No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
روحان پورے دن کا تھاکہ کل کی پوری رات بھی جاگ کے گزاری تھی ايان کی وجہ سے اب اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے آ گیا
“اففف . آج کا دن واقعی تھکا دینے والا تھا۔۔ وہ اپنی شرٹ کا آخری بٹن کھول کالر پیچھے کو سرکاتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔
جب کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لاگتی زری کو دیکھ دروازے میں ہی اس کے قدم ٹھٹھک کے رکے گئے ۔۔۔
زری اور اس کا سرسری سا ہی سامنا ہوتا تھا وہ جان کے اب زری کو اگنور کر رہا تھا ۔۔۔۔
نہ ہی اب ان دونوں کی کوئی لڑائی ہوتی تھی ایک اپنے دل میں اٹھتے جذبات اور دوسرا
کچھ وہ بھی مصروف تھا تو کچھ زری سے تفصیلی ملاقات سے اجتناب برت رہا تھا۔۔۔
وجہ واضح تھی ڈر تھا کی زری روبرو سوال نہ کرلے تو دوسرا اس کے انکار کا خوف تھا عجیب سی حالت تھی ان دنوں روحان کی اسکے خود سے دور ہونے کا سوچ کر ہی دلِ مضطرب واویلا کررہا تھا۔۔۔۔
“تھنک گاڈ تم آگئے میں کب سے تمہارا انتظار کررہی ہوں چلو جلدی سے بھائی جاگ رہے ہوں گے تم جاكر انکار کردینا ،بتا دو انہیں کی ہم ایک دوسرے کو لیکر ایسا نہیں سوچ سکتے وی آر جسٹ کزنز ۔” زری عجلت میں تیز تیز بولتی اس کے قریب پہونچ کر اس کا کسرتی بازو تھام گئی تھی۔۔۔۔۔
“کک۔۔کک۔۔کیسا انکار؟؟؟۔”روحان کی سانسیں حلق میں اٹکی تھی ایس بات کا ڈر تھا وہی ہوا ۔۔
“کیا مطلب ہے کیسا انکار کیا تم نہیں جانتے بھائی ہم دونوں کو لیکر کتنا غلط سوچ رہے ہیں،اور آج تو حد ہی کردی بنا ہم سے پوچھے نکاح کی ڈیٹ فائنل کر دی اور تم چھپ کر کے سب سنتے رہے ۔۔
مجھے تو لگا تھا بھائی لازمی تمہاری اور میری رائے لینے گے لیکن یہاں تو پوچھا بھی نہیں ۔
خیر کوئی نہیں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہم چلتے ہیں۔۔۔”زری اپنی کہتی روحان کا بازو پکڑکے مڑنے نے لگی تھی۔جب روحان سرعت سے اپنا بازو آزاد کراتا بیڈ کی طرف بڑھا۔
روحان !!!۔”زری بےیقینی سے اپنا خالی ہاتھ اور نظر چراکر آگے بڑھے اسے دیکھا وہ انجان تھی اپنے دل کی حالت سے دل اسے روک رہا تھا جب کے دماغ کہ رہا تھا کے وہ سہی کر رہی ہے ۔۔۔۔
روحان کیا مطلب ہے اس کا؟؟؟۔”زری کڑے تیور لیۓ اس کے سر پے سوار ہوئی جو ڈریسینگ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“کس کا مطلب تلاش کررہی ہو تم میری کچھ سمجھ نہیں آرہا ہم کچھ دیر بعد بات کرتے ہیں ابھی مجھے فریش اپ ہونا ہے۔۔”روحان مکمل آئینہ میں سے بھی زری سے نظریں چراتا والیٹ گھڑی ڈریسینگ پر رکھ کر واش روم کو طرف بڑھنے لگا تھا ۔
جب زری خطرناک تیور لیۓ اس کے راہ میں حمائل ہوئی۔۔۔
“اگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تو مجھ سے نظریں کس سلسلے میں چرا رہے ہو ؟مجھے دیکھنے سے گریز کیوں کررہے ہو ؟؟میرے روبرو آنے سے اجتناب کیوں برت رہے ہو ؟؟مجھے اگنور کیوں کررہے ہو ؟؟۔۔”زری اس کے ہر عمل کا نوٹس لیتی اس سے حساب مانگ رہی تھی۔
“روحان شاہزیب افندی کبھی زریش فرحان افندی کو اگنور کر ہی نہیں سکتاچاہ کر بھی نہیں روحان نے بےبسی سے اسے دیکھتے ہوئے سوچا مگر کہنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
“جاؤ پلز میں جواب دینے کے موڈ نہیں ؟؟؟۔”روحان واپس رخ موڑتے ہوئے بےبسی سے بولا
روحان ابھی اور اسی وقت رشتے سے انکار کر رہے ہو تم ۔۔”زری اس کے نظریں چرانے پر سیخ پا ہوتی اس کا بازو تھام کر رخ اپنی طرف موڑتی حکمیہ انداز میں بولی۔
“میں نہیں کر رہا انکار۔۔”وہ ہولے سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے جدا کرتا دھیمے لہجے پر بولا۔جس پر زری نے اسے ایسے دیکھا تھا جیسے اس کے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔
“ک۔۔کیا کہا تم نے؟؟؟۔”زری کی آواز اس کے نظر چرانے پر لڑکھڑائی تھی۔
“یہی زری کی میں اس نئے جڑنے والے رشتے سے انکار نہیں کررہا۔۔ روحان اس کی حالت کا اندازہ ہونے کے باوجود مظبوط لہجے میں بولا
“کیوں؟؟؟”زری اس کے اتنے صاف انکار پر اس سے چار قدم دور ہوتی تیز لہجے میں پوچھا۔
“تم کیوں چاہتی ہو کے میں انکار کروں ؟؟؟۔”روحان نے اب کے الٹا سوال کیا۔جس پر زری کا دماغ گھوما جو اپنی مار تھا اور اسکی ایک بھی نہیں سن رہا تھا ۔۔۔۔
“کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں”زری طنزیہ بولی۔۔۔۔لیکن اس کی طرف سے رخ موڑے کھڑے روحان افندی پر تو معنوں سکتہ طاری ہوگیا تھا اس نے بےیقینی سے پلٹ کر اسے دیکھا جو سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہی تھی۔
“ز۔ ۔ر۔ ۔زری کیا فضول مذاق ہے یہ جھوٹ کیوں بول رہی ہو۔”طویل خاموشی کے بعد روحان کچھ بولنے کے قابل ہوا تھا۔
“کیوں مذاق کیوں ہے؟اور میں جھوٹ کیوں بولونگی بھلا،آپ کو جواز چاہئے تھا انکار کا وہ مل گیا اب بس جائیں انکار کر آئیں۔۔”زری اسے اپنے طنز پر یقین کرتا دیکھ ایسا تو ایسا ہی صحیح سمجھ کر بنا غلط فہمی دور کئے اسی لہجے میں بولی۔یہ جانے بغیر کے اس کے الفاظ روحان پر کیا حشر برپا کررہے ہیں۔
“کون ہے وہ؟ صائم ؟؟؟۔”روحان نے سرخ آنکھوں سے جو دماغ میں پہلا نام آیا تھا اسی پر تصدیق چاہی۔دل شدت سے دعا گو تھا کی وہ نفی کردے لیکن زری کے اثبات میں ہلاسر روحان افندی کی آخری امید کی ڈور بھی ٹوٹ گئی تھی۔
“اب تو جاكر انکار کر دو ۔۔۔۔زری اس کی حالت کا اندازہ لگائے بغیر کندھے اچکاکر بولی۔۔۔
جس پر روحان مٹھیاں بھینچتے ہوئے دوقدم کا فاصلہ سمیٹتا اسے دونوں بازو سے تھامے پیچھے واش روم کے دروازے سے لگایا۔
“غلط فہمی ہے آپ کی زریش فرحان افندی کے میں ایسا کچھ کرونگا،
پہلے تو پھر بھی شائد میں اس بارے میں سوچتا لیکن اب سوچنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے آپ نے،اس میں کوئی شک نہیں کی آپ کی ہرخواہش پوری کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کیوں کے آپ میرا عشق میرا جنون ہیں ۔۔۔
لیکن ایک مقام ایسا ہے جہاں روحان افندی کیلئے آپ کی خواہش سے زیادہ کچھ اور اہمیت رکھتا ہے وہ ہے آپ سے دستبرداری،
آپ کو تنگ کرنا آپ سے لڑنا صرف اس وجہ سے کے آپ صرف میرے بارے میں سوچیں ۔۔۔
تو آپ سوچ بھی کیسے سکتی ہیں کی میں آپ کی زندگی میں کسی اور قبول کرلے گا،
ہرگز نہیں اب تو یہ رشتہ ہر قیمت پر جڑ کر رہے گا چاہے آپ چاہیں یا نہیں۔۔” روحان سرخ آنکھیں اس کے وحشت زدہ چہرے پر گاڑھے نیچی آواز میں غرراتا بہت کچھ باور کرا گیا تھا۔۔۔
زری تو بت بنی وحشت زدہ سی بس اسے دیکھتی رہ گئی وہ تو ابھی تک صرف لفظ عشق پے اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
“اب جائیں،اپنے لہجے کی معذرت نہیں کرونگا کیونکہ میں منافق نہی دل اس عمل کو برا نہیں کہتا تو منہ سے معافی کا کیا جواز بنتا ہے۔”روحان نرمی سے اسے سائیڈ ہٹاتا دروازہ کھول کر واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
۔جبکہ زری اب بھی وہیں پتھرائی کھڑی تھی
۔اس نے بس روحان کو اکسانے کیلئے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی لیکن یہاں سب الٹا ہوگیا تھا۔اسی لئے تو کہتے ہیں انسان کو اپنا ہر لفظ سوچ سمجھ کر ادا کرنا چاہئے کیونکہ ادا ہوئے لفظ لوٹ کر نہیں آتے آتا ہے تو صرف مقابل کا رد عمل جو روحان کا آیا تھا اور مستقبل میں آنے والا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺
امبر میری بات سنیں۔۔”ہال سے نکلتے ہی رومان تیز تیز قدم اٹھارہی امبر کی طرف لپکا جو جلدی جلدی سیڑھاں چڑھ رہی تھی۔
“بلیک بیوٹی میری ہات سنیں یار۔۔”وہ دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اس تک پہونچا جب وہ جلدی دائیں جانب کوریڈور میں مڑتی کمرے میں گھس کر بند ہونے لگی تھی کے رومان نے پیر اٹکا کے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا اور دروازه وا کرکے خود اندر گھس کر دروازہ بند کردیا۔
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی۔۔” امبر
اس کی جرات پر گنگ رہ گئی تھی بس نہیں چل رہا تھا اس کا منہ ٹوڑ دے ۔۔۔۔
رومان نے بنا کچھ کہے پلٹ کردروازہ بند کیا۔کیونکہ اگر امبر میڈم نے چیخ مار دی تو کھلے دروازے سے اسکی چیخ باہر جاتی اور رومان کے ستارے واپس گردش میں آجاتے۔
مطلب چھترول پکی تھی آج ۔۔۔۔۔
“اب ایسے مسکرا کیا رہیں ہیں شرم نہیں آتی اتنی رات گئے کسی لڑکی کے کمرے میں گھستے ہوئے؟؟۔”امبر اسے دروازے سے ٹیک لگائے مسکراتا دیکھ چیخی۔جس پر اس نےنفی میں سرہلایا۔۔۔
“تم میری بیوی ہو؟؟؟۔”اسکے لال بھبھوکا چہرے کو نظروں کی گرفت میں لیتے ہوئے اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاکے سوال کیا تھا۔جس پر امبر کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا۔
“نہیں بدقسمتی سے میں اپنی مہروم ساس کے فسادی فتنہ بیٹے کی بیوی ہوں ۔۔۔۔
آپ کو کوئی مسئلہ ہے؟؟۔۔کیونکہ مجھے تو اس پہچان سے بہت زیادہ مسئلہ ہے۔۔ امبر اسکی معصومیت پر چٹخ کربولی۔
بس نہیں چلا رہا مقابل کھڑے بندے کا گلا دبا دے کتنی آسانی سےبیوقوف بنایا تھا اسے تو رہ رہ کے وہی نہیں بھول رہا تھا ۔۔۔ اس بندے نے اسے، . پہلے اپنی معصوم ادایں دیکھا دیکھا کے اپنے پیار میں پھسا لیا بعد میں اسے ہر طرح سے ڈھیل دی یہ جانتے ہوئے بھی کے ریبل عرف گینگسٹر وہی ہے اسے ہر بار بھناگنے دیا ۔۔۔
اور بعد میں کتنے آرام سے آ کے کہ دیا کے یہ پلان اس کا تھا
خود کو عقلمند سمجھنے والی امبر مصطفیٰ شاہ بیوقوف بنتی رہی۔اسے رہ رہ کی اپنی بیوقوفیوں پر طیش آرہا تھا۔ضرورت کیا تھی اسے اندھا اعتماد کرنے اوپر سے اس فسادی کے عشق میں پاگل تھی ۔۔۔
“آپ کے تمام مسائل ہی حل کرنے یہ بندہ ناچیز یہاں موجود ہے،چلیں بس ایک ایک سے شروع ہو جائیں۔۔” رومان اپنی شیرنی کے تپے تپے تاثرات سے حظ اٹھاتا ہوا بولا۔۔۔۔
“بہت شکریہ تشریف لے جائیں۔جتنی آپ نے مجھ پر کرم نوازی کی بہت ہے۔۔”وہ تپ کر بولی۔
“میں مزید کرنے کا خواہاں ہوں آپ بس موقع میسر کریں۔۔”رومان اسکے ناراض تاثرات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا۔خفا خفا سی شیرنی بگڑے تیور لیۓ ناراضگی کا اظہار کرتی کتنی اپنی اپنی سی لگ رہی تھی۔رومان کا من کیا وقت تھم جائے اور وہ اسکی شکایتیں سنتا رہے۔
“لیکن میں مزید کی خواہاں نہیں۔۔”وہ نروٹھے پن سے کہتی گلاس ڈور کی طرف بڑھ گئی تھی۔
رومان کی نرم گرم نظریں شریں لب و لہجہ ناز اٹھاتا انداز دل کی سر زمین پر ہزاروں کی تعداد میں نئے خوبصورت احساسات کے پھول کھلارہا تھا
۔اسے صنف مخالف سے چڑ سی ہو گئی تھی۔۔۔۔
تعلیم حاصل کرتے ہوئے بھی کبھی کسی کو اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیا تھا۔لیکن یہ شخص دھرّلے سے بنا اجازت طلب کئے اسکی زندگی میں گھس آیا تھا۔اور روز اول سے اپنے کیرینگ انداز سے اس جذبات سے عاری لڑکی کے دل سلطنت کو فتح کر چکا تھا ۔۔۔
“لیکن میں نے کہا نہ میں خواہش مند ہوں موقع چاہتا ہوں،لیکن آپ کے موقعے کا محتاج بالکل نہیں ہوں،آفٹر آل میں رومان افندی ہوں مواقعے خود بناتا ہوں۔۔”وہ اسے اپنے پیچھے سے حصار میں میں لتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
یہاں امبر کے ہوش اڑے تھے لیکن جلد خود کو سمبھال کے بولی
“ہاں لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنی پہچان چھپا کر۔۔”اس نے تیز آواز میں شکوه کیا۔جس پر رومان کا قہقہ ابلا تھا۔
وہ بس دانت پیس کے رہ گئی ۔۔۔۔
“مطلب یار یہ تو سراسر الزام ہے بندے پر،شروعات ہر چیز کی آپ کی طرف سے ہوئی تھی،آپ نے پہلے اپنی سچائی چھپائی میں نے تو صرف جواب دیا،
آنیسٹلی بولوں تو میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا،لیکن جس طرح آپ انسپکٹر رومان سے گوشے پردے کا احتمام کررہی تھیں، مجبوراً مجھے عمل کا رد عمل دینا پڑا تھا،ورنہ رومان ہر کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے۔۔”رومان متبسم لہجے میں کہتا آخر میں کالر چڑھاکے بولا۔اسکی بات پر امبر نے لب کچلا۔
وہ چپ کرگئی تھی۔بھلے وہ لوگوں کی زبان بند کرتی تھی یہ بندہ اسکی بولتی بند کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔
“اور کوئی الزام، شکایت، حکم کچھ بھی؟؟؟۔”رومان اسے لب کچلتا دیکھ شوخی سے بولا۔
“نہیں گزارش پلز تشریف لے جائیں۔۔”امبر کا اعتماد واپس عود آیا تھا۔
“کیوں جناب یہ میرا بھی کمرہ ہے “رومان اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اس کا سر اپنے چوڑے سینے سے لگتا ہوا گھمبھیر انداز میں بولا۔جس پر امبر کی دھڑکن منتشر ہوئی تھی۔
“دیکھیں پلزز مجھے آج اکیلا رہنا ہے آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔”امبر سر اٹھا کے تھوک نگلتے ہوئے خود کو کمپوز کرکے بولی۔اسکے نظروں کے رقص نے رومان کی مسکراہٹ گہری کردی تھی۔
رومان نے اس کی پیشانی پے لب رکھے جب اس کی حالت مزید خراب ہوئی
“پپ۔۔پلز جائیں آپ یہاں سے۔۔”ذرا سے لمس پر درہم برہم ہوئی دل کی دنیاں پر امبر نے لرزتی آواز میں گزارش کی تھی۔
“اوکے!اب آرام کریں آپ۔۔”رومان بھی اسکی حالت پر رحم کرتا اس سے دور ہوا اور پھر دروازے کی طرف بڑھا۔
“ویسے مجھے میری شیرنی ریبل ہی اپنی بیوی کے طور پر اچھی لگتی ہے،ڈری سہمی امبر نہیں،وہ کیا ہے نہ میں فسادی وہ فتہ جوڑی فٹ ہے۔۔رومان پلٹ کے آنکھ دبا کر کہتا نکل گیا تھا۔
امبر اپنی دھڑکنیں شمار کرتی رہ گئی تھی۔
جاری ۔۔۔۔۔
