Tera Mera Milna By Komal Writes Readelle502119

Tera Mera Milna By Komal Writes Readelle502119

Last updated:

3.0(4 ratings)
Episodes
34
Views
129.8K
Status
Ongoing

About this novel

Tera Mera Milna

By Komal

رات کے آٹھ بج رہے تھے اور ہال میں افندی ویلا کے تمام افراد کی موجودگی میں بھی خاموشی کا راج تھا۔
ماہی ، روحان ، زری ، امبر چارو دروازے کے پاس لائن میں کھڑے تھے نظر سامنے ڈنڈا فرش پر ٹکائے صوفے پر بیٹھے ايان پر تھی۔جس کی کرخت نظروں کا مرکز مقابل سر جھکائے کھڑا معصومیت کی جیتی جاگتی مثال رومان تھا۔۔۔۔
ایان کے پیچھے ہی جبڑے بھینچے کٹیلی نظروں سے رومان کو گھور رہا عدی کا بس نہیں چل رہا تھا کے شرافت کی مورت بنے کھڑے فسادی انسپکٹر کا حشر بگاڑ دے،
ايان کے پہلو میں بیٹھی عبیرہ کا خیال مختلف تھا اس کا بس دل کررہا تھا تنہائی میسر ہو رومان کے ساتھ تا کے اپنا جوتا اتار کے پوچھے دیوار جی کس جنم کا بدلہ نکال رہے ہو مجھے سب کی نظروں میں ذلیل کرکے کیا ضرورت تھی ہیرو بنے کی ۔۔۔
پورا دن اپنا ضبط آزمانے کے بعد حسب توقع ڈنر کے بعد جب رومان صاحب سب کچھ بھلا کے سونے جا رہے تھے ایان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور رومان کا سکون غارت ہوا تھا۔
کیونکہ ہیٹلر کے ٹرینر کی عدالت میں پیشی ہوئی تھی اس کی ۔پندره منٹ گزر گیے تھے ۔اسے ایان اور عدی سخت گھوریوں کا سامنہ کرتے ہوئے۔
نازک دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔حالت تو ایسی تھی کے نظر اٹھا کر کسی سے مدد طلب کرنے تک کی ہمت مفقود تھی۔ گھروالوں کا یہ ری ایکشن تھا
“اللّه آج بچا لے سچ کہ رہا ہوں آج سے زری کی چوکلیٹ چوری کرکے۔سوری سوری چوری نہیں مطلب نکال کے نہیں کھاؤں گا،اور نہ ہی جمعہ کے دن مسجد میں جانے میں تاخیر کرونگا بلکے امام صاحب کا بیا شروع ہونے سے پہلے حاضر ہوجاؤں گا ۔۔۔بس آج ان دونوں جلادوں سے میری حفاظت کر،اور بس یہاں سے سنگل پیس میں نکال دے، ابھی کچھ دن پہلے ہی تو خالص کنوارے کی کیٹگری نکلا ہوں،
میری بری درگت دیکھ واپس اسی کیٹگری میں نہ چلا جاؤں ویسے بھی قسمت سے جنگجوں بیوی ملی ہے۔۔۔
طویل ہوتی خاموشی کی مدت دیکھ رونی صورت بنا کر رومان دل ہی دل اللّه سے مدد طلب کے ساتھ ڈیل کرنے میں مصروف تھا جب ايان کی ماحول میں ارتعاش پیدا کرتی آواز پر حلق خشک ہوا تھا۔
“یہ تھی میری تربیت ؟؟؟۔”ايان زور سے ڈنڈا فرش پر مار کر دهاڑتا تو رومان کے ساتھ ساتھ زری اور امبر بھی خوف سے اپنی جگہ کانپ گئی ۔
رومان ڈر . سے تھوک نگل کر رہ گیا تھا۔
“مسٹر جلاد کیسے بےرحم سفاک بھائی ہیں آپ،آپ کا چھوٹا بھائی بیچارہ معصوم ڈر سے کانپ رہا ہے اور آپ بجائے بچے کو پیار سے سمجھانے کے یہاں بیٹھے اس کی حالت انجوئے کررہے ہیں۔ ايان کا جلال روپ دیکھ عبیرہ نے
نے سینے پر بازو باندھ کر اطمینان سے ايان کو لتاڑا ہلکے ڈر وہ خود بھی رہی تھی مگر وہ عبیرہ ہی کیا جو خاموش رہے
جس پر ايان نے تپ کر شاکی نظروں سے اپنی زوجہ کو دیکھا تھا مطلب حد ہی ہوگی اب بھی میڈم کو اپنا دیوار معصوم لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟؟۔”عبیرہ نے تعجب سے سرگوشی میں پوچھا ايان کا ایسے دیکھنا مزید ڈرا رہا تھا ..
” میں آپ کی معصومیت کی انتہا دیکھ رہا ہوں، میری باری میں یہ معصومیت کہاں جا سوتی ہے جو آپ لیڈی ہیٹلر بن جاتی ہے۔۔”ايان نے دبی دبی آواز میں سنجیدگی سے پوچھا…۔اور اتنے سنجیدہ ماحول میں ايان کی غیر سنجیدہ بات عبیرہ کو ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔اس نے تیکھی نظروں سے اسے باز رہنے کا اشارہ کیا۔
“وہ سب چھوڑیں بس سین انجوئے کریں،کیونکہ ایسے یاد گار جیمس باؤنڈ کے شاگرد کی واٹ لگنے والے منظر شاز و نادر ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔”ايان نے رومان کی رونی شکل دیکھ مزے سے بولا۔
جس پر عبیرہ نے دانت پیسے تھے۔
“آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے وہ منہ بنا کے بولی ۔۔۔۔
“بہت خوب جوان ہماری آزادی کا بہت اچھا صلہ دیا ہے پہلے تو نکاح کی صورت میں۔اور اب یہ ڈریگنز ۔”ايان کے اتنا سنانے پر بھی رومان کے چوں نہ کرنے پر عدی نے مملامتی نظروں سے رومان کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے طنز کیا۔جس پر رومان کی بس ہوئی تھی۔آخر کب تک وہ اپنی زبان میں ہو رہی كهجلی پر کنٹرول کا قفل لگائے رہتا۔
“خدا کو مانیں یار بھائی ۔۔۔
کونسا میں نے ٹوپی برقعہ پہن کر تابوت کے اندر سے قبول ہے کہا تھا،
اس بابرکت موقعے پر امام خطیب کے علاوہ گواہ کے طور پر ان کے چار مصلّی اور موصوفہ کی بیسٹ فرینڈ آپ کی زوجہ محترمہ بنفس نفس موجود تھیں
یقین نہیں تو محترمہ سے خود تصدیق کرالیں اور رہی بات ڈریگنز کی تو اس میں بھی آپ کی زوجہ محترمہ ہر قدم پے میرے ساتھ پیش پیش تھی ۔۔” رومان نے ايان کی طرف دیکھتے ہوئے فورن کہا بھلا رومان کی بارہ گز کی زبان بھی کنٹرول ہوئی ہے کبھی۔ایک بار فارم میں آئی تو پھر رومان کے روکنے سے بھی نہیں رکی تھی۔اور ساری گل افشانی کرنے کے بعد رومان نے زبان دانتوں تلے دبا کر آنکھیں میچ لی تھی۔اور رومان کی فراٹے بھرتی زبان نے عبیرہ کی ساری ہمت ہوا کی تھی۔وہ آنکھیں میچے جہاں بیٹھی تھی وہیں جم گئی۔
“دیکھ رہی ہو بیگم یہ ہے تمہارا معصوم دیوار ايان نے عبیرہ پے طنز کا تیر چلایا
یار مجبوری تھی شوق سے نہیں چھپایا سچ ۔۔”رومان منمنایا۔
“اچھا چلو مان لیتے ہیں مجبوری تھی تو کیا گھر کی بچیوں کی جان خطرے میں ڈالنا بھی مجبوری تھی ۔۔۔ عدی نے گھور کے پوچھا ۔۔۔
“یار ہمت نہیں ہوئی تھی ناں،
اگر تب ہی بتا دیتا تو بھائی نے اپنی خاندانی بندوق میرے سینے میں خالی کردینی تھی۔۔”رومان منہ بناتے ہوئے لاچاری سے بولا۔جس پر ماہی اور روحان نے منہ پیچھےکرکے اپنے ابل رہے قہقہ کا گلا گھونٹا تھا۔ان کا بھائی واقعی سینگل پیس تھا اس دنیا میں جو اتنے تناؤ کے ماحول میں بھی زبان کو لگام نہیں دے رہا تھا۔۔۔
“وہ تو میں اب بھی خالی کروں گا “ايان ڈنڈا زمین پر مار کے اسکی طرف بڑھے جب رومان دور کے عبیرہ کے پیچھے محفوظ ہوا تھا۔کوئی بعید نہیں تھا ہیٹلر ٹانگ ہی توڑ دیتے ابھی تو بیچارے کو گھوڑی بھی چڑھنے کے ارمان نکالنے تھے۔
“رومان باہر آؤ کیا بزدلوں کی طرح کارنامہ انجام دے کر عورتوں کے پیچھے چھپ رہے ہو۔۔”ايان اسکے اس عمل سے مزید سلگ اٹھا تھا ادیان نے سرجھٹکا تھا
کوئی نمونہ ہی پیدا ہوا تھا افندی میشن میں
“بھابھی یار بچالیں سارا پیلن تو ہم دونوں کا تھا نہ تو سزا مجھ معصوم کو اکیلے کو کیوں ۔۔”رومان نے حیرت سے آنکھیں پھیلائے کھڑی عبیرہ کے کان میں اپنا خدشہ انڈیلا۔
“رومان میں کہ رہا ہوں باہر آؤ۔۔”ايان نے واپس تیز آواز میں حکم دیا۔
“میں نہیں آرہا ماریں گے آپ،یار مجھے تو لگا ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دینے پر آپ لوگ میری پیٹھ تهپتھپائیں گے تب بھی آپ نے ایسے ہی کیا اب جب اپنے وطن کی خاطر اپنی جان کی بازی لگی تو مجھے کیا پتا تھا یہاں تو سب جان لینے کے درپے ہے ۔۔” رومان نے عبیرہ کے پیچھے سے منہ نکال کر برا منایا۔اس کی مسخری پر ايان کی بس ہوئی تھی۔
“عبیرہ ذرا آپ سائیڈ ہٹیں ،آج اس کا دماغ میں درست کرتا ہوں شاباشی چاہئے جناب کو۔۔”ایان آستین چڑھاتے سامنے آئے۔جس پر رومان عبیرہ کو لیۓ ہی روحان اور زری کے پیچھے بھاگا تھا۔
“یار بھائی پلز ایک بار معاف کر دیں نہ اگے سے ایسا نہیں ہوتا “وہ عبیرہ کا کاندھا تھامے بولا۔
خوف میں بھی اسکی تیز گام زبان نہیں لڑکھڑا رہی تھی۔واقعی نایاب نمونہ تھابلکے عجوبہ تھا۔۔۔۔ادیان اور روحان نے تاسف سے سرہلایا۔
“آا۔۔بس کریں نا بچا ہے اور ویسے بھی غلطی تو ہم سب کی تھی نہ تو سزا بھی ہم سب کو دے آپ ۔۔ رحم دل کی مالک عبیرہ فورن میدان میں آئ ۔۔۔۔
جی بھائی انہوں نے مجھ سے نکاح کر کے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے تھی اگر ان کی غلطی ہے تو میری بھی ہے امبر نے فورن اس کی سائیڈ لی
“چھوڑ نہ یار بچا ہے اگے سے کوئی الٹا کام نہیں کرتا اور اب تو سب ٹھیک ہے امبر بھی خوش ہے ادیان کا بھی بھائی چارہ جاگ ہی گیا تھا۔
“جی بھائی برو سے غلطی ہوگئی آپ لوگ اپنا بی پی ہائی نہیں کریں،شکر ہے کی اس نے جذبات میں کسی غلط کا انتخاب نہیں کیا، امبر تو ویسے بھی بھابھی کی بہن اور زری کی بہت اچھی دوست ہے ۔۔” ماہی نے بھی مارے باندھے منہ کھول ہی لیا تھا۔
“تم سب اسکے وکیل نہیں بنو۔تم سب کے بے جا سپورٹ نے ہی اسے سرچڑھا لیا ہے۔۔”ايان نے تینوں پر گھوری ڈالی ساتھ تینوں کے پیچھے چھپے اس افلاطون پر بھی۔

Episodes

Episode 1

کمرے کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا دروازے سے انٹر ہوتے ہی سامنے ایک جہاز سائز بیڈ پڑا تھا اور بیڈ کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پے پڑی گھڑی میں
رات کے بارہ بج رہے تھے اور بیڈ پے سویا وہ وجود دنیا جہاں سے بےخبر خواب و خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔۔
بیڈ کے لفٹ سائیڈ کی پوری دیوار پے گلاس وال لگا ہوا تھا جس سے باہر لان کا خوبصورت منظر صاف دیکھائی دیتا ۔۔۔
بیڈ کے ساتھ ہی سنگل صوفا پڑا تھا اور کچھ دور اسٹڈی ٹیبل رکھا گیا تھا ۔۔۔
بلیک اور یلّو تھیم میں سجا وہ خوبصورت کمرہ کسی شہزادے کا ہی لگتا تھا
چھوڑو گا نہیں آج تو پکا پکڑ ہی لو گا آخر کب تک بچ کے بھاگے گے مجھ سے ۔۔وہ بیڈ پے سویا وجود نیند میں مسلسل بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
جب اس کے موبائل کی رنگ توں بجی ۔۔۔۔
اففف کون ہے اتنی رات کو وہ نیند میں بڑبڑا کے بولا اور موبائل اٹھا کے بغیر دیکھے کال کاٹ دی ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن
سامنے والا بھی ڈھیٹ تھا جو کال ملا کے بند کرنا ہی بھول چکا تھا ۔۔۔
بار بار بجنے والی رینگ ٹوں نے اس کی نیند میں خلل ڈالی بند ہوتی آنکھوں سے اس نے کال اٹینڈ کی اور کان سے لگائی ۔۔۔۔
کون سی آفت آگئی تھی جو اتنی رات کو فون کیا بندا تھوڑی شرم کر لیتا یہ ٹائم ہم جیسے معصوم و شریف لوگوں کے سونے کا ہوتا ہے ۔۔۔
پتا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں منہ اٹھا کے ۔۔۔
وہ کال اٹینڈ کرتے ہی شروع ہو چکا تھا ہوش تو تب آئ جب سامنے والا بولا ۔۔۔
انسپکٹر رومان آپ کو اگر ہوش آ گیا ہو تو لوکیشن بھج رہا ہوں فورن وہاں پوھنچے خبر ملی ہے ہے بلیک ڈریگنز آج بینک میں چوری کرنے والے ہیں ہمیں کچھ بھی کر کے انہوں آج پکڑنا ہے اگر آج آپ نے انہیں نا پکڑا تو سزا کے لیے تیار رہئے گا ۔۔۔
فون میں سے ایس پی کی غصیلی آواز گونجی ۔۔
مگر رومان صاحب نے کب کسی بات کا اثر لیا تھا جو آج لتے ۔۔۔۔
ایس پی نے دوسری سائیڈ کی خاموشی محسوس کر کے ایک بار پھر سوال کیا
آپ سن رہے ہیں میری بات کو فون پے ایک بار پھر گرجدار آواز گونجی ۔۔۔
ج ۔۔ج ۔۔جی سر میں بس ابھی ایا آپ فکر ہی نا کریں بس آ رہا ہوں ۔۔وہ جو موبائل اپنے کان پے رکھ مزے سے سو رہا تھا ایس پی کی ایک بار پھر انے والی آواز پے منہ بنا کے اٹھا ۔۔۔
چھوڑو گا نہیں آج تو ان تینوں کو نیند حرام کر رکھی ہے میری اوپر سے یہ موٹا خود تو بھاگ نہیں سکتا مجھ معصوم کو ان تینوں کے پیچھے بھگائی رکھتا ہے
میں تو کہتا ہوں وہ چور لگے ہاتھ ایک بار اس موٹے کے گھر بھی چوری کر ہی لیں اس عقل کے دشمن کو اتنا تو پتا چلے جب کسی کی نیند خراب کرو تو کیسا فیل ہوتا ہے اگلے بندے کو ۔۔۔
آنہہہہہ مل جائے ایک بار یہ ڈریگنز پہلے ان سے یہی سوال کروں گا کے یہ موٹا نظر نہیں اتا تم لوگوں کو انتہا کے کوئی نکمے چور ہیں قسم سے ۔۔۔
ویسے الو کے خاندان سے لگتے ہیں تبھی تو رات کو نکلتے ہیں چوری کرنے ۔۔۔ مجھے کیا جب مرضی کریں ۔۔۔
اگر چوری کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لتے تو میں انہیں یہی کہتا کے رات کے وقت نہیں بلکے دن کے وقت چوری کیا کرو اب رات کو ایسے گلیوں میں گھومنا اچھی بات تھوڑی ہے اس موٹے کو تو دیکھ کے ویسے ہی لوگ ڈر جاتے جب کے مجھ جیسے ہینڈسم بندے پے تو لڑکیاں مرتی ہیں اس لیے مجھے تو یہی ڈر رہتا ہے کے کہے کوئی چڑیل عاشق ہی نا ہو جائے مجھ معصوم پے
وہ موبائل پے ایس پی کے نمبر کو گھورتا ہوا خود سے بڑبڑا رہا تھا اس کا بس چلتا تو ایس پی کا خون پی جاتا جو ہر دوسرے دن اٹھ کے اس کا دماغ خراب کرتا تھا مگر ہاے رے قسمت بیچارہ بےبس تھا ۔۔۔
چار نہ چار اسے اٹھ کے تیار ہونے جانا پڑا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
وہ اس وقت باکسنگ رنگ میں کھڑا اپنے سامنے کھڑے کھلاڑی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
پسنے سے سارا جسم شرابو تھا بلیک پینٹ پہنے شرٹ لیس جس کی وجہ سے اس کے سکس پک نظر آ رہے تھے ۔۔۔
ڈارک براؤن آنکھیں جن میں اس وقت صرف جیت کا جنون تھا بال پیشانی پے بکھرے ہوئے ۔۔
وہ گابراو جوان جس پے اس وقت یونی کی ہر لڑکی دل ہار بیٹھی تھی ۔۔
ہر طرف روحان روحان کے نعرے تھے ہر کوئی جانتا تھا روحان شازیب کو کوئی نہیں ہرا سکتا ۔۔۔
آج باکسنگ ٹورنامنٹ تھا جس پے ہر سٹوڈنٹ نے روحان کے نام سے بیت لگائی تھی ۔
بیت لگانا اس کا روز کا کام تھا ۔۔۔۔۔۔
سامنے والے نے پہلا وار کرتے ہوئے روحان کے منہ پے مکا مارا ۔۔۔
اففففف پاگل انسان منہ کا نقشہ بگاڑ دو گے تو آج جو لڑکیاں مارتی ہیں مجھ پے وہ گاس بھی نہیں ڈالے گی ۔۔۔وہ منہ بنا کے بولا ۔۔۔
جب سامنے والے نے ایک اور پنچ مارا اور وہ گھوم کے نیچے گرا ۔۔
حال میں ایک دم خاموشی چا گئی لوگوں کی تو جیسے دھڑکن روک گئی ہو ۔۔۔
ہلکے میں لے لیا بھائی روحان تجھے تو اس سانڈ نے چل ختم کر یہ گیم برو کو پتا چلا تو آج تیری خبر یہی بن جائے گی ۔۔وہ خود سے بڑبڑایا اور ایک دم کھڑا ہو کے اپنے ہاتھ کا پنچ بنا کے سامنے والے کی گردن کے پاس مارا وہ ایک ہی وار سے زمین بوس ہو گیا ۔۔۔
پورے ہال میں خاموشی چاہ گئی تھی اس نے ایک ہی وار میں سب کو حیران کر دیا تھا ۔۔۔
ارے کیا ہوا اب لگاؤ بھی میرے نام کے نعرے روحان نے ایک سائیڈ کی سمائل پاس کرتے ہوئے کہا
پھر ایک دم
پورے حال میں اس کے نام کی سدا گونج اٹھی تھی ۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے اپنی شرٹ پہنی اور وہاں سے چلا گیا پیچھے کتنی نظروں میں حسرت تھی اسے پانے کی مگر وہ مغرور شہزادہ کسی کی طرف ایک آنکھ اٹھا کے بھی دیکھنا بھی گوارا نہیں سمجھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
جہاں ہر طرف خاموشی و آندهرے کا راج تھا وہی وہ تین نقاب پوش جنہوں نے اپنے چہرے کو بلیک رومال سے کوور کر رکھا تھا بلیک جینس کے ساتھ بلیک ھود پہنے جس کی کیپ سے سر بھی کوور کیے ہوئے تھے ۔۔۔
آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا انہوں وہ کب پولیس کی ناک کے نیچے سے چوری کر جاتے کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی
اس وقت بھی
وہ اپنے کام میں تیزی سے ہاتھ چلا رہے تھے ۔۔۔
جلدی کرو ٹیم ہمارے پاس وقت کم ہے کچھ ہی دیر میں یہاں پولیس آ جائے گی ۔۔۔
ان میں سے ایک نے کہا جو شاید ان کا لیڈر تھا ۔۔
انے دو یار آج ان سے بھی دو دو ہاتھ کر ہی لتے ہیں ویسے بھی سارے نکمے اٹھا کر تو پولیس میں بھرتی کیے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نے آنکھ دبا کے کہا ۔۔
جب کے تیسرا والا اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد تیسرے کی سرگوشی نما آواز سنائی دی ۔۔۔
ہوگیا ۔۔۔
تیسرا والا ایک دم خوشی سے اچھل کے بولا ۔۔۔
اب آے گا نہ مزہ ۔۔۔
تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پے ہاتھ مار کے کہا ۔۔۔
اوکے ٹیم جلدی کرو اس سے پہلے پولیس بینک کو چارو طرف سے گہر لے ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا کچھ دیر میں باہر والوں کو بھی پتا چل جائے گا ہمارے انے کا ۔۔۔
وہ تینوں ایک راہداری سے ہوتے ہوئے ایک لاکر روم کے سامنے آ کھڑے ہوئے ۔۔۔
یہ ہمارا آخری امتحان ہے اس کے بعد ہماری منزل ہمارا انتظار کر رہی ہے ان کے لیڈر نے ان کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ریبل لاکر کھولے ۔اے کے نے سرد لہجے میں کہا ۔۔
اوکے اے کے ۔۔ وہ بولتے ساتھ دو منٹ میں لاکر ہیک کر چکی تھی۔۔۔
جیسے ہی انہوں نے اندر قدم رکھا سامنے ہی ان کا مطلوبہ لاکر تھا ۔۔
تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے مسکرا دیے ۔۔۔
وہاں بہت سے لاکر تھے لیکن انہوں نے صرف ایک لاکر کو ان لاک کیا اور جتنے پیسے تھے ۔۔۔
اپنے اپنے بیگ میں بھر لئے ۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
ابھی وہ بھر ہی رہے تھے کے
ایک دم سے الارام بجا ۔۔۔۔
اے کے اب نکلنا کہاں سے ہے ۔۔۔ زی نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے اے کے کی طرف دیکھ کے کہا جس کے سکون میں ذرا بھر بھی فرق نہیں ایا تھا ۔۔۔
جہاں سے آے تھے وہی سے ہی جائے گے سکون سے جواب ایا ۔۔۔
لیکن باہر تو پولیس ہے کیسے جائے گے ۔۔۔ریبل نے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
ہمممم چلو دیکھتے ہے انہیں بھی ۔۔۔کہنے کے بعد اس نے اپنی جیب سے ایک کارڈ نکلا جس پے بلیک ڈریگنز لکھا تھا ۔۔۔
وہ کارڈ اس نے لاکر میں رکھ دیا ۔۔۔
چلو ٹیم اس نے کہتے ساتھ اپنے قدم باہر کی طرف بھرا دیے باقی دونوں بھی اس کے پیچھے ہی بھاگے ۔۔۔
وہ اس وقت بینک کے پانچوے فلور پے تھے ۔۔۔۔
ہاتھ اوپر کر لو ورنہ گولی چلا دوں گا وہ جو کھڑکی سے باہر کودنے کا سوچ رہے تھے پیچھے سے انے والی آواز پے پلٹ کے دیکھا جہاں سامنے ہی ایس پی اور ایس اچ اؤ رومان اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کھڑے تھے ۔۔۔
انہیں دیکھ کے اے کے نے سائیڈ سمائل پاس کی ۔۔۔
برا نہ مانا ایس پی مگر لگتا ہے گدو کی فوج پال رکھی ہے تم نے اے کے نے رومان کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنز کیا ۔۔۔
ایس پی نے ناسمجھی سے پہلے سامنے کھڑے ان تینوں کو دیکھا پھر اپنے پاس کھڑے رومان کی طرف ۔۔
رومان نے اور باقی سب نے بھی اب غور کیا تھا رومان صاحب کے ہاتھ میں گن نہیں بلکے دانت صاف کرنے والا برش تھا ۔۔۔
افففف اب تو گیا کام سے ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ۔۔رومان کو اپنی بیوقوفی پے رج کے غصہ ایا تھا ۔۔۔۔
اوو سوری سر میں نے دھیان نہیں دیا رومان نے جلدی سے برش رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اللّه حافظ باس جلد ملے گے اور اگلی بار ہمیں پکڑنے کے لئے کوئی عقل مندی بندہ لانا ۔۔۔
بلیک ڈریگنز کو پکڑنا بچوں کا کام نہیں ریبل نے ایس پی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ایک آگ تھی اس کی آنکھوں میں جو ایس پی کو اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
کسی کے کچھ سمجھنے سے پہلے وہ تینوں کھڑکی سے کود چکے تھے ۔۔۔۔
عقل کے آندھو دیکھ کیا رہے ہو پکڑو انہیں ایس پی نے ہوش میں اتے ہی دانت پس کے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
رومان ہوش میں اتے ہی ان کے پیچھے بھاگا لیکن افسوس وہ تب تک غایب ہو چکے تھے ۔۔۔
لیکن وہ
جاتے جاتے ایک بار پھر رومان کو پھسا گئے تھے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ارے اوو زری کہاں مر گئی ہو یار جلدی اؤ اس سے پہلے ہماری پتنگ کٹ کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جائے اور دشمن اپنی جیت کی خوشی میں ہمارا مزید اور خون جلاے ۔۔۔۔۔
مہین نے نیچے دیکھ کے اونچی آواز میں دانت پیس کے کہا کیوں کے مقابل شخص نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی اس کا خون جلانے میں ۔۔۔۔
زری نیچے منہ پھلا کے بیٹھی تھی کیوں کے جناب کی کچھ دیر پہلے ہی اچھی خاصی لڑائی ہوئی تھی ۔۔۔
بس پھر کیا تھا مہین کی آواز پے پتنگ کٹنے کے ڈر سے وہ ہر چیز بھلا کے اوپر کی طرف بھاگی ۔۔
اس کے نازک پاؤں میں بندی پائل کی آواز پورے افندی ہاؤس میں گونج رہی تھی اور وہ آندھی طوفان بنی بس بھاگ رہی تھی اسے اس وقت اگر کسی چیز کی فکر تھی تو بس اپنی پتنگ کی جو اسے ہر حال میں کٹنے سے بچانی تھی ۔۔۔
اففففف سوری سوری بوا وہ بھاگتے ہوئے گردن موڑ کے ایک ہاتھ کان کو لگا کے بولی ۔۔۔
کیوں کے جناب تیزگام اپنی طوفانی رفتر میں اتے ہوئے بوا سے ٹکرائی اور بوا کے ہاتھ میں موجود تازے پھولوں کا ٹوکرا ہوا میں اچھلا اور سارے پھول اس کے اوپر ایسا منظر پیس کر رہے تھے جیسے کسی شہزادی پے پھولوں کی بارش ہو رہی ہو ۔۔۔
اس کا ڈوپٹہ ہوا میں لہراتا ہوئے دور جا کے گرا لیکن یہاں پروا کیسے تھی ۔اس نے بھاگتے ہوئے اپنے بالوں کو ایک جھٹکا دے کے پیچھے کیا جو بھاگنے کی وجہ سے اگے آ رہے تھے ۔۔۔
سامنے سے آتی رضیہ سے اس کی ٹکر ہوئے جب اس نے اس کا ڈوپٹہ لیا ۔
سوری رضیہ اس نے بھاگتے ہوئے ہونکے بنی رضیہ کو دیکھ کے دور سے ایک کان پکڑ کے کہا ۔۔ اس کے انداز پے رضیہ مسکرا دی جب وہ بھی ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
بڑی بڑی ہیزل گرین آنکھوں میں موجود بھر بھر کے کاجل کی لہر اس کی آنکھوں کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔
اور دونوں گال پے پرتے ڈمپل جب وہ ہنستی تو دیکھنے والے کے دل پے بجلیاں گراتے تھے
تو ہر واری میرے ساتھ آہی کردی ۔۔رضیہ نے منہ بنا کے اردو پنجابی کی ٹانگ توڑی ۔۔۔۔
زری آ بھی جا کہاں مر گئی ماہی نے ایک بار پھر اسے آواز لگائی ۔۔۔
اس نے مسکرا کے رضیہ کو دیکھا اور اوپر کی طرف بھاگی
اس نے بھاگ کے سیڑھیاں غبور کی اور بھاگ کے اپنی پتنگ کی ڈور پکڑی۔ ۔۔۔
آپی شکر آ آپ آ گئی ورنہ پکا آج ہم ہار جاتے ماہی آپی کو تو پتنگ بھی اڑانی نہیں آتی پاس کھڑی مہک نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔ مہک ان کے پرسوں میں رہتی تھی وہ اکثر شام کو ان کے پاس آ جاتی ۔۔۔
تم لوگ بچوں سے ہار رہی تھی کوئی حال نہیں تم لوگوں کا اس نے پتنگ کی ڈور کھینچتے ہوئے کہا ۔۔۔
یار زری اب اس میں ہمارا کیا قصور سب قصور تو ادیان بھائی کا ہے اوپر سے یہ بھائی کی دیوانی میرا مطلب منکوحہ بھی گدھی نکلی جان کے ہماری پتنگ کو دشمنوں کی سرحد پے چھوڑ آئ ۔۔۔
حیا (مہک کی بڑی بہن) نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔۔
توبہ توبہ لڑکی کتنی جھوٹی ہو تم ذرا جو تم میں شرم ہو کیسے منہ پھاڑ کے مجھ معصوم کا نام لگا رہی ہو میں پوچھتی ہوں یہاں کوئی ہے جو معصوموں کو انصاف دلا سکے کیا سو رہے ہیں سب کے ضمیر آج بھری چیٹ پے مجھ معصوم پے الزام۔۔۔۔۔
آہہہہ کی آ کمینی ۔۔۔ماہی کی بکواس جو ایک بار شروع ہوئی تو کہاں لکھا تھا اتنی جلدی ختم ہو جائے گی اس لیے زری نے دو لگا کے اسے وہی چپ کروا دیا جس سے بیچاری منہ بنا کے رہ گئی ۔۔۔۔
میں کیا کہتا ہوں آج تو پکا اس نکچڑی کی پتنگ کاٹ جائے گی ۔۔۔۔
روحان نے ہنستے ہوئے اپنے ساتھ کھڑے ادیان کو کہا اور اپنے سینے پے ہاتھ بند کے کھڑا ہوگیا ۔۔
یار لگتا تو مجھے بھی یہی ہے آج تو پکا گئی یہ ادیان نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا وہ یہاں اپنی منکوحہ کے دیدار کو آیا تھا اب تو مجھے بھی لگتا پکا کاٹ کے رہے گی دشمنوں کی نظر میں جو آ گئی ہے اور اگر میں نکچڑی تو تم مگرمچھ وہ پتنگ کو سمبھالتے ہوئے ناک چڑھا کے بولی ۔۔۔۔
میں مگرمچھ تو تم مگرمچھی روحان نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
تمہاری تو۔۔۔۔
لو گئی بھنس گوبر میں اس سے پہلے زری کچھ کہتی ماہی کی آواز پے اس نے اپنی پتنگ کی طرف دیکھا جو کٹ گئی تھی ۔۔۔پہلے پتنگ کو اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈور کو دیکھ وہ اب بھی بےیقینی سے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں اس کو پتنگ کٹ کے دور جا رہی تھی
اسے صدما تو اس بات کا لگا تھا زری دی گریٹ بچوں سے ہار گئی تھی ۔۔۔
ہوش میں اتے ہی اس نے گھور کے ماہی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
کیوں محاوروں کی ٹانگ توڑ رہی ہو یہ سب نہ تمہارے بھائی کی وجہ سے ہوا ہے آج نہیں چھوڑو گی میں اسے زری نے دانت پیس کے کہا اور نظرے گھوما کے اسے ڈھونڈا جو وہاں نہیں تھا ۔۔۔۔
دیکھا بھاگ گیا ڈر کے لیکن میں بھی نہیں چھوڑو گی آج اس لنگور کو
وہ اپنا غصہ پیتی نیچے آئ ۔۔۔
جب اسے وہ سامنے صوفے پے بیٹھا نظر ایا اوو تو جناب یہاں ہیں کوئی نہ ابھی بتاتی ہوں ۔۔۔
اس نے کہتے ساتھ آس پاس دیکھا جب اسے گلاس وال سے باہر پانی کی بالٹی نظر آئ جیسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پے مسکراہٹ دار آئ ۔۔۔
وہ دبے قدم اٹھتی باہر گئی اور آرام سے وہ بالٹی اٹھائی اور دبے قدم اٹھتی ہال میں انٹر ہوئی
روحان جو مزے سے بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس پے الٹا دی ۔۔۔
اچانک ہوئے حملے سے وہ کرنٹ کھا کے سیدھا ہوا ۔۔۔
آہہہہہہہ وہ ایک دم چیخ مار کے اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔
کہاں تھا نہ برفانی ریچھ پنگا نہیں لینا وہ طنزیہ مسکرا کے بولی
روحان پورا گیلا ہو چکا تھا اور اس کے سیلكی بل جو اس نے ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت لگا کے بناے تھے وہ بھی بکھر کے پیشانی پے آ گئے تھے ۔۔۔۔
آج تم میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤ گی وہ اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا بولا
بندر پہلے پکڑ کے تو دیکھاو وہ ہنستے ہوئے اگے بھاگی۔۔
روحان نے ضبط سے مٹھیاں بیچ لی اور وہاں سے بالٹی اٹھا کے تن فن کرتا چلا گیا ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔۔

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

3.0 / 5 · 4 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Innocent Heroinelove story basedRomanceromantic urdu novelRude heroUrdu NovelsWomen Empowerment