No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
بھائی اب آپ ماہی اور عدی بھائی کے ساتھ ساتھ رومی بھائی اور اپنی شادی بھی رکھے نہ کتنا مزہ آے گا میرے تینوں بھائیوں کی شادی ایک ساتھ ہوگی ۔زری نے خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا وہ لوگ رات کے وقت ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے زری اور امبر کی ضد پے عبیرہ بھی وہی آ گئی تھی ۔۔۔۔
مجھے تو کوئی اعترض نہیں آپ اپنی دوست سے پوچھ لیں ۔ايان نے کن آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھی اپنی بیگم کو دیکھا جو ہر چیز سے بےفکر اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھی جیسے اس سے زیادہ کچھ ضروری ہی نہ ہو ۔۔۔۔
بیئر تم بتاؤ نا کب رکھے شادی زری نے فورن اس کی بازو پکڑ کے کہا ۔۔۔
اس بندے نے پہلے میری مانی ہے جو اب مانے گا ۔۔ آنہہہہ وہ منہ چڑھا کے بولی اور رخ موڑ گئی ۔۔
روحان نے ہنسی دبا کے ايان کی طرف دیکھا جو شیر سے بیگی بلی بنا ہوا تھا ۔۔۔
ايان نے منہ بنا کے سب کی طرف دیکھا ۔۔۔
تو جناب شیر عرض ہے آج کا شیر ہمارے پیارے سے بھائی کے نام روحان نے ايان کی طرف دیکھ کے ہاتھ نچا نچا کے کہا ۔۔
ارشاد کریں دیوار جی عبیرہ فورن سیدھی ہوئی تھی وہ جانتی تھی روحان صاحب کے شیر میں بھی بیزتی ہی چھپی ہوتی ہے اور ايان کو تنگ کرنے کا موقع وہ کیسے چھوڑ سکتی تھی ۔
ايان نے گھور کے اسے دیکھا جو اسے اگنور کئے بیٹھی تھی ۔۔۔
ارے آپ لوگ بھی ارشاد کریں نا روحان نے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔
ارشاد ارشاد ۔وہ سب اک ساتھ بولے ۔۔۔
عشق نے ہمیں نکما کر دیا جناب ورنہ
آدمی ہم بھی بڑے کمال کے تھے ۔۔۔ واہ واہ ۔۔۔
وہ اپنے ہی شیر پے خود کو داد دے رہا تھا جب کے باقی سب منہ کھول کے ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے
یہ کیا تھا ؟؟؟؟ ماہی نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
شیر تھا جانم جو تمہیں سمجھ نہیں آے گا عدی نے فورن جواب دیا
ماہی نے دانت پیس کے اسے گھور کے دیکھا جس کا اسے کوئی خاص اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
رونی تم عشق بیچارے کو بدنام نہ کرو یہ آدمی شروع سے ہی نکما ہے مجال ہے جو اس انسان نے پیار کے دو بول آج تک کسی سے بولیں ہو بس ہر وقت ناک پے غصہ بیٹھا رہتا ہے ان سے بات کرنے سے اچھا بندا زہر کھا لے ۔۔۔
عبیرہ فورن ناک چڑھا کے بولی ۔۔۔
اچھا تم نے تو ابھی تک کھایا نہیں زہر ۔۔ایان نے اپنی ہنسی دبا کے زہر پے زور دے کے کہا
مجھے کیا ضرورت زہر کی آپ مل تو گئے ہیں کسی زہر سے کم ہیں کیا ؟؟؟؟ سامنے بھی عبیرہ تھی فورن میدان میں آئ ۔۔۔۔
ت ۔۔تم نے مجھے زہر کہا ۔۔ايان نے بےیقینی سے پوچھا ۔۔۔
آپ نے شہد سنا کیا اس نے معصومیت کے سارے ریکارڈز توڑ کے پوچھا ۔۔
باقی سب ان کی نوک جھوک انجونے کر رہے تھے ۔۔۔۔
م ۔۔میں نے سنا تم نے زہر ہی بولا مجھے ایان نے اسے گھورتے ہوئے دانت پیسے تھے ۔۔۔
جب سنا ہے تو ظاہر ہے کہا ہی ہوگا ویسے میں داد دیتی ہوں آپ سب کو کمال کا حوصلہ ہے آپ سب کا ۔۔عبیرہ نے ايان کو گھور کے جواب دینے کے بعد باقی سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔
کیوں بھابھی ایسا کیا ہوا ۔۔ماہی نے فورن ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔
ارے یہ پوچھو کیا نہیں ہوا ۔۔عبیرہ نے ہاتھ نچا کے کہا ۔۔۔
اچھا تو بتا دیں کیا نہیں ہوا رومان نے ہال میں انٹر ہوتے ہوئے کہا وہ ابھی ایا ہی تھا اور عبیرہ کی بات سن چکا تھا ۔۔۔۔
برخوردار لگاتا ہے آپ تمیز بھول گئے ہیں تبھی سلام لینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔ ايان نے تیور چڑھا کے کہا ۔۔۔
ہاں ساری تمیز ہی اس آدمی کے پاس ہے جب اللہ تعالیٰ تمیز بانٹ رہے تھے ایک یہی بندا تو تھا جو سیدھا جا کے دیگ میں گر گیا ہم سب بیچارے تو یہاں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ گپے ہانک رہے تھے ۔۔
نا ایک بندا تھاکہ ہارا گھر لوٹا ہے اسے کوئی پانی وگرا دینے کے بجاے آپ نے اپنے طنزوں کے تیر شروع کر دیے آپ کے ساتھ رہنے والے انسانوں کو تو آپ تمیز کا سبق پڑھا پڑھا کے ہی بور کر دیتے ہوں گے میں بھی کیا کہ رہی ہوں آپ کے ساتھ انسان تو رہ ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔
وہ جو پہلے ہی تپی ہوئی تھی ایان کے غلط وقت میں دی گئی نصیحت پے اور تپ گئی ۔۔۔۔
ایان نے منہ بنا کے اس کی طرف دیکھا مجال ہے جو یہ لڑکی اسے سیریس لے ۔۔۔
باقی سب کے لیے اپنی ہنسی دبا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
اب ایا نہ شیر پہاڑ کے نیچے ۔۔ عدی نے مسکراتے ہوئے ماہی کے کان میں سرگوشی کی۔
آواز اتنی تھی کے وہاں موجود سب نے سنی تھی
ايان بس گھور کے رہ گیا اسے ۔۔۔
اگر آپ کی اجازت ہو تو میں بولو کچھ ۔۔۔ کچھ دیر بعد ايان نے عبیرہ کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
جب پورا دن بولتے ہیں تب میری اجازت لتے ہیں کیا جو اب مانگ رہے ہیں اپنے منہ سے بولنا ہے اپنے بول لیں ۔۔ عبیرہ نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
جی شکریہ ۔وہ دانت پیس کے بولا
اور سب کی طرف دیکھ کے اس بار سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
دو دن بعد ہم سب کا ولیمہ اور زری اور روحان کا نکاح ہوگا یہ میرا آخری فیصلہ ہے اگر کسی کو کوئی اعترض ہے تو ابھی بتا دیں ۔۔۔
اس نے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
روحان تو خوشی سے اچھل پڑا تھا جب کے زری کیفیوز تھی اسے اپنے دل کی بدلتی دنیا کا ابھی تک علم نہیں تھا ۔۔ کچھ دیر سب کی خاموشی نوٹ کرنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
آپ سب بھی آرام کریں کافی دیر ہو گئی ہے وہ کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل دیا پیچھے باقی سب بھی اٹھ کے نکل گئے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گے تھے عبیرہ نے بھی زری کے کمرے کی طرف قدم بھرا دیے ۔۔۔
زری کا کمرہ ايان کے کمرے سے اگے تھا وہ اپنے دیہن میں موبائل میں سر دیے جا رہی تھی جب پاس سے انے والی گھمبیر آواز پے سر اٹھا کے سامنے دیکھا ۔،۔۔
تم کہاں جا رہی ہو ؟؟؟ ايان نے عبیرہ کو گھور کے دیتے ہوئے پوچھا جو زری کے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔
کیا مطلب کہاں جا رہی ہوں اب اتنی رات کو کوئی انسان چنے تو بیچنے جائے گا نہیں ظاہر ہے سونے ہی جا رہی ہوں وہ تیور چڑھا کے بولی ۔۔۔۔
ايان نے اسے بازو سے پکڑا اور ایک جھٹکے میں اپنے کمرے کے اندر کر کے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
ی ۔۔یہ کیا حرکت تھی مسٹر بگڑبلے ۔۔ اس کی تو بولتی بند ہو گئی تھی ايان کے تیور دیکھ کے ۔۔۔
کون سی حرکت جان اے ايان ۔۔
وہ جان کے لب دبا کے بولا ۔۔
دیکھے مجھے جانے دے زری انتظار کر رہی ہوگی میرا اور ویسے بھی مجھے بہت نیند آئ ہے وہ جلدی سے دروازے کی طرف جاتی ہوئی بولی ۔۔۔
ايان نے اسے فورن پیچھے سے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔
بہت بولتی ہو تم تھکتی نہیں اتنا بولتے ہوئے ايان نے اس کے کان کے پاس خمار الوداع لہجے میں سرگوشی کی عبیرہ کو اپنی سانسیں روکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ايان کی گرم سانسوں کی تپس اسے اپنی گردن پے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
ا۔۔۔ يان پلز ۔۔وہ بےبسی سے بولی وہ کہاں عدی تھی اس سب کی اسی وجہ سے تو وہ ايان سے دور بھاگتی تھی ۔۔۔
میری جان چپ کر کے یہی سو جاؤ ورنہ۔۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑ کے خود جا کے بیڈ پے لیٹ گیا ۔۔۔
عبیرہ نے گھور کے اسے دیکھا
افففف کیا ہوگیا تھا مجھے وہ اپنے خیالات پے لعنت بھجتی جا کے اس کے ساتھ لیٹ گئی ۔
ايان نے مسکرا کے اسے دیکھا اور اگے ہو کے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا ۔۔۔
عبیرہ نے بھی کوئی مزہمت نہیں کی اور سکون سے اس کی چھاتی پے سر رکھ دیا ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔
