Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

عبیرا جو فل سپیڈ سے بائیک چلاتی ہسپتال جا رہی تھی اور راستے میں اس کی بائیک کی وجہ سے آیان پے کیچڑ اچھال گیا ۔۔۔
اس نے پیچھے موڑ کے دیکھا اگر اس کے پاس وقت ہوتا تو وہ لازمی سوری کرتی مگر فلحال اس کے پاس وقت نہیں تھا اس لیے بغیر روکے اگے بھر گئی ۔۔۔۔
مگر اس بات سے انجان کے اس کی آنکھیں کسی کی برسوں سے سوئی ہوئی امید کو جگا چکی تھی ۔۔۔
ایک دیوانہ جو ان آنکھوں کو عشق و جنون کی حد تک چاہتا تھا ۔۔۔
نہ جانے کیا ہوگا جب ایان کو پتا چلے گا اس کے بارے میں
🌺🌺🌺🌺
سر یہ روڈ تو بلکل خالی ہے یہاں ناکا لگانے کی کیا ضرورت تھی آپ کی تو چلو خیر ہے میرا رنگ بھی خراب ہو رہا ہے اس دھوپ میں ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی خدا نہ کرے اگر میں کالا ہوگیا تو کون دے گا مجھے اپنی لڑکی ۔
رومان نے اپنا ہاتھ پیشانی پے رکھتے ہوئے منہ بنا کے کہا ۔۔۔
جانتا ہوں یہ روڈ بھی تمہارے دماغ کی طرف خالی ہے اور
تم دو منٹ کے لیے چپ نہیں کر سکتے ایک تو پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جب مجھے تمہارے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا گیا ۔۔
ایس پی نے تپ کے جواب دیا ۔۔
مگر سامنے بھی ڈھیٹوں کا سردار تھا مجال ہے جو فیل کیا ہو ۔۔۔
سر قسمت والے ہیں جو میرے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا آپ کو وہ بھی کالر اکڑا کے فخر سے بولا ۔۔۔
تمممم ۔۔اگر ایک لفظ بھی اور بولے تو میں سر کھول دوں گا تمہارا ایس پی نے تپ کے کہا ۔۔۔
آہہہہ . بدلے میں خود مجھ سے بچ جائے گا ۔۔رومان منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔
کچھ کہا تم نے ایس پی نے اس کی سرگوشی سن لی تھی اس لیے تیور چڑھا کے پوچھا
نہیں سر لیکن ۔۔۔۔۔
سر وہ بائیک جتنی سپیڈ سے آ رہی ہے مجھے نہیں لگاتا روکے گی ۔۔۔اس سے پہلے رومان کوئی اور بکواس کرتا ایس آئ حارث نے آ کے ان کا دھیان سامنے کی طرف کروایا جہاں سے ایک بائیک ہوا سے باتیں کرتی آ رہی تھی ۔۔۔
انسپکٹر رومان روکو اسے ۔۔
ایس پی کی آواز پے اس نے منہ بناتے ہوئے اگے بھر کے بائیک روکوائی ۔۔۔
امبر جو پہلے ہی جلدی میں تھی بائیک روکوا نے پے تپ ہی گئی تھی ۔۔۔۔
نیچے اترو اور اپنے پپیرز چیک کرواؤ اپنی بائیک کے ۔۔۔
رومان نے اس کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
سر میں واپسی میں دیکھا دو گی فلحال جلدی میں ہوں امبر نے صبر سے کام لتے ہوئے کہا ۔۔۔
رومان تو ہیلمٹ کے پیچھے سے انے والی اس نسواری آواز میں کچھ پل کے لیے کھو سا گیا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہ۔۔۔
دیکھو لڑکی جتنا کہا اتنا کرو جلدی سے پیپرز چیک کرواؤ نہیں تو چلان بھرو ۔۔ اس سے پہلے رومان کچھ کہتا ایس پی نے پاس آ کے کہا ۔۔۔
سر منا آپ شکل سے فقیر لگتے ہیں اب اس کا پروف دینے کی کیا ضرورت ہے لڑکی کہ رہی ہے نہ کے جلدی میں ہے تو جانے دو رومان نے ایک بار پھر ۔۔ایس پی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
تم اپنی بکواس بند نہیں رکھ سکتے ۔۔اور تم جلدی سے پانچ ہزار وہاں جمع کرواؤ جا کے ۔۔۔ ایس پی نے دونوں کو گھور کے کہا ۔۔۔
امبر نے ہیلمٹ کے اندر ہی دانت پیسے
اوکے سر وہ کہ کے تھوڑا اگے گئی جہاں کچھ پولیس والے اور بھی کھڑے تھے ۔۔۔
سنیں ایس پی صاحب نے کہا ہے آپ لوگوں سے تین ہزار لے لون آپ ذرا جلدی دے میرے پاس ٹائم نہیں ہے ۔۔وہ انتہائی معصوم چہرہ بنا کے بولی چہرے پے نقاب ہونے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے ۔۔۔
تین ہزار کس خوشی میں ان میں سے ایک نے حیرت سے کہا ۔۔۔
وہ تو آپ اپنے سر سے پوچھنا کے مجھے آپ کے پاس کیوں بجا مجھ سے پانچ ہزار تو انہوں نے لیے تھے نا لیکن پہلے مجھے پیسے دو نہیں تو میں جا رہی ہوں بتانے وہ اس بار تھوڑا غصے سے بول کے پلٹنے لگی ۔۔۔
روکے میم یہ لیں پیسے ان میں سے ایک نے جلدی سے پیسے دیے ۔۔
جی شکریہ وہ انہیں بول کے اپنی بائیک تک گئی اور پھر ایس پی کی طرف دیکھ کے بلند آواز میں بولی ۔۔۔۔
سر ۔۔
اس نے وہی سے آواز لگائی
جب ایس پی نے اس کی طرف دیکھا تو ۔اس نے دو انگلیاں اپنی پیشانی کے پاس لے جا کے انہیں سیلوٹ کیا ۔۔
اور زن سے بائیک ہوا میں اڑاتی لے گئی ۔۔۔۔۔
سر کون تھی یہ لڑکی ۔۔ اس کے جاتے ہی ایس آئ نے اس کے پاس آ کے پوچھا ۔۔
پتا نہیں کیوں ۔۔
سر وہ آپ کے نام پے تین ہزار لے گئی ہم سے ایک پولیس نے والے آ کے بتایا ۔۔۔
کیاااااا اور تم لوگوں نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔۔۔ایس پی دھاڑا
سر ہمیں لگا آپ کی رش۔۔۔
بکواس بند کرو گدو کسی کام کے نہیں ہی نالائق سب کے سب وہ غصے سے چیخا تھا ۔۔
رومان کے لیے اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا
🌺🌺🌺🌺
تینوں کی بائیکز ایک ساتھ ہسپتال کی پارکنگ میں آ کے روکی ۔
وہ ایک ساتھ اندر کی طرف بھاگی ۔۔۔
ڈاکٹر زین کیسا ہے اب ۔۔۔عبیرا نے آئ سی یو سے باہر آتی ڈاکٹر عائشہ کو دیکھ کے پوچھا ۔۔۔
آپ تینوں میرے کیبن میں چلیں وہی بات ہوتی ہے وہ بول کے اگے چل دی پیچھے وہ تینوں بھی اپنے دل کی دھڑکنیں سمبھالتے چل دی ۔۔۔۔
بتاے نہ ڈاکٹر کیسا ہے وہ ۔۔۔ امبر نے ڈاکٹر کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
وہ آپ کا کیا لگتا ہے سوال عجیب تھا مگر پھر بھی ڈاکٹر نے تینوں کو دیکھ کے سوال کیا ۔۔۔
وہ تینوں ڈاکٹر کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے یہ سوال کر کے غلطی کر دی ہو ۔۔۔
آآہہہہ زری نے ایک سرد آہ بھری اور ڈاکٹر کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
کچھ نہیں لگتا وہ ہمارا ۔۔۔
پھر آپ لوگوں نے اس کے علاج کا خرچ کیوں اٹھایا ڈاکٹر نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔
کچھ لوگ لوگ نہیں سکون ہوتے ہیں ۔۔
لوگ اپنے یا پراۓ نہیں ہوتے لوگ صرف اچھے یا برے ہوتے ہیں
اور رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں
بہت لوگ ہے دنیا میں جن کو میں نے عزت دی پیار دیا اپنا مان کر چلی پر جو لوگ اس قابل نہیں ہوتے وہ اپنا آپ کہیں نہ کہیں ضرور دیکھا دیتے ہے اور پھر ہمیں خود پر ہی افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کن دو ٹکے کے لوگوں پر اپنے الفاظ اورجذبات ضائع کر دیے
انسان وہ نہیں ہے جو اپنی انا میں رہے اور خود کو ہی سب سے سمجھدار تیس مار خان سمجھتا رہے دوسروں کی بات کی ان کی فیلنگ کی اس کے نزدیک کوئی ویلیو ہی نہ ہو۔۔۔
انسان وہ ہے جو ہمیشہ اپنے سے کم کو بھی عزت پیار دے ۔۔۔
ک غیروں کو جتنی عزت دو یہ اس سے دس گناہ کر کے دیتے ہے لوگ بس باتیں کرتے یے پر یہ پریٹکلی دوسروں کے درد کو محسوس کرتی ہے کیونکہ یہ حقیقی درد سے گزری ہے
پر مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا یہاں لوگ ایک جیسے نہیں ملتے کیسی کی قدر کرنے والے کسی کو سمجھنے والے…..
خون کے رشتے سے بڑا احساس کا رشتہ ہوتا ہے ۔
ہم نے جو کیا انسانیت کے ناتے کیا ۔۔پیسے اس بچے کی جان سے بھر کے نہیں تھے آپ جانتی ہیں ڈاکٹر ہم تینوں کا ہمارے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔۔۔
لیکن آج ہمارے پاس ہر رشتہ ہے بھائی بہن ماں باپ جو پیار اپنوں سے نہیں ملا وہ غیروں نے دیا ۔۔۔
امبر نے تلخی سے مسکرا کے جواب دیا کیا کچھ نہیں تھا اس کے لہجے میں ۔۔۔۔
ہماری نظر میں کسی کی زندگی سے اوپر کچھ نہیں اور زین ہمیں بہت عزیز ہے امید کرتے ہیں آپ اس کا بہت خیال رکھے گی ۔۔۔
عبیرہ نے ڈاکٹر کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔
ہوا کیا اسے زری نے پھر سے وہی سوال کیا ۔۔۔
دیکھیں میں جانتی ہوں آپ لوگوں کی فیلنگس لیکن اب جو میں کہنے جا رہی ہوں اسے دھیان سے اور ٹھنڈے دماغ سے سنا ۔۔۔ ڈاکٹر نے تینوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔
ڈاکٹر کی بات پے تینوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
اس بچے کی باڈی میں سے ہمیں ڈرگز کی بھاری مقدار برآمد ہوئی ہے ایسا کہنا ممکن ہے کہ اس بچے کو ڈرگز کا عدی بنا جا رہا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن تینوں کو اپنے سر پے ہسپتال کی چیٹ گرتی محسوس ہو رہی تھی خبر ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی ڈاکٹر اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی مگر امبر وہاں سے بامشکل اپنے آپ کو گھسیٹی ہوئی نکل آئ اسے وہاں اپنا آپ بےمول لگ رہا تھا ۔۔۔
ماں باپ کو دیکھا نہیں تھا جو بھی تھا وہ یہی بستی کے لوگ تھے جن کا ہر دکھ درد وہ اپنا مان کے چلتی تھی ۔۔۔۔
ڈاکٹر آپ اس کا خیال رکھنا ہم اتے رہے گے اور اس کے علاج میں کوئی کمی نہیں انی چاہئے پیسوں کی فکر نہ کرنا آپ ۔۔۔ عبیرہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اسے امبر کو بھی سمبھالنا تھا ۔۔۔
وہ دونوں بھی فورن وہاں سے نکلی ۔۔۔
وہ ہسپتال سے باہر آئ جب ان کی نظر امبر پے پڑی جو پارک کے بینچ پے بیٹھی نا جانے کن سوچوں میں غرق تھی ۔۔۔۔
ہم سمجھ رہے ہیں تمہاری حالت کو ہم ساتھ ہے نہ یار سب ٹھیک ہو جائے گا اور ایسی
کیا بات ہے یار جو تم آج کل کچھ زیادہ ہی کھوئی کھوئی لگ رہی ہو سب ٹھیک تو ہے زری نے اس کا ہاتھ پکڑ کے پوچھا ۔۔۔
امبر نے اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے دل میں اٹھتا طوفان دبایا اور عبیرہ کی طرف دیکھا جو اس کے کچھ بولنے کی منتظر تھی ۔۔۔۔
بیئر تمہیں مجھ پے کتنا بروسہ ہے؟؟؟ امبر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا جانتی تھی جواب کیا ملے گا پھر بھی یہ سوال کر رہی تھی کتنی پاگل لڑکی تھی ۔۔۔۔
میری جان یہ کیسا سوال ہوا تم جانتی تو ہو میری جان بستی ہے تم دونوں میں اور خود سے زیادہ بھروسہ کرتی ہوں تم دونوں پے عبیرہ نے دونوں کو پیار سے ہگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور اپنے باپ پے کتنا بروسہ ہے امبر کے اگلے سوال پے عبیرہ کے ہاتھ کی گیراف ڈھلی پڑی تھی زری نے بھی ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔۔
م ۔۔مطلب یار یہ کیسا سوال ہے عبیرہ نے جلد خود کو سمبھال کے پوچھا ۔۔
اگر کبھی مجھ میں اور اپنے باپ میں سے کسی ایک پے یقین کرنا ہو تو کس پے کرو گی ؟؟؟؟ امبر نے اس کی طرف دیکھ کے اپنا سوال دوبارہ کیا اس کے لہجے میں کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔
عبیرہ نے ہلکی سی مسکراہٹ اس کی طرف پاس کی آنکھوں میں کرب تھا شاید ضبط کی انتہا پے تھی وہ ۔۔۔
امبر یہ کیسا سوال ہے یار زری نے فورن بات سمبھالنی چاہی ۔۔لیکن عبیرہ نے اسے ہاتھ روک کے چپ کروا دیا ۔۔۔
اگر کبھی مجھ پے یہ وقت ایا کے تم دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب مجھے کرنا پڑے تو میں اس کا انتخاب کرو گی جو سچ پے ہوگا اگر تم سچی ہوئی تو میں اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ کھڑی رہو گی ۔۔اور اگر وہ سچے ہوئے تو تب بھی میں دونوں کا ساتھ دوں گی ۔۔۔ عبیرہ اس کا ہاتھ پکڑ کے بول رہی تھی اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ رکی نہیں تھی وہاں اپنے آنسوں ضبط کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔
زری بھی اس کے پچھے ہی بھاگی ۔۔
کاش وہ رب تم پے یہ حقیقت نہ کھولے میں جانتی ہوں جب تمہیں سب پتا چلے گا تو تم توٹ جاؤ گی مگر یقین رکھنا بیئر مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ ہی پاؤ گی ۔۔۔
امبر نے اس کی پست کو دیکھتے ہوئے کرب سے سوچا
🌺🌺🌺🌺
زمل انتہائی غصے میں کاظمی منشن میں داخل ہوئی رات کے دس بج رہے تھے اور وہ پوری رات اور دن باہر گزر کے آئ تھی ۔۔۔
روکو زمل بیٹا کہاں تھی آپ پوری رات ۔۔ اس سے پہلے وہ اپنے کمرے میں جاتی ابراھیم کاظمی کی آواز پے اس کی بھرتے قدم روکے ۔۔۔
کہی نہیں بابا فرینڈز کے ساتھ تھی ۔۔ وہ منہ بنا کے بیزاریت سے بولی
اوووو سنا آپ نے بابا یہ اپنی دوستوں کے ساتھ تھی وہ بھی پوری راتتتت۔۔۔ عبیرہ نے کاظمی صاحب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی زمل پے طنز کیا وہ بھی وہی بیٹھی تھی ہسپتال سے وہ سیدھا گھر آئ تھی اور اب کافی حد تک خود کو سمبھال چکی تھی ۔۔۔
بیٹا بری بات بہن ہے آپ کی اور زمل بیٹا آپ بھی اگے سے خیال رکھنا وقت پے گھر آ جایا کرو ایسے لڑکیوں کا باہر رہنا اچھی بات نہیں ہوتی کاظمی صاحب نے دونوں کو پیار سے سمجھایا ۔۔۔
جی ٹھیک بابا اگے سے خیال رکھیں گے ہم ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی ۔۔۔
کاظمی صاحب اپنے بچوں کے سامنے بہت سویٹ تھے اس لیے وہ بھی ان کے سویٹ بن جاتی ۔۔۔
علیہ بیگم کھا جانے والی نظروں سے انہوں دیکھ رہی تھی مگر یہاں پروہ کیسے تھی ۔۔
جاری