Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ابھی شبیر شیخ نے عبیرہ کی طرف ہاتھ بھرہیا ہی تھا کے ایک گولی ہوا کو چیرتی ہوئی آئ اور آ کے سیدھا اس کی بازو پے لگی ۔۔
آہہہہہہہ وہ کرا کے پیچھے ہوا ہاتھ سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا ۔۔۔۔
کون ہو تم کاظمی دروازے کی طرف دیکھ کے چیخا تھا جہاں صرف اندھرا ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔
عبیرہ نے نظرے اٹھا کے سامنے دیکھا جہاں وہ آنکھوں میں وحشیت لیے ان تینوں کو گھور رہا تھا اس نے ایک قدم اگے بڑھایا جیسے ہی اس کا چہرہ روشنی میں ایا سامنے موجود شخص کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
ا۔۔۔یان افندی کاظمی کا حلق تک خوشک ہوگیا تھا اپنے سامنے اسے دیکھ کے ۔۔۔
کس نے اٹھایا میری بیوی پے ہاتھ اس نے عبیرہ کی بکھری ہوئی حالت دیکھ کے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوے کہا جب کے آنکھوں سے وحسیت تپک رہی تھی ۔۔۔
۔۔
کاظمی نے اپنا حلق تر کیا مگر اب تو پانی سر سے اوپر جا چکا رہا ۔۔
یہی ايان افندی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔۔۔
ايان نے اگے بھر کے اسے مارنا شروع کیا کاظمی کی حالت دیکھ کے شبیر شیخ نے وہاں سے بھگنے میں ہی آفت جانی مگر اس سے پھلے ہی
عدی نے شبیر شیخ کو پکڑ لیا ۔۔
رومان جو اپنی پوری ٹیم کے ساتھ وہاں پوھچا تھا اس نے فورن عبیرہ کو کھولا اور اسے زی اور ریبل کی طرف کیا ۔۔۔۔
روک جائے بھائی یہ کانوں کا دشمن ہے اسے سزا بھی وہی دے گے ۔۔ رومان نے فورن اگے ہو کے اسے روکا جو آج کاظمی کی جان لینے کے در پے تھا ۔۔۔۔
مگر آج ايان افندی۔ کو روکنا بہت مشکل تھا ۔۔۔۔۔۔
کاظمی نے اپنی بند ہوتی آنکھیں کھول کے سامنے دیکھا تو اسے چارسو چالیس واٹ کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔
ڈریگنز ۔۔۔ اس نے سامنے کھڑی زی اور ریبل کی طرف دیکھ کے کہا جو فل بلیک ڈریس میں چہرہ کوور کئے کھڑی تھی ۔۔۔۔اتنے درد میں بھی
عبیرہ نے ایک طنزیہ سمائل پاس کی اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے پاس آئ ۔۔۔
کیا لگا تھا گیمز بس آپ کو ہی کھیلنی آتی ہے۔ “آپ ” میں بھی کیسے کہہ رہی ہوں جو اس لفظ کے قابل بھی نہیں ۔۔۔۔
ہاہا ہاہا دیکھ تیرے ناک کے نیچے ہم نے تیرا سب کچھ لوٹ لیا اور تجھے کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی چچ چچ کتنا بیوقوف نکالا تو ۔۔۔۔
عبیرہ نے افسوس ظاہر کیا اور اس سے دو قدم دور ہوئی ۔۔۔
کاظمی اور شبیر کے ساتھ ساتھ اب ايان بھی پوری آنکھیں کھول کے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جتنا اسنے سنا تھا ڈریگنز کے بارے میں وہ یقین کر ہی نہیں سکتا تھا کے عبیرہ اے کے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اس سے ملیں یہ ہے ڈی ایس پی رومان افندی جیسے تم سب بیوقوف سمجھ کے ہر بار اپنا لاکھوں کروڑوں کا مال اس کے زمیداری پے چھوڑ دیتے تھے ۔۔۔
عبیرہ کی بات پے رومان نے مسکرا کے ان تینوں کی طرف دیکھا جو ہوکے بنے کھڑے تھے حالت تو روحان عدی اور ايان کی بھی یہی تھی ۔۔۔۔
اور یہ ہے ہماری قابل افسر ایس اچ او عبیرہ ایان افندی عرف اے کے ۔۔ جس کا نام سن کے ہی تم جیسوں کی جان جاتی تھی مجھے افسوس ہو رہا ہے ایک لڑکی نے تمہاری یہ حالت کر دی ۔۔۔ رومان نے خاصا افسوس ظاہر کیا ۔۔۔۔
اور ان کو تو آپ جانتے ہی ھوگے مس ریبل عرف امبر رومان افندی جس نے نا جانے کتنی بار تمہارے پرسنل اکاؤنٹ ہیک کیے ۔۔ ویسے ان کا پیشہ وکالت سے ہے ماشاءالله قابل لائر ہے ۔۔رومان نے بڑے فخر سے اس کا تروف کروایا ۔۔۔
اور ان سے ملے مس زی عرف زریش فرحان افندی ویسے تو یہ ابھی سٹوڈنٹ ہیں مگر اس کا کام پتا کیا تھا کاظمی میشن میں لگے کیمرے ہیک کر کے ساری انفارمیشن جمع کرنا ۔۔
رومان نے باری باری سب کا تروف کروایا ۔۔۔۔
تمہاری تو کاظمی غصے سے چیچتا ہوا اگے بھرا مگر رومان نے اسے
اسے لے جانے کا حکم دے دیا ۔۔۔۔۔
جب حوالدار ان سب کو لے گئے تو رومان کی نظر اپنے بھائیوں پے گئی جو شولا باز آنکھوں سے انہیں گھور رہے تھے ۔۔۔۔۔
مارے گئے باس یہ جلاد جس نظر سے دیکھ رہا پکا گئے آج تو ہم ۔۔
دیکھ لی کل یہ ہمارے قل کی بریانی کھا رہے ہوں گے ۔۔۔
عبیرہ نے رومان اور باقی دونوں کی طرف دیکھ کے سرگوشی کی۔ ۔
مجھے بھی یہی لگتا ہے اب تو ہمارا اللّه ہی حافظ ہے رومان نے حلق تر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
آپ تو نہ ڈرو آپ ڈر گئے تو ہمیں کون بچاے گا۔ زی نے بھی بیچاری سی بوتھی بنا کے سرگوشی کی ۔۔۔
مجھے تو یہ سب موت کے فرشتے لگ رہے ہیں ۔۔ امبر نے بھی منہ بنا کے کہا ۔۔۔
عدی ان سے کہو اگر ان سب کا ہوگیا ہو تو فورن گھر چلیں ايان نے سخت آواز میں کہا اور خود تن فن کرتا وہاں سے نکلا ۔۔۔
گئے اب تو کام سے کس نے کہا تھا تروف کرواؤ میڈل تو کہاں دینا ہے اس جلاد نے الٹا ارڈر دے گیے یہ بھی نہیں سوچا ایک اعداد بیوی زخمی ہی اسکا حال ہی پوچھ لیں ۔۔ عبیرہ نے منہ بنا کے کہا ۔۔
چلو اس سے پھلے وہ واپس آے
امبر نے ان سب کی طرف دیکھ کے کہا اور باہر کی طرف چل دی ۔۔۔
وہ سب بھی اس کے پیچھے ہی نکلے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
رات کے آٹھ بج رہے تھے اور ہال میں افندی ویلا کے تمام افراد کی موجودگی میں بھی خاموشی کا راج تھا۔
ماہی ، روحان ، زری ، امبر چارو دروازے کے پاس لائن میں کھڑے تھے نظر سامنے ڈنڈا فرش پر ٹکائے صوفے پر بیٹھے ايان پر تھی۔جس کی کرخت نظروں کا مرکز مقابل سر جھکائے کھڑا معصومیت کی جیتی جاگتی مثال رومان تھا۔۔۔۔
ایان کے پیچھے ہی جبڑے بھینچے کٹیلی نظروں سے رومان کو گھور رہا عدی کا بس نہیں چل رہا تھا کے شرافت کی مورت بنے کھڑے فسادی انسپکٹر کا حشر بگاڑ دے،
ايان کے پہلو میں بیٹھی عبیرہ کا خیال مختلف تھا اس کا بس دل کررہا تھا تنہائی میسر ہو رومان کے ساتھ تا کے اپنا جوتا اتار کے پوچھے دیوار جی کس جنم کا بدلہ نکال رہے ہو مجھے سب کی نظروں میں ذلیل کرکے کیا ضرورت تھی ہیرو بنے کی ۔۔۔
پورا دن اپنا ضبط آزمانے کے بعد حسب توقع ڈنر کے بعد جب رومان صاحب سب کچھ بھلا کے سونے جا رہے تھے ایان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور رومان کا سکون غارت ہوا تھا۔
کیونکہ ہیٹلر کے ٹرینر کی عدالت میں پیشی ہوئی تھی اس کی ۔پندره منٹ گزر گیے تھے ۔اسے ایان اور عدی سخت گھوریوں کا سامنہ کرتے ہوئے۔
نازک دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔حالت تو ایسی تھی کے نظر اٹھا کر کسی سے مدد طلب کرنے تک کی ہمت مفقود تھی۔ گھروالوں کا یہ ری ایکشن تھا
“اللّه آج بچا لے سچ کہ رہا ہوں آج سے زری کی چوکلیٹ چوری کرکے۔سوری سوری چوری نہیں مطلب نکال کے نہیں کھاؤں گا،اور نہ ہی جمعہ کے دن مسجد میں جانے میں تاخیر کرونگا بلکے امام صاحب کا بیا شروع ہونے سے پہلے حاضر ہوجاؤں گا ۔۔۔بس آج ان دونوں جلادوں سے میری حفاظت کر،اور بس یہاں سے سنگل پیس میں نکال دے، ابھی کچھ دن پہلے ہی تو خالص کنوارے کی کیٹگری نکلا ہوں،
میری بری درگت دیکھ واپس اسی کیٹگری میں نہ چلا جاؤں ویسے بھی قسمت سے جنگجوں بیوی ملی ہے۔۔۔
طویل ہوتی خاموشی کی مدت دیکھ رونی صورت بنا کر رومان دل ہی دل اللّه سے مدد طلب کے ساتھ ڈیل کرنے میں مصروف تھا جب ايان کی ماحول میں ارتعاش پیدا کرتی آواز پر حلق خشک ہوا تھا۔
“یہ تھی میری تربیت ؟؟؟۔”ايان زور سے ڈنڈا فرش پر مار کر دهاڑتا تو رومان کے ساتھ ساتھ زری اور امبر بھی خوف سے اپنی جگہ کانپ گئی ۔
رومان ڈر . سے تھوک نگل کر رہ گیا تھا۔
“مسٹر جلاد کیسے بےرحم سفاک بھائی ہیں آپ،آپ کا چھوٹا بھائی بیچارہ معصوم ڈر سے کانپ رہا ہے اور آپ بجائے بچے کو پیار سے سمجھانے کے یہاں بیٹھے اس کی حالت انجوئے کررہے ہیں۔ ايان کا جلال روپ دیکھ عبیرہ نے
نے سینے پر بازو باندھ کر اطمینان سے ايان کو لتاڑا ہلکے ڈر وہ خود بھی رہی تھی مگر وہ عبیرہ ہی کیا جو خاموش رہے
جس پر ايان نے تپ کر شاکی نظروں سے اپنی زوجہ کو دیکھا تھا مطلب حد ہی ہوگی اب بھی میڈم کو اپنا دیوار معصوم لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟؟۔”عبیرہ نے تعجب سے سرگوشی میں پوچھا ايان کا ایسے دیکھنا مزید ڈرا رہا تھا ..
” میں آپ کی معصومیت کی انتہا دیکھ رہا ہوں، میری باری میں یہ معصومیت کہاں جا سوتی ہے جو آپ لیڈی ہیٹلر بن جاتی ہے۔۔”ايان نے دبی دبی آواز میں سنجیدگی سے پوچھا…۔اور اتنے سنجیدہ ماحول میں ايان کی غیر سنجیدہ بات عبیرہ کو ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔اس نے تیکھی نظروں سے اسے باز رہنے کا اشارہ کیا۔
“وہ سب چھوڑیں بس سین انجوئے کریں،کیونکہ ایسے یاد گار جیمس باؤنڈ کے شاگرد کی واٹ لگنے والے منظر شاز و نادر ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔”ايان نے رومان کی رونی شکل دیکھ مزے سے بولا۔
جس پر عبیرہ نے دانت پیسے تھے۔
“آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے وہ منہ بنا کے بولی ۔۔۔۔
“بہت خوب جوان ہماری آزادی کا بہت اچھا صلہ دیا ہے پہلے تو نکاح کی صورت میں۔اور اب یہ ڈریگنز ۔”ايان کے اتنا سنانے پر بھی رومان کے چوں نہ کرنے پر عدی نے مملامتی نظروں سے رومان کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے طنز کیا۔جس پر رومان کی بس ہوئی تھی۔آخر کب تک وہ اپنی زبان میں ہو رہی كهجلی پر کنٹرول کا قفل لگائے رہتا۔
“خدا کو مانیں یار بھائی ۔۔۔
کونسا میں نے ٹوپی برقعہ پہن کر تابوت کے اندر سے قبول ہے کہا تھا،
اس بابرکت موقعے پر امام خطیب کے علاوہ گواہ کے طور پر ان کے چار مصلّی اور موصوفہ کی بیسٹ فرینڈ آپ کی زوجہ محترمہ بنفس نفس موجود تھیں
یقین نہیں تو محترمہ سے خود تصدیق کرالیں اور رہی بات ڈریگنز کی تو اس میں بھی آپ کی زوجہ محترمہ ہر قدم پے میرے ساتھ پیش پیش تھی ۔۔” رومان نے ايان کی طرف دیکھتے ہوئے فورن کہا بھلا رومان کی بارہ گز کی زبان بھی کنٹرول ہوئی ہے کبھی۔ایک بار فارم میں آئی تو پھر رومان کے روکنے سے بھی نہیں رکی تھی۔اور ساری گل افشانی کرنے کے بعد رومان نے زبان دانتوں تلے دبا کر آنکھیں میچ لی تھی۔اور رومان کی فراٹے بھرتی زبان نے عبیرہ کی ساری ہمت ہوا کی تھی۔وہ آنکھیں میچے جہاں بیٹھی تھی وہیں جم گئی۔
“دیکھ رہی ہو بیگم یہ ہے تمہارا معصوم دیوار ايان نے عبیرہ پے طنز کا تیر چلایا
یار مجبوری تھی شوق سے نہیں چھپایا سچ ۔۔”رومان منمنایا۔
“اچھا چلو مان لیتے ہیں مجبوری تھی تو کیا گھر کی بچیوں کی جان خطرے میں ڈالنا بھی مجبوری تھی ۔۔۔ عدی نے گھور کے پوچھا ۔۔۔
“یار ہمت نہیں ہوئی تھی ناں،
اگر تب ہی بتا دیتا تو بھائی نے اپنی خاندانی بندوق میرے سینے میں خالی کردینی تھی۔۔”رومان منہ بناتے ہوئے لاچاری سے بولا۔جس پر ماہی اور روحان نے منہ پیچھےکرکے اپنے ابل رہے قہقہ کا گلا گھونٹا تھا۔ان کا بھائی واقعی سینگل پیس تھا اس دنیا میں جو اتنے تناؤ کے ماحول میں بھی زبان کو لگام نہیں دے رہا تھا۔۔۔
“وہ تو میں اب بھی خالی کروں گا “ايان ڈنڈا زمین پر مار کے اسکی طرف بڑھے جب رومان دور کے عبیرہ کے پیچھے محفوظ ہوا تھا۔کوئی بعید نہیں تھا ہیٹلر ٹانگ ہی توڑ دیتے ابھی تو بیچارے کو گھوڑی بھی چڑھنے کے ارمان نکالنے تھے۔
“رومان باہر آؤ کیا بزدلوں کی طرح کارنامہ انجام دے کر عورتوں کے پیچھے چھپ رہے ہو۔۔”ايان اسکے اس عمل سے مزید سلگ اٹھا تھا ادیان نے سرجھٹکا تھا
کوئی نمونہ ہی پیدا ہوا تھا افندی میشن میں
“بھابھی یار بچالیں سارا پیلن تو ہم دونوں کا تھا نہ تو سزا مجھ معصوم کو اکیلے کو کیوں ۔۔”رومان نے حیرت سے آنکھیں پھیلائے کھڑی عبیرہ کے کان میں اپنا خدشہ انڈیلا۔
“رومان میں کہ رہا ہوں باہر آؤ۔۔”ايان نے واپس تیز آواز میں حکم دیا۔
“میں نہیں آرہا ماریں گے آپ،یار مجھے تو لگا ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دینے پر آپ لوگ میری پیٹھ تهپتھپائیں گے تب بھی آپ نے ایسے ہی کیا اب جب اپنے وطن کی خاطر اپنی جان کی بازی لگی تو مجھے کیا پتا تھا یہاں تو سب جان لینے کے درپے ہے ۔۔” رومان نے عبیرہ کے پیچھے سے منہ نکال کر برا منایا۔اس کی مسخری پر ايان کی بس ہوئی تھی۔
“عبیرہ ذرا آپ سائیڈ ہٹیں ،آج اس کا دماغ میں درست کرتا ہوں شاباشی چاہئے جناب کو۔۔”ایان آستین چڑھاتے سامنے آئے۔جس پر رومان عبیرہ کو لیۓ ہی روحان اور زری کے پیچھے بھاگا تھا۔
“یار بھائی پلز ایک بار معاف کر دیں نہ اگے سے ایسا نہیں ہوتا “وہ عبیرہ کا کاندھا تھامے بولا۔
خوف میں بھی اسکی تیز گام زبان نہیں لڑکھڑا رہی تھی۔واقعی نایاب نمونہ تھابلکے عجوبہ تھا۔۔۔۔ادیان اور روحان نے تاسف سے سرہلایا۔
“آا۔۔بس کریں نا بچا ہے اور ویسے بھی غلطی تو ہم سب کی تھی نہ تو سزا بھی ہم سب کو دے آپ ۔۔ رحم دل کی مالک عبیرہ فورن میدان میں آئ ۔۔۔۔
جی بھائی انہوں نے مجھ سے نکاح کر کے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے تھی اگر ان کی غلطی ہے تو میری بھی ہے امبر نے فورن اس کی سائیڈ لی
“چھوڑ نہ یار بچا ہے اگے سے کوئی الٹا کام نہیں کرتا اور اب تو سب ٹھیک ہے امبر بھی خوش ہے ادیان کا بھی بھائی چارہ جاگ ہی گیا تھا۔
“جی بھائی برو سے غلطی ہوگئی آپ لوگ اپنا بی پی ہائی نہیں کریں،شکر ہے کی اس نے جذبات میں کسی غلط کا انتخاب نہیں کیا، امبر تو ویسے بھی بھابھی کی بہن اور زری کی بہت اچھی دوست ہے ۔۔” ماہی نے بھی مارے باندھے منہ کھول ہی لیا تھا۔
“تم سب اسکے وکیل نہیں بنو۔تم سب کے بے جا سپورٹ نے ہی اسے سرچڑھا لیا ہے۔۔”ايان نے تینوں پر گھوری ڈالی ساتھ تینوں کے پیچھے چھپے اس افلاطون پر بھی۔

“سوری!!!۔۔”رومان نے وہیں سے دانت دکھائے۔جس پر ايان کے ساتھ ہنکار بھرتا ایک تیز نظر ڈال کر باہر نکل گیا اور عدی نے فورن اسکی گردن میں بازو ڈال کے دبا ڈالا
آاا ۔۔۔ بھائی یار چھوڑ دیں بچے کی جان لیں گے کیا۔۔” رومان سخت گرفت پر بلبلا اٹھا
عدی کی گیرف ہلکی ہوتے ہی وہ فورن اس سے دور ہوا تھا ۔۔۔۔
“تم بچ جاؤ آج مجھے سے لعنتی انسان۔۔”عدی دانت پیس کر اسے دبوچنے لپکا۔رومان نے جان بچا کر باہر طرف دوڑ لگادی۔پھر کیا تھا اب رومان آگے آگے اور عدی پیچھے پیچھے۔۔
“جاری ۔۔۔۔۔