No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
بیٹا ہمیں تو لڑکی بہت پسند ہے اب آپ یہ بتا دیں شادی کی تاریخ کب کی رکھنی ہے صائم تو آپ نے دیکھا بھلا ہی ہے ۔۔۔میسز نعیم نے ايان کی طرف دیکھ کے کہا جو سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
میسز نعیم ہم سوچ کے بتا۔۔۔۔۔
تم یہاں ؟؟؟؟ تمہیں یہاں انے کس نے دیا ؟؟؟ اور زری تم کیا اس کے سامنے چپ بیٹھی ہو اٹھا کے باہر پہینکو اس ذلیل انسان کو قسم سے یہ میرے گھر ایا ہوتا تو ۔اتنے چھتر لگاتی کے اپنی پیدائش پے روتا یہ ذلیل انسان ۔۔۔۔
اسٹاپ مس عبیرہ آپ یہ نہ بھولے آپ اس وقت میرے گھر میں کھڑی ہیں ایان ایک دم غصے سے دھاڑا ۔۔۔۔
عبیرہ جو سامنے صائم کو دیکھ کے شروع ہو چکی تھی ايان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا ۔۔۔۔
آپ تو چپ ہی رہے چمکادڑ پتا آپ کو کسی بات کا ہوتا نہیں بس اکڑ دیکھوا لو ان سے اور روحان تم تو جانتے ہو نہ اس ذلیل کمینے کو تم نے اسے اندر انے کیسے دیا ۔۔۔عبیرہ نے ایان کی دھاڑ کا اثر لیے بغیر روحان کو دیکھ کے کہا جو دل ہی دل میں ناچ رہا تھا ۔۔۔
کون ہے یہ لڑکی اور کس حق سے بول رہی ہے اتنا میسز نعیم نے ایان کی طرف دیکھ کے ضبط سے پوچھا ان کا غصے سے برا حال تھا ۔
اوو ہیلو ان سے کیا پوچھ رہے ہیں میں بتاتی ہوں میں کون ہوں اور میرا حق کیا ہے ۔۔ عبیرہ نے تیور چڑھا کے کہا ۔۔۔
تم چپ کرو میں بات کر رہا ہوں ۔۔ایان نے اس کی بازو پکڑ کے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا ۔۔۔
آپ اتنے سمجھدار ہوتے تو آج مجھے یہاں بولنا نا پڑتا اس لیے چپ کر کے کھڑے ہو جائے یہی عبیرہ نے اسے آنکھیں دیکھا کے دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔
اور ہاں بھائی بھول گیا تو میری چمبیلی کی مار جو پھر سے منہ اٹھا کے سامنے آ گیا پہلے والی پرانی تھی تو توٹ گئی یہ نئی ہے اس کی مار تو زندگی بار یاد رکھے گا ۔۔۔ عبیرہ نے اپنی چپل ہاتھ میں پکڑ کے غراتے ہوئے صائم کی طرف دیکھ کے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
مسٹر ایان آپ نے یہاں ہمیں ذلیل کرنے کے لیے بولایا ہے ۔۔۔۔
نعیم صاحب نے ایان کی طرف دیکھ کے پوچھا جو بیچارہ ہونکے بنا کھڑا تھا ۔۔۔
تم چپ نہیں کر سکتی تماشا بنا ضروری ہے کیا ایان ہوش میں اتے ہی عبیرہ کی بازو پکڑ کے اپنے سامنے کرتے ہوئے ہلکی آواز میں غرایا۔ ۔۔
کیوں کیوں چپ کرو میں آخر ۔۔
جانتے ہیں آپ یہ لعنتی انسان ہے کون آپ کہاں جانتے ہوں گے آپ تو مہان انسان ہیں آپ کے پاس تو میری غلطياں نکالنے کے علاوہ کوئی اور کام ہی نہیں ہے میرے علاوہ ہر انسان ٹھیک ہے اپکی نظر میں ۔۔۔
اور آپ محترمہ آپ جانا چاہتی ہیں میں کون ہوں تو سنیں میں ہوں عبیرہ ايان افندی ۔اور میں آپ سے کہہ رہی ہوں آپ جا سکتی ہیں یہاں کوئی رشتہ نہیں ہو رہا ۔۔۔ وہ ايان کو جواب دینے کے بعد میسز نعیم کی طرف دیکھ کے غرائی تھی ۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہا تم اپنی ٹانگ آراو بیچ میں میری بہن کے معملے سے دور رہو سمجھی ۔۔۔ايان نے اسے کھا جانے والے انداز میں کہا مگر سامنے والی نے تو جیسے ڈھیٹپن میں ڈگری لی ہوئی تھی ۔۔۔
ارے سنا نہیں جائے یہاں سے ان کا دماغ اپنی جگہ پے نہیں ہے وہ میں لگا لو گی نکلے اس سے پہلے میں اپنی چمبلی کو تکلیف دوں ۔۔ وہ ايان کو سرے سے اگنور کر کے بولی ساتھ ہی اپنی چپل بھی ہاتھ میں پکڑ لی ۔۔۔۔
مسٹر نعیم نے گھور کے ایان کو دیکھا اور اپنی فیملی لے کے نکل گئے ۔۔
تم اپنی زبان کو آرام دینا کب سکھو گی۔۔ ان کے جاتے ہی ايان نے دانت پیس کے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔
جب آپ اپنے دماغ کا استعمال کرنا سکھ لیں گئے زمانہ بدل گیا ہے مسٹر ایان افندی اپنی آنکھوں پے بندی بےجان اصولوں کی پتی اتار کے دیکھے تو آپ کو اس جوکر سے اچھا لڑکا نظر آ جائے گا ۔۔۔ وہ بھی تیور چڑھا کے بولی اس کا اشارہ روحان کی طرف تھا جس کی آنکھوں میں زری کے لیے محبت کا جہاں آباد تھا ۔۔۔
تم میرے گھر کے م۔۔۔۔
مسٹر آپ شاید بھول رہے ہیں کچھ دن پہلے آپ سے گن پائنٹ پے نکاح کیا ہے یہ میرا گھر میرا گھر نا سناؤ مجھے اور رہی بات آج کے معاملے کی تو میں اپنی دوست کی زندگی آپ کے پاگلپن کی وجہ سے خراب نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ عبیرہ نے اس کی بات کاٹ کے کہا ۔۔۔
کیا کہا تم نے؟؟؟؟ ايان نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔
بلکل ٹھیک سنا آپ نے میں نے آپ کو پاگل ہی کہا ۔۔عبیرہ نے سکون سے جواب دیا جب کے وہاں موجود سب اب ان دونوں کی لڑائی انجونے کر رہے تھے ۔۔۔۔
میں تمہیں پاگل نظر اتا ہوں ۔۔۔ایان نے دانت پیس کے پوچھا ۔۔۔
اس میں نظر انے والی کون سی بات ہے آنہہہ ۔وہ منہ بنا کے بولی جب کے ایان کے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی ۔
تمممممم ۔۔۔۔۔ ايان نے جبڑے بیچھ کے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا ۔۔۔
یہ ہم تم بعد میں کرنا پہلے میری چمپا کی چابی دو دیر ہو رہی ہے مجھے ۔۔۔ اس نے جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پے سجا کے کہا ۔۔۔۔
ایان پیچ و تاب کھا کے رہ گیا ۔۔۔
پکڑو اور نکالو یہاں سے ايان نے اسے چابی دیتے ہوئے اپنا غصہ ضبط کیے کہا ۔۔۔
جا رہی ہوں مجھے بھی کوئی شوک نہیں چڑھا آپ کے منہ لگنے گا ۔
وہ ناک منہ چڑھا کے بولی اور باہر کی طرف چل دی ۔۔۔
جاؤ جاؤ روک کون رہا ہے تمہیں ۔۔۔ایان نے بھی پیچھے سے ہانک لگائی اور تن فن کرتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
امبر تھکی ہاری ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے گھر آئ تھی دو کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا جس میں وہ اکیلی رہتی تھی اس دنیا میں اس کا اپنا کوئی نہیں تھا یہ بستی کے لوگ ہی اس کے اپنے تھے جن کے ہر دکھ درد میں وہ ہمیشہ ساتھ رہی تھی عبیرہ اور زری سے اس کی بچپن کی دوستی تھی ۔۔۔
آج تھکا دینے والے دن کے بعد وہ کچھ دیر آرام کی گرز سے اپنے بیڈ پے جا لیتی سر درد سے پھٹ رہا تھا اور دل میں عجیب سی بیچنی تھی ۔۔۔
وہ اپنا ہر برا خیال جھٹک ۔ کے آنکھیں موند کے لیٹ گئی ۔۔۔۔
ابھی اسے لٹے کچھ ہی پل گزرے تھے کے بستی میں ہونے والے شور سے وہ فورن اٹھ کے باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
لیکن جیسے ہی اس نے اپنا قدم باہر رکھنا چاہا ایک زور دار دماکے کے ساتھ آگ کے شولے ہوا میں بلند ہوئے اور وہ دور جا کے گری اس کا پورا گھر آگ کی لپ میں آ چکا تھا ۔۔۔۔
گرنے کی وجہ سے اس کی بازو اور سر پے چوٹ آئ تھی ۔۔وہ بامشکل خود کو سمبھال کے اٹھی اور ہمت کر کے باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
باہر سے ابھی بھی شور اور چیخوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔
امبر نے جلدی سے الماری کھولی اور ایک موٹی سی چادر خود پے اور لی ۔۔۔
اس نے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے وہ بامشکل ہی اپنے گھر سے نکلی ابھی اس نے قدم باہر رکھا ہی تھا کے اس کے گھر کی ۔چھٹ نیچے آ گری وہ اس کی پروا کیے بغیر اگے کی طرف بھاگی وہاں موجود دس بارہ گھر جو تھے وہ بھی آگ کی لپ میں آ گئے تھے ۔۔۔
امبر کو اپنا سر گھومتا محسوس ہو رہا تھا اسے بلکل بھی یقین نہیں آ رہا تھا کے اس کی یہ چھوٹی سی دنیا آج تبا ہو گئی ہے ۔۔
اس سے پہلے وہ زمین پے گرتی کسی کے مضبوط ہاتھ اسے تھام چکے تھے ۔۔۔۔۔
امبر نے آنکھیں کھول کے خود کو بچانے والے کی طرف دیکھا جب اس کی نظر رومان کی نظر سے ٹکرائی جو آنکھوں میں شدید غصہ لیا وہاں موجود تھا ۔۔۔۔
ر۔۔و ۔۔رومان ۔۔۔ اسے دیکھ کے امبر کی آنکھوں میں ایک سکون اترا تھا اور ساتھ ہی وہ ہر چیز سے بےخبر اس کی باہوں میں جھول گئی ۔۔۔
رومان نے اپنی ٹیم کو ان سب لوگوں کو محفوظ مقام پے لے جانے کا حکم دے کے خود اسے لے کے ہسپتال روانہ ہوا ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
بھابھی ہو تو ایسی دیکھا کیسے بھائی کی اکڑ کو توڑا بھائی کی تو آواز ہی نہیں نکلتی ان کے سامنے روحان نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
مانوں یا نا مانوں لیکن میں بتا رہی ہوں بھائی کو نا بہت جلد اس سے عشق ہونے والا ہے بہت زیادہ والا ۔۔ ماہی نے مزے لتے ہوئے کہا وہ چارو وہی بیٹھے تھے ۔۔۔
جیسے ہم آپ کے عشق میں پاگل ہیں ادیان نے فورن ماہی کی طرف دیکھ کے گھمبیر آواز میں کہا ماہی بیچاری وہی سٹاپ گئی ۔۔
اوو آج کے زمانے کے راج اور سیمرن تھوڑا خیال کریں یہاں ہم جیسے کوارے بھی بیٹھے ہیں کیوں ہمارے زخموں پے نمک لگا رہے ہوں ۔۔روحان نے فورن دونوں کی ٹانگ کھنچی زری نے گھور کے اسے دیکھا اور اٹھ کے وہاں سے جانے لگی ۔۔۔۔
روحان نے بھی مسکراتے ہوئے سر جھٹک کے ٹی۔ وی چلایا ۔۔۔
آپ دیکھ رہے ہیں جیو نیوز اسی کے ساتھ میں آپ کو بتاتی چلو کے کیس ہارنے کی صورت میں ایک لڑکی نے اپنی پوری بستی میں آگ لگا دی ساتھ ہی ساتھ اپنا گھر بھی جلا دیا ۔۔۔۔۔۔
ہینکر اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی مگر زری نے جب بستی اور کیس سن کے ٹی۔ وی کی طرف دیکھا وہی اسے لگا افندی مینشن اس کے سر پے آ گرا ہو ۔۔۔۔
چچ چچ چچ کیا زمانہ آ گیا ہے یار آج کل کی لڑکیاں بھی نہ ۔۔۔ روحان نے افسوس کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
م ۔۔ما ۔۔ماہی ۔۔م۔۔یری ۔۔میری ۔۔ام ۔۔امبر زری نے وہی سے اپنی بند ہوتی سانس کے ساتھ کہا اس کے لیے یہ خبر ہی موت سے کم نہیں تھی کے اس کی دوست نہیں رہی ۔۔۔۔
زریییییی۔ ۔۔ ماہی کی فلک شگاف چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔
روحان نے فورن اگے بھر کے اسے اپنی باہوں میں بھرا ایان بھی شور سن کے آ گیا تھا مگر سامنے کا منظر جسم سے روح الگ کرنے کے برابر تھا ۔۔۔۔
روحان فورن کمرے میں لے چلو اسے اور عدی ڈاکٹر کو بولاؤ جلدی ایان دھاڑا تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
رومان کب سے آئ ۔سی یو کے باہر کھڑا تھا ۔
جب کے ڈاکٹرز تھے کے باہر انے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
رومان کسی ہے وہ اور کہاں ہے ۔۔
عبیرہ وہاں بھاگتی ہوئی پوھنچی اسے رومان نے ہی فون کر کے بولیا تھا ۔۔۔
رومان نے عبیرہ کی طرف دیکھا اور پھر آئ ۔سی ۔یو کی طرف اشارہ کر دیا ۔
اس کی حالت دیکھ عبیرہ کے دل کو کچھ ہوا تھا بکھرے ہوئے بال سرخ و سفید رنگت اس وقت مرجا گئی تھی آنکھیں شدید ضبط سے لال انگار بن رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ بےبسی سے اپنے لب کاٹ ہی رہی تھی کے آئ ۔سی یو کا دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر آئ ۔۔۔
دونوں فورن ڈاکٹر کے پاس پوھنچے ۔۔
ڈاکٹر کسی ہے وہ ۔۔رومان نے فورن پوچھا ۔۔
دیکھیں چوٹ تو زیادہ نہیں آئ مگر وہ ڈپرشین کی شکار ہے جس کی وجہ سے ان کا نارس بریک ڈاؤن ہوا ہے
ابھی کچھ دیر میں انہیں ہوش آ جائے گی تب آپ انہیں مل سکتے ہیں مگر خیال رکھے انہیں کسی قسم کی بھی پریشانی نہ دی جائے ۔۔۔ ڈاکٹر کہہ کے جا چکے تھے مگر وہ دونوں وجود وہی ساخت ہو گئے تھے ۔۔۔
کچھ دیر بعد عبیرہ کی آواز نے خاموشی کو توڑا ۔۔۔
رومی تم گھر جاؤ آرام کر لو میں ہوں یہاں ۔ عبیرہ نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔
نہیں بھابھی میں اسے اس حال میں چھوڑ کے نہیں جا سکتا ۔۔۔ اس نے نظرے جھکا کے کہا اسے ڈر تھا کے کہی عبیرہ اس کی آنکھوں سے اسکے دل کا حال نا جان لے
کس حق سے تم یہاں ہو
اسے اپنی جنگ اکیلے ہی لڑنی ہے سمجھ کیوں نہیں رہے تم عبیرہ نے بےبسی سے کہا ۔۔۔
حق نہیں ہے مگر حق حاصل کرنے میں دیر نہیں لگتی آپ یہاں انتظار کریں میں اتا ہوں ۔۔وہ کہہ کے تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا عبیرہ نے بےبسی سے اس کی پست کو دیکھا وہ جانتی تھی رومان امبر سے عشق کرتا ہے اور رومان کی آنکھوں میں چھپی محبت وہ کب کی پڑھ چکی تھی مگر جس راستے پے اس کی جان سے عزیز دوست تھی وہاں کسی اور کی جان خطرے میں نہیں دال سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ اپنے ہر خیال کو جھٹک کے اندر داخل ہوئی سامنے ہی وہ اپنے بےجان وجود کے ساتھ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔۔۔
عبیرہ نے جا کے اس کے ہاتھ پے ہاتھ رکھا ۔جب امبر نے اپنی خالی خالی آنکھیں اس کی طرف اٹھائی ۔۔
عبیرہ کا دل کٹ کے رہ گیا تھا
تم جانتی ہو یہ کس نے کیا ۔۔ امبر نے خلا میں گھورتے ہوئے پوچھا ۔
عبیرہ نظریں چورا گئی وہ اسے کیا جواب دیتی ۔۔۔
خاموشی محسوس کر کے امبر نے اس کی طرف دیکھا اور ایک زخمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پے آئ ۔۔۔
میں جانتی ہوں سب اور میں وعدہ کرتی ہوں میں تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گی یہ زندگی اور موت کی جنگ ہے اور ہم آخری سانس تک لڑیں گے ۔۔۔ عبیرہ نے مضبوط لہجے میں کہا ۔۔۔
زری کہاں ہے؟؟؟ امبر نے اسے نا پا کے سوال کیا ۔۔۔
اسے نہیں پت۔۔۔۔
ابھی عبیرہ کی بات منہ میں ہی تھی کے رومان روم میں انٹر ہوا اسے دیکھ کے عبیرہ نے امبر کی طرف دیکھا جو سوالیہ نظروں سے عبیرہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔
