No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
میں گھوما پھرا کے بات نہیں کروں گا میں آپ سے ابھی اور اسی وقت نکاح کرنا چاہتا ہوں آپ اپنا فیصلہ سنا دیں ۔۔ رومان نے انتہائی سنجیدگی سے کہا شاید آج پہلی بار وہ اپنی زندگی میں اتنا سیریس ہوا تھا ۔۔۔۔
امبر نے پہلے اسے اور پھر عبیرہ کی طرف دیکھا جو خود آج ضرورت سے زیادہ سنجیدہ تھی ۔۔۔
م ۔۔میں آپ سے نکاح نہیں کر سکتی ۔۔ امبر نے اس سے نظرے چورا کے صاف انکار کیا وہ بچی نہیں تھی جو سامنے والے کی نظر میں چھپا محبت کا جہاں نہ دیکھ سکتی ۔۔۔۔
نکاح تو آپ کو مجھ سے ہی کرنا ہوگا ابھی اور اسی وقت انکار کا کوئی آپشن میں نے آپ کو نہیں دیا ۔۔ رومان نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔۔
میں۔۔۔
رومی تم مولوی صاحب کو بولا لاؤ امبر نکاح کرے گی ۔۔ امبر کچھ کہتی اس سے پہلے ہی عبیرہ بات ختم کر چکی تھی ۔۔
امبر نے بےساخت عبیرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
رومان نے ایک نظر دونوں کو دیکھا اور وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔
بیئر تم جانتی ہو سب پھر بھی تم نے ہاں کیوں کی ؟؟؟ اس کے جاتے ہی امبر نے بےبسی سے اس کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔
مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کیا عبیرہ نے کندھے اچکا کے لاپرواہی سے کہا ۔۔
میں یہ نکاح نہیں کروں گی امبر اس بار سخت لہجے میں بولی اسے عبیرہ کا یہ لاپروا لہجہ بلکل پسند نہیں ایا تھا ۔۔۔
ٹھیک کر دو انکار ویسے بھی کہاں اتنا حق دیا تم نے ہمیں کے ہم تمہاری زندگی کا فیصلہ کر سکے میں تو بھول گئی تھی کے اب تم بڑی ہو چکی ہو کہاں میری کسی بات کو مانو گی میں تو آج بھی تمہیں اپنی چھوٹی بہن سمجھ کر یہ فیصلہ کر رہی تھی کیوں کے آج اگر ماما بابا ہوتے تو وہ بھی یہی کرتے خیر خوش رہو میں اسے منا کر دیتی ہوں عبیرہ نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا کسی کو کیسے منا ہے یہ تو کوئی عبیرہ میڈم سے سیکھے ۔۔۔۔۔
یار ناراض تو نہ ہو کر لیتی ہوں ۔۔۔ عبیرہ کو اس قدر سیریس دیکھ امبر نے فورن اس کی بازو پکڑ کے کہا وہ ایسی ہی تھی عبیرہ کی ذرا سی ناراضگی اس کی جان نکل لیتی تھی ۔۔۔
واہ عبیرہ تیرا تو جواب نہیں بچپن سے جانتی ہیں تجھے یہ دونوں نکمیاں مگر آج تک پہچان نہیں سکی
عبیرہ جس کا منہ دروازے کی طرف تھا اپنی چالاکی پے خود کو داد دے کے پلٹی ۔۔۔۔
میری جان مجھے یقین ہے یہ فیصلہ تمہارے لیے بہتر ثابت ہوگا ۔۔
عبیرہ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کے پیار سے کہا ۔۔
اتنے میں دروازہ ناک کر کے روم میں رومان کے ساتھ مولوی صاحب اور دو تین پولیس والے انٹر ہوئے ۔۔۔
عبیرہ نے فورن اس کے سر پے چادر دی اور خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔۔۔۔
امبر شاہ ولد مصطفیٰ شاہ آپ کا نکاح رومان جہانزیب ولد جہانزیب افندی سے حق مہر ایک کروڑ کرار پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح کے کلمت ادا کیے ۔۔۔
امبر نے اپنے پاس بیٹھی عبیرہ کی طرف دیکھا جس نے ایک بہن کی طرح اسے ہر بار سہارا دیا تھا ۔۔
عبیرہ نے اس کے ہاتھ پے دبا دیا آنسوں کا گولہ تھا جو اس نے اپنے حلق سے اترا اور بامشکل جواب دیا ۔۔۔
ق ۔۔قبول ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا ۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔
امبر نے اپنے آنسوں پے بند باندھ کے خود کو اس شخص کے نام کر دیا جو اس کے دل کی سلطنت کب کی فتح کر چکا تھا ۔۔۔
مولوی صاحب نے امبر کے بعد رومان کی طرف دیکھ کے کلمات ادا کیے ۔۔۔
رومان افندی ولد جہانزیب افندی آپ کا نکاح امبر شاہ ولد مصطفیٰ شاہ سے حق مہر ایک کروڑ کرار پیا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔ رومان نے اپنے سامنے بیٹھی اس معصوم سی گڑیا کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔ مولوی صاحب نے ایک بار پھر سے وہی سوال کیا ۔۔۔
قبول ہے ۔۔
قبول ہے ۔۔۔
تین بار اعجاز و قبول کرنے کے بعد مولوی صاحب اور باقی دو لڑکے مبارک باد دے کے چلے گئے ۔۔۔
رومان بھی دونوں کو آرام کرنے کے کا بول کے باہر جا کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ڈاکٹر کیا ہوا ہے میری بہن کو ماہی نے اپنے سامنے کھڑی ڈاکٹر سے پوچھا جو زری کو چیک کر رہی تھی وہ سب ہی کمرے میں موجود تھے ۔۔۔
فکر کرنے کی بات نہیں ہی کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا صدمے کی وجہ سے بیہوش ہوئی ہیں خیال رکھنا اور یہ دوائی دے دینا وقت پے ۔۔۔ڈاکٹر نے اپنا چشمہ اتارتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز میں کہا ۔۔۔
جی ٹھیک ڈاکٹر ۔ ۔۔ماہی نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔
چلیں اب میں چلتی ہوں اگر فکر کی بات ہوئی تو آپ مجھے بولا لینا ۔۔ ڈاکٹر کہہ کے جانے لگی جب ادیان ان کے ساتھ انہیں باہر تک چھوڑنے گیا
روحان کیا ہوا تھا زری کے ساتھ تم نے کچھ کہا تھا کیا اسے ؟؟؟ ایان نے سرد لہجے میں اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔
ب ۔۔بھائی میں نے کچھ نہیں کہا وہ تو ٹی۔ وی پے نیوز چل رہی تھی جسے سن کے اس کا یہ حال ہوا ۔۔ روحان نے نظریں جھکا کے ایسے صفائی پیش کی جیسے اس کی سچ میں کوئی غلطی ہو ۔۔۔
ماہی بچے کھانا لگائے جا کے میں لے کے اتا ہوں اپنی گڑیا کو زری کو ہوش میں اتا دیکھ ایان نے ماہی سے کہا اور روحان کو بھی وہاں سے جانے کو کہا ۔۔۔
روحان بیچارہ منہ بنا کے نکل گیا وہاں سے ماہی بھی فورن نکلی ۔۔۔۔
ایان نے اس کے پاس بیڈ پے بیٹھ کے اس کے بالوں میں ہاتھ پھرا
کسی کا مہربان لمس اپنے بالوں میں محسوس کر کے زری نے فورن آنکھیں کھولی ہوش میں اتے ہی ایک بار پھر سے وہی آواز کانوں میں گونجی اٹھی تھی ۔۔۔۔
ب ۔۔بھائی ۔۔وو ۔۔وہ امبر ۔۔مجھ جانا ہے وہ بیڈ سے اٹھانے کی کوشیش کرتے ہوئے بول رہی تھی لیکن ايان پہلے ہی اس کا بازو پکڑ چکا تھا ۔۔۔
ایان نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگیا لیا وہ جتنی لاڈلی تھی اتنی احساس بھی ۔۔
کیا ہوا میرے بچے کو بتاؤ بھائی ہے نہ سب ٹھیک کر دیں گےیہ پانی پیو ایان نے اسے پرسکون کرتے ہوئے پیار سے پوچھا ساتھ ہی اس کے لبوں پے پانی کا گلاس بھی لگا دیا جس میں وہ نیند کی گولیاں ڈال چکا تھا ۔۔۔
بچپن سے لے کے آج تک انہیں باپ اور ماں دونوں کا پیار دیتا ایا تھا آج کیسے اس کی حالت پے نہ تڑپتا ۔۔۔۔۔
ب ۔بھائی وہ امبر ۔۔بھائی آگ ۔۔ وہ بس اتنا ہی بولی اور پھر سے بیہوش ہو گئی وہ پھلے سے ٹیکے کے ذرے اثر تھی اوپر سے نیند کی گولیوں کا اثر ۔
ايان نے اسے اس کی جگہ پے لٹا دیا اور چادر ٹھیک کرتا وہاں سے نیچے ایا ۔۔۔
ادیان فورن پتا لگاؤ زری کی دوست امبر کہاں رہتی ہے ۔۔۔ ضرورت پرے تو اس باتوں کی دکان کو کال ملا لینا ۔۔ ايان نے سرد لہجے میں کہا اس سے زری کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔۔
مجھے پتا ہے بھائی میں ابھی جاتا ہوں اس جگہ پے ادیان کچھ کہتا اس سے پہلے ہی روحان نے کہا اور باہر کی طرف جانے لگا جب ماہی کی آواز پے روکا ۔۔۔۔
ب ۔۔بھائی جس جگہ وہ رہتی ہے اس بستی کو کسی نے آگ لگا دی اور نیوز میں بتا رہے ہیں کے ا ۔۔ام ۔۔امبر کے ساتھ ساتھ باقی بستی والے بھی اس آگ میں جل گئے ۔۔۔
ماہی نے امبر کا نام لتے ہوئے اپنی آنکھیں ضبط سے بند کر لی تھی ۔۔۔
ايان بےساخت دو قدم پیچھے ہوا اسے اچھی طرح اندازہ تھا زری کس حد تک احساس ہے خود سے جوڑے رشتوں کو لے کے ۔۔۔
بھائی سمبھالیں خود کو۔۔ روحان نے اگے ہو کے اسے سمبھلا ۔۔۔
یہ رومان کہاں ہے ۔۔ ایان نے خود کو سمبھالتے ہی کہا آنکھیں شدید ضبط سے لال انگار ہو رہی تھی ۔۔۔
بھائی فون کیا ہی اسے نمبر بند جا رہا ہے شاید بزی ہیں رومی بھائی ۔۔ماہی نے فورن سائیڈ لی بھائی کی ۔۔
دنیا کے سارے کام اس جعلی اسپکٹر کے پاس ہی ہیں مجال ہے جو گھر والوں کو بتا دیں کے جناب ہیں کہاں ۔۔ روحان منہ میں بڑبڑایا ۔۔
ہمممممم ایان نے اتنا ہی کہا اور صوفے پے بیٹھ گیا آج کی پوری رات ان سب کی کانٹوں پے گزاری تھی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
صبح کا سورج اپنی پوری اب و شان کے ساتھ نکلا تھا ہر طرف سورج کی کرنوں نے اپنی روشنی بکھر رکھی تھی ۔۔۔۔
وہی افندی منیشن میں وہ چار وجود پوری رات کانٹوں پے رہے تھے ان میں سے کسی میں بھی ہمت نہیں تھی وہ جا کے زری کو تصلی کے دو بول بول دے ۔۔
وہی ایان اور ادیان کو رومان کی فکر ستا رہی تھی جو پوری رات گھر نہیں ایا ۔۔۔۔۔
روحان کال ملاؤ کہاں ہے رومان ایسی بھی کیا مصروفیات کے گھر آ کے دو گھڑی آرام نہیں کر سکتا ۔۔۔ایان نے سرد لہجے میں کہا ۔۔
جی بھائی کرتا ہوں ۔روحان نے فورن اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا ۔۔
جب سب کی نظر زری پے پڑی جو شاید ابھی اٹھی تھی اور اٹھتے ساتھ ہی نیچے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
زری بچے کہاں جا رہی ہو ايان نے فورن اسے پکڑتے ہوئے کہا جو پاؤں میں جوٹی بھی نہیں پہن کے آئ تھی اور ایسے ہی باہر کو طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔
يان بابا مجھے جانا ہے پلز و وہ میرا انتظار کر رہی ہوگی آپ پلز مجھے جانے دے نہ پلز ۔۔
زری نے اپنے آنسوں سے تر آنکھیں اٹھا کے ایان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
روحان کی تو روح کسی نے کھینچ لی ہو اسے اس حال میں دیکھ کے وہ بیچارہ بےبسی سے اپنے لب کاٹ رہا تھا آج اسے اپنا اپ بےمول لگ رہا تھا جس کے پاس اتنا بھی حق نہیں تھا کے سامنے موجود لڑکی کو سہارا ہی دے ڈے ۔۔۔۔
زری کیا ہوا یار رو کیوں رہی ہو یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ضرور اس چمکاڈر نے کچھ کہا ہوگا میں نہ کہتی تھی ہے ہی ایک نمبر کے کھڑوس اکڑو بندا ایک رات میں میری پھول جیسی دوست کا کیا حال کر دیا ۔۔۔۔
عبیرہ جو ابھی ابھی وہاں آئ تھی سامنے کا منظر دیکھ فورن میدان میں آئ اور ہمیشہ کی طرف قصور سارا ايان صاحب کا ہی نکالا ۔۔۔۔
لڑکی تم کبھی تو چپ ہو جایا کرو کتنا بولتی ہو بولنے کے علاوہ کوئی اور کام اتا بھی ہے یا نہیں تمہیں ۔۔ايان نے دانت پیس کے کہا ایک تو زری کی فکر تھی اوپر سے یہ بھی الزام اسی پے لگا رہی تھی ۔۔۔
اتا ہے نا کیوں نہیں اتا ہوگا ایسا کوئی کام نہیں جو میں نہ سکو میری چھوڑو اپنی بتاؤ چوبیس گھنٹے غصہ کرنے کے علاوہ کبھی کوئی کام کیا ہے آپ نے جب دیکھو سڑے ٹنڈے جیسی بوتھی بنائی ہوتی ہے آنہہہ ۔ ۔ آے بڑے تیس مار خان ۔۔ سامنے بھی عبیرہ تھی ناک منہ چڑھا کے تر با تر جواب دیا
لڑکی تم ۔
ارے چپ کریں صبح صبح دن نہ خراب کریں میرا اور زری تم کیوں صبح صبح دریائے عشکم بہا رہی ہو اللہ خیر کرے ایسا بھی کیا عذاب آ گیا منا تم لوگوں کے گھر یہ سڑے کریلے کی وجہ سے بندا ہنس نہیں سکتا مگر رونے کی بھی تو وجہ ہوتی ہے یار ۔۔ عبیرہ نے اسے صوفے بیٹھاتے ہوئے پیار سے پوچھا ۔۔۔
بیئر ۔۔۔و وہ ۔۔ٹی۔ وی۔ ۔ام ۔۔امبر ۔۔۔ زری نے اتنا کہا اور پھر سے رونا شروع کر دیا ۔۔۔
ارے ارے یار رونا بند کرو کچھ نہیں ہوا اسے ہمارے ہیرو نے اپنی ہیروئن کو بچا لیا تھا اب ہر کوئی تمہارے اس اکڑو بھائی کی طرف ان رومانٹک تھوڑی ہوتا ہے ۔۔۔
عبیرہ نے اس کے چہرے کو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔مگر ايان کو تنگ کرنا نہیں بھولی تھی ۔
کیاااااا۔۔۔۔ ان سب نے حیرت سے چیخ کے پوچھا اپنے لیے ان رومانٹک بندا سن کے ایان کا بھی منہ کھول گیا تھا ۔۔
بول تو ایسے رہی ہے جیسے خود چوبیس گھنٹے بس میرے سامنے رومانٹک موڈ میں ہی رہتی ہے ۔۔۔
اففف ايان کیا سوچ رہا ہے تجھے کیا دفع کر اس باتوں کی دکان کو ۔وہ منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔۔
ہاں نہ وہ رہے ہمارے ہیرو ہیروئن ۔ عبیرہ نے سامنے اشارہ کیا جہاں سے داخلی دروازے سے رومان امبر کو سہارا دیتا ہوا لے کے آ رہا تھا ۔۔۔۔
اب تو سچ میں سب کا منہ کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کھولی تھی۔۔۔
امبر تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔ زری نے کہتے ساتھ بھاگ کے اسے ہگ کیا ۔۔۔
ارے ارے لڑکی سمبھال کے میری بیگم تھوڑی زخمی ہے ابھی رومان نے فورن زری کی طرف کے کہا ۔
کیاااااااااا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بییگمممممم۔ ۔۔ وہ سب ایک بار پھر ایک ساتھ چیخے اس بار تو ایان بھی ساتھ ہی تھا ۔۔۔
کبببب بنی ۔۔۔۔ادیان کی حیرت میں ڈوبی آواز آئ ۔۔
گئی بکری گٹر میں کیا زمانہ آ گیا میرے بھائی کی شادی تھی اور
مجھے تو بولیا بھی نہیں ۔۔۔ ماہی نے بھی حیرت کے سمندر سے باہر اتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
افففف بکری نہیں بھنس گئی پانی میں روحان نے دانت پیس کے کہا اور سامنے دیکھا ۔۔۔
میرے بارے میں بھی سوچ لو اب کوئی کیوں بھری جوانی میں مجھے کوارا ہی مارنا ہے ۔۔۔
روحان نے منہ بنا کے کہا
میری اجازت لینا تو ضروری نہیں سمجھ۔۔۔۔
ہاں ایک آپ ہی تو رہتے ہیں ہنا بچا نکاح کر کے ایا ہے یہ نہیں کے اگے ہو کے دونوں کو پیار دے دیں اپنا رونا لے کے بیٹھ جائے گے ویسے تو اپنے فون کے ساتھ پورا دن چیپکے رہتے ہیں مگر جب انہیں فون کروں تو مجال ہے یہ بندا فون اٹھا لے کہاں ہے فون آپ کا ۔۔۔
عبیرہ کو یاد آ گیا تھا جب وہ رات کو فون کر رہی تھی یہ بتانے کے لیے کے زری کا خیال رکھیں اور اسے بتا دیں امبر ٹھیک ہے مگر ايان نے کال اتٹنڈ نہیں کی ۔۔۔
و ۔وہ میرا فون ایان نے اپنی چیکینگ کرتے ہوئے اوپر اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جائے نہ آپ بھی اپنے فون کے پاس ہی مجھے تو سمجھ نہیں آتی میں نے کیا سوچ کے اس بندے سے نکاح کیا تھا ۔۔۔ عبیرہ منہ بنا کے ینڈ والی لائن منہ میں بڑبرائی ۔۔
ک ۔۔کیا کہا تم نے ايان نے ناسمجھی سے اسے دیکھ کے آئ برو اچکا کے پوچھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں کہا ۔۔وہ منہ بنا کے بولی اور ان دونوں کے پاس آئ ۔۔۔
رومی خیال رکھنا بہت عزیز ہے ہمیں یہ اور زری ۔تم بھی اپنا خیال رکھنا آج مجھے بہت کچھ ٹھیک کرنا ہے پھر ملے گے ۔۔۔
عبیرہ کی آنکھوں میں آج خون اتر رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا جا کے اپنے باپ سے ہر بات کا حساب مانگے مگر وہ فلحال مجبور تھی ۔۔۔
وہ امبر کے گلے لگ کے ااس کے کان میں کچھ کہہ کے وہاں سے نکلی ۔۔۔۔
جاری
