Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

روکو ۔۔۔۔
ابھی وہ اپنی سکوٹی کے پاس ہی پوھنچی تھی کے پیچھے سے انے والی ايان افندی کی سرد گھمبیر آواز پے اسے مجبورں روکنا پڑا ۔۔۔
ہمیشہ کالی بلی کی طرح پیچھے سے ہی راستہ کاٹنا میرا اب کون سی آفت آ گئی تھی جو میرے پیچھے ہی منہ اٹھا کے چلے آے ۔۔۔
عبیرہ نے اسے دیکھتے ہی تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔۔۔
تم اپنی زبان لو لگام لاگنا کب سکھو گی ۔۔ ايان نے دانت پیس کے کہا اس لڑکی سے کبھی بھی سیدھے جواب کی امید نہیں کی جا سکتی تھی ۔۔۔
لگام گھوڑوں کو لگائی جاتی ہے انسانوں کو نہیں ویسے بھی آپ کو کیا میں کم بولو یا زیادہ بولو یا بولوں ہی نہ آپ کا کیا جاتا ہے کیا آپ کو میں نے کہا میرے پیچھے انے کو نہیں نا جب خود ہی منہ اٹھا کے آ گے ہو تو اب سن بھی لو نہ چپ کر کے ۔۔۔ عبیرہ نے سکون سے آنکھیں پٹپٹاٹے ہوئے جواب دیا ۔۔
ایان ۔نے اس کے اس حد تک ڈھیٹ پنے پے اپنے دانت پیس کے اسے گھورا ۔۔۔
ایسے کیا اپنی الو جیسی بڑی بڑی آنکھیں نکل کے گھور رہے ہیں پھلے کبھی معصوم لوگ نہیں دیکھے کیا ؟؟؟ عبیرہ نے اپنی آئ برو اچکا کے پوچھا ۔۔
تمہیں ڈر نہیں لگتا مجھ سے ۔۔۔ ایان نے اسے دیوار کے ساتھ پن کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کے پوچھا آواز میں بلا کی سختی تھی ۔۔
عبیرہ کو اس کی انگلیاں اپنی بازو میں پیستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر وہ بھی کمال مہارت سے سب برداشت کر گئی ۔۔۔۔
کیوں آپ آدم خور ہیں کیا جو مجھے آپ سے ڈر لگے گا ۔۔ عبیرہ نے سکون سے جواب دیا
ایان۔ نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے اپنی طرف کھینچا جب وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کی چوڑی چھاتی سے آ لگی ۔۔۔
سکون کی ایک لہر تھی جو اسے اپنے اندر اترتی محسوس ہو رہی تھی اس کا صدیوں سے بےسکون دل آج کسی کی قربت میں سکون محسوس کر رہا تھا ايان تو کھو سا گیا تھا ۔۔
اس نے ہاتھ بڑا کے عبیرہ کا نقاب اترنا چاہا ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے ہی عبیرہ نے اسے حقیقت کی دنیا میں لا پٹکا ۔۔۔
عبیرہ کی جان پے بن آئ تھی اس کی قربت میں مگر اس نے سامنے والے کو کہاں محسوس ہونے دینا تھا اس لیے ايان کو کھویا دیکھ ایک ہی جھٹکے میں اسے خود سے دور کر دیا ۔۔
ایان نے ہوش میں اتے ہی اسے گھور کے دیکھا ۔۔۔
جب عبیرہ نے بھی ایک ناگواری نظر اس پے ڈالی اور اپنے قدم باہر کی طرف بھرا دیے ۔۔۔۔۔
میں نے لائر سے بات کر لی ہے تین چار دنوں میں تمہیں طلاق کے پیپرز مل جائے گے میں تم جیسی لڑکی کو اپنے ساتھ باندھ کے نہیں رکھ سکتا جس کے نا خون کا پتا ہے نا خاندان کا ۔جیسے بولنے تک کی تمیز نہیں جب جو منہ میں آے بول دیتی ہو ۔۔۔ایان نے اس کی پست کو گھورتے ہوئے انتہائی غصے میں کہا ۔۔۔کچھ دیر پہلے والے جذبات کہی جا سوے تھے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ سب بول رہا تھا
عبیرہ کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا اسے امید تھی یہ دن بھی آے گا مگر اتنی جلدی یہ اس نے نہیں سوچا تھا مگر وہ خود کو سمبھال کے پلٹی ۔۔۔۔
بہت اچھا کیا آپ نے ورنہ میں تو خود آپ کو خلا کے پیپرز بہجنے والی تھی ۔ مجھے بھی آپ جیسے مرد کی ضرورت نہیں جیسے کیسی سے رشتہ جوڑنے سے پہلے اس کی ہسٹری جانے کی ضرورت ہو ۔۔۔ کمال ضبط سے اس نے ايان افندی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
وہ کہ کے روکی نہیں تھی ۔۔مl عبیرہ کے منہ سے یہ سن کے ايان کے دل کو کچھ ہوا تھا مگر وہ سب کچھ جھٹک کے اندر کی طرف چل دیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
رومان فریش ہو کے نکلا تو سامنے ہی نظر امبر پے پڑی جو سو رہی تھی زری اسے کھانا کھیلا کے سولہ گئی تھی ۔۔۔
رومان نے مسکرا کے اسے دیکھا اور اگے بھر کے اس کی پیشانی پے بوسہ دیا جب وہ نیند میں ہی کسمسائی۔ ۔
اس سے پہلے رومان کوئی اور گستاخی کرتا اس کا فون رینگ ہوا اس نے ایک نظر امبر کو دیکھا اور فون لے کے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی امبر نے اپنی آنکھیں کھولی اور بےساخت ہاتھ پیشانی کو لگیا جہاں ابھی بھی اس کا لمس موجود تھا ۔۔
ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا ۔۔۔
اور وہ سکون سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔
رومان نے گاڑی میں بیٹھے ہی کال اتٹنڈ کی ۔۔
ہیلو سر ۔۔۔
کام دیا تھا تمہیں پورا ہوا یا نہیں دوسری سائیڈ سے ایس ۔پی کی سرد آواز سنائی دی جس پے رومان نے اپنے دانت پیسے ۔۔
سر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے وہ لڑکی ریبل نہیں ہے میں پورا دن اس کے ساتھ ہوتا ہوا اب تک ایسا کچھ ہاتھ نہیں لگا جس سے یہ ثابت ہو جائے کے وہی گینگسٹر ریبل ہے ۔۔۔
رومان آج کچھ زیادہ ہی سیریس تھا اسے ویسے بھی اب ایس ۔پی کی حرکتیں مشوک لگ رہی تھی ۔۔۔
انسپکٹر رومان آپ مجھے یہ نہ بتاے کے کون کیا ہے اور کیا نہیں آپ کو جو کام دیا گیا ہے آپ وہ کریں جا کے اور مجھے اس بار ہر حال میں وہ ڈریگنز چاہئے سمجھ رہے ہے آپ ایس پی نے رومان کی بات کاٹ کے انتہائی سرد لہجے میں کہا ۔۔۔
خود تو ہلتا نہیں ہے موٹا اور مجھے ایسے ارڈر دیتا جیسے باپ کا معلازم ہو اس کے ۔ فون بند ہوتے ہی ۔رومان نے ناک چڑھا کے کہا
اور گاڑی پولیس سٹیشن کی طرف مور لی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ادیان عبیرہ کو میرے کیبن میں بھجو ابھی ایان نے انٹر کم پے ادیان کو کہا اسے اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہو چکا تھا جو بھی تھا اسے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔
وہ تو ابھی تک آئ ہی نہیں ادیان نے فائل چیک کرتے ہوئے مصروف سے انداز میں کہا ۔
کیاااا کیوں نہیں آئ وہ ۔ايان کا غصہ ایک دم تیز ہوا تھا اسے خود بھی نہیں پتا تھا وہ غصہ کیوں کر رہا ہے مگر اسے سامنے دیکھنے کی عادت پر گئی تھی اسے ایک منٹ کے لیے بھی وہ اپنی نظروں سے دور نہیں کرتا تھا ایسا وہ کیوں کر رہا تھا یہ بات سمجھنے سے فلحال وہ قاصر تھا ۔۔۔۔
یار زری بتا رہی تھی آج وہ دونوں امبر کے ساتھ رہے گی کل والے حادثے کی وجہ سے وہ کافی ڈپریشن میں ہے ۔۔ادیان نے جلدی سے بہانہ بنایا سامنے والی جلاد کا کیا بھروسہ تھا اسی کی کلاس لے لیتا ۔۔۔
ہممممم اوکے ۔۔
ايان نے کہتے ساتھ فون رکھا اور اپنے آفس میں ہی ادھر سے ادھر چکر لگنے لگا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ایک بلیک مسٹرڈیز ہوا سے باتیں کرتی ہوئی جا رہی تھی اس میں موجود وہ تین نقص ہر چیز کی سے بےفکر اپنی موج مستی میں تھے ۔۔
آاے کے گاڑی روکو ریبل نے سامنے دیکھتے ہوئے چیخ کے کہا ۔۔۔
اے کے نے ایک دم بریک پے پاؤں رکھا اور تھوڑا اگے جا کے گاڑی جھٹکا کھا کے روک گئی ۔۔۔
ایک دم بریک لگانے کی وجہ سے گاڑی پوری گھوم گئی تھی
کیا ہوا ربیل ۔۔اے کے اور زی نے فکرمندی سے اس کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔۔۔
پیچھے دیکھو اس نے دونوں کو بیک مرر سے پیچھے دیکھنے کو کہا جہاں ایک بزرگ آدمی فوٹ پاتھ پے بیٹھا کچھ کھا تھا رہا اس کی حالت اتنی بری تھی کے کسی کو بھی اس پے ترس آ سکتا تھا مگر اس بےحس دنیا کو نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
یہ بابا جی کون ہیں؟؟؟ زی نے ربیل کی طرف دیکھ کے پوچھا
اس بےحس دنیا کے ستاے ہوئے ہیں وہ تلخی سے بول کے گاڑی سے باہر نکلی پیچھے ہی وہ دونوں بھی
وہ تینوں گاڑی سے نکل کے بزراگ کے پاس آے ۔۔
جنوری کی بڑتی ٹھنڈہ میں وہ بغیر کسی موٹے کپڑے کے ٹھنڈی زمین پے بیٹھے تھے ٹانگوں پے موجود زخم اور جسم پے جگہ جگہ موجود زخم جو کافی پرانے لگ رہے تھے ۔۔۔
گندے سے ہولے میں ہاتھ میں ایک آدھی جلی روٹی پکڑے وہ انسان قابلے رحم لگ رہا تھا ۔۔۔
ربیل ان کے پاس جا کے بیٹھی جب انہوں نے رخ موڑ لیا ربیل کی آنکھوں میں نفرت و خون بھر ایا تھا اسے اپنا آپ اس وقت فضول لگ رہا تھا جو چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی ملک میں موجود نسور اس ملک کو اندر ہی اندر کھا رہے تھے جس کی جیتی جاگتی مثال اس کے سامنے موجود تھی ۔۔۔۔۔
زی نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا وہ دونوں جانتے تھے کے ربیل کا دل بہت نرم ہے وہ بہت احساس طبیعت کی مالک تھی صرف ایسے لوگوں کے لیے ۔۔۔
چلے بابا آپ ہمارے ساتھ اے کے نے اگے ہو کے بزرگ کو اٹھاتے ہوئے کہا جو نہ میں سر ہلا رہے تھے وہ ان کی ہر بات کو رد کیے اپنے ساتھ ڈریگن پلیس لے آے ۔۔۔۔۔
زی تم ڈاکٹر کو فون کرو اے کے نے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر نے آ کے ان کا چیک اپ کیا اور پھر ان تینوں کے پاس ایا ۔۔۔
دیکھے ان کی دماغی حالت بہت خراب ہے آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہوگا ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ ہدایت دی اور چلا گیا ۔۔۔
وہ تینوں گلاس وال کے پاس کھڑے باہر کا منظر دیکھ رہے تھے جہاں نہ جانے کتنے ہی بےسہارا لوگوں موجود تھے وہ سب ایک فیملی کی طرح یہاں آباد تھے اب کی ضرورت کی ہر چیز انہوں یہاں مل جاتی تھی بچے بوڑھے ہر انسان وہاں تھا ۔۔۔
کچھ چیزیں دل چیر کے رکھ دیتی ہیں۔سوچتی ہوں اس معاشرے میں ہم کیسے سانس لیتے ہیں کیسے آخر ہنستے مسکراتے ہیں آخر کیسے۔۔
کیا ہمارے سینوں میں موجود وہ گوشت کا لوتھڑا پتھر کا ہو چکا ہے۔یہ سب لوگ اقتدار کے حرص میں ملوث حکوت کے منہ پر تمانچہ ہے اور تمانچہ بھی ایسا کے جس کی گونج دیر تلک اور بڑی دور تلک سنائی دے گی۔
عرش و فرش کا مولا میرے ملک کے لوگوں پہ رحم کر۔غریب کا گھر جلتا رہا کوئی پرسان حال نہ تھا آخر کیوں۔
عمر خطاب رض جیسے مسلمان حکمران بھی گزرے ہیں جنہوں نے کہا “” اگر دریا فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اسکے کے لئے بھی میں جوابدہ ھونگا ” کیسے حکمران ہو تم کیسی عوام ہیں ہم۔شاید ہمارے اعمال اتنے سیاہ ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔
ربیل نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
سمبھال خود کو ربیل ہم جتنا کر سکتے ہیں کرتے ہیں باقی اس رب کی مرضی ہمارے حق میں جو ہے وہ ہم کر رہے ہے ۔۔۔
اے کے نے اسے گلے لگا کے کہا ۔۔۔
اے کے آج لڑکیاں دوسرے ملک بھجی جائے گی ابھی ابھی خبر ملی ہے زی نے آ کے دونوں کے سر پے بمب پھاڑا ۔۔۔
کس کا ہاتھ ہے اس سب میں اے کے کی آنکھوں میں خون اتر ایا تھا اس نے شدت سے خواہش کی کے وہ نام نہ آے جو اس کے ذہن میں تھا
اور کون ہو سکتا ہے ان کے علاوہ زی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
نہیں زی وہ انسان میرا کچھ نہیں لگتا بہت جلدی اس انسان کی قبر ہم اپنے ہاتھوں سے نکلے گے زی کی بات اے کے نے بیچ میں ہی کاٹ دی ۔۔۔
اگے کیا کرنا ہے اے کے دونوں نے اے کے کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچا میں تھی ۔۔۔
ہمممممم وہی جو ہر بار ہوتا ہے ۔۔
سرد مہری سے جواب دینے کے بعد وہ تینوں وہاں سے نکل گئے ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔