Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

یسسسس بھابھی چاہ گئی آج تو آپ کیا انٹری ماری تھی قسم سے میں تو فین ہوگیا آپ کا ۔۔۔ عدالت سے باہر اتے ہی۔روحان نے عبیرہ کو داد دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
بس دیکھ لو دیوار جی جہاں جاتے ہیں ہم چا جاتے ہیں تبھی تو تمہارا بھائی جلتا ہے مجھ سے وہ ایک آنکھ کا کونہ دبا کے بولی ۔۔
می۔۔میں کب جلتا ہوں تم سے ايان نے منہ کھول کے حیرت سے کہا ۔۔۔
تو کیا آپ نہیں جلتے ۔۔عبیرہ نے تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔۔
نہیں ۔۔ہاں میرا مطلب ۔۔۔ايان کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے ۔۔۔
آپ کا جو بھی مطلب ہے میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں پہلے تو آپ چپ کر کے گھر چلے نہ پھر بات کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہوئے خود اپنی بائیک کی طرف چل دی ۔۔
اوو ہیلو تم کہاں جا رہی ہو ۔۔ايان کا بلکل ارادہ نہیں تھا اسے کاظمی مینشن بھجنے کا اس لیے فورن اس کے پیچھے بھگا ۔۔۔
انڈے بیچنے جا رہی ہوں چلو گے میرے ساتھ وہ چہرے پے بلا کی معصومیت سجا کے بولی ۔۔
کبھی تم نے سیدھا جواب دینا نہیں سکھا کیا ۔۔ايان نے اسے گھورتے ہوئے دانت پیس کے پوچھا ۔۔۔
نہیں سکھا وہ بھی ڈھائی سے جواب دے کے اپنی بائیک پے بیٹھی ۔۔۔
تم کہی نہیں جا رہی ابھی اور اسی وقت رخصتی ہوگی تمہاری تم میرے ساتھ جاؤ گی بس۔۔۔ ايان نے اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
آنہہہہ کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے مجھ پے بڑا اثر ہونا ہے وہ منہ میں بڑبرائی ۔
کچھ کہا تم نے ايان نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں وہ آپ کو عدی بھائی بولا رہے ہیں اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب ايان اسے گھورتے ہوئے موڑا ۔۔
اس سے پھلے وہ کچھ سمجھ سکتا وہ ہوا سے باتیں کرتی وہاں سے غایب ہو گئی ۔۔
اففف یہ لڑکی کبھی نہیں سنے گی میری بات ايان نے دانت پیس کے اپنا غصہ ضبط کیا تھا وہ جانتا تھا کاظمی اب چپ نہیں بیٹھے گا مگر یہ بات اس کی بیگم کو کون سمجھاے
🌺🌺🌺🌺🌺
کچھ دیر میں وہ تینوں ڈریگن مینشن میں تھی
اے کے اس بلیک منے کا کیا کرنا ہے ؟؟ ریبل نے اس کی طرف دیکھ کے کہا جو آرام دے انداز میں کرسی پے بیٹھی جھول رہی تھی ۔۔۔۔
اپنے اس جعلی انسپکٹر سے پوچھ لو نہ کیا کرنا چاہئے ہمیں زی نے مزے سے جواب دیا اے کے نے بھی لب دبا کے فورن گردن کو ہلا دیا ۔۔۔
وہ جعلی نہیں ہیں بیچارے بس تھوڑنے معصوم ہیں اور ہر بار تم لوگوں کی وجہ سے میں نے انہیں اتنا ذلیل کروایا ۔۔ ریبل فورن منہ بنا کے معصومیت کے ریکارڈز توڑتے ہوئے بولی ۔۔۔
اوووو اچھا جیییییی ۔اس کی بات پے دونوں نے اپنی ہنسی دبا کے اچھا جی پے زور دیا انداز صاف اسے زچ کرنے والا تھا اور وہ ہو بھی گی تھی ۔۔۔۔
ربیل نے دونوں کو گھور کے دیکھا ۔۔
تم دونوں ن۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے ہمارا ذکر ہو رہا ہے یہاں تو اس سے پہلے ریبل کچھ کہتی کمرے میں رومان کی آواز گونجی ۔۔۔
اس کی آواز پے زی اور ربیل تو اچھل ہی گئی تھی لیکن جلد خود کو سمبھال کے پلٹی
آپ کو یہاں کا اڈریس کیسے پتا چلا ریبل نے آئ برو اٹھا کے پوچھا ۔۔۔
بلکل بھائی ہم نے تو بتایا نہیں تھا زی نے بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ کے پوچھا ان دونوں کا تو حیرت سے منہ ہی کھول گیا تھا جب کے اے کے اب بھی سکون سے بیٹھی تھی ۔۔۔
تم لوگو کون ہو اور تمہارا کام کیا ہے کہاں سے اتے ہو کہاں جاتے ہو اور کاظمی کے پیچھے کیوں پڑے ہو میں سب جانتا ہوں پہلے دن سے ۔۔
رومان نے سکون سے ان دونوں کے سر پے بم دھماکہ کیا ۔۔۔
کیااااا ۔ ربیل اور زی ایک ساتھ چیخی تھی جب کے اے کے اب بھی آرام و سکون سے بیٹھی تھی جیسے وہ وہاں ہو ہی نہ ۔۔۔
جی رومان نے سکون سے جواب دیا ۔۔
کیسے پتا چلا آپ کو ہمارے بارے میں ؟؟؟؟
زی نے اپنی بھائی کی طرف دیکھ کے سوال کیا ۔۔
اور آپ نے ہمیں کبھی پکڑا کیوں نہیں ریبل نے بھی حیرت سے سوال کیا ۔۔۔
کیوں کے یہ ہماری ٹیم کا ہی حصہ تھا اس بار اے کے نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
کیا مطلب اور تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں ۔۔ ریبل نے دونوں کو گھورتے ہوئے پوچھا اسے تو اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
کیوں کے یہ ہمارے گیم کا وہ پیادا ہے جیسے وقت انے پے استعمال کرنا تھا اس سے ملے یہ ہیں ڈی ایس پی رومان شاہزیب افندی فارم اسلام آباد پولیس ۔۔۔۔۔ اے کے نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔
اور میں ایس اچ ۔او عبیرہ ایان افندی ۔یہ گیم ہم دونوں نے شروع کیا تھا جس میں تم دونوں کو شامل میری مرضی سے کیا گیا ۔۔۔ اے کے نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے اب بھی سکون سے جواب دیا
ڈی ایس پی ریبل حیرت سے بس بڑبڑا ہی سکی شدید غصہ آ رہا تھا اسے اے کے پے اور خود پے بھی کیا ضرورت تھی ہر ملاقات پے اپنے عشق کا اظہار کرنے کی ۔۔۔۔
مگر ہم سے کیوں چھپایا ۔۔ زی نے بھی حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
کیوں کے میں نے منا کیا تھا بھابھی کو میں بھی اس گیم میں شامل ہوں یہ صرف ہم دونوں تک محدود تھا جب کے اب ہم سب یہ بات جانتے ہیں یہ سب کیوں کب اور کیسے شروع ہوا اس سب کو سوچ کے آپ دونوں اپنا دماغ خراب نہ کریں اس نے امبر کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
اور وقت آ گیا ہے اپنی گلی چال چلنے کا
رومان نے اس بار انہیں دیکھتے ہوئے سپات لہجے میں کہا ۔۔
۔
ہم چاہتے تو وردی کا استعمال کر سکتے تھے مگر کہتے ہیں نا گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ۔۔۔۔
گھی گرم کر لو کون سا مشکل کام ہے ۔۔ ریبل نے دانت پیس کے اے کے کی بات کاٹ اور گھور کے رومان کو دیکھا جو آنکھوں میں شرارت لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
فلحال یہ منے یہاں سیو ہے جتنا میں جانتا ہوں کاظمی اب چپ نہیں بیٹھے گا جہاں وہ اپنا اگلا قدم اٹھاے گا وہی ہم وار کریں گے ۔۔۔
آپ تینوں کی حفاظت میری پہلی ڈیوٹی ہے آپ یہ واچ پہن لیں اس نے تینوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
جب انہوں نے بغیر سوال کے پکڑ کے پہن لی ۔۔۔
اے کے ۔ وہ پہلا وار آپ پے کرے گا اس لیے اپنا بہت خیال رکھنا اور زی بچے آپ بھی جہاں جائے روحان کے ساتھ جانا اور ریبل آپ گھر سے باہر نہیں جائے گی کچھ دن ۔۔۔
اس نے سب کی طرف دیکھ کے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
کیوں ۔۔ ریبل نے ناک چڑھا کے پوچھا یہ کہاں لکھا تھا وہ اب انسانوں کی طرح رومان صاحب کی بات مان لے گی ۔۔۔
اے کے نے مسکرا کے زی کی طرف دیکھا اور اسے باہر چلنے کا اشارہ کر کے خود بھی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔
زی بھی اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئی
اففف یہ دونوں بےوفا عورتیں مجھ معصوم کو شیر کے سامنے پہینک کے خود کہاں دفع ہو رہی ہیں ۔۔۔ انہیں جاتا دیکھ ریبل کو پہلی بار گھبراہت ہوئی تھی ۔۔۔۔
کچھ کہا میری بلیک بیوٹی نے ۔۔رومان نے فورن اسے اپنے حصار میں لتے ہوئے کہا وہ سمجھ گیا تھا یہ بھی بھاگنے کا ارادہ رکھتی ہے .
ی ۔۔ی ۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑے مجھے وہ ہوش میں اتے ہی دانت پیس کے بولی ایک اس انسان کی قربت میں وہ ہمیشہ ہار جاتی تھی ۔۔۔
چھوڑنے کے لیے تھوڑی پکڑا ہے آپ کو ۔رومان نے خمار الوداع لہجے میں اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ۔۔۔
ریبل کا اپنے پاؤں پے کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
اس شخص کی لو دیتی نظریں اسے اپنے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی
میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری کی تکلیف کو
میرے بس کی بات نہیں ہے ورنہ میں نے تمہاری قسمت میں لکھے ہوئے سارے رنج اپنی پلکوں سے مٹا دینے تھے۔۔
اور تمھارا دامن محبتوں سے بھر دینا تھا میرے بس میں ہو تو دنیا کی کوئی چھوٹی سی تکلیف بھی تمہیں چھو کے نا گزرے میں یہ تو نہیں کہتا کے میں تمہیں کبھی کوئی غم نہیں دوں گا مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کے میں ہمیشہ تمہیں خوش رکھو گا میری بلیک بیوٹی ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک جذبے سے بول رہا تھا اور وہ سب کچھ بھولائے صرف اس کی پناہوں میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی وہ بس اس کی آواز کے سحر تھی اس وقت تو اسے اپنا غصہ بھی یاد نہیں تھا ۔۔۔
میں نے پوچھا چاند سے کہ دیکھا ہے کہیں
میرے یار سا حسیں
چاند نے کہا چاندنی کی قسم
نہیں ، نہیں ، نہیں
میں نے یہ حجاب تیرا ڈھونڈا
ہر جگہ شباب تیرا ڈھونڈا
کلیوں سے مثال تیری پوچھی
پھولوں میں جواب تیرا ڈھونڈا
میں نے پوچھا باغ سے فلک ہو یا زمیں
ایسا پھول ہے کہیں
باغ نے کہا ہر کلی کی قسم
نہیں، نہیں ، نہیں
چال ہے کہ موج کی روانی
زلف ہے کہ رات کی کہانی
ہونٹ ہیں کہ آ ئینے کنول کے
آ نکھ ہے کہ مے کدوں کی رانی
میں نے پوچھا جام سے فلک ہو یا زمیں
ایسی مے بھی ہے کہیں
جام نے کہا مے کشی کی قسم
نہیں، نہیں ، نہیں
خوبصورتی جو تو نے پائی
لٹ گئی خدا کی بس خدائی
میر کی غزل کہوں تجھے میں
یا کہوں خیام کی رباعی
میں نے پوچھا شاعروں سے
ایسا دلنشیں کوئی شعر ہے کہیں
شاعر کہیں شاعری کی قسم
نہیں ، نہیں ، نہیں
رومان نے اس کی آنکھوں دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بہت محبت سے کہا
اس شخص کا ہر انداز اسے کمال لگتا تھا آج بھی وہ دل و جان سے فدا ہوئی تھی اس پے ۔۔۔
امبر نے بھی مسکرا کے اپنا سر اس کی چوڑی چھاتی پے رکھ لیا کتنا سکون تھا اس کی باہوں میں
🌺🌺🌺🌺🌺
ڈیڈ مجھے تو لگتا ہوگی وہ اپنے یار کے ساتھ اور چڑھاے ان کو سر پے دیکھا آپ کو کان و کان خبر بھی نہیں ہوئی اور عبیرہ نے اس ایان آفندی سے شادی کر لی میں اور کیسے اس نے آپ کی عزت کا جنازہ نکالا تھا آج کوٹ میں ۔۔۔زمل جلے پیر کی بلی بنی جیل میں کبھی ادھر تو کبھی ادھر گھوم رہی تھی اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کے وہ اتنی جلدی ہار گئی
جلدی ہمیں کچھ کرنا ہوگا وارنہ ہمارا بنا بنایا کھیل ختم ہو جائے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائے گے ۔۔۔ شیر شیخ نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا
فکر نہ کرو بہت جلد انہوں میں ان کی اوقات یاد کرواؤ گا کاظمی صاحب نے نفرت و حقارت سے کہا
اور تم مجھے ساتھ لاکھ دو میں تو روڈ پے آ گیا ہوں میرے پاس ایک روپے بھی نہیں کاظمی بے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا ۔۔۔
پیسے تو میں تمہیں دے دوں مگر بدلے میں مجھے ۔۔۔۔
شبیر شیخ نے کاظمی کی بات کاٹ کے اپنی رال تپکاتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔
جانتا تھا میں بیغرت نسل کے انسان ۔۔۔ کاظمی کو اس وقت اس کا شرط رکھنا بلکل پسند نہیں ایا تھا اس لیے اس کی گردن پکڑ کے غرایا۔ ۔۔
آرام سے مسٹر کاظمی ہمارا دھندہ ہی ایسا ہے اب اس میں میرا کیا قصور میں تو بس بدلے میں تجھ سے آج والی ہیروئن مانگ رہا ہوں صرف ایک رات کے لیے ۔۔۔ وہ ایک آنکھ دبا کے مکاری سے بولا ۔۔۔
ٹھیک ہے مگر بدلے میں مجھے منہ مانگی قیمت چاہئے ۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد کاظمی نے مکرور مسکراہٹ چہرے پے سجا کے کہا ۔۔۔
اس پریپیکر کے لیے تو کچھ بھی قربان شبیر شیخ کی آنکھوں کے سامنے عبیرہ کا پرنور چہرہ گھوم رہا تھا ۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا ضرور آج سے وہ تمہاری ہوئی ۔۔۔ کاظمی نے قہقا لگیا تھا اس کی بات پے ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔