کیا لیں گی میسز ایان افندی انتہائی نرم لہجے میں پوچھا میسز ايان پے زور دے کے پوچھا گیا ۔۔۔
دیکھیں مسٹر آپ کام کی بات کریں مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے وہ مصروف سے انداز میں بولی فلحال وہ خود کو سیریس ظاہر کر رہی تھی جو کے اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی پھر بھی کوشش کرنی لازمی تھی ۔۔
ایسا بھی کیا کام ہے آپ کو جو آپ ایک مگ كافی نہیں پی سکتی ۔۔اپنے شوہر ناچیز کے ساتھ ايان نے ناروٹھے پن سے کہا
میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی سمجھے جلاد اب نا آ ۔۔۔۔
يان دیکھو نہ یہ تمہاری دو کوڑی کی پی اے مجھے اندر نہیں انے دے ر۔۔۔۔ عبیرا کی بات کو زمل نے اندر اتے ہوئے کاٹا وہ جو بیغر روکے بولتی آ رہی تھی سامنے ہی اپنی دشمن اول کو دیکھ کے روکی ۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔زمل نے اسے گھورتے ہوئے نہوست سے پوچھا اسے تو یہ تھا بیئر چلی گئی ہوگی ۔۔۔
یہی سوال میں تم سے بھی کر سکتی ہوں زمل کاظمی کے تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔وہ بھی اسی کے انداز میں بولی ۔۔۔۔
مس زمل آپ جائے یہاں سے مجھے مس عبیرہ سے ضروری بات کرنی ہے ایان نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
نہیں يان میں یہاں تم سے بات کرنے آئ ہو اور ایسے میں نہیں جاؤ گی وہ بھی کہتے ہوئے آ کے اپنی سیٹ سمبھال چکی تھی ۔۔۔۔
مس آپ کو جو کہنا ہے آپ بعد میں کہنا ابھی یہاں سے جائے وہ دانت پیس کے بولا غصے کی ایک تیز لہر اٹھی تھی اس کے اندر بس نہیں چل رہا تھا منہ ٹور دے اس لڑکی کا ۔
مسٹر ایان میں یہاں آپ سے میٹنگ کرنے آئ ہوں اور وہ کیے بغیر اگر میں چلی گئی تو میرا تو کچھ نہیں جائے گا ہاں البتہ آپ کا بیس کروڑ کا نقصان ہو جائے گا اور جتنا میں جانتی ہوں آپ اتنے بیوقوف بھی نہیں کے اپنا اتنا نقصان کریں ۔۔ زمل نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
عبیرہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا کیوں کے اپنا بزنس وہ خود سمبھالتی تھی اور رہی بات کاظمی صاحب کی تو ان کا بزنس تو ڈوب رہا تھا پھر زمل کس بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
آہہہ بولیں کیا بات کرنی ہے آپ کو وہ ایک سرد آہ بھر کے بولا ۔۔۔۔
آپ نے جس کنٹریکٹ پیپرز پے سائن کیا تھا کل ۔۔۔ اس نے ايان کو یاد کروایا کل اس کے آفس کے ورکر نے ایک فائل پے سائن کروایا تھا اور پہلے پیج کے علاوہ پوری فائل پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی
تو ؟؟؟ ايان نے ناسمجھی سے پوچھا
وہ کوئی بزنس کے پیپرز نہیں تھے بلکے وہ میرے اور آپ کے ناجائز اولاد کے پیپرز
اس میں صاف لکھا ہے کے آپ کو مجھ سے شادی کرنی ہوگی کیوں کے آپ میرے بچہ ک ۔۔۔۔
بند کرو اپنی بکواس اور دفع ہو جاؤ یہاں سے میں ابھی اتنا بھی کمزور نہیں ہوا کے بیس کروڑ کے پیچھے تم جیسی دو کوڑی کی لڑکی کو اپنا ہمسفر بنا لوں اور کس اولاد کی بات کر رہی ہو تم کسی اور کا گناہ میرے سر پے نا ڈالو
وہ ایک دم غصے سے دھاڑا تھا آنکھیں شاید ضبط سے لال انگار بن رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے بیٹھی لڑکی کا حشر کر دے ۔۔۔
عبیرہ نے بےیقینی سے اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا جو اس حد تک گر گئی تھی ۔۔۔
کول مسٹر يان اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا اگے بھی سن لیں پھر فیصلہ کریں وہ پھر ایک ادا سے بولی مگر ایان کے تن بدن میں آگ لگا چکی تھی ۔۔۔
چلو ڈیل کرتے ہیں ایک آپ مجھ سے شادی کر لو کیسا ؟؟؟وہ چہک کے بولی
اگر آپ یہ ڈیل کینسل کرتے ہیں اور شادی سے انکار کرتے ہیں تو میں آپ پے کیس کر سکتی ہوں کیوں کے ان پیپرز میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کے آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی ہے
وہ پھر زہرلی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔۔
ایان کو اس کی مسکراہٹ زہر لگ رہی تھی ۔
عبیرا ہر بات سے بےخبر اپنے موبائل میں مصروف تھی مگر دل میں آگ سی لگ گئی رہی جس آگ میں وہ زمل کو جلا کے خاک کر دینے والی تھی ۔زمل کے چپ ہوتے ہی اس نے دونوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔
ویل مسٹر ایان میں نے ایسا کوئی کنٹریکٹ نہیں بنوایا یہ آپ کا اور مس زمل کا مسلہ ہے آپ دونوں خود ہینڈل کریں مجھے چلنا چاہئے۔۔
وہ کہتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی اور باہر کی طرف چل دی کچھ دیر اور وہاں روکتی تو شاید اپنا غصہ کنٹرول نا کر سکتی ۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی ایان نے ایک قہر برستی نظر سامنے بیٹھی لڑکی پے ڈالی اور وہاں سے تن فن کرتا نکلا ۔۔۔
زمل اپنے پلان کی کامیابی پے کمینی سے مسکرائی ۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔