No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
صبح معمولی کے مطابق سب ہی ناشتے کے ٹیبل پے موجود تھے عبیرہ کے علاوہ سب اپنے اپنے کام پے جانے کے لیے تیار تھے …….
زری بھی منہ بنا کے بیٹھی تھی اسے روحان پے رات کا ہی بہت غصہ تھا جب کے ماہی کے لبوں پے مسکراہت تھی ۔۔۔
رومان بھی آنکھوں میں محبت لیے اپنی جان اے عزیز کو دیکھ رہا تھا جب کے امبر اس کی رات والی حرکت کا سوچ کے اس سے نظریں چھوڑا رہی تھی ۔۔۔۔
ايان نے اپنے گھڑی میں وقت دیکھا جہاں 8:05 منٹ ہو رہے تھے ۔۔۔
اففف کہاں رہ گئی یہ لڑکی کبھی جو یہ وقت کی پابندی سکھ لے ہمیشہ میرا خون جلانے پے رہتی تھی ۔۔۔
ايان منہ میں بڑبڑایا آواز اتنی تھی کے عبیرہ کے تیز کان سن چکے تھے ۔۔۔
ہاں ہاں آپ کو تو جیسے وقت کی پابندی پے میڈل مل گیا ہے اور یہاں تو ریس لگی ہوئی ہے کون وقت پے لال لائن پار کرے گا وہ جلے کٹے انداز میں بولی اور اپنی نشیٹ سمبھال لی اسے تو رات والی بات پے بہت غصہ تھا ۔۔۔
ايان نے اس کے انداز پے اپنے لب دبا کے ہنسی روکی ۔۔۔
ویسے کہاں جا رہی ہو تم ؟؟؟ اس کی تیاری دیکھ کے ایان نے تھوڑا روب دیکھا کے پوچھا ۔۔۔
سبزی منڈی ۔۔ سکون سے مختصر جواب دے کے وہ اپنے ناشتے پے جھکی ۔۔
رومان نے لب دبائے اسے اندازہ تھا اس ہٹلر کو ایسا ہی جواب ملنے والا ہے باقی سب بھی اپنا سر جھکا کے ہنسی دبانے میں مصروف تھے ۔۔۔
کیاااا مطلب تم ایک بزنس مین کی بیوی ہو کے سبزی منڈی جاؤ گی ایان پے تو حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا ۔۔۔۔
کیوں بزنس مین سبزی کی جگہ پیسوں سے پیٹ بھرتے ہیں کیا جو میں گریٹ ایان افندی کی بیوی ہو کے سبزی منڈی نہیں جا سکتی عبیرہ نے تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔
ن ۔۔نہیں میرا مطلب تھا کے تم کیوں جا رہی ہو کسی ملازم کو بیج دو نا ایان کی ساری اکڑ اس کے تیور دیکھ کے فورن ہوا ہوئی تھی ۔۔۔۔
کیوں ۔۔ عبیرہ نے آئ برو اٹھا کے ایک اور سوال کیا ۔۔
وہ باہر گرمی۔۔۔
کیوں وہ انسان نہیں ہیں جو میں انہیں گرمی میں بھج کے خود یہاں آرام فرماؤ ۔۔اس بار تو عبیرہ کا پارہ سہی چڑھا تھا ۔۔ ایان کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا مگر پانی سر سے اوپر جا چکا تھا ۔۔۔
بیئر غصہ کیوں کر رہی ہو یار بھائی صرف اتنا کہنا چاھتے ہیں کے ابھی تمہارا باہر جانا ٹھیک نہیں کاظمی کے غنڈیں تمہاری تاک میں بیٹھے ہیں ۔۔۔
ایان کی بوتھی دیکھ امبر نے فورن بات سمبھالی ۔
عبیرہ نے ایک ٹیگری گھوری سے اسے نوازا اور اٹھ کے باہر کی طرف چل دی ۔۔۔۔
اسے کیا ہوا عدی نے ايان کی طرف دیکھ کے کہا جب وہ کندھے اچھل کے اپنی جگہ سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
وہ تیز بائیک چلتی جا رہی تھی جب سامنے ہی اسے راستہ بلاک دیکھ کے بائیک روکنی پری ابھی وہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کے کسی نے پیچھے سے اس کے چہرے پے رومال رکھا اور وہ دنیا جہاں سے بےخبر ایک طرف کو گر گئی ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اس کی آنکھ کھولی تو خود کو اک اندهرے کمرے میں کرسی پے باندھا دیکھ وہ ہلکا سا مسکرا دی ۔۔
بیوقوف ۔۔ کہتے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ میں پہنی رنگ کا بٹن پریس کیا جس سے اس کے ہاتھ میں پہنی گھڑی اور گلے میں پہنا لوکت ایٹیویٹ ہو گیا ۔
کمرہ اندهرے میں لہر رہا تھا اس لیے گلے میں پہنا لوکت جس میں ایک چھوٹا سا کیمرہ لگا تھا صرف اندهرے کی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر میں کمرے کا دروازہ کھولا اور کاظمی کے ساتھ شبیر شیخ اور ایس پی اندر داخل ہوئے ۔۔۔
کمرے کی لائٹ اون ہوتے ہی بیئر نے سر اٹھا کے سامنے دیکھا اپنے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ اسے ایک بار پھر اس انسان سے نفرت محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
کیا ہوا بیٹا مجھے دیکھ کے خوشی نہیں ہوئی کیا ؟؟ کاظمی نے اس کے اس قدر سکون سے خود کو دیکھتے پیا تو تجسس کے مارے پوچھ لیا اسے عبیرہ کا یہ سکون هازام نہیں ہوا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔ مختصر جواب دینے کے بعد وہ کمرے کا جائزہ لینے لگ گئی جیسے اس سے زیادہ اور کچھ بھی ضروری نہیں ۔۔۔
اچھی بات ہے پھر تو تمہیں یہ جان کے خوشی ہوگی کے آج میں یہاں تمہارا سودا کرنے والا ہوں پورے ایک کروڑ میں تمہیں بچا ہے میں نے یا تو تم ان پیپرز پے سائن کر کے اپنی ساری جائیداد میرے نام کر دو یا پھر اپنی عزت کی نیلامی دیکھو ۔۔کاظمی نے مکرور قہقا لگتے ہوئے کہا ۔۔۔
عبیرہ نے نفرت اور حقارت سے اسے دیکھا ۔۔
کیا دیکھ رہی ہو یہی نہ کے کوئی باپ ایسا کیسے کر سکتا ہاہا ہاہا ہاہا ہاہا سچ میں کوئی باپ اپنی سگی اولاد کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا ۔
میں چاہتا تو تجھے بھی تیرے ماں باپ کے ساتھ اسی دن مار دیتا جب تیرا پورا خاندان ختم کیا تھا مگر کیا ہے نا تیرا وہ بیوقوف باپ خود تو مر گیا مگر اپنی ساری دولت تیرے نام کر گیا جس کی وجہ سے تو آج تک زندہ ہے لیکن کب تک میرے یہ کمزور کندھے تیرا بوج اٹھا سکتے ہیں کاظمی نے آخر میں افسوس کرتے ہوئے کہا
عبیرہ جانتی تھی وہ کیسے خود پے ضبط باندھ کے بیٹھی ہے اس کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑے انسان کا منہ نوچ لے ۔۔۔
کیا ہوا شاک لگا نا یہ سب جان کے چلوں ایک اور بات جان لو افندی خاندان کو جہنم بھجنے والے بھی ہم لوگ ہی تھے بہت شاک تھا ان وردی والوں کو ہمارے کام میں اپنی ٹانگ آرانے کا ہاہا ہاہا ہاہا . اور مصطفیٰ شاہ کی تو بات ہی چھوڑ دو سالہ اپنے بھائی کو بچانے کی خاطر اپنی بچی کو انات کر گیا ہم اتنے بےحس بھی نہیں تھے اس لیے اسے اس کے بھائی کے پاس ہی بہج دیا ۔۔۔۔
شبیر شیخ نے اس کی حالت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔
نہیں خوشی ہوئی یہ جان کر کے میری رگوں میں اس گھٹیا انسان کا خون نہیں ہے ۔۔ اے کے نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
لڑکی گھٹیا کیسے بولا ہاں کاظمی تلملا اٹھا تھا اس لیے اس کا منہ دبوچ کے غرایا۔۔۔
چ۔۔چھوڑو عبیرہ کی آنکھوں میں درد سے آنسوں بھر آے تھے مگر آنکھوں میں خوف نہیں تھا وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی ۔۔۔
لڑکی آنکھیں نیچے کر ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔
کاظمی غرایا تھا اسے عبیرہ کی یہ بہادری ایک آنکھ نہیں بائی تھی ۔۔۔
آنہہہ ڈرتے تو کایر ہیں اور تجھ جیسے گیڈیرہ سے ڈر جاؤں عبیرہ ایان افندی اتنی کمزور نہیں ۔۔۔ وہ کاظمی کی آنکھوں میں دیکھ کے غرائی تھی ۔۔۔
تیری تو کہتے ساتھ کاظمی کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس کے نرم و ملائیم گل پے اپنا نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
ہونٹ ایک سائیڈ سے پہٹ گیا تھا جس میں سے خون رس رہا تھا ۔۔ عبیرہ نے ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا بس یہی کاظمی کا میٹر گھوما
اس نے نہ اؤ دیکھا نا تاؤ بس سامنے موجود اس نازک جان کو مارنا شروع کر دیا ۔۔۔
وہ جتنی بےدردی سے اس پے ہاتھ اٹھا رہا تھا عبیرہ کی مسکراہٹ اتنی گہری ہو رہی تھی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ايان ابھی اپنے آفس کے لیے نکلنے ہی لگا تھا کے اس کا فون رینگ ہوا ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔
اس نے موبائل اٹھایا اور مصروف سے انداز میں ہیلو کہا ۔مگر دوسری طرف سے ملنے والی خبر اس کے ہوش اڑا چکی تھی ۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو تم لوگوں کو اس کی حفاظت کے لیے رکھا گیا تھا پھر کیسے کوئی اسے لے جا سکتا ہے پیچھا کرو اس گاڑی کا میں آ رہا ہوں ۔۔ایان کی دھآڑ سن کے باقی سب بھی اسی کی طرف بھاگے
کیا ہوا ايان سب ٹھیک تو ہے عدی نے پاس اتے ہی فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔
و۔۔وہ عبیرہ کو کاظمی کے آدمی اٹھا کے لیں گیے ہیں میں اسے بچانے جا رہا ہوں تم گھر رہو ان سب کے پاس ايان کہہ کے باہر کی طرف بھاگا……
رومی تم گھر رہو میں جا رہا ہوں ايان کے ساتھ عدی نے رومان کی طرف دیکھ کے کہا اور خود بھی اس کے پیچھے ہی بھاگا ۔۔۔
روحان ماہی کا خیال رکھنا میرا ابھی اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں جانا ضروری ہے ۔۔
رومان نے کہتے ساتھ ان دونوں کو اشارہ کیا اور خود باہر نکل گیا ۔۔۔
مجھے تو لے جاتے میں یہاں کیا کروں گا روحان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
زری نے امبر کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف چل دی ۔۔۔
آپ دونوں کہاں جا رہی ہیں سنا نہیں بھائی نے کیا کہا روحان نے تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔۔
ہمارے پاس ابھی بحث کا وقت نہیں آ کے جواب دیتے ہیں زری کہتے ساتھ اسے لیے باہر بھاگی ۔۔۔
پیچھے وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ماہی تم گھر میں رہو میں بھی بھائی کے پیچھے جا رہا ہوں اپنا خیال رکھنا ۔۔۔
ماہی نے اثبات میں سر ہلا دیا جب وہ باہر کی طرف بھاگا سیکورٹی ٹاف کرنے کے بعد وہ بھی ان کے پیچھے ہی بھگا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ہنس کیوں رہی ہے یہ کاظمی جب تھک گیا تو شبیر شیخ کی طرف دیکھ کے چیخا وہ مار مار کے تھک گیا تھا مگر سامنے والی کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ تھی جس نے ایک لفظ اف تک کا نہیں نکالا تھا ۔۔۔۔
ت ۔۔تو۔ ۔م۔ ۔یر۔ ۔میرا ۔۔کچھ ۔۔ن ۔۔نہ ۔۔نہیں بیگار سکتا ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔
سائن کر ورنہ جان لے لوں گا کاظمی غصے سے غرایا تھا
عبیرہ نے ایک طنزیہ مسکراہٹ پاس کی اسے جو جلی پے تیل کا کام کر گئی تھی ۔۔۔۔
تیری تو ۔۔۔ روک جاؤ یار اب تھوڑا مجھے بھی تو موقع دو اس خوبصورت بلا کو چکھنے کا ۔۔ کاظمی کا غصہ دیکھ شبیر شیخ فورن اگے ہوئے ۔۔۔۔
سر پوری زندگی آپ کا نمک کھایا ہے اپنے بعد اس ناچیز کو بھی تھوڑا موقع دے دینا ایس پی فورن اپنی کمینی بوتھی لے کے بولا ۔۔۔
عزت جانے کے خوف سے پہلی بار عبیرہ کا دل دھڑکا تھا اور دل شدت سے دعا گو تھا کے اسے موت آ جائے وہ ان درندوں کے ہاتھ اپنی عزت کا جنازہ نہیں اٹھاوا سکتی تھی ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔
