No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“حال “
آیان تن فن کرتا آفس میں انٹر ہوا اسے تو یہ سوچ سوچ کے ہی کچھ ہو رہا تھا کے آج پھر اس لڑکی کو برداشت کرنا پڑے گا وہ لڑکی اس کے لیے کسی آفت سے کم نہیں تھی ۔۔۔
وہ سیدھا اپنے آفس میں ایا ابھی اسے بیٹھے پانچ منٹ ہی گزرے تھے کے آفس کا دروازہ دارم سے کھلا اور عبیرہ میڈم ہاتھ میں فائلز کا ڈھیر اٹھاے اندر داخل ہوئی فائلز اتنی زیادہ تھی کے اس کا چہرہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
اوو ہیلو میڈم کیا ہے یہ سب اور یہ طریقہ ہے کسی کے کیبن میں انے کا آیان دبے دبے غصے میں چیخ کے بولا ساتھ ہی ساتھ اس کا چہرہ دیکھنے کی بھی کوشش کر رہا تھا جو نظر نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا پہلے ہی بیچارے کے ستارے گردش میں تھے ۔۔۔
عبیرہ نے اس کی ہر بات ان سنی کی اور جا کے ساری فائلز ٹیبل پے پہینک دی اور خود ہاتھ جھاڑ کے پلٹی ۔۔۔
وہی ایان کا غصہ آسمانوں کو پوھنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں تمیز نہیں ہے کیا کسی کے کیبن میں انے کی ۔وہ غصے سے چیخ کے بولا
مجھے تو ہے پر لگتا ہے آپ کہی رکھ کے بھول گئے ہیں ۔۔ وہ سکون سے بولی
کیا ؟؟؟؟ ایان نے حیران ہو کے سوال کیا ۔۔
ارے تمیز اور کیا میں تو حیران ہوں آپ کو اس کمپنی کا باس کس الو کے پٹھے نے بنا دیا ۔عبیرہ نے ناک منہ چڑھا کے کہا ۔۔۔
لڑکی تم ۔۔۔۔۔ایان نے خود کو کچھ سخت کہنے سے روک لیا ورنہ کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی اس لڑکی نے ۔۔۔۔۔
یہ کیا لڑکی لڑکی لگا رکھا ہے آپ نے میرا نام عبیرہ ہے تو آپ مجھے عبیرہ ہی بولیا کریں
تم جاؤ یہاں سے ایان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اوو ہیلو مجھے کوئی شوک نہیں آپ کے منہ لگنے کا آپ تو ہو ہی سڑو اکڑو کھڑوس بندر ۔۔۔
ویسے بھی آپ کا کوئی علاج نہیں آپ کا علاج کرنے سے پہلے نہ جڑی بوٹیاں بھی خودخوشی کر لے پنخے سے لٹک کے مر جائے ۔۔۔
جتنا آپ میں زہر ہے نہ سانپ بھی آپ کو دیکھ کے خودخوشی کر لے وہ بھی کہے ایک آپ ہی کافی ہو اس کی کیا ضرورت ۔۔۔ وہ ہاتھ نچا نچا کے کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔
عجیب پاگل لڑکی ہو تم علاج تو تمہیں تمہارا کروانا چاہئے باس سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے ۔۔
باس ہی ہو ابا تو نہیں لگے میرے اور آپ بھی تو ایسے ہی بات کرتے ہیں میں نے کر لی تو اگ لگ گئی کیا ۔۔۔
پہلے تو تم نہ بولنا سکھ کے اؤ پتا نہیں کیا کیا بولتی رہتی ہو ایان نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔
اوو ہیلو میں جو بھی بولتی ہوں آپ سے تو اچھا ہی بولتی ہے کبھی آپ نے اپنی آواز سنی ہے آپ کی آواز سن کے تو بندا ہارٹ اٹیک سے مر جائے اوپر سے آپ کی ناک پے سجا ہوا غصہ بس چوبیس گھنٹے غصہ کروا لو اس بندے سے آپ کے گھر والے بھی شکر کرتے ہوں گے کچھ گھنٹوں کے لئے ہی سہی جلاد گھر سے باہر تو گیا ۔۔۔
مگر ان بیچاروں کو کیا خبر ان کا جلاد گھر تو گھر باہر والوں کو بھی سکون سے جینے نہیں دیتا ۔۔۔۔
عبیرہ نے ناک منہ چڑھا جواب دیا ۔۔۔۔۔
بیچارہ ایان تو بس منہ کھول کے کھڑا تھا جواب تو تھا ہی نہیں اس کے پاس کیوں کے سامنے موجود لڑکی کیسی چلتے پھرتے ریڈیو سے کم نہیں تھی ۔۔۔
دیکھو تم۔۔۔۔
ارے واہ واہ آپ تو چاہ گئی یار اگر آپ اجازت دیں تو یہ نہ چیز آپ کی شان میں کچھ ارشاد کرنا چاہتا ہے ۔
آیان ابھی بولنے ہی لگا تھا جب روحان نے آفس میں انٹر ہوتے ہوئے کہا وہ آج خاص اس آفت کو دیکھنے ادیان کے ساتھ ایا تھا ۔
ارشاد ارشاد ضرور فرمائے عبیرہ نے ایک ہاتھ اپنے سینے پے رکھ کے تھوڑا جھک کے کہا ۔۔۔
تعریف کرو کیا اس رب کی جس نے تجھے بنایا ۔۔۔
تعریف کرو کیا اس رب کی جس نے تجھے بنایا ۔۔۔
ارے واہ واہ تو کہے ایسے مزہ نہیں آ رہا روحان نے ان تینوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔ایان نے دانت پیس کے اسے دیکھا جب کے ادیان نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔
واہ واہ اب اگے بھی بک لے ۔۔
ہاں تو کہاں تھا میں ہاں یاد ایا ۔۔
تعریف کروں کیا اس رب کی جس نے تجھے بنایا ۔۔۔
جتنا سونا بنایا اتنا باتونی بنایا۔۔۔۔
واہ واہ
ہاہا ہاہا ہاہا ہاہا اس نے شیر بولتے ساتھ خود ہی قہقا لگیا
ارے واہ واہ مسٹر آپ نے تو سچ میں کمپنی لوٹ لی اپنے شیر سے ویسے ہماری خوب جمے گی میں تو دو دن میں ہی اس بندے سے تنگ آ گئی ہوں مجال ہے جو یہ جھوٹے منہ ہی سہی تھوڑا بہت ہنس لے غصہ تو جیسے اس کی ناک پے رہتا ہے آنہہہ مجھے کیا ۔۔۔
عبیرہ نے بغیر برا مناۓ روحان کو جواب دیا جب کے ایان اپنی اتنی بیزتی پے تلملا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔
لڑکی تم ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
اس سے پہلے ایان کچھ کہتا عبیرہ کے موبائل کی رنگ بجی جسے دیکھتے ہی اس نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور خود جلدی سے آفس سے نکلی ۔۔۔۔
ایک تو سمجھ نہیں اتا میں باس ہوں اس کا یا یہ میری باس ہے ايان نے دانت پیس کے سوچا
بھائی سچی کیا چیز ملی ہے آپ کو ہاہا ہاہا ہاہا آپ کی تو گئی بھنس پانی میں ۔۔روحان نے ہنستے ہوئے اسے چھڑا جب ایان نے دونوں کو دکھے دے کے اپنے كبین سے باہر نکالا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
شہزادی جب تم میری باہوں میں اؤ گی پورے حق سے تو
ہم تمہیں بتائیں محبت کس کو کہتے ہیں؟؟؟؟؟ کسی کو دیکھتے ہی دھڑکنوں میں سر بکھر جائیں چمک آنکھوں کی بڑھ جائےکسی کی یاد میں شام و سحر کا فرق مٹ جائے سلگتے رات کٹ جائے تصور سے کسی کے چاندنی راتیں مہک اٹھیں_ کسی کا ایک جملہ قوت گویائی بن جائےکسی کی اک نگاہ شوخ ہی بینائی بن جائے کسی کے بن جب اپنا آپ اور سب کچھ آدھورا ہو نہ سورج میں تپش باقی رہے نہ چاند پورا ہو کسی کو دیکھ کے اکثر دھڑکنا بھول جائے دل ٹھر جائے جو اس رخ پہ پلٹنا بھول جائے دل کسی کی دید کی خاطر جب سجدے میں جھک جائے_
نظر وہ آئے تو بے ساختہ کہہ دے زباں ” اے کاش …. مولا وقت رک جائے_!!!!
میری شہزادی بہت جلد تمہارا یہ شہزادہ تمہیں اپنا بناے گا تم صرف اور صرف ایان آفندی کی ہو تم پے تمہارے وجود پے تمہاری روح پے صرف و صرف میرا حق ہے
“تمہیں مجھ سے زیادہ کوئی بھی محبت نہیں کرسکتا “
“کاش میں تمہیں بتا سکتا کہ تم میرے لئے کیا ہو،
میں اس زمین پے تمہارے لئے اتارا گیا تھا یہ بات میرے رب نے مجھے احسن طریقے سے سمجھا دی ،
میرے ساتھ ہمیشہ رہنا ،مجھے کبھی تنہا مت کرنا ، تم جانتی ہو ناں تمہارے لہجے کی ہلکی سی تلخی بھی میرے دل کو تڑپا دیتی تھی ۔۔
” کاش آج میں تمہیں کہہ سکتا ادھر آٶ میرے پاس “
“میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا ، ہم جتنا مرضی ایک دوسرے سے دور لیں رہنا ہمیں رہنا ایک ساتھ ہی ہے اور یہ بات اٹل ہے ،
بھلا رب کی عطاکردہ بہترین نعمت بھی کوئی رد کیا کرتا ہے؟”
مگر ایک دن وہ بھی آے گا جب تمہیں میں پورے حق سے اپنے گلے لگا کے کہوں گا کے تم صرف میری ہو اور میں تمہارا ۔۔۔
میری شہزادی ۔۔۔
ایان نے ڈیری بند کی اور پھر آنکھیں بند کر کے کرسی کے پست سے لگا لی ۔۔
جب وہی آنکھیں اس کی آنکھوں کے سامنے آئ کتنا سکون تھا اس آنکھوں میں ہر فکر سے دور وہ اپنی ذات میں رہنے والی لڑکی اس بات سے بھی انجان تھی کے کوئی چاہتا ہے اسے دیوانوں کی طرح ۔۔۔
اور کتنا انتظار کرواؤ گی مجھے کون ہو کہاں ہو کچھ بھی تو نہیں جانتا میں بس اتنا جانتا ہوں تمہاری آنکھوں میں میرا عکس ہے وہ عکس جو میری پرنسز کی آنکھوں میں ہوا کرتا تھا میرا دل گوہ ہے کے تم ہی ہو میری پرنسز میں بہت جلد تمہیں ڈھونڈ لوں گا اور پھر تمہیں اپنا بناؤ گا تم صرف میری ہو ۔۔
صرف و صرف میری ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
کیا خیال ہے پھر آج تھوڑا فن ہو جائے ویسے بھی پولیس اب ہماری طرف سے کافی پرسکون ہے انہوں اپنے ہونے کا احساس ایک بار پھر سے کرواتے ہیں ۔۔اے کے نے کافی پتے ہوئے باقی دونوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ہاں اور سنا ہے لوگ ہمیں بھولتے جا رہے ہیں ایک بار توپھر اپنا دیدار کروانا بناتا ہے زی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
چلو پھر دیر کس بات کی اے کے نے مسکرا کے کہا اور پھر تینوں رات کے آدھرے میں اپنی اپنی بائیکز پے روانہ ہو گئے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
رومی کہاں رہ گیا ہے ایا کیوں نہیں ابھی تک اور یہ زری کہاں ہے
آیان نے ٹیبل پے دونوں کی جگہ خالی دیکھ کے سوال کیا ۔۔
روحان تو آج ایک میٹنگ کے لیے کراچی گیا تھا جب کے ٹیبل پے صرف ادیان اور ماہی ہی بیٹھے تھے ۔۔۔
وہ بھائی رومی بھائی تو آج پھر نائٹ ڈیوٹی پے ہیں مگر زری آج ٹائم سے ہی سو گئی ہے اس نے کہا تھا کے اسے تنگ نہ کیا جائے اسے بھوک نہیں ۔۔
بچے ایسے کیسے بھوک نہیں ہے طبیت تو ٹھیک ہے نہ اس کی ایان نے فکرمندی سے پوچھا وہ سب اس کے لیے اپنے بچوں کی طرف تھے ۔۔۔
جی بھائی وہ ٹھیک ہے میں نے خود دیکھا تھا اور آپ تو جانتے ہیں نہ وہ نیند کی دیوانی ہے ۔۔۔ماہی نے جلدی سے ایان کی فکر دور کی ۔۔
همممم چلو تم دونوں بھی کھانا کھا کے آرام کرو وہ بول کے اٹھانے لگا تھا جب ماہی نے جلدی سے پوچھا ۔۔۔
بھائی آپ کافی نہیں پیے گے ؟؟؟؟؟
بچے جب اپنے لیے بناؤ تو کمرے میں دے جانا ایان نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پے جان تک وارنے کو تیار رہتے تھے ۔۔
جی ٹھیک بھائی ۔۔ اس نے فورن فرمابارداری سے سر کو جشن دی اور اٹھ کے کچن کی طرف چل دی ۔
ادیان بھی اس کے پیچھے ہی گیا ۔۔۔۔
بیگم کیا بات ہے کوئی نارضگی ہے جو اس ناچیز کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کر رہی آپ
ادیان نے پیار سے اسے حصار میں لتے ہوئے کہا ۔۔
اففف عدی کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آ جائے گا چھوڑے نہ پلز
کس نے انا ہے یہاں میرے علاوہ ۔ ادیان نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا
یار کوئی بھی آ سکتا ہے آپ پلز چھوڑے ۔ ماہی نے اپنے ہونٹوں پے زبان پھیر کے کہا ۔۔۔۔
همممم سوچا جا سکتا ہے مگر ایک شرط پے ادیان نے اسے دوبارہ اپنے حصار میں لتے ہوئے کہا ۔
ک ۔۔کیا شرط ماہی نے جلدی سے پوچھا اس کی تو جان ہوا ہو رہی تھی ادیان کی اتنی سی قربت میں ۔۔
میں جو مانگوں گا وہ دو گی ۔ادیان نے اپنے لب دبا کے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔
یار عدی یہ کیسی شرط ہوئی میں نہیں مانتی ہٹو اب سائیڈ مجھے بھائی کو کافی دینے جانا ہے وہ سمجھ گئی تھی اس لیے جلدی سے مکر گئی ۔۔۔
سوچ لو اگر شرط نہیں مانی تو ایسے ہی رہو گی وہ مزے سے بولا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ابھی تو چھوڑے کچھ دیر اسے گھور کے دیکھنے کے بعد ماہی نے کہا ۔۔
ادیان نے بھی شرافت سے چھوڑ دیا جب اس نے اپنی اور ایان کی کافی اٹھائی اور باہر کی طرف چل دی ۔۔۔
ایان کے کمرے میں پوھنچ کے اس نے ادیان کو میسج کیا ۔
کون سی شرط میں تو نہیں جانتی کسی شرط کے بارے میں ساتھ ہی ایک طنز والا یموجی بھی تھا ۔۔۔
جسے دیکھ کے ادیان کے چہرے پے مسکراہٹ ڈر آئ
جاری ۔۔۔۔
