Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ارے یار میرے اتنا تیار ہو کے انے کا بھی کوئی فائدہ نہیں وہ یونی کے گارڈن میں بیٹھی منہ بنا کے اپنی ایک دوست سے بولی ۔۔۔
کیوں کیا ہوا کسی نے کچھ کہا کیا۔۔ ماریہ نے حیران ہو کے سامنے بیٹھی آفت سے پوچھا ۔۔۔
کیوں کے اس کی بات کوئی بھی سنتا تو حیران لازمی ہوتا کمر تک اتے سنہرے بال جو اس وقت پونی ٹیل میں قید تھے ۔۔ہیزل
بلیو آنکھیں جن میں ایک سحر سا تھا جو سامنے والے کے ہوش اڑا سکتا ۔۔۔
گلاب کی پتھیوں کی طرح نازک لب جن پے ہمیشہ مسکراہٹ رہتی چھوٹی سی ناک اور گال پے پڑھتا ڈیمپل۔ ۔۔ وہ بلا کی حسین تھی کسی سلطنت کی ملکہ ہی لگتی تھی جسے اپنی رانی بنانے کا خواب کوئی بھی شہزادہ دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
زریش ایک شوک و چنچل سی لڑکی تھی جو شاید اس بات سے انجان تھی کے روحان افندی تو کب کا مر مٹا ہے اس پے ۔۔۔۔
یار اتنا میں ایسے ہی تھوڑی تیار ہو کے آئ ہوں ایک تو اتنی بڑی یونی میں میرا یہ دوپٹہ آج تک کسی کی کلائی میں نہیں پھسا نہ کسی کا مجھ معصوم پے دل ایا دل چھوڑو آج تک تو کسی نے یہ تک نہیں کہا کے میرے گردے تم پے آ گئے ہیں اور نہیں تو کچھ میں اس کے گردے بیچ کے آئ فون ہی لے لیتی وہ منہ بنا کے افسوس کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو سکتا تمہارا ماریہ نے جل کے کہا وہ روز ہی یہ سب سنتی تھی اب تو اسے لائنز بھی یاد ہو گئی تھی ۔۔۔
زری منہ بنا کے ابھی کچھ کہنے ہی لگی تھی کے عریبہ جو انہیں کی دوست تھی ۔۔۔
بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئ اور اس کے کان میں کچھ کہا جیسے سن وہ سب کچھ وہی چھوڑ کے بھاگی ۔۔۔۔
وہ آندھی طوفان بنی یونی سے کچھ فاصلے پے ایک سنسان جگہ تک آئ اس نے ادھر ادھر دیکھ کے اس بات کی تصلی کی کے کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا جب تصدیق ہو گئی تو اس نے سامنے دیکھا جہاں ایک بلیک کپڑے کے نیچے کچھ تھا ۔۔۔
زریش نے اگے بھر کے اس کے اوپر سے کپڑا اترا اور جلدی سے اپنی بائیک پے بیٹھ کے وہاں سے نکلی ۔۔۔
🌺🌺🌺
رومان اپنے کبین میں بیٹھا تھا جب اس کے فون پے رینگ ٹوں بجی ۔۔۔
سر اس نے فون کان سے لگتے ہی کہا ۔۔۔
اگے سے ملنے والے آرڈر پے اس نے منہ بنایا اور فون کان سے الگ کر کے اسے گھور کے دیکھا ایسے جیسے سامنے والے کو گھور رہا ہو ۔۔۔
سوری سر مگر میں یہ نہیں کرو گا میری کوئی عزت نام کی چیز ہے بھی یا نہیں جب دیکھو حکم دیتے رہتے ہو گھر میں آپ کی چلتی نہیں بیوی کے سامنے اور مجھ معصوم پے ظلم کرتے ہو پورا دن ۔۔۔وہ منہ بنا کے بولا ۔۔۔
ہوگیا آپ کا انسپکٹر رومان اب ذرا کام پے دھیان دے ۔۔۔ دوسری طرف سے ایس پی کی گرجدار آواز سنائی دی ساتھ ہی فون بھی بند کر دیا گیا
افففف یہ ڈریگنز تو میری سوتن . ہی بن گئے ہیں اب ان کے چکر میں مجھے کیا کیا کرنا پڑے گا افففف کہاں پھس گیا یار اس سے تو اچھا تھا میں بھائی کا آفس جوائن کر لیتا ۔۔۔
وہ منہ بنا کے اٹھا اور باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
وہ سب حال میں بیٹھے تھے باتوں میں مصروف تھے جب ایان تھکا ہارا گھر واپس ایا ویسے بھی آج وہ ضرورت سے زیادہ سیریس تھا وجہ صرف عبیرہ تھی جس نے ایک ہی دن میں اسے لاکھوں چنے چبوادیے تھے ۔۔۔۔
ہم نے سنا ہے تم نے نیا پی اے
چنا ہے ۔۔۔۔
جس کو تم نے چن ہی لیا ہے
چیز وہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟
اسے دیکھتے ہی روحان نے اپنی بےسری آواز میں سونگ کا بیڑاغرق کیا ۔۔۔۔
اوو فلاپ سینگر اپنی یہ کان پھاڑنے والی آواز بند کر روحان کی آواز کو زری نے بیچ میں ہی کاٹ دیا ۔۔۔
آنہہہہ تم نہ شکری انسان کیا جانو لوگ ترستے ہیں میری آواز سنے کے لیے میں ایک بار جہاں سے گزر جاؤ لوگ روک روک کے کہتے ہیں سر پلز ایک سونگ گا دیں ھمارے لیے ۔۔روحان نے کالر اکڑا کے کہا ۔۔۔
بس بس اتنی پہینک جتنی ہم برداشت کر سکے اور اب تم دونوں اپنی بکواس بند کرو کچھ دیر کے لیے ۔ماہی نے دونوں کو چپ کروا کے خود ایان کی طرف دیکھا جو کھا جانے والی نظروں سے ادیان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی میرے معصوم شوہر کو ایسے تو نہ دیکھے انہوں نے ایسا کیا کر دیا ماہی نے منہ بنا کے پوچھا ۔۔۔
تمہارے اس معصوم شوہر نے اپنے جیسی ایک معصوم میرے پلے بند دی ہے۔۔
میرا تو بس نہیں چل رہا دونوں کو اٹھا کے باہر پہینک دوں ایک یہ فسادی انسان خود کم تھا مجھے پورا دن ذلیل کرنے کے لئے جو ایک اور آ گئی مجھے تو سمجھ نہیں اتا میں ان کا باس ہوں یا یہ میرے باس ہیں ۔۔ ایان نے جل کے جواب دیا اور اپنی جگہ سمبھال لی ۔۔۔
اوو بھائی مجھے کیا پتا تھا وہ معصوم دیکھنے والی حسینہ اندر سے پورا پٹاخہ ہوگی ۔۔
اور سچ پوچھوں تو میں بہت خوش ہو پہلی بار کوئی تیری ٹکر کی ملی ہے وہ کیا انٹری تھی یا۔۔۔۔۔
ادیان جو خوشی خوشی سب کو آج کی رام کہانی ایک سو ایک بار سنانے لگا تھا اس کی زبان کو بریک ایان کی گھوری سے لگی ۔۔۔
بھائی ویسے اب تو میں بھی ملنا چاہتا ہوں اس سے کاش میں پولیس فورس کی جگہ آپ کا آفس جوائن کر لیتا تو آج جو بھی ہوا اپنے موبائل پے ریکارڈ کر لیتا ویسے بہت افسوس ہو رہا ہے اتنا اچھا سین مس کر دیا میں نے ۔۔رومان کی حسرت سے ڈوبی آواز سن سب نے داخلی دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ ایک ہاتھ میں اپنی کیپ پکڑے تھکا تھکا سا آ رہا تھا ۔۔۔۔
تم تو چپ ہی رہو جعلی انسپکٹر آج تک ایک کیس تو تم نے سولوے نہیں کیا اوپر سے تمہاری بینڈ تو وہ تینوں ڈریگنز مل کے بجاتے ہیں مگر مجال ہے جو تم نے آج تک انھیں سیریس لیا ہو ۔ایان نے جل کے اسے لگے ہاتھ لیا اور وہاں سے واک آؤٹ کر گیا ۔۔۔
پیچھے رومان بس سب کا منہ دیکھاتا رہ گیا جو کبھی اسے سیریس لتے ہی نہیں تھے ۔۔۔
میں نے جب دیکھا تھا تجھ کو رات بھی وہ یاد ہے مجھ کو
انتظار کرتے کرتے رہ گیا ۔۔۔
ہڈی ٹوٹی تھی میری کس کے جب گرا تھا میں چیٹ سے پھر کراتے کراتے میں سو گیا ۔۔۔۔
اسمانون پے جو خدا ہے اس سے میری یہی دعا ہے چور ایسے۔۔۔۔۔
آہہہہہ کیا ہوا بھائی مار کیوں رہے ہیں یار ۔روحان جو ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا رومان نے اپنی جوتی اٹھا کے اسے ماری جو جا کے سیدھا اس کے کندھے پے لگی اور وہ کرا کے چپ ہوا ۔۔۔
اپنی یہ بکواس بند نہیں کر سکتے تم تمہاری یہ مردوں کو بیہوش کر دینے والی آواز سن کے میرے کان پک گئے ہیں بندا کچھ تو خیال کرتا ہے آس پاس بیٹھے لوگوں کا اب ہر کسی کے پاس اتنا ضبط ہے تیری یہ منحوس آواز برداشت کرنے کے لیے نہ ہی اتنا بڑا دل ہے نہ ہی ہم برداشت کر سکتے ہیں سو پلز دوبارہ خیال کرنا رومان نے اسے گھور کے کہا اور وہاں سے اٹھ کے جانے لگا ۔۔۔
پہلے جوتی سے تو نے مجھ کو ٹھوکا کیا ہے ۔۔۔
دوجا لوگوں کو ہنس نے کا بھی موقع دیا ہے ۔۔۔۔
جھوٹی تیری تھی قسمے جھوٹے تیرے تھے وعدے ۔۔۔
جا دیکھی تیری وفاداریاں ۔۔۔۔۔۔
رومان کے قدم ابھی تھوڑا ہی اگے بھرے تھے جب روحان ایک بار پھر شروع ہوا وہ ہاتھ کا مائیک بنا کے صوفے پے بیٹھا ہر چیز فرموش کیے بس اپنا رونا رو رہا تھا ۔۔۔
اس کے ساتھ ہی ہال میں سب کا قہقا گونجا
🌺🌺🌺🌺
امبر جلدی میں یونی کی پارکنگ میں اپنی بائیک کھڑی کر کے جانے لگی تھی جب سامنے سے اتے وجود کے ساتھ ٹکرائی
اففففف میری عزت و ناک توڑ دی دیکھ نہیں چل سکتی آپ سامنے والے نے اپنے چہرے پے ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔۔
اس نے ابھی سامنے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
مطلب ۔امبر نے نہ سمجھی سے اس کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کر کے نہ جانے کیا بولی جا رہا تھا ۔۔۔۔
رومان جو آنکھیں بند کیے کھڑا تھا اپنے پاس سے انے والی نسواری آواز پے اس نے سامنے دیکھا کچھ پل کے لیے وہ تو جیسے کھو سا گیا تھا سامنے کھڑی لڑکی سچ میں کسی حور سے کم نہیں تھی وہ مہبوس سا ہو کے ان آنکھوں کی جھیل میں کھو سا گیا تھا ۔۔۔
اوو ہیلو ۔۔ امبر نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ ہلایا ۔۔۔
وہ میری عزت و ناک مطلب میری ناک توڑ دی تم نے اسے ایک بار پھر اپنا رونا یاد ایا ناک عزت ہی ہوتی ہے نہ سنا ہوگا آپ نے کہی بڑے بڑے لوگ جب کہتے ہیں ہماری عزت کا جنازہ نکل دیا ہماری ناک کاٹا کے
وہ منہ بنا کے بولا ۔۔۔
بڑی نازک عزت ہے تمہاری ذرا سی چوٹ لگی اور ٹوٹ گئی امبر کو وہ کوئی نمونہ ہی لگ رہا تھا ۔۔۔
آہہہہ یہاں میری درد سے جان نکل رہی ہے اور آپ کو مذاق کی پڑی ہے وہ نہ روٹھے پن سے بولا ۔۔۔
لگتا ہے بیچارے کو زیادہ لگ گئی وہ خود سے بولی اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اسی کی گاڑی کے بونٹ پے بیٹھا دیا ۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہی ہیں کہی اب آپ سچ میں میری عزت تو نہیں ۔۔۔۔ رومان تو بیچارہ گھبرا ہی گیا تھا ۔۔۔
چپ کرو تم دو منٹ ۔۔امبر نے اسے گھور کے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ایک تو میری ایک اکلوتی ناک توڑ دی اوپر سے غصہ دیکھا رہی ہیں ۔۔وہ منہ بنا کے منہ میں بڑبڑایا جو امبر باآسانی سن چکی تھی ۔۔۔
اپنی ہنسی ضبط کرنے کے لئے اس نے منہ نیچے کر لیا ۔۔۔
اوو مسٹر سب کی ناک ایک ہی ہوتی ہے اور تم کوئی خلائی مخلوق نہیں جس کی دو ناک ہو ایا بڑا اکلوتی ناک کا ۔۔وہ خود کو سمبھال کے بولی
پہلے ہی میری ناک میں اتنا درد ہو رہا ہے اوپر سے تمہاری باتیں سن کے اب میرے سر میں بھی درد ہو رہا ہے بندا اپنے سامنے بیٹھے ہینڈسم مریض کا کچھ تو خیال کرتا ہے وہ اپنی ناک پے ہاتھ رکھے بیٹھا تھا مگر زبان ایسے چلا رہا تھا جیسے جنگ میں کوئی اہتیار چلتا ہے ۔۔
اچھا اچھا بکواس بند کرو اپنی اور لاؤ اپنی عزت میرا مطلب ہے ناک وہ اپنے دوپٹے کا کونا پکڑ کے دانت پیس کے بولی پہلے ہی اتنا وقت برباد ہو چکا تھا اس کے پیچھے ۔۔۔۔
رومان نے اپنی ناک سے ہاتھ ہٹا لیا جب امبر نے اس کی ناک پے اپنا دوپٹہ رکھا ۔۔
آہہہہ آرام سے آہہہہ وہ مسلسل کرہ رہا اور وہ جو اس کی ناک پے اپنا دوپٹہ رکھ رہی تھی ساتھ ہی ساتھ اپنے منہ کے زاویے بھی بیگاڑ رہی تھی ۔۔۔۔
اففففف کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ دو منٹ چپ نہیں کر سکتے میرے کان پک گئے ہیں تمہاری یہ آ آ سن کے ۔۔آخر وہ تنگ آ کے بول ہی پڑی ۔۔۔
رومان نے اپنے سامنے موجود اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھا اور پھر بےساکت مسکرا دیا ۔۔
امبر نے ایک بار پھر اپنے دوپٹے پے پھوک۔ ماری اور اس کی ناک پے رکھا دونوں میں فاصلہ بہت کم تھا رومان کو اس کی گرم سانسے اپنی گردن کے پاس محسوس ہو رہی تھی رومان بیٹھا ہوا تھا اور وہ اس پے جھکی دنیا جہاں سے بےخبر ۔۔۔
اس کی نظروں سے کنفیوژ ہو کے امبر نے جلدی سے نظرے چورائی اور اس کا دھیان خود سے ہٹانے کے لیے کہا ۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو میرا مطلب پہلے کبھی دیکھا نہیں یہاں تمہیں ۔۔۔
جناب عادت ڈال لیں اب سے میں یہی پایا جاؤ گا آپ کے آس پاس آخر والی لائن اس نے اپنے دل میں کہی ۔۔۔۔
افففف پہلے نمونے کم تھے جو ایک اور آ گیا وہ منہ میں بڑبرائی ۔۔۔
کیا کہا آپ نے رومان نے اسے گھور کے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
مطلب اب مجھ روز تمہیں بھی جھیلنا پڑے گا وہ منہ بنا کے بولی ۔۔۔
مجھ بھی جیھلنا پڑے گا مطلب اس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
کچھ نہیں یہ پکڑو تم اس نے بولتے ساتھ اپنے پڑس سے ایک رومال نکل کے اس کی طرف بھرا دیا ۔۔۔
ویسے تم کچھ بھی بول سکتی ہو اب تو ہم ساتھ ساتھ ہیں وہ مزے سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
جسٹ شاٹ اپ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی اور اس سے الگ ہو کے جانے لگی ۔۔۔۔۔۔
ارے کیا ہوا نام تو بتاتی جاؤ وہ پیچھے سے ہی اونچی آواز میں بولا ۔۔۔
دور رہو مجھ سے فائر ہوں جلا کے رکھ کر دو گی وارنگی دینے والے انداز میں بول کے وہ وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
ہمممممم تو مس فائر اب تو آپ کے قریب صرف رومان جہانزیب ہی آے گا وہ بھی مسکرا کے بڑبرایا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ماضی “
یہ بچی بیس کروڑ کی مالک ہے اگر ہم اس کے خاندان کو مار بھی دیتے ہیں تو یہ ساری دولت تب تک ہماری نہیں ہوگی جب تک یہ بچی پورے بائیس سال کی نہیں ہو جاتی ۔۔۔
شبیر شیخ نے ہاتھ میں پکڑا گلاس زور سے زمین پے مارتے ہوئے کہا ۔
چل یار جہاں اتنا انتظار کیا تھوڑا اور سہی مگر یہ تو آج پکا تہ ہے کے فاروق کے ساتھ ساتھ آج ہم اس کی پوری فیملی کو اس دنیا سے رخصت کرنے والے ہیں کیوں کے اب اور انتظار نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔
سامنے کھڑے دوسرے آدمی نے چہرے پے کمینی مسکراہٹ سجا کے کہا ۔۔۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اس افندی خاندان کا کیا کرنا ان کی آپس میں دوستی آج رشتداری میں بدل گئی ہے اور ہم صرف دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے شبیر شیخ ایک بار پھر غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہممم ان کا حل بھی سوچ رکھا ہے میں نے سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ۔۔ اس آدمی نے چہرے پے خبیث مسکراہٹ سجا کے کہا ۔۔۔۔۔
تو انتظار کس بات کا ہے ۔۔پاس کھڑے پولیس والے نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔
صبر رکھو تم دونوں بس آج کی رات پھر دیکھنا کیسے چلتا ہوں میں اپنی چال اس آدمی نے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جاری