No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
سوری یار ماہی کی کال آ گئی تھی چلو میٹنگ کے لیے دیر ہو رہی ہے مس زمل ویٹ کر رہی ہونگی ۔۔ ادیان نے سامنے سے اتے ایان کو دیکھ کے کہا جو غصہ ضبط کرنے کے چکر میں لال ہو رہا تھا ادیان نے بھی میٹنگ اتٹنڈ کرنی تھی مگر ماہی کی کال کی وجہ سے اسے دیر ہوگی۔۔۔۔
مجھے یہ لڑکی اپنے آفس میں نہیں چاہئے ان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوگی ایان نے ادیان کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے تن فن کرتا نکل گیا ۔۔۔
ارے بتاتا تو جا ہوا کیا ہے آخر ۔۔ ادیان نے پیچھے سے ہانک لگائی جسے وہ انسنی کرتا نکل گیا ۔۔۔۔
کیا ہوا ایسے ثانیہ میٹنگ کینسل کیوں ہوئی اور یہ ايان اتنے غصے میں کیوں گیا ہے کہی اس بار بھی تو زمل نے کوئی اونچی حرکت تو نہیں کر دی ۔۔ادیان نے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
سر مس زمل نے ۔۔۔۔۔ثانیہ نے اے تو زی ساری کہانی اسے ریٹے طوطے کی طرح سنائی ۔۔۔۔
افففف میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا یہ ۔۔ادیان کو اپنی بیوقوفی پے شدید غصہ آ رہا تھا ۔۔
وہ وہاں سے سیدھا ايان کے پیچھے بھگا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ایان سیدھا گھر ایا تھا فریش ہونے کے بعد اب اس کا ارادہ کچھ بنانے کا تھا اس لیے وہ سیدھا کچن میں داخل ہوا اور تھوڑی دیر سوچنے کے بعد وہ کھانا بنانے کے لیے کٹنگ بورڈ پے بہت مہارت سے پياز کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔
دل عبادت کر رہا ہے دھڑکنیں میری سن 💞💞💞
تجھ کو میں کر لوں حاصل لگی ہے یہی دھن 💞💞💞
زندگی کی شاخ سے لوں کچھ حسین پل میں چن 💞💞💞
تجھ کو میں کر لوں حاصل لگی ہے یہی دھن 💞💞
وہ کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورت آواز میں سونگ بھی گا رہا تھا اسے کوئی پروا نہیں تھی زمل نے کیا کہا کیا نہیں وہ تو بس خوش تھا کے اسے اس کی پرنسز مل گئی ہے اب بس اس کے دل میں اپنے لیے پیار ڈالنا تھا ۔۔۔
جو کے سب سے مشکل کام تھا ۔۔۔۔۔
جو بھی جتنے پل جیوں اسے تیرے سنگ جیوں💞💞💞
جو بھی کل ہو اب میرا اسے تیرے سنگ جیوں💞💞💞
جو بھی سانسے میں بھروں اسے تیرے سنگ بھروں💞💞💞
چاہے جو ہو راستہ اسے تیرے سنگ چلوں 💞💞💞
ایان اس کی باتوں کو یاد کرتا ہوا کسی اور ہی دنیا میں پوھنچ چکا تھا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اس کی پرنسز اتنا بولتی ہوگی ۔ عبیرہ کا خیال اتے ہی ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا ۔۔۔۔
رومی برو آج خریت تو ہے نا آج سے پہلی ایان بھائی کے چہرے پے ایسی مسکراہٹ میں نے کبھی نہیں دیکھی۔۔۔روحان نے حیرت و خوشی کے ملے جلے تاثراہ میں رومان کے کان میں سرگوشی کی وہ دونوں کب کے وہاں بیٹھے ایان کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
سب خریت تو ہے نا بھائی کا یہ روپ میں نے آج پہلی بار دیکھا ہے ۔۔ ماہی نے بھی وہاں اتے ہی حیرت اور خوشی کے ملے جولے تاثرات میں کہا۔ ۔۔۔
ہو نا ہو بھائی کو شدید والا عشق ہوگیا ہے بیئر سے کیوں امبر ٹھیک کہا نا میں نے زری نے بھی وہاں اتے ہی خوشی سے کہا ساتھ ہی امبر کو بھی گھسیٹا جو بیچاری پہلی اپنی دو باتونی دوستوں کو پتا نہیں کیسے ہینڈل کرتی تھی اب تو پورا خاندان ہی ایسا ملا تھا ہاے رے قسمت کہاں پھسا دیا مجھے یہ بس وہ سوچ ہی سکتی تھی ۔۔۔
ہو سکتا ہے بھائی کو اس محبت ہوگی ہو مگر بیئر کو تم جانتی ہو نہ ۔امبر نے اسے یاد ڈالنا ضروری سمجھا کے ایان صاحب کے مقابلے میں کھڑا کون ہے ۔۔۔
جب آپ کو ہم سے عشق ہو سکتا ہے تو عبیرہ بھابھی کو کیوں نہیں ہو سکتا رومان نے فورن شوخ لہجے میں کہا ویسے تو اس لڑکی نے نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی تھی آج اگر اس نے زبان کھولی ہی تھی تو رومان کیوں پیچھے رہتا ۔۔۔۔
غلط فہمی سے باہر آ جائے مسٹر مجھے کوئی آپ سے عشق ویشق نہیں ہے یہ سب آپ کے خالی دماغ کا فیطور ہے بس ۔۔امبر نے اسے گھورتے ہوئے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا بھائی بیگم تو بہت ٹکر کی ملی ہے ویسے آپ کو ماہی کا چھٹ پھاڑ قہقا گونجا روحان اور زری بھی مسکرا دیے جب کے رومان صاحب منہ بنا کے رہ گئے تھے ۔۔۔۔
تم لوگوں نے ایان کو دیکھا کہی وہ گھر ہی ایا ہے نا ۔۔۔ ادیان جو آفس سے سیدھا گھر بھگا تھا سامنے ہی ان سب کو سر جوڑے دیکھ فورن ان کے پاس آ کے فکرمندی سے بولا
سب نے ایک ساتھ اپنی اپنی انگلی ايان کی طرف کی جو دنیا جہاں سے بےخبر اپنے آپ میں مست تھا ۔۔۔
ادیان فورن اس کی طرف بھگا ۔۔۔
ہممممممم دال میں کچھ تو کالا ضرور ہے چلو چل کے دیکھ لتے ہے روحان نے سب کی طرف دیکھ کے کہا اور کہتے ساتھ وہ سب بھی ایان کے سر پے کھڑے تھے ۔۔۔
کیا ہوا تم سب کو مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ایان نے انہوں مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
بیٹا یہ تو آپ بتاؤ نہ کے ایسا کیا ہوا جو آپ کا یہ چہرہ مبارک اتنا کھل رہا ہے جہاں تک مجھے پتا چلا ہے تجھے تو یہ سوچنا چاہئے کے زمل سے کیسے جان چھوڑوانی ہے ادیان نے اسے گھورتے ہوئے طنز کیا ۔۔۔۔
بلکل ایان برو بتاؤ نہ کیا ہوا ۔ماہی نے بھی فورن پوچھا
مجھے میری پرنسز مل گئی ہے اس نے کچھ دیر سب کو دیکھنے کے بعد مسکراتے ہوئے سب کے سر پے بمب پھاڑا ۔
کیااااااااا سچ میں کہاں ملی ۔۔۔ سب سے پہلے رومان چیخا ۔۔۔
کسی دیکھتی ہیں اب وہ ۔۔۔ ماہی نے بھی تجسس سے پوچھا ۔۔۔
تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔ادیان نے اسے ایک لگتے ہوئے حیرت سے کہا ۔۔۔
بھائی تو کیا آپ نے انہیں پہچان لیا؟؟؟ روحان نے بھی حیرت سے پوچھا ۔۔۔
بھائی پھر کیا آپ ان سے شادی کر لیں گے پھر بیئر کا کیا ہوگا زری کو تو اپنی دوست کی فکر لگ گئی تھی ۔۔۔۔
جب کے امبر ان سب کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ان کی باتیں اس کے اوپر سے گزر جاتی تھی ۔۔۔
لیکن ایان وہ تو بچپن میں ۔۔۔ادیان نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔
برو سب چھوڑے نہ یہ بتاے آپ کو کیسے پتا وہ آپ کی پرنسز ہی ہے۔ روحان نے اپنے دل میں اٹھتا سوال ایک بار پھر کیا ۔
میری پرنسز میرے دل میں بسی تھی اس سے میرا روح کا رشتہ تھا میں جانتا تھا جب تک میری سانسے چل رہی ہے اسے کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔
تمہیں پتا وہ میری پرنسز ہی تھی اس کی آنکھیں بلکل میری پرنسز جیسی تھی جس میں صرف اپنا عکس دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔وہ بتاتے ہوئے کوئی پاگل دیوانہ ہی لگ رہا تھا انہیں ۔۔۔
لیکن ایان تم اتنے یقین سے کیسے ۔۔۔
ٹھیک ہے بھائی اگر وہ ہماری بھابھی ہے تو ان کی آنکھوں میں صرف آپ کا عکس ہی ہوگا ۔۔روحان نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے کہا ادیان کی بات وہ بیچ میں ہی کاٹ چکا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کے ایان ایک بار پھر اذیت اٹھاے اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کو اپنے بھائی کے سامنے لے آے جس کے لیے اسکا بھائی آج دل سے مسکرایا تھا ۔۔۔
ادیان بھی اس کی بات سمجھ کے چپ ہوگیا ۔۔
زری نے بےساخت امبر کی طرف دیکھا دونوں کا دل ایک ساتھ دھڑکا تھا یہ سوچ ہی اذیت دینے کے لیے کافی تھی کے ان کی شوک و چنچل دوست کا دل ٹوٹ جائے گا اگر ايان نے کسی اور لڑکی کو اپنی پرنسز سمجھ لیا ہوا تو ۔۔۔۔
لیکن بھائی وہ ہے کون اور عبیرہ بھابھی کا کیا ہوگا اگر آپ اس لڑکی سے شادی کرتے ہیں تو ۔۔۔
ماہی نے زری اور امبر کی زرد پڑتی رنگت دیکھ ایان سے سوال کیا ۔۔۔۔
اسے آپ سب جانتے ہو ۔۔ایان نے سب کی طرف دیکھ کے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
ک ۔کون ہے وہ بھائی ۔۔زری نے خود کو سمبھال کے پوچھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اپنے بھائی کی خوشی میں خوش ہو یا دوست کے دل توٹنے کا غم منائے
وہ اور کوئی ن۔۔۔۔
آپ کے پاس دماغ نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں پیپرز سائن کرنے سے پہلے اگر اپنی ان الو جیسی بڑی بڑی آنکھوں کا استعمال کیا ہوتا تو آج اتنی بڑی مصیبت میں نہ پھستے اوپر سے لگتا ہے دماغ پے کوئی گہرا صدما لگا ہے جو اپنی بتیسی دیکھا دیکھا کے یہاں کرے یہ چمچ چلا رہے ہو ۔۔۔
ایان کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہاں عبیرہ کی غصے سے بڑی آواز گونجی آج اس نے آنکھوں میں نہ لینس لگاے تھے نہ ہی چہرے پے نقاب تھا ۔۔۔
زری اور امبر نے حیران ہو کے اسے دیکھا ۔۔۔
باقی سب بھی منہ کھول کے پہچانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
منہ بند کر لیں میں ہی ہو عبیرہ بدقسمتی سے ان بابا اے آدم کے زامنے کی مخلوق کی بیوی ۔۔
وہ ناک منہ چڑھا کے بولی ۔۔
اور باگڑبلے آپ کا دماغ کہاں تھا مجھے تو پہلے دن سے شک تھا اس بندے کو کسی نے غلطی سے اتنی بڑی پروپٹی کا مالک بنا دیا ہے ۔۔
عبیرہ کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا اور ایان صاحب تو ہر چیز فرموش کیے بس ان آنکھوں کے سحر میں کھو چکے تھے ۔۔۔
عدی بھائی میں بتا رہی ہوں یہ بندا پاگل ہو گیا ہے صبح سے ایسی لوچی حرکتیں کر رہا ہے اب بھی دیکھو کیسے دیدے پھاڑ کے دیکھ رہا ہے ۔۔ عبیرہ نے اس کے دیکھنے سے تنگ آ کے ادیان سے کہا ۔۔۔
سب نے ایک ساتھ ایان کی طرف دیکھا جو چہرے پے ہلکی سی مسکراہٹ سجا کے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
عبیرہ نے اگے ہو کے اس کا ہاتھ پکڑا اور بڑے پیار سے آگ پے رکھی پتلی کے ساتھ لگا دیا ۔۔۔۔
آہہہہہ افففف ۔وہ ہوش میں اتے ہی درد سے چیخا وہی سب بھی ہوش میں لوٹے ۔۔۔
میں یہاں کوئی فلم نہیں بنا رہی جو آپ منہ کھول کے سستے ہیرو کی طرح دیکھ رہے ہیں ویسے تو بڑا کہتے ہیں میں یہ کر سکتا ہوں میں وہ کر سکتا ہوں اب کیا ہوا کہاں گئی آپ کی وہ اکڑ ہاں اس کے سامنے اتے ہی آپ کی سٹی گل ہو گئی تھی ۔۔۔
عبیرہ نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔۔
ايان ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔۔
اففففف پاگل ہو گیا ہے تم لوگوں کا بھائی لے جاؤ اسے پاگل خانے . وہ غصے سے کہ کے جانے لگی جب ايان نے اس کی کلائی تھامی ۔۔۔
پرنسز ۔۔۔۔۔الفاظ تھا یا کیا جس نے عبیرہ کی ساری ہمت ہوا کر دی تھی دل ایک سو کی سپیڈ سے دوڑا تھا ۔۔۔
اس نے بےساخت نظرے اٹھا کے زری اور امبر کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف شاک میں تھی ۔۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں تو فالتو کام چھوڑ کے ذرا زمل پے بھی دھیان
دے دیں ۔۔وہ اپنا ہاتھ چھوڑواتے ہوئے بولی اور وہاں سے تن فن کرتی نکل گئی ۔۔۔
زری اور امبر بھی اس کے پیچھے ہی بھاگی ۔۔۔۔۔
بھائی سچ میں کیا عبیرہ بھابھی ہی پرنسز ہیں ۔۔روحان کی خوشی کا تو کوئی تھیکانہ ہی نہیں تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
بیئر بائیک روکو پلز ۔۔۔امبر نے بےبسی سے پیچھے سے ہانک لگائی ۔
مگر وہ ہر چیز فرموش کیے اپنی بائیک کو ہوا سے باتیں كرواتی ہوئی لے جا رہی رہی پیچھے ہی زری اور امبر اپنی گاڑی میں اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔۔۔
آبادی سے کافی دور ایک جلے ہوئے گھر کے سامنے آ کے اس کے بائیک روکی اور اتر کے اندر کی طرف بھاگی پیچھے ہی وہ دونوں بھی آئ ۔۔۔
یار پلز بات تو سن سچ میں بھائی کو کچھ بھی نہیں بتایا میں نے زری نے بےبسی سے اپنی صفائی پیش کی ۔۔۔
جانتی ہوں ۔۔ سکون سے جواب ایا ۔ساتھ ہی ایک سگرٹ جلا کے اپنے ہونٹوں میں دبا لی ۔۔۔
کمرے میں موجود آندھرے کو دیکھ کے زری اور امبر کو وحشیت ہو رہی تھی
پلز بیئر ایسے پہینک دو امبر نے اس کے منہ سے سگرٹ لتے ہوئے کہا ۔۔
سکون چاہیے مجھے جو اس کے علاوہ اور کہی نہیں وہ دوسری جلا تے ہوئے سکون سے بولی باہر سے شوک و چنچل نظر انے والی عبیرہ حقیقت میں ایک ٹوٹی ہوئی لڑکی تھی جو اپنی قسمت سے لڑ لڑ کے تھک گی تھی وہ اکثر سگرٹ پتی تھی مگر آج تو ایک کے بعد ایک ۔۔۔
مسلہ کیا ہے اگر اتنی ہی نفرت ہے اس انسان سے تو کیوں اس کی عزت بچانے کے لیے اس سے شادی کی بدنام ہی کرنا تھا زمل نے انہیں کرنے دیتی نہ کیوں آئ بیچ میں وہ تو زندہ لاش کی طرح جی ہی رہے تھے اگے بھی جی لیتے ۔۔زری نے تپ کے کہا اسے سخت چیڑ تھی بیئر کی اس عادت سے ۔۔۔۔
نفرت نہیں بس دکھ ہے جب مجھے ان کی ضرورت تھی وہ نہیں آے میرے پاس میرے دل میں موجود اس شخص کی محبت اسی دن ختم ہو گئی تھی جس دن میرا یہ گھر جلا عبیرہ نے کرب سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
دیکھو بیئر ۔۔امبر نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ بھر کے کہا جب اس نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا آنسوں باہر انے کو بیتاب تھے ۔۔۔
تم بھی جانتی ہو اور ہم بھی کے يان بھائی تم سے عشق کرتے ہیں تم نے اپنی آنکھوں سے انہیں وہاں جا کے روتے دیکھا ہے جہاں صرف تمہارے نام کی تختی لگی ہے ہمارا ماضی جیسا بھی تھا مگر ہم ماضی کی غلطیوں کی سزا انہیں نہیں دے سکتے جتنی تکلیف ہم نے دیکھی ہے اتنی انہوں نے بھی دیکھی ہے ۔۔۔
اگر ہم نے اپنے اپنوں کو کھویا تھا تو ایان بھائی نے بھی اپنے سب اپنے کھو دیے تھے وہ چاھتے تو تم سے ناراضگی کا اظہار کر سکتے تھے کیوں کے تم سب جان کے بھی ان سے انجان بنی رہی ان سے دوڑی اختیار تم نے کی تھی ۔۔۔
ہماری لڑائی ان سے نہیں ہے سمجھ رہی ہو نہ میری بات کو ۔۔ امبر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
عبیرہ نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا ۔ سہی ہی تو کہا تھا امبر نے قصور تو عبیرہ کا بھی تھا جو سب جانتے ہوئے بھی انجان بنی رہی ۔۔۔۔
چھوڑو اس کو یہ نہیں پتے دوبارہ اسے ہاتھ لگیا تو میں کبھی بات نہیں کرو گی تم سے ۔۔۔ امبر نے اس سے سگرٹ لتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی دہمکی بھی دے دی جو کافی حد تک کام بھی کر گئی ۔۔۔
امبر نے اگے بھر کے اسے اپنے ساتھ لگا لیا وہ جانتی تھی ماضی کی تلخ یادیں اس کی شوک و چنچل دوست کو بھی ٹوڑ دیتی ہیں ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
” ماضی “
میسز فاروق نے کاظمی کی اسٹڈی روم کی طرف دیکھی تو فورن اس کے اگے آئ۔ اسے روکنے کے لیے مگر کاظمی نے اپنے ہاتھ میں پکڑی گن ان کی گردن پے رکھ کے گولی چلا دی یہ منظر عبیرہ کے ننے سے دل پے اپنا اثر چھوڑ گیا تھا اس نے فورن اپنے منہ پے ہاتھ رکھ کے اپنی چیخوں کا گلہ گھوٹا اور فورن جا کے چھپ گئی آنکھوں سے آنسوں باہ باہ کے سوکھ گئے تھے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کی موت اس کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی
کاظمی نے جیسے ہی اسٹڈی روم کا دروازہ کھولا سامنے ہی اسے اسٹڈی ٹیبل کے نیچے وہ ڈری سہمی ہوئی نظر آئ ۔۔۔
وہ اندر انے سے پہلے اپنے چہرے پے پہنا ماسک اتر چکا تھا ۔۔۔۔
آبی بچے ادھر اؤ میرے پاس کاظمی نے اس کے پاس جا کے پیار سے کہا ۔۔۔
اپنے اتنے پاس سے کسی اپنے کی آواز سن کے اس نے فورن سر اٹھا کے دیکھا اپنے سامنے کاظمی کو دیکھ وہ فورن روتے ہوئے اس کے گلے سے جا لگی ۔۔۔۔
م ۔ما ما ۔۔ب با با ۔۔وو وہ خ ۔۔خون ۔۔وہ بس اتنا ہی بولی اور بیہوش ہو گئی ۔۔۔
کاظمی نے اسے اٹھیا اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
جلا دو اس جگہ کو کسی کو پتا نہیں چلنا چاہئے آج یہاں کیا ہوا ہے اور ہاں کل ان سب کا بھی کام تمام کر دینا رشتےداری بہت گہری ہے ان کی وہ اپنے گارڈز کو آرڈر دیتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔
صبح تک یہ خبر اگ کی طرح پھیل گئی تھی ہر نیوز چینل پے یہی خبر تھی کے فاروق شاہ اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ساتھ آگ میں جل کے اس جہاں فانی سے رخصت ہوگے یہ خبر افندی ہاؤس پے قیامت بن کے ٹوٹی تھی ۔۔۔
دا ابو اپنے تینوں بیٹوں اور بہوں کے ساتھ فاروق مینشن کے لیے روانہ ہوئے ایک ساتھ تین گاڑیان نکلی تھی افندی ہاؤس سے جنہیں کاظمی نے راستے میں ہی بمب سے اڑا دیا گیا تھا
یہ خبر ايان افندی کے بچپن کو ختم کر گئی تھی کے اسکی منکوحہ کے ساتھ ساتھ اب اس کے گھر والے بھی اسے چھوڑ کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔
ايان نے بہت چھوٹی عمر میں اتنی بڑی زمیداری سمبھالی اسے گھر اور اپنے بہن بھائی دونوں ہی سمبھالنے تھے وہ کیسے اپنے دل کا روگ لے کے بیٹھ جاتا اسے جینا تھا اپنے بھائی بہنوں کے لیے ۔۔۔۔
کاظمی نے عبیرہ کا ذھن بلکل واش کر دیا تھا ور وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود کو سمبھال چکی تھی لیکن اس نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اسے کسی صورت فرموش نہیں کر سکتی تھی کاظمی نے اسے پڑھنے کے لیے جس اسکول میں ایڈمشن لے کے دیا تھا وہی اس کی دوستی زری اور امبر سے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جاری ۔
