Tera Mera Milna By Komal Writes Readelle502119 Last Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 34
آج افندی مینشن کو دلہن کی طرح سجا گیا تھا ايان نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی جو جو اس کے بس میں تھا اس نے سب کر دیا ۔۔
آج ان تینوں کے ولیمہ تھا اور زری اور روحان کا نکاح
یار کیا انتظار طویل ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے تمہیں ۔۔۔
رومان نے روحان کے پاس بیٹھ کر چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجاے پوچھا انداز صاف اسے تپنے والا تھا ۔۔۔
” لگتا تمہارا یہاں جوتے کھانے کو دل چاہ رہا ہے“ ۔روحان اُس کے کان کے پاس غرایا ایک تو زری میڈم کا سوجا ہوا منہ یاد آ رہا اوپر سے رومان کی بکواس نے جلی پے تیل کا کام کیا ۔۔۔۔
وہ چارو سب کی نظروں کر مرکز بنے ہوے تھے ۔۔۔
روحان نے سفید کُرتا پاجامہ پہنا ہوا تھا اور اوپر سفید اور گولڈن واسکٹ پہنی ہوٸی تھی۔
البتہ باقی تینوں نے نے بلیک ٹوو پیس پہنے تھے سلیکے سے بال بناے وہ شہزادے لگ رہے تھے
۔کٸی نظریں انھیں حسد اورحسرت کی نگاہوں سے دیکھ رہنی تھیں .۔۔۔
نہيں میرا دل تو بریانی کھانے کو چاہ رہا ہے اور اس کے ساتھ کولڈ ڈرنک ہو جائے تو مزہ آ جائے ۔۔۔۔ رومان مزے سے لبوں پر زبان پھیرتے ہوے بولا۔
”یہاں سے شریف لے جائے نہيں تو مار کھاو گے مجھے سے ۔۔روحان نے تپ کے کہا اسے آج بلاوجہ غصہ آ رہا تھا وجہ صرف وہ دشمن جان تھی جس نے کل سے ایک غلط نگاہ بھی اس معصوم پے نہیں ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
سوچ لو ۔میں بہت کام کا بندہ ہوں ہو سکتا تمہارے کام آ جاؤ چل بھاٸی رومان اپنی قدر ہی نہيں کسی کو ویسے سہی کہتے ہیں لوگ گھر کی مرغی دال برابر “ وہ اٹھ کر اُسے دیکھ کر آخری تیر مار رہا تھا اثر نا ہوتا دیکھ منہ بسور کر بولا۔۔۔۔۔
اچھا سنیں ۔ روحان اُسے جاتا دیکھ انتہائی تمیز سے بولا۔
”جی سُناٸیں“ وہ شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجاے فورن پلتا یہ کہاں لکھا تھا رومان صاحب سیریس ہو جائے ۔۔۔۔
”زیادہ فری نا ہوا جاو پوچھ کر آو کب تک اِدھر بیٹھے رکھنا ہے آ کیوں نہیں زری میڈم “ وہ اُسے دیکھتا ہوا معصومیت کے سارے ریکاڈز توڑتا ہوا آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
”ییییییییییہہہہہ دوریاں فِلحال ہیں
اچھا اچھا جا رہا ہوں یار تم تو مجھ معصوم کو کھا ہی جاؤ گے بھوکے انسان
رومان جو اُسے تنگ کرنے کے لیے گانا گانے لگا تھا۔۔۔۔
اُسے خود کو گھورتا پا کر منہ بسور کے بوا اور فورن وہاں سے غایب ہوا ۔۔۔۔
آخرکار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئی اور
کچھ ہی دیر میں اسے زری نظر آئ جو ان تینوں کے بیچ چلتی ہوئی آہستہ آہستہ قدم اٹھتی اس تک آ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ تو پلکے جابكا بھول گیا تھا وہ سچ میں کوئی آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی رہی ۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ اپنے قدم اگے بھرہا رہی تھی روحان کو اپنے دل کی دھڑکنیں بھرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
کیا دعائیں ایسے بھی پوری ہوتی ہیں ؟؟؟؟
آج اسے اپنے عشق کی منزل مل گئی تھی آج وہ خدا و رسول کو حاضر ناظر مان کے اپنے عشق کو اپنے نام کرنے والا تھا آج کوئی پوچھتا روحان سے اس کی خوشی کا ٹھیکانا۔ ۔۔۔
اسے لا کے پردے کے ایک طرف بیٹھا دیا گیا تھا نکاح کے بعد انہوں نے ہال جانا تھا جہاں ولیمہ تھا ۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھیا جس کے بعد سب ہال کے لیے نکلے
🌺🌺🌺🌺
وہ سکن کلر کے ڈریس میں جس پر سلور نگوں کا کام ہوا تھا ساتھ موتیوں والا خوبصورت سا ہم رنگ دوپٹہ لیے لائٹ سے میک میں ہونٹوں پر پنک لپسٹک لگائے کانوں میں بھاری جھمکے گلے کو ہار کی زینب بنائی پیروں پر ہیلز چڑھائے کوئی حور ہی لگ رہی تھی وہ اپنا عکس شیشے میں دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
واقع یار آج تو مجھے سچ میں مارنے کا ارادہ ہے ايان اسے دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے پیچھا کھڑا شیشے سے اسکا عکس دیکھنے لگا ۔۔۔
عبیرہ نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لی ۔۔۔
کیا بات ہے آج میری شیرنی کو شرم آ رہی ہے ايان نے لب دبا کے کہا وہ تو دل و جان سے قربان تھا عبیرہ کی اس ادا پے ۔۔۔۔
کچھ ایسا ہی ارادہ ہے وہ مسکراتے ہوئے بولی اسکی بات پر ايان گہرا مسکرایا ۔۔۔
ہم تو پہلے دن سے آپ پے مر مٹے ہیں ايان نے بیئر کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے شریر لہجے میں کہا ۔۔۔۔
عبیرہ نے مڑ کے اپنا رخ اس کی طرف کیا تو نظر اس پر گئی جو بلیک کورٹ میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے ہاتھوں میں برینڈڈ گھڑی پہنے پیروں میں بوٹس پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
ہینڈسم لگ رہا ہوں ۔۔۔
عبیرہ کو یوں خود کو تکتا دیکھ ايان نے لب دبا کے اسے سنجیدگی سے پوچھا ہلاکہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی
خوش فہمی ہے جناب آپ کی اور کچھ نہیں آپ صرف اچھے لگ رہے ہو وہ بھی مجھ سے کم وہ فورن ہوش میں آ کے اتراتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہم خوبصورتی میں آپ سے کم ہی اچھے ہیں جناب آپ کا مقابلہ کرنا بھی کون چاہتا ہے ۔۔۔
وہ اسکے قریب بو کے فرمانبرداری سے بولا ايان کی بات پے عبیرہ کا چھٹ پھاڑ قہقہ گونجا ۔۔
ايان تو کھو سا گیا تھا اس کی مسکراہٹ میں ۔۔
ايان کو خود کو تکتا پا کے وہ فورن ہوش میں آئ اور قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے
چلیں اب ہمیں نکلنا چاہئے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
وہ تینوں بھی ہال پہنچ چکی تھی
ايان نے انتظام بہت ہی خوبصورت کروایا تھا اور
وہ تینوں ہی بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
زری نے سفید رنگ کی میکسی پہنی تھی جس پر سلو کام ہوا تھا بالوں کو حجاب میں قید کے لائٹ سے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔
ماہی نے ٹی پنک کلر کا خوبصورت سا فراک زیب تن کیا ہوا تھا جس پر سکن رنگ کا کام ہوا تھا بالوں کو جوڑے میں قید کیے لائٹ سے میک اپ میں ہیوی جیولری پہنے پیروں پر ہیلز چڑھائے بہت ہی زیادہ حسین لگ رہی تھی
امبر ریڈ کلر کا ڈریس زیب تن کیے جس پر گولڈن رنگ کا نفیس سا کام ہوا تھا ساتھ میں سر پر حجاب کیے لائٹ سے میک اپ میں پیروں پر ہیلز چڑھائے ہونٹوں پر پنک لپسٹک لگائے وہ سمپل بھی ہمیشہ کی طرح پیاری لگتی تھی ۔۔
عدی اور رومان نے بھی ايان کی طرح بلیک پینٹ کورٹ ہی پہنا تھا جب کے روحان نے وائٹ ٹوو پیس پہن رکھا تھا وہ تینوں بھی کہی کے شہزادے ہی لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔
وہ تینوں کھڑی عبیرہ اور ايان کا ویٹ کر رہی تبھی وہ دونوں ہال میں داخل ہوئے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دونوں کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ نمودار تھی۔۔۔
پیچھے بیک گراؤنڈ میں میوزک اسٹارٹ ہوا اور جیسے جیسے وہ قدم بھرا رہے تھے ان پر پھولوں کی بارش ہو رہی تھی ان کے پیچھے رومان اور امبر نے اور ماہی اور عدی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے
“تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں 😍😍😍
کہنا چاہوں بھی تو تم سے کیا کہوں 🙈🙈🙊
کسی زبان میں بھی وہ لفظ ہی نہیں 💞💞
کہ جن میں تم ہو کیا تمہیں بتا سکوں 😍🙈🙊
میں اگر کہوں تم سا حسیں کائنات میں نہیں ہے کوئی💕💕
تعریف یہ بھی تو سچ ہے کچھ بھی نہیں 😍🙈
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوںںںںں”💕💕
🌺🌺🌺🌺
وہ سب اسٹیج پر تھے آہستہ آہستہ سب ان سے ملنے کیلیے آ رہے تھے کچھ ہی دیر بیٹھنے کے بعد ايان اسٹیج سے نیچے اتر کر اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔۔
جب کے زری کی نظریں سامنے کھڑے روحان پے تھی جو کسی سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا وہ کیا کر رہی ہے اسے تو بس روحان نظر آ رہا تھا
اہم اہم بہت مسکرایا جارہا ہے۔۔۔ عبیرہ نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا یہ کہاں لکھا تھا عبیرہ کی تیز نظروں سے بچ جائے وہ ۔۔۔
عبیرہ کی بات پے
زری کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی وہ فورن شرم سے نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔
ویسے مسکراہٹ تو آج آپ کی بھی بہت گہری ہے کہی ايان بھائی نے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے ہنستے ہوئے اسے چھڑا اور اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔۔
اسکی بات پر عبیرہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اس نے سامنے دیکھا جہاں ايان عدی سے کوئی بات کر رہا تھا ۔۔۔
۔ ہائے منہ دیکھائی میں کیا دیا ہے امبر نے اسے کھویا دیکھ فوراً پوچھا ۔۔۔ عبیرہ نے اپنی پوری بتسی دیکھا دی ۔۔۔۔مطلب صاف تھا اب اپنی بکواس بند کر لو ۔۔۔۔ ۔
بتسی ہی دیکھتی رہے گی یا کچھ بتائے گی بھی ۔زری نے اسے چپٹ مارتے ہوئے منہ بنا کے کہ ۔۔۔۔
کچھ شرم کرلے کچھ دیر پھلے نکاح ہوا ہے دلہن ہو مگر ذرا شرم لہٰذ نہیں اور ذرا تمیز سے بات کرنا سیکھ لو تم سب کی بڑی بھابھی ہوں اب میں عبیرہ نے گردن اکڑا کے کہا جیسے انھیں بہت پتے کی بات بتائی ہو ۔۔۔
میرے لیے تو میری دوست ہی رہے گی یہ عزت وگرا کی امید نہ رکھ اب جلدی بول کیا دیا بھائی نے ۔۔۔۔ زری نے فورن اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔
جتنا کنجوس تمہارا بھائی ہے نا کچھ دینا تو دور کی بات جھوٹے منہ تعریف بھی نہیں کی ۔۔ بیئر نے فورن منہ بنا کے اپنا دکھ سنایا جس پے امبر اور زری نے اپنا سر پیٹ لیا جب کے ماہی کا قہقہ گونجا
دیکھو تو ذرا میری بیگم کو کتنی پیاری لگ رہی ہے مسکراتے ہوئے عدی نے روحان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں کیوں دیکھوں میرے پاس الحمداللہ میری ہے روحان نے اسے گھورتے ہوئے فوراً جواب دیا ۔۔۔۔
عدی ہنس دیا اس کی بات پے روحان اسے بس دیکھتا رہ گیا اور رومان ایک سائیڈ پر خاموشی سے کھڑا امبر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ولیمے کا فنکشن بھی ختم ہوچکا تھا اور سب مہمان بھی جا چکے تھے اور وہ لوگ بھی گھر کیلیے چل دیے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
تین ماہ بعد “””
وہ ہال کے ایک کونے میں کھڑی کسی خاتون سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے ايان پر پڑی جو کسی لڑکی کے ساتھ محوِ گفتگو تھا۔۔۔۔۔
وہ سب کچھ چھوڑ کر ان کو دیکھنے لگی۔ اس کا دھیان نہ پا کر اس عورت نے اسے مخاطب کیا تو وہ چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔ بظاہر اس لڑکی سے باتیں کرتا ايان درحقیقت اسی کو نگاہوں کے حصار میں رکھے ہوئے تھا۔ وہ اس کے ساتھ بزنس ڈنر پر آئی تھی۔۔۔۔۔
اس کی فرمائش پر سیاہ رنگ کی ساڑھی ہاف آستینوں اور فل بلاوز میں ملبوس اور کھلے بالوں میں وہ مرد و خواتین کی یکساں نگاہوں کا مرکز تھی۔۔۔۔
اپنے بزنس فرینڈز میں مصروف ايان وقتاً فوقتاً اس پر بھی نگاہ ڈال لیتا جو ہمیشہ کی طرح جب بھی تیار ہوتی تو الگ ہی چھب دکھلاتی۔ ۔۔۔
ان سے فارغ ہو کر وہ اس کی طرف ہی بڑھ رہا تھا کہ ایک لڑکی اس کے پاس آئی اور وہ اس کے پاس رک گیا جس کے نتیجے میں وہ اتنی دور سے بھی اس کے ماتھے کے ان گنت بل دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ وہ شرارتاً اس لڑکی کے پاس کھڑا ہو کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ جب پانچ منٹ گزرنے کے باوجود بھی وہ وہاں سے نہیں ہٹا تو عبیرہ اس خاتون سے معذرت کرتی اس کی طرف بڑھی۔۔
کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ايان مکمل انجان بن گیا۔۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے ؟” ان کے پاس آ کر اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“نتھنگ سپیشل۔” اس لڑکی نے ناک چڑھاتے ہوئے جواب دیا جیسے اسے عبیرہ کی داخلاندازی بلکل پسند نہیں آئ تھی ۔۔۔
“آآآآ۔ یہ ہمارے بزنس فرینڈ عثمان درانی کی سسٹر ہیں۔ ايان نے اس کے بگڑتے تیور دیکھ کر تعارف کروانا مناسب سمجھا۔۔۔۔
“اگر تم چاہو تو یہ بزنس فرینڈشپ رشتے داری میں بھی بدل سکتی ہے۔ اس لڑکی نے ايان کا کالر چھوتے ہوئے ایک ادا سے کہا۔۔۔۔
بیئر نے پوری آنکھیں کھول کر پہلے اسے اور پھر ايان کو دیکھا جو جلدی سےنفی میں سر ہلا رہا تھا کہ میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔
“اوہ ڈئیر! یہ باتیں بچوں کے کرنے کی نہیں ہوتی ہیں اور نہ ہی سیدھا لڑکے سے یہ بات کی جاتی ہے۔بیئر نے ايان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
“تو پھر؟” اس لڑکی نے دلچسپی سے پوچھا۔
“تم آؤ میرے ساتھ میں بتاتی ہوں تمھیں ۔۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولی اور ایک کڑی نظر ايان پر ڈالتے ہوئے اسے لیے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو سکتا اس لڑکی کا ايان نے اس کی پست دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
بیئر اسے لیے واش روم میں آئی ۔۔۔۔
“کیا اس سے پہلے بھی تم ايان افندی سے مل چکی ہو؟” اس نے جبڑا مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ۔
اس لڑکی نے فورن نہ میں سر ہلا دیا
لڑکی کے انکار کرنے پر اس کے تاثرات کافی حد تک نارمل ہوئے۔
“ہوںںںں۔ تو تمہیں اس سے رشتے داری کرنی ہے ؟” عبیرہ نے اس کے چہرے پر بکھرے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے ایک ادا سے پوچھا مگر لہجے میں سرد پن تھا جو صرف اے کے ۔کے لہجے میں پایا جاتا تھا ۔۔۔
اس کے ٹھنڈے ٹھار لہجے پر لڑکی نے چونک کر اسے دیکھا۔
“مم ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ میرا مطلب۔” اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ اب چٹانوں کی سی سختی نے لے لی تھی جس کو دیکھ کر وہ لڑکی گڑبڑا سی گئی۔ ۔۔۔
اس کے ہاتھ اس کے چہرے پر سے ہوتے ہوئے اس کی گردن تک آئے اور اگلے ہی لمحے وہ اس کی گردن دبوچ چکی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ چیختی عبیرہ نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔
“شش تمہاری آواز نہ آئے ورنہ یہی پر گلا دبا دوں گی۔” وہ اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے غرائی۔ اس کی سرد و سپاٹ آواز پر اس لڑکی کے بدن میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔
ايان افندی شوہر ہے میرا۔ آج کے بعد اگر اس کے قریب بھی پھٹکی تو دنیا والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دوں گی ۔۔۔۔
اس کے گلے پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس نے سفاکی سے کہا۔ گلے پر دباؤ کی وجہ سے اس کی آنکھیں باہر نکلنے کے قریب ہوگئی تھیں۔ خوف کی شدت اور تکلیف کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
مگر بیئر آج معافی کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھی ۔۔
“سمجھ گئی یا مزید سمجھاؤں۔” اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اس نے اسی انداز میں پوچھا کے سامنے موجود ڈری سہمی لڑکی اور کانپ گئی ۔۔۔۔
گلے پر دباؤ بھی کم کر دیا تھا جس سے اس کا بگڑتا چہرہ تیزی سے نارمل ہونا شروع ہوا ۔ اس لڑکی نے تیزی سے ہاں میں سر ہلانا شروع کردیا۔ ۔۔۔
اس کی حالت دیکھتے ہوئے بیئر نے اس کے گلے سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو وہ کھانستی ہوئی نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ اس نے جھک کر ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا۔
“جو یہاں ہوا اس کو بھول جانا اگر باہر کسی سے ایک لفظ بھی کہا تو کل کا سورج نہیں دیکھ پاؤ گی ۔۔۔۔۔
“مم ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔” اس نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
“گڈ گرل، اب اٹھو اور منہ دھو کر جلدی سے باہر آؤ۔ اگلے ایک منٹ میں تم مجھے پہلے جیسی فریش گھومتی پھرتی نظر آؤ۔” عبیرہ نے اسے جی بھر کے رونے بھی نہیں دیا اور اگلا حکم صادر کر دیا۔۔۔۔
وہ فوراً اٹھ کر واش بیسن کی طرف آئی اور منہ دھونے لگی۔
اور عبیرہ باہر کی طرف چل دی ۔
جیسے ہی وہ باہر آئ تو ايان کو وہیں کھڑے پایا جہاں چھوڑ کر گئی تھی۔ وہ اس کے پاس آ کر رکی
“گھر چلیں۔
“ایسے ہی؟” اس نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“تو کیا آیک آدھ ساتھ لے کر جانی ہے ؟ عبیرہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
“لاحول ولا قوۃ۔ یار میں ڈنر کی بات کر رہا ہوں۔ کھانا تو کھا لو۔
!میں باہر گاڑی کے پاس ویٹ کر رہی ہوں ۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہال کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ چند لمحے اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر میزبان سے معذرت کر کے اس کے پیچھے ہی باہر چلا آیا جہاں وہ گاڑی کے پاس کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
🌺🌺🌺
پانچ سال بعد۔۔۔۔
اسد ۔۔۔اسد کہاں ہیں آپ ۔۔۔
بلکل باپ پر گیا ہے یہ لڑکا۔۔۔ کبھی جو میری کوئی بات مانتا ہو۔۔۔۔
عبیرہ اسد کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئی تھی جو نجانے کس کونے میں چھپ گیا تھا تبھی اپنا ہمیشہ والا ڈائیلاگ بولا۔۔۔۔۔
کیا بات ہے پرنسز کیوں میرے معصوم بیٹے کو ایسے ڈھونڈ رہی ہیں آپ ۔۔۔
ايان کمرے میں داخل ہوا جس کی گود میں دیڑھ سال کی فلک ادیان تھی۔۔۔۔
جو یقیناً اس کی آواز سنتے لان سے اس کہ پاس آئی تھی آخری ايان کی جان جو بستی تھی فلک ادیان میں ۔۔۔۔
تھی تو وہ ڈیڑھ سال کی مگر اس نے چلنا اور بولنا بہت جلدی شروع کر دیا تھا۔۔۔
ہونا کیا ہے میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں مگر آپ کا شہزادہ پتا نہیں کہاں چھپ کر بیٹھا ہے۔۔۔۔
عبیرہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ماما اسد نیو بےبی کہ لیے کارڈ بنا رہا ہے اوپر روم میں۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ايان کچھ کہتا احمد نے آ کر بتایا ۔۔۔۔
تبھی اسد کارڈ تھامے نیچے آیا۔۔۔۔
سوری ماما لیٹ ہو گیا بٹ دیکھیں میں نے اپنی پرنسس کہ لیے کارڈ بنایا۔۔۔۔
اسد نے آتے اسے کارڈ دیکھایا جس پر پرنسس سٹیکر لگایا گیا تھا جس میں سنو وائٹ اور اس کا پرنس بنا تھا۔۔۔۔
آپ کی پرنسس کیسے ہوئی وہ؟؟؟؟ وہ تو اینی مم کی بے بی ہے۔۔۔۔
زری نے کمرے میں انٹر ہوتے ہوئے حیرانی سے اس سے پوچھا وہ اس کی بات سن چکی تھی ۔۔۔۔
پھپھو ماہی احمد کی اور دل ولی کی پرنسس ہے نا وہ مجھے انہیں پیار کرنے نہیں دیتے ۔۔۔ اب میری بھی پرنسس آ گئی ہے میں بھی انہیں اپنی پرنسس کو پیار نہیں کرنے دوں گا۔۔۔۔
اینی مم نے بولا تھا وہ صرف میری پرنسس ہو گی۔۔۔۔
اچھااااا جی تو اب ہمارے شہزادے کو بھی پرنسز چاہئے زری نے اچھا پے خاصہ زور دالتے ہوئے کہا
جی پھپھو ۔۔ اسد نے فورن اسبات میں سر ہلایا
ماما میں ناں اس کا نام زویا رکھوں گا۔۔۔۔ اور اسے چوکلیٹ بھی دوں گا اور خیال بھی رکھا کرو گا ۔۔۔۔
اسد صاحب تو ساری پلینگ کر کہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
رومان اور امبر کہ دو بچے تھے۔۔۔
بڑا بیٹا مابیر جو چار سال کا تھا اور بیٹی جو دو دن پھلے پیدا ہوئی تھی۔۔۔۔
جبکہ عدی اور ماہی کے پاس ایک چار سالہ بیٹا ولید ایک بیٹی فلک تھی ۔۔۔۔
ايان اور عبیرہ کے دو بیٹے تھے اسد اور احمد ۔۔۔
زری اور روحان کی ایک ہی بیٹی تھی دلنشیں
يان اپنے بیٹوں کی حرکتیں دیکھ لیں زمیں سے نکلے نہیں ہیں اور شہزادوں کو شہزادیاں چاہیں۔۔۔۔
بیئر تو ان کی باتیں سنتے صدمے کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔
عبیرہ کی بات پے زری اور ايان نے قہقہ لگایا۔۔۔
ہاں تو بھئی ابھی سے کوشش کریں گے تو کچھ حاصل ہوگا نہ ايان نے لب دبا کے کہا ۔۔۔۔
بیئر نے ايان کی بات پر سے پیٹ لیا یہ تینوں باپ بیٹے اسے پاگل کرنے والے تھے۔۔۔۔
ختم شدہ
