No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
کون ہے آخر یہ بلیک ڈریگنز اس سال میں میرا کروڑوں کا مال لوٹ کے لے جا چکے ہیں اور تم لوگ آج تک انہیں پکڑ نہیں سکے پولیس کے نام پے گدھوں کی فوج بھرتی کر رکھی ہے سرکار نے ۔۔۔
شبیر شیخ انتہائی غصے میں تھے کل ہی ان کے بینک اکاؤنٹ سے دس کروڑ کی چوری ہوئی تھی اور چور پولیس کی آنکھوں کے سامنے سے ایسے غایب ہوئے جیسے وہاں تھے ہی نہیں ۔۔۔۔
سر ہم پوری کوشش کر۔۔۔۔
تم تو رہنے ہی دو ایس ایچ او رومان میں تو حیران ہوں تمہیں فورس میں بھرتی کس پاگل نے کیا ہے ۔۔رومان کی بات کاٹ کے وہ دانت پیس کے بولے ۔۔۔
ایا برا تمہیں بھرتی کس نے کیا۔۔ علاج ہے تیرا سالے میں تو چاہتا ہوں اگلی بار بھی تیرے ہی گھر چوری ہو رومان منہ میں اسی کے انداز میں بڑبڑایا آواز اتنی آہستہ تھی کے بس پاس کھڑا ایس پی ہی سن سکا ۔۔۔
کچھ کہا تم نے شبیر شیخ نے رومان کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
نہیں سر میری اتنی ہمت کہا کے آپ کو کچھ کہ سکوں وہ جبڑا مسکرا کے بولا ۔۔۔
مجھے ہر حال میں میرے پیسے واپس چاہئے تم سب کے پاس صرف دو دن کا وقت ہے جہاں سے مرضی انہیں ڈھونڈ کے لاؤ شبیر شیخ نے ایس پی کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ج ۔۔جی سر ہم پوری کوشش کریں۔۔۔
کوشش نہیں مجھ میرے پیسے چاہئے نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں وہ دہمکی دیتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
آہہہہ بول کے تو ایسے گیا ہے مجھ سے برا کوئی نہیں جیسے پہلے اچھا ہونے پے میڈل ملے ہوں ۔۔۔۔ رومان کی زبان کہاں اندر رہ سکتی تھی ۔اس لیے فورن بڑبڑایا ۔۔۔۔
ایس پی غصے سے رومان کو گھور رہا تھا ۔۔۔
ایسے تو نہ دیکھے سر نظر لگ جائے گی مجھے رومان نے شرمانے کی ناکام ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
آپ اپنی ڈیوٹی پے کب سیریس ہوگے پچھلے ایک سال سے ہم یہ تک نہیں پتا لگا سکے کے یہ بلیک ڈریگنز آخر ہے کون ۔۔۔
ایس پی کا غصے آسمان کو پوھنچ گیا تھا ۔۔۔۔
چھوڑے نہ سر غصہ وہ کون سا بھاگ رہے ہیں پکڑ لیں گے انہیں آپ بھی نہ مجھ معصوم کے پیچھے ہی پر گئے ہو چلو کھانا کھاتے ہیں وہ بول کے جانے لگا جب پاس پڑا فون بجا ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
ایس پی کال اٹینڈ کرتا اس سے پہلے ہو رومان نے کال اٹھا لی اور ساتھ ہی شروع ہوگیا ۔۔۔۔
ہیلو انسپکٹر رومان آفندی سپیکیگ اگر آپ نے ٹائم پاس کے لیے فون کیا ہے تو میں پہلے ہی بتا دو میں بلکل بھی فری نہیں اگر یہاں کوئی ویلا نكما ہے تو وہ ہمارے ایس پی صاحب ہے جو اس وقت بات کرنے کے موڈ نہیں بیچارے کی کہی بھی عزت جو نہیں ہے گھر میں بیوی کی باتیں اور یہاں لوگوں کی دو کوڑی کی عزت نہیں ہے پھر بھی ہمت دیکھو جناب کی روز منہ اٹھا کے آ جاتے ہیں آنہہہ خیر دفع کرو انہیں ۔۔۔
اگر آپ نے میری خوبصورتی سے فدا ہو کے فون کیا ہے تو بھی میں آپ کو بتا دو کے میں ایک انتہائی شریف گھرانے سے ہوں مجھے نہیں پسند یہ سب آپ ہمارے ایس پی پے ٹرائئ کریں مانتا ہوں ان کی شکل دیکھ کے لوگ لعنتے بھجتے ہیں مگر پھر بھی ان کا بھی دل ہے آپ انہیں پے ٹرائی کریں اگر پھر بھی آپ کا دل میرے لیے ہی دھڑک رہا ہے تو آپ میرے گھر عزت سے رشتہ بج دیں مجھے کوئی اعترض نہیں ہوگا ۔۔۔
اپنی اتنی عزت پے ایس پی نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا کے دیکھا وہ تو جل بھون گیا تھا اور اس کے ہاتھ سے فون چینے والے انداز میں لیا جو سامنے والی کی سنے کے بجاے اپنی مار رہا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی ایس پی نے فون کان کو لگیا اس کی تو دنیا ہی گھوم گئی دوسری سائیڈ والا بھی شاید کچھ زیادہ ہی تپ گیا تھا رومان صاحب کی باتوں سے ۔۔۔
ابے الو کے خاندان کی آخری اولاد کبھی شیشے میں اپنی بوتھی دیکھی ہے بلکل سرکس کے بندر لگتے ہو کبھی غلطی سے بھی رات کو اپنی شکل نہ دیکھ لینا خود کو شیشے میں دیکھ کے ہارٹ اٹیک سے ہی مر جاؤ گئے آنہہہہ ایا برا پنے خان کیا کہا تھا فری نہیں ہوتا ہڈحرام انسان تیرے پاس کام ہی کیا ہے پہلے یہ بتا ۔۔۔
بولنے سے پہلے یہ تو سوچ لے نکمے آج تک کیا ہی کیا ہے تو نے ۔۔۔
میں نے تجھ سے تیرا حال پوچھنے کے لیے فون نہیں کیا اگر ایک باپ کی اولاد ہے تو روک کے دیکھائی کل رات ٹھیک بارہ بجے ہیروں کی چوری ہوگی اوپن چیلنج ہے یہ بلیک ڈریگنز کا تیری ناک کے نیچے سے اڑا لے جائے گے ہم سو کروڑ کے ہیرے دم ہے تو روک کے دیکھا سرسرا سا لہجہ تھا آواز پہچانا مشکل تھا کیوں کے وائس چینج کر کے کال کی گئی تھی ۔۔۔
اس نے کہتے ساتھ ہی فون رکھ دیا جب کے ایس پی تو ان کی ہمت پے عش عش کر اٹھا تھا اور اپنی اتنی بیزتی پے رومان کا خون کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔
کال ٹریس کرو فورن ایس پی نے ہوش میں اتے ہی چیخ کے رومان کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
سر پرائیویٹ نمبر تھا رشید نے رومان سے پہلے ہی انہوں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
شیٹٹٹٹٹٹ ایک اور نکامی ایس پی نے غصے سے سامنے پڑے ٹیبل پے مکا مارا ۔۔۔
بول تو ایسے رہتا جیسے برا کما تھا پھلے ۔۔۔ رومان کی زبان ایک بار پھر سے پھسلی تھی ۔۔۔۔
رومان پورے شہر میں ناکا بندی کروا دو کسی پے بھی شک ہو تو فورن اریسٹ کرو ۔۔ ایس پی نے گھورتے ہوئے رومان کو ایک اور حکم دیا وہاں سے تن فن کرتا چلا گیا ۔۔۔۔
آنہہہ ایا برا خود بس موٹے کو آرڈر دینا ہی اتا ہے میں تو جیسے اسی کام کے لیے ایا تھا یہاں ایک بار یہ بلیک ڈریگنز میرے ہاتھ لگ جائے کچا چبا جاؤ گا انہیں تو جان عذاب میں ڈالی ہوئی ہے ۔۔۔ رومان نے دانت پیس کے کہا اور اپنے کام میں لگ گیا ۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
یار اے کے مجھے تو نہ انسپکٹر رومان پے بہت ترس اتا ہے ۔۔فون بند ہوتے ہی زی نے اے کے کی طرف دیکھ کے کہا
ہاہا ہاہا ہاہا اور میں یہ سوچتی ہوں اسے کس پاگل نے رکھ لیا ہوگا ایک سال میں جتنا ہم نے رومان افندی کو ذلیل کیا ہے کوئی اور ہوتا تو کب کا بھاگ گیا ہوتا پولیس کی نوکری چھوڑ کے ۔۔۔اے کے ۔کے جواب دینے سے پہلے ہی ریبل نے جواب دیا ۔۔۔
ہاں یار بیچارہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے لیکن پھر بھی ہار نہیں مانتا اس لئے سوچا اس بار اوپن چیلنج کیا جائے اب اتنا حق تو وہ بھی رکھتا ہی ہے کیوں ۔۔۔اے کے نے ان دونوں کی طرف دیکھ کے آنکھ دبا کے کہا ۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا اس آندهرے میں ان سب کا قہقا گونجا
🌺🌺🌺🌺
ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں جیو نیوز اسی کے ساتھ میں آپ کو بتاتی چلو کے کل رات بلیک ڈریگنز نے ایک اور چوری کی آخر کون ہے یہ لوگ ہمیشہ ملک کے امیر ترین شخصیت کو ہی اپنا نشانہ کیوں بناتے ہے ۔۔
پولیس اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہی ہے لیکن پھر بھی کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا اب ان کا اگلا ٹارگٹ کون ہوگا یہ جانے کے لیے ہمارے ساتھ بنے رہے ۔۔
نیوز میں رپورٹر گلہ پھاڑ پھاڑ کے کل ہوئی چوری کی خبر دے رہی تھی ۔۔
رومان بیچارہ منہ لٹکا کے بیٹھا تھا ہاتھ میں گرم کافی کا مگ پکڑے وہ کسی گہری سوچ میں میں تھا ۔۔۔۔
یہ کیوں دکھی آتما بنا بیٹھا ہے ادیان نے روحان کی طرف دیکھ کے سوال کیا جو اپنے موبائل میں بزے تھا ۔۔۔
برو نہ پوچھوں بیچارا پچھتا رہا ہے پولیس
فورس جوائن کر کے اب تو اس دن کو کوستا ہے جس دن یہ ایان بھائی کے منہ سے اپنی فیملی کے قسے سن کے اموشنل ہوا تھا بھائی کی باتوں میں آ کے اموشنل تو ہو گیا مگر اب آ کے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے ۔۔روحان نے سر اٹھا کے ادیان کی طرف دیکھ کے اپنی پوری بتیسی دیکھاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
کیوں ایسا کیا ہوا ۔۔۔ادیان نے ناسمجھی سے پوچھا
برو کیا ہوا یہ تو آپ رومی بھائی سے ہی پوچھ لیں زری نے وہاں اتے ہی اپنی ہنسی دبا کے جواب دیا ۔۔۔
اوو رومیوں کس بات کا سوگ منا رہا ہے تو کہی تیری محبوبہ تو نہیں بھاگ گئی کسی کے ساتھ ادیان نے اس کے پاس بیٹھے ہوئے پوچھا باقی سب نے بھی اپنی اپنی جگہ سمبھال لی ۔۔۔۔
پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا
بوتھی بنا بیٹھا ہے تیرا پیا ۔۔
اوو جانے جا ۔۔۔
دفع ہو جا ۔۔۔۔۔😁😁😁😁
کہی آپ کو پہلی نظر میں اس چورنی سے عشق ویشق تو نہیں ہو گیا روحان نے گانے کی ٹانگ توڑ کے مزے لتے ہوئے اس کے جواب دینے سے پہلے ہی سوال کیا ۔۔۔
کیااا سچی برو پھر تو ہم جلدی سے بھائی سے بات کرتے ہیں کتنا مزہ آے گا شادی پے واو ماہی مزے سے اچھلی تھی ۔۔۔
ادیان نے کن آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
جو اپنے ہسبنڈ کو تو گھاس نہیں ڈالتی تھی دوسروں کی شادیوں کے خواب سجا رہی تھی ۔۔۔۔
چڑیل پہلے ہم تمہیں رخصت کرے گے پھر سوچے کے کسی اور کے بارے میں روحان نے مزے سے جواب دیا ۔۔۔
مجھے تو افسوس اس بات کا ہے تم شادی کر کے بھی ادھر ہی پائی جاؤ گی
ہاے میرے دل کے ارمان ۔۔۔۔
آنسوں میں بہ گئے ۔۔۔
ہم تمہارا نکاح کر کے بھی خوش نہ رہ سکے ۔۔۔😑😑
روحان برے مزے سے سونگ کی ٹانگے توڑ رہا تھا جب ماہی نے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھا کے سارا پانی اس پے پہینکا ۔۔۔
تم ہوگے جن کبھی شکل دیکھی ہے اپنی ڈریکولا بھی تم سے زیادہ حسین تھا ۔۔۔ اور خدا کا خوف کھایا کرو تمہارے یہ پھٹے ڈھول جیسی آواز سن کے ہمارے کان کے پردے بیچارے توبہ کرنے لگ جاتے مگر تمہیں حیا نہیں آتی ۔۔۔۔ماہی نے تپ کے اسے جواب دیا ۔۔۔
آنہہہہ تم کیا جانو میری آواز کی دیوانی ہے دنیا تو۔۔۔
تم دونوں چپ کرو کچھ دیر کے لیے ادیان نے دونوں کو گھور کے کہا
وہ کب سے دیکھ رہا تھا اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا ۔۔۔
ادیان کی گرجدار آواز پے وہ دونوں چپ کر کے بیٹھ گئے
تم بتاؤ رومی کیا ہوا ہے ادیان نے اب رومان کی طرف دیکھ کے کہا
عشق کا تو نہیں مگر بلیک ڈریگنز میری جان کا عذاب بن گئے ہیں اب میں کیا بتاؤ ان کی وجہ سے مجھ کتنا ذلیل ہونا پڑھتا ہے رومان دانت پیس کے بولا ۔۔۔
یہ وہی ہیں نہ جیسے پکڑنے کے لئے آپ کی ٹیم ایک سال سے کام کر رہی ہے ۔۔ماہی نے پرسوچ انداز میں کہا
ہاں لیکن آج تک ہاتھ نہیں آے ۔۔۔وہ منہ بنا کے بولا ۔۔
کیا پتا ان کی کوئی مجبوری ہو اس لیے کرتے ہو ایسا ۔۔زری نے فورن ان کی سائیڈ لی ۔۔۔
یار رومی برو مجھے نہ کبھی کبھی لگتا ہے یہ مس زری بھی ان ڈریگنز کی پارٹی میں ہے جب دیکھو ان کی سائیڈ میں بولتی ہے ۔۔۔روحان نے فورن اسے لگے ہاتھ لیا جب کے زری کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے تھے روحان کی اس بات پے ۔۔لیکن وہ جلد ہی خود کو سمبھال چکی تھی ۔۔۔
آنہہہہ میں تو بس ویسے ہی بول رہی تھی ۔۔۔ زری نے ناک چڑھا کے کہا
کوئی بات نہیں پکڑے جائے گے تم دل تھوڑا نہ کرو چلو جلدی کہی گھوم کے اتے ہیں ۔۔۔ادیان کہاں دیکھ سکتا تھا اپنے بھائیوں کو اداس۔۔۔
بھائی کیسے جائے گے ہیٹلر کے جان نشیں نے سخت پابندی لگا رکھی ہے اس وقت باہر جانا مطلب پکا شامت آئ زری نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔
ہاں نہ بھائی اوپر سے وہ چوکیدار پورا چمچہ ہے بھائی کا ذرا ذرا سی بات جا کے بتاتا ہے ایسے میں ہم معصوم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔
روحان نے آنکھیں پٹپٹاٹے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اب اس بھائی کے چمچے کی وجہ سے ہم اپنا پیلن تو کینسل کرنے سے رہے رومان نے بھی حصہ ڈالا وہ کیوں پیچھے رہتا جب کے ہر الٹے کام میں وہ سب سے اگے پایا جاتا تھا
لیکن یار
بھائی نے جو چوکیدار رکھا ہے نہ شیر خان سب کی ایک ایک رپورٹ دیتا ہے بھائی کو ۔۔۔ ماہی نے ناگواری سے کہا ۔
اب کیا کرے ہم ادیان بھائی ۔۔۔۔روحان کی بات پر سب نے ادیان کی طرف دیکھا ۔
کیوں کی ایسے وقت میں ان کا دماغ ہی زیادہ چلتا تھا ۔۔
یار اس کا تو ایک ہی حل ہے شیر خان کو گیٹ سے ہٹایا جائے ۔
اس نے سب کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
پر یہ کام کون کرسکتا ہے ۔۔۔۔ ماہی نے فکرمندی سے پوچھا ۔۔
جو ہمیشہ سے کرتا آیا ہے روحان نے اپنی دشمن اول کو دیکھتے ہوئے کہا جو شان بےنیازی سے بیٹھی تھی ۔۔
سوچنا بھی مت تم میں کہی نہیں جا رہی زری نے انگلی اٹھا کے اسے وارن کیا ۔۔
زری مان جاو نہ یار بڑی مشکل سے تو اس کنجوس نے آئسکریم کے لیے خود کہا ہے اب تم اینڈ پر آکر سارا پلان نہ خراب کردینا ۔۔۔۔۔ ماہی نے ادیان کی طرف دیکھتے ہوئے بے چار گی سے کہا ۔۔
جب کے اپنے لیے کنجوس لفظ سن کے ادیان صاحب کے چودہ طبقے روشن ہوئے تھے کہہ بھی وہ بندی رہی تھی جس کے عشق میں وہ خود کو فنا کیے گھومتا تھا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے اب تم سب رونے والی شکلے تو مت بناؤ ۔۔۔۔۔بالآخر اس کو ان کی بات ماننی ہی پڑی ۔۔۔۔
تم لوگ باہر چلو میں ابھی آتی ہوں زری نے ان سب کی طرف دیکھ کے کہا اور خود اٹھ کے کچن کی طرف چل دی ۔۔۔
وہ سب چلتے ہوئے باہر آے جب سامنے ہی شیر خان مزے سے بیٹھا موبائل پے شاید کوئی مووی دیکھ رہا تھا وہ سب ایک سائیڈ پے اندھرے میں چپ کے کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔
کچھ دیر میں زری ہاتھ میں ایک ٹرے اٹھا کے شیر خان کی طرف جاتی ہوئی دیکھائی دی ۔۔۔
خان بابا ۔۔ اس نے پاس جاتے ہی بہت پیار سے اسے بولیا ۔۔۔
جی بی بی جی ۔۔شیر خان فورن اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
خان بابا میں نے آپ کے لیے یہ حلوہ بنایا تھا آپ کھا کے بتاے کیسا بنا ہے ۔ .
زری نے اپنے لہجے میں بلا کی معصومیت سجا کے کہا ۔۔۔
م ۔۔میرے لیے ۔۔ شیر خان کی تو آنکھیں بھر آئ تھی بیچارہ اموشنل جلدی ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
جی بابا آپ کے لیے بنایا آپ چیک تو کریں وہ ہلکا سا مسکرا کے بولی ۔۔۔۔
افففف کتنی بڑی فلم ہے یہ لڑکی حلوہ ماہی نے بنایا اور نمبر اپنے بھرہا رہی ہے ۔۔روحان نے اسے گھورتے ہوئے باقی سب سے کہا ۔۔۔
چپ کرو گے تم کچھ دیر کے لیے ۔۔۔ ادیان نے اسے گھور کے چپ کروا دیا ۔۔۔۔
شیر خان نے جذبات میں بہہ کے حلوہ کھانا شروع کیا ۔۔۔۔
کیسا بنا ہے خان بابا زری نے بہت پیار سے پوچھا ۔۔
بہت اچھا ہے میرا بچا خان بابا نے نم آنکھوں سے کہا اور کچھ دیر میں ان کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوگی ۔۔۔۔
ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی زری نے ٹرے سائیڈ پے رکھی اور باقی سب کو اشارہ کیا چلنے کا ۔۔۔۔
بندری تم نے انہیں کیا دیا ہے کہی تپکا تو نہیں دیا ۔۔روحان نے تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔۔۔
افغانی بندر ابھی میں تمہاری طرف پوری پاگل نہیں ہوئی جو یہ کام کروں گی چلو اب دو گھنٹوں میں انہیں ہوش آ جائے گا اس سے پہلے ہمیں واپس انا ہے ۔۔وہ کہتے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔
ادیان نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی اور باقی سب نے اپنی اپنی جگہ اس سے پھلے کوئی انہیں دیکھاتا وہ گاڑی زن سے لے اڑا تھا ۔۔۔
جاری ہے
