No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
کے زی انڈسٹریلز پاکستان کے مانوس اور پاور فل بزنس میں شمار ہونے والا ایک بڑا نام تھا
لیکن کہتے ہیں کامیابی دائمی نہیں ہوتی۔ اس کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت گزر جاتا ہے۔
کاظمی صاحب نے اچھائی کا راستہ چھوڑ برائی کی دنیا میں قدم رکھے
یہی وجہ تھی کے آج ان پے برا وقت آ گیا تھا
ایان بلیک کلر کے برانڈڈ تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔ہاتھ میں ڈائمنڈ پلیٹڈ واچ پہنے رعب و دبدبہ بنائے کے زی انڈسٹریل کے بلڈنگ پہنچا۔۔۔۔
اس نے شرٹ کی آستین کہنیوں تک موڑ رکھی تھی اور کوٹ ایک بازو پر ڈالے کے زی انڈسٹریل کے بلڈنگ میں تیز تیز چل رہا تھا۔
وہ آج صرف اس دشمن جان کے دیدار کے لیے ایا تھا جو نا جانے کیا سوچ کے دو دن کی دوری اختیار کیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
ایان آفندی یس ہرے ۔۔۔
اس نے کاظمی صاحب کے کیبن کے سامنے بیٹھی سیکرٹری کو اپنا تعارف بتایا تو وہ سر کو خم دیتی انٹرکام پر کسی سے مخاطب ہوئی۔
یو کئن گؤ انسائڈ سر ۔۔۔۔
کال پر موجود شخص کی ہدایت سن کر اس نے فورا ایان کو اندر جانے کا کہا۔
وہ آج کاظمی صاحب سے اپنی بیئر کی رخصتی مانگنے ایا تھا ۔۔۔
وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے بے تاثر انداز میں تہزیب سے کیبن کے دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر ٹھٹک گیا اس کا حلق تھا کڑوا ہوا تھا اپنے سامنے اسے دیکھ کے ۔۔۔
“مس زمل ۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔” آبرو اچکا کر کہتے ایان قدم قدم آگے آیا۔
زمل تھی تو خوبصورت لیکن آيان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔ گول چہرہ لمبی آنکھیں چھوٹی ناک گلابی ہونٹ حسن میں وہ عبیرہ سے کم نہیں تھی
بالوں کو کھولا چھوڑے ریڈ کلر سلک کا ہالف سلیف ٹاپ پہنے جس کا گلا بہت ڈیپ تھا۔
ٹائٹ جینز اور لمبی ہیل پہنے ایان کو اپنی اداوں سے بہکانے کی پوری کوشش کرتی اس کے قریب آئی۔
“يان کتنےدنوں بعد ملے ہو۔ کتنا بدل گئے ہو۔ خمار الود آواز میں کہتے اس نے ايان کے بازو سے کوٹ لے کر دائیں جانب صوفے کے پشت پر ڈال دیا۔
اس کی نشیلی آنکھیں ایان کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔
“مسٹر کاظمی کہاں ہے ۔ ایان سپاٹ تاثرات بنائے اس کے کسی بھی ادا سے متاثر ہوئے بغیر کاظمی صاحب کا پوچھنے لگا۔
“ڈیڈ تو آج آفس نہیں آئے۔۔۔مگر میں ہوں نہ تمہارے لیے ہمیشہ سے تیار
جو بھی بات کرنی ہو مجھ سے کرو نا ۔۔ زمل اپنی ہر حد پار کرتی اس کے قریب گئی اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی ویسٹ پر رکھ دیئے۔
ایان نے جبڑے سخت کر لیے۔ زمل کی گرم سانسیں اس کے چہرے پر گردش کر رہی تھی ۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ ایان کے کندھے کے گرد مائل کیا اور دوسرے کو حرکت دیتی پہلے اس نے ایان کی ٹائی کھولی اور پھر اس کے شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔
تم اس قابل ہی نہیں ہو کے تم سے بات کی جائے جو پوچھا اس کا جواب دو کہاں ہے تمہارا باپ ؟؟؟؟؟ ایان نے طنزیہ انداز میں اس کا سراپا دیکھتے اس کی ویسٹ پر گرفت مضبوط کر دی اتنی کے ایان کی انگلیاں اسے اپنی کمر میں پیستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
تم چاہے جو بھی کہو مگر تم صرف میرے ہو صرف و صرف زمل کاظمی کے ۔۔۔۔۔۔ زمل تڑپ اٹھی تھی اس کی پکڑ پے اس نے ایان کے کان میں سرگوشی کرتے اس کے کان لوہ اپنے ہونٹوں میں دبا لی۔ ايان ضبط کی انتہا پے تھا
“زمل سٹاپ اٹ۔۔ ایان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اسے روکنا چاہا لیکن وہ پوری مدہوش ہوچکی تھی۔
زمل کے لبوں نے اپنے منزل کے جانب رخ کیا
اس کی شرٹ مٹھی میں دبوچے جب وہ اس کے ہونٹوں کے جانب بڑھی تو ایان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے زمل کو کندھوں سے جکڑ کر خود سے دور جھٹکا
وہ ایک جھٹکے سے ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی اور بے یقینی سے اس کے ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ اس کی نظروں میں دنیا جہاں کی حقارت اور نفرت در آئی تھی۔
“مس زمل کاظمی میرا جسم میرا پیار بہت انمول ذخیرہ ہے۔ اور اس پر صرف میری بیوی کا حق ہے تم جیسی چیپ لڑکیاں اپنے حوس کا نشانہ بنا کر اسے بے مول نہیں کر سکتی۔۔
میرے معیار پر آنے کے لیے تم جیسی لڑکی کو اپنا کردار تیزاب سے دھونا پڑے گا۔
ایک ہی جھٹکے سے ایان نے اسے پرے دھکیلا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹی
“اور کہہ دینا اپنے اس تھرڈ کلاس باپ سے اپنی کیریکٹر لیس بیٹی کا استعمال کر کے مجھے بہکانے کے یہ ٹرکس بند کریں۔۔ ایان کی آواز اونچی تھی طیش سے وہ دانت پر دانت جمائے زمل کو تردید کرنے لگا۔
“اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کے لیے اس ڈیل کی ضرورت اسے ہیں۔ مجھے نہیں اگر اسے مجھے سی کوئی بھی ڈیل کرنی ہے تو ٹیکسٹ ٹائم وہ میرے آفس آنے کی زحمت کریں وہ غصے سے گھورتے ہوئے غرایا۔ ۔۔
اور ہاں وہ بھی اپائنٹمینٹ لیں کر میرے پاس ہر فضول انسان سے ملنے کا وقت نہیں ہے طیش سے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے وہ واپس مڑتے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔
“يان ۔زمل معصوم تاثرات بنائے پھر سے اس کے جانب بڑھی۔
“يان نہیں آیان ۔۔ آیان آفندی۔۔ آفندی ایمپائر کا MD۔
مسٹر آیان آفندی۔۔سر۔۔ اس نے زمل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس کی تصحیح کی۔
“آئیندہ میرا نام بہت ہی ادب اور احترام سے لینا۔۔۔۔ اور یہ جسمانی نمائش کا مجسمہ بن کر میرے سامنے پھر کبھی مت آنا مس زمل کاظمی ۔وہ اپنی ٹائی اور کوٹ اٹھا کر نفرت بھری نگاہوں سے زمل کو دیکھتے کیبن سے نکلنے لگا تھا ۔اور پیچھے زمل اپنی تذلیل لیئے۔ اپنے ناپاک ارادوں سمیت خالی ہاتھ رہ گئی۔۔۔۔۔
آیان وہاں سے نکلتا اس سے پہلے اس کی نظر دروازے میں کھڑی عبیرہ پے پڑی جو ہاتھ سینے پے بندے برے سکون سے کھڑی تھی ۔۔
زمل نے اسے دیکھا تو پیج و تاب کھا کے رہ گئی ۔ مطلب اس کی اتنی بیزتی اپنی اول دشمن کے سامنے ہوئی تھی ۔۔۔
اپنے سامنے اس دشمن جان کو دیکھ ايان تو کھل اٹھا تھا ایک اسی کی خاطر تو وہ وہاں بھاگا ایا تھا اپنا ہر کام چھوڑ کے کاظمی کے ایک بار بولانے پے وہ بھاگتا ہوا ایا ۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا تم اتنی گر جاؤ گی چچ چچ چچ اتنی ذلت پے تو تمہیں ڈوب مارنا چاہئے قسم سے تمہاری جگہ میں ہوتی تو اپنی ذات کی اتنی تذلی پے میں زہر کھا کے مر جاتی مگر افسوس میں بھی کیسے کہہ رہی ہوں تم میں کیسے ہو سکتی ہو ؟؟؟؟ وہ زمل کی طرف قدم قدم بھرتی بول رہی تھی یہ کہنا بہتر ہوگا کے وہ زمل کو زچ کر رہی تھی ۔۔۔
اور زمل کا بس نہیں چل رہا تھا اسے اٹھا کے باہر پہنک دے ۔۔۔
اور مسٹر ایان آفندی آپ ۔اب وہ ایان کی طرف ہوئی ۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا میرے ہسبنڈ کا ٹیسٹ اتنا خراب ہے پورے پاکستان کی لڑکیاں چھوڑ کے ایک یہی ملی تھی چپکنے کے لیے میں مر گئی تھی کیا جو ایسی آ کے چپک گئے سچ میں مجھے تو اپنی قسمت پے رونا آ رہا ہے ایک شوہر ملا وہ بھی دماغ سے پیدل ۔۔۔ وہ ایک آئ برو اٹھا کے پوچھ رہی تھی ایان اور زمل دونوں ہی شاک میں تھے ایان کو نہیں پتا تھا وہ یوں اپنے نکاح کا ذکر کرے گی اور ایان کے لیے تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور ہو ہی نہیں سکتی تھی کے سامنے موجود لڑکی صاف لفظ میں اسے اپنا مان رہی ہے ۔۔۔
اور زمل تو اس کے منہ سے ہسبنڈ سن کے ہی سون ہو گئی تھی ۔۔۔
کیا ہوا زمل بی بی اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو ؟؟؟؟؟ عبیرہ نے اس کی حالت پے اپنی ہنسی دبا کے پوچھا ۔۔۔
ت ۔۔۔تم ۔۔۔۔۔ا ۔۔اا ۔۔ایان ۔۔۔زمل کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی وہ کیا کہے ۔۔۔
عبیرہ نے ایک طنزیہ نظر اس پے ڈالی اور پھر ایان کے پاس جا کے بہت حق سے اس کی باہوں میں جا کے بولی ۔۔
بلکل سہی سنا تم نے میں ہوں عبیرہ ایان آفندی اور تمہیں کیا لگا تھا میں اپنی محبت کو تمہارے ہاتھوں رسوا ہونے کے چھوڑ دوں گی ۔۔۔
تو غلط زمل بی بی اب تمہیں ان تک انے سے پہلے مجھ سے گزرنا ہوگا ایسے دہمکی سمجھو یا کچھ اور مگر اگلا قدم ذرا سوچ کے اٹھنا ورنہ مجھے تو تم اچھے سے جانتی ہوگی ہنا ۔۔۔۔ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کے طنزیہ انداز میں بولی ۔۔
ایان کا ہاتھ پکڑ کے وہاں سے لے گئی ایان کی خوشی کا تو کوئی ٹیکانا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
پیچھے وہ منہ کھول کے کھڑی رہ گئی ۔۔۔
اسے اپنی نادانی پے جی بھر کے غصہ آ رہا تھا وہ کیسے بھول گئی عبیرہ اس کی راستے کی سب سے بڑی دیوار ہے ۔۔۔۔
کاظمی صاحب جو کب سے آفس کے سیکرٹ روم میں بیٹھے سب سن اور دیکھ رہے تھے وہ بھی انتہائی غصے سے باہر آے ۔۔
بابا اب اس لڑکی کا کچھ کرنا ہوگا جلدی ۔۔۔زمل طش میں آ کے بولی ۔۔۔
تم فکر نا کرو میں کل تک اس کا انتظام کر لو گا تم بس اپنی اگلی چال چلو ۔۔کاظمی صاحب نے حقار برتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
رات کی سیاہی نے ہر طرف اپنے پر پھیلا رکھے تھے ایسے میں وہ تین نقاب پوش اپنے سامنے موجود ایک خالی عمارت پے نظریں جمع کے بیٹھے تھے ۔۔۔۔
ریبل کہاں جا رہی ہو بلیوتوتھ میں اے کے کی سخت آواز گونجی جیسے نظر انداز کیے ریبل بلکل ٹرک کے پاس پوھنچ گئی ۔۔۔
ٹرک ڈرائیور جو کاظمی کا فون سننے ایک سائیڈ پے گیا تھا ریبل نے فورن اس کا پیچھا کیا اور اسے کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن توڑ دی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اسی کے ہولے میں وہاں موجود تھی ۔۔۔۔
افففف کچھ نہیں ہو سکتا اس لڑکی کا کبھی جو کسی کی سن لے ۔اے کے نے دانت پیس کے کہا اسے ریبل کا یوں ان سب کے بیچ میں جانا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا مگر سامنے بھی ریبل تھی جیس کی آنکھوں میں صرف جنون تھا کاظمی کی بربادی کا جنون جس کے لیے وہ کچھ بھی کرنے سے پہلے نہیں سوچتی تھی ۔۔۔۔۔
سن ٹرک سمبھال کے لے کے جائی کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے اس میں کیا ہے اور ہاں سنا ہے ڈریگنز تاک لاگے بیٹھے ہیں آج انہیں کسی بھی حال میں چکما دینا ہے ورنہ باس نے ہماری حالت خراب کر دینی ہے سمجھ رہا ہے نہ تو ۔۔ ایک گندی سی شکل والے آدمی نے ریبل کے کنڈے پے ہاتھ رکھ کے کہا وہ بس اثبات میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔
چلو چلو دیر ہو رہی ہے جلدی نکلے ۔۔۔ وہ کہتے ساتھ اپنے اپنے ٹرک کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔
ایکشن ۔۔۔۔
ریبل نے مدم آواز میں کہا اور اپنی جگہ سمبھال لی جا کے ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔
