Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ہر طرف شور تھا ہر کسی کی زبان پے آج ایان افندی کا نام تھا ۔۔۔
میڈیا اپنی ٹی ۔آر ۔پی بھرہانے کے لیے خبر کو اور مسلہ لگا کے بتا رہی تھی ۔۔۔۔
عدی پلز يان بھائی کو واپس لے آے نا پلز یہ خبروں والے جھوٹ بول رہے ہیں بھائی ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔ماہی نے پوری رات کانٹوں پے گزاری تھی ابھی بھی وہ ادیان کو دیکھتے ہی اس کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔۔
ماہی سمبھالو خود کو کچھ نہیں ہوگا اسے ہم نا اس کے ساتھ ادیان نے اسے اپنے ساتھ لگتے ہوئے کہا حقیقت میں وہ خود بھی بہت پریشان تھا ایسے وقت میں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔۔
عدی بھائی کچھ بات بنی کوئی وکیل ملا آپ کو ۔ روحان نے ہال میں انٹر ہوتے ہوئے کہا وہ بھی پوری رات سے خوار ہو رہا تھا مگر کوئی بھی وکیل ان کا کیس لینے کو تیار نہیں تھا وجہ صرف یہ تھی کے کاظمی کے غنڈوں نے شہر کے سب ہی وکیلوں کو دہمکی دے دی تھی ۔۔
نہیں یار وقت کم ہے اور ابھی تک کوئی وکیل نہیں ملا سمجھ نہیں آ رہی اس کاظمی نے آخر کیا ۔کیا ہے ۔۔ عدی بےبسی کہتے ہوئے صوفے پے گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔۔
ہال میں موجود تینوں میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔
بھائی رومی کہاں ہے رات سے نظر نہیں ایا اسی سے بات کر کے دیکھ لتے ہیں روحان نے اسی امید کی ایک آخری کرن دیکھائی ۔۔
کوئی فائدہ نہیں رونی ایس پی بھی کاظمی کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ رومان کو کبھی بھی اس کیس میں نہیں پڑنے دے گا ۔۔۔۔
لیکن بھائی کچھ ۔۔۔۔
بھائی آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کے ايان بھائی رات جیل میں ہیں ۔۔۔ اس سے پہلے روحان کچھ اور کہتا رومان نے وہاں انٹر ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہا شدید ضبط سے اس کی آنکھیں انگار ہو رہی تھی ۔۔۔ اس کے پیچھے ہی زری اور امبر بھی تھی ۔۔۔۔۔
تم لوگ فکر نہ کرو میں ہوں دیکھ لوں گا اور بچے آپ دونوں کہاں تھے عدی نے پہلے سنجیدگی سے اسے جواب دیا اور پھر اس کے بعد ان دونوں کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔۔
ان دونوں کا رنگ ایک دم زرد پڑا تھا اب انہیں کیا بتاتی جس بلیک ڈریگنز کے نام کی ڈھوم ہر جگہ مچی ہے وہ اور کوئی نہیں یہی ہیں ۔۔
دونوں نے مدد طالب نظروں سے رومان کو دیکھا ۔۔۔
بھائی یہ دونوں بھابھی کے پاس تھی میں کیس کی وجہ سے بزی تھا ابھی واپس پے یہ میرے اگے اگے ہی آئ ہیں ۔۔۔
رومان نے صفائی سے جھوٹ بولا جب عدی نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
بھائی ہمیں چلنا چاہئے صرف آدھا گھنٹہ ہے ہمارے پاس اور ابھی تک کوئی وکیل بھی نہیں ملا ۔۔ روحان نے عدی کی پاس اتے ہوئے کہا ۔۔
ہاں چلو اور رومان تم ان سب کا خیال رکھنا ۔۔وہ کہ کے جانے لگا تھا جب رومان نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔
ہم نے ہر قدم پے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے یہاں آپ کو اکیلے کیسے جانے دوں میں بھی چلوں گا ۔۔رومان نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔
بھائی میں بھی جاؤ گی ۔۔زری بھی فورن اگے ہوئے ۔۔۔۔۔
میں بھی جاؤ گی بس ماہی نے جیسے آخری فیصلہ سنایا ہو ۔۔۔
امبر نے ان سب کی طرف دیکھا اور پھر عدی کی طرف دیکھا جو اسی کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی آپ کو برا نا لگے تو م ۔۔میں یہ ک۔۔کیس لڑنا چاہتی ہوں ۔۔۔ امبر نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا اسے ڈر تھا کے عدی انکار نہ کر دے ۔۔۔
بھابھی آپ لائر ہیں ماہی اور روحان نے بےیقینی سے پوچھا ادیان بھی بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے فورن اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
ادیان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیسے اپنی خوشی کا اظہار کرے ایسے وقت میں جہاں کوئی ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا وہاں یہ لڑکی اسے امید کی واحد کرن لگ رہی تھی ۔۔۔۔
خوش رہو میری پرنسز مجھے یقین ہے اب یہ کیس ہم ہی جیتے گے ادیان نے اس کے سر پے ہاتھ رکھ کے کہا اور اسے اپنے پیچھے انے کا بول کے خود باہر کی طرف بھاگا ۔۔
امبر کو آج پہلی بار کسی نے بڑے بھائی کی طرف پیار دیا تھا جو بھی تھا ایان نے اسے بھی ہمیشہ زری کی طرح سمجھا اور بلکل بہنوں والا مان دیا
اب بات اس کے بھائی کی تھی اسے ہر حال میں یہ کیس جیتنا تھا وہ بھی اپنے مضبوط قدم اٹھاتی باہر کی طرف چل دی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
عدالت کے باہر اس وقت میڈیا کے رش لگا ہوا تھا ہر ریپوٹز کے ہاتھ تو جیسے سونا لگ گیا ہو رہی سہی کثر کاظمی نے کچھ ریپوٹز کو پیسے کھلا کر پوری کر دی تھی ۔۔۔۔
وہ سب وہاں کھڑے ايان افندی کا انتظار کر رہے تھے ایک بزنس مین کے خلاف انہیں پہلی بار کوئی ایسی نیوز ملی تھی ۔۔۔
دور سے پولیس کی گاڑیوں کو اتا دیکھ وہ سب اس تک بھاگے ۔۔
پولیس کی جیب کے روکتے ہی ايان افندی سخت تاثرات لیے باہر نکالا ۔۔
چہرے پے چٹانوں سی سختی تھی وہ جبڑے بیچ کے خود کا ضبط آزما رہا تھا ۔۔۔
مسٹر ایان آپ پے مس زمل نے الزام لگیا ہے کے آپ نے ان کے ساتھ زياتی کی ہے کیا یہ سچ ہے ؟؟؟؟۔۔۔ایک ریپوٹر نے ایان کی طرف مائیک کرتے ہوئے کہا ۔۔
سر کیا آپ سچ میں ان بچے کے باپ بنے والے ہے ؟؟؟؟
کیا آپ ایک ہوس پرست انسان ہے ؟؟؟ نہ جانے کتنی ہی آوازیں اسے اپنے پاس سنائی دے رہی تھی شدید غصے کی ایک لہر اسے اپنے اندر اٹھتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
آج تک آپ نے کتنی لڑکیوں کی عزت کے ساتھ۔۔۔۔۔ بسسسس بہت ہوئی آپ لوگوں کی بکواس جب تک یہ الزام سچ ثابت نہیں ہو جاتا آپ لوگ بےبنیاد الزام نہیں لگا سکتے اور میں کسی کو بھی جواب دے نہیں ہوں سمجھے آپ لوگ ۔۔۔
رپوٹرز جو الٹے سیدھے سوال کر رہے تھے ايان کی برداشت جواب دے گئی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا اس لیے سخت لہجے میں دھاڑا اور لمبے لمبے دنگ بھرتا اندر چلا گیا ۔۔۔
جیسا کے آپ دیکھ رہے ہے مسٹر ایان کتنا غصہ کر کے گئے ہے ان کے بات چھپانے سے سچ چھپ نہیں جائے گا بہت جلد سچ سب کے سامنے آے گا تب تک لیے آپ لوگ ہمارے ساتھ جوڑے رہئے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
عدالت کی کاروائی شروع کی جائے جج صاحب نے اپنی سیٹ سمبھالتے ہوئے کہا ۔۔
یواونر میں ہوں فیاض احمد خان مس زمل کا لائر اور مس زمل کا کہنا ہے کے ايان افندی نے انہیں پہلے اپنے پیار کے جھوٹے جال میں پھسا اور پھر ان کی عزت لوٹ لی ۔۔۔۔
یہ رہا ثبوت یہ وہ پیپرز ہیں جن میں صاف لکھا ہے کے مس زمل کے پیٹ میں جو بچا ہے وہ ایان افندی کا ہے میری کوٹ سے گزارش ہے کے وہ ایان افندی کے خلاف سخت کارروائی کریں نوازش ہوگی ۔۔۔
فیاض احمد نے ايان کی طرف دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں جھوٹ کا سہارا لتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
عدالت میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔۔
آپ کچھ کہنا چاہے گے مسٹر آپ پے تو ماشاءالله اتنا بڑا الزام لگا ہے کچھ تو بولیں یہ خاموشی آپ کو مجرم ثابت کر دے گی ۔۔ جج صاحب نے ايان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
مگر سامنے بلکل خاموشی تھی ۔۔۔وہ تو جیسے کچھ بولنا ہی نہیں چاہا تھا
عدالت میں مکمل خاموشی تھی جس میں گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی اور جج صاحب بھی منتظر سے کے وہ کچھ بولے ۔۔۔
یوراونر سارے ثبوت اس وقت مسٹر ایان کے خلاف ہیں اور ان کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کے انہوں نے یہ گناہ کیا ہے میری عدالت سے درخاست ہے کے آپ مسٹر ايان کو سخت سے سخت سزا سنائی جائے تکے۔۔۔۔۔
ایک منٹ جج صاحب آپ ایک سائیڈ کی دلیل سن کے فصلہ نہیں سنا سکتے کیسی کی خاموشی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے وہ گناگار ہے ۔۔۔
عدالت میں ایک نسورای آواز نے فیاض احمد کی آواز کو بیچ میں کاٹا ۔۔۔
آپ کی تعریف ؟؟؟ جج صاحب نے سامنے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مائے لارڈ میں ہوں ایان افندی کی لائر …
میرے بغیر میرے موؤکل کو سزا نہیں سنائی جا سکتی
عدالت کے دروازے سے اس نے قدم رکھتے ہوئے کہا ۔
سب نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ کھڑی تھی ۔۔اس کے پیچھے ہی باقی سب بھی تھے وہ لوگ ابھی پوھنچے تھے ۔۔۔اگر ذرا سی بھی دیری ہوتی تو شاید ايان کی خاموشی اسے سزا دلا سکتی تھی ۔۔۔۔
اپنے سامنے امبر کو دیکھ کاظمی نے نفرت سے اسے گھورا جو اس کے ہر کام میں اپنی تانگ آرانے آ جاتی تھی ۔۔ اسے افسوس ہو رہا تھا کے اس نے پہلے اس لڑکی کو کیوں نہیں ختم کیا ۔۔۔
سفید شلوار قمیض کے ساتھ اوپر جیٹ بلیک کوٹ پہنے وہ مضبوط قدم رکھتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
یہاں بھی آ گئی یہ اس بار نہیں چھوڑو گا میں اس کمینی کو کاظمی نے دانت پیس کے سوچا ۔۔۔
اس نے دونوں باپ بیٹی کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اچھلی ۔۔
جس سے وہ جل بھن گے ۔۔انہوں نے نہیں سوچا تھا کے ايان کا کیس یہ لڑے گی ۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔۔۔۔
آپ کی تعریف فیاض احمد نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
لگتا ہے آپکو کم سنتا ہے چلے میں ایک بار پھر بتا دیتی ہوں
میں ایان افندی کی وکیل ہوں امبر نے جج صاحب کو جواب دیا
جج صاحب میری گزارش ہے کے کیس کی سنوائی ایک بار پھر سے شروع کی جائے میں ۔۔۔
امبر نے جج صاحب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
اجازت ہے ویسے بھی میں بور ہو گیا تھا ۔۔۔ جج صاحب نے اجازت دیتے ہوئے ینڈ والی لائن منہ میں ہی بولی
یہ تم ٹھیک نہیں کر رہی میں تمہیں کہی کا نہیں چھوڑوں گی زمل نے اس کے پاس آ کے دانت پیس کے کہا ۔۔۔۔
شوک سے دیکھ لینا فلحال اپنے جھوٹ کو سچ کیسے ثابت کرو گی یہ سوچ لو امبر نے اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا
دیکھ لو۔۔۔۔
آرڈر آرڈر محترمہ یہاں کوئی لنڈا نہیں لگا کے آپ دونوں نے سرگوشی شروع کر دی ذرا اپنی جگہ پے آرام سے کھڑی ہو جائے
اور آپ اپنی کاروائی شروع کریں
جج صاحب نے پہلے زمل کو ویٹنیس باکس میں جانے کو کہا اور پھر امبر کو کیس لڑنے کو کہا ۔۔۔
یوراونر میں امبر رومان افندی ایان افندی کی لائ۔ ۔۔۔
یور اونر میری قابل دوست امبر افندی صرف کوٹ کا وقت ضائع کر رہی ہیں جب کے سارے ثبوت مسٹر ایان کے خلاف ہیں ۔۔۔
میری آپ سے گزارش ہے کے آپ فصلہ سناے ۔۔۔
امبر کچھ کہتی اس سے پہلے ہی مقابل اس کی بات کاٹ کے بولا ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔