No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ارے ارے ہسبنڈ جی کہاں بھاگے جا رہے ہیں اپنی اس خوبصورت ایک اعداد بیوی کو بھی لتے جائے آپ کے بغیر اب اس بھری دنیا میں میرا ہے ہی کون عبیرہ آیان کے پیچھے ہی بھاگی تھی ۔۔۔
آیان کا دروازہ کھولتا ہاتھ دو پل کے لئے روکا اور اس ڈھیٹ لڑکی کو گھور کے دیکھا جو اس کے دیکھتے ہی پوری بتیسی دیکھا کے ہنس دی ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے یہ نکاح زبردستی ہوا ہے وہ اسے دیکھتا ہوا اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا ۔بس نہیں چل رہا تھا جان نکل لے اس لڑکی کی ۔۔
اوو ہیلو مجھے بھی کوئی شوق نہیں تم جیسے سڑیل اکڑو اور جلاد سے شادی کرنے کا وہ تو شکر کرو میرا پھر بھی کر لی ورنہ تو آج بدنامی کا داغ لے کے گھوم رہے ہوتے آیا بڑا زبردستی کا کچھ لگتا وہ ناک منہ چڑھا کے بولی ۔۔۔۔۔
مطلب ۔۔ایان نے نہ سمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
میرے پاس اتنا وقت نہیں آپ کو مطلب سمجھتی پھروں وہ ناک چڑھا کے بولی
تم نہ ایک نمبر کی لالچی ہو میں اچھے سے سمجھاتا ہوں تم جیسی لڑکیوں کو جگہ جگہ اپنا آپ بیچنے والی حقیقت میں تم ایک گری ہوئی لڑکی ہو جو چند ایک راقم کے لیے کسی کا بھی بیسٹ۔۔۔۔۔۔
بس مسٹر ایان اگر میں ابھی خاموش ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے آپ کے منہ میں جو بکواس آے وہ آپ کریں گے جانتے کیا ہیں آپ میرے بارے میں مجھ پے انگلی اٹھانے سے پہلے ایک نظر خود کو دیکھ لیں ۔۔۔
ایان جو شدید غصے میں جو منہ میں ایا بول رہا تھا اس کی بات کو عبیرہ نے بیچ میں کاٹ دیا یہاں بات عبیرہ شاہ کے عزت کی تھی وہ کیسے ایک بھی غلط لفظ برداشت کرتی ۔۔۔۔
چچ گھن آ رہی ہے مجھے آپ کی اتنی چھوٹی سوچ دیکھ کے امید کرتی ہوں آج کے بعد ہم کبھی نہیں ملے گے ۔۔۔
عبیرہ نے اسے کھڑی کھڑی سنائی اور جا ایک ادا سے اپنی آنکھوں پے چشمہ لگیا اور جا کے اپنی بائیک پے بیٹھ کے ہوا سے باتیں کرتی ہوئی وہاں سے گایب ہوئی ۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے دور جا رہی تھی ایان کے دل کو کچھ ہو رہا تھا اسے ایک دم احساس ہوا اپنے لفظوں کی گہرائی کا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
اففف اس کو بھی ابھی خراب ہونا تھا اب میں گھر کیسے جاؤ گی ایک تو یہ امبر کی بچی مجھے چھوڑ کے خود پہلے ہی دفع ہو گئی۔۔۔
اوپر سے بیئر بھی مجھ معصوم کو یہاں اکیلا چھوڑ کے خود چلی گئی اللہ جی اب میں کیا کرو کہی کوئی شیر آ گیا تو۔۔۔۔
نہیں نہیں ایسا نہ سوچ زری شیر تو مجھے چبا کے بھی نہیں کھائے گا اففففف کیا کرو اب ۔۔۔ عبیرہ کے جاتے ہی زری بھی اپنی بائیک لے کے نکلی مگر اس کی بائیک نے بیچ راستے میں ہی دوکھا دے دیا اب وہ سخت جھنجھلاہت میں تھی ۔ااوپر سے جنگل میں سنسان سڑک اس کی ڈر سے روح فنا ہو رہی تھی ۔۔
لیفٹ مانگ لیتی ہوں اس نے دور سے آتی جیپ کو دیکھ کے سوچا ۔۔۔
نہیں اگر کوئی بدمعاش اور آوارہ لڑکا ہوا تو ۔۔۔ اس کے اندر سے فورن آواز آئ ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا زری ہمت کر اگر ابھی اس سے بھی مدد نہ لی تو پوری رات یہاں رہ کے گزارنی پڑے گی ۔۔۔
وہ خود سے باتیں کرتی ہوئے مسلسل بڑبڑا رہی تھی جب جیپ پاس آئ ۔۔
اس نے اپنی ساری سوچوں کو دفع کر کے جیپ روک لی جو اس سے تھوڑا سا اگے جا کے روکی ۔۔۔
افففف شکر آ اپنے روک لی ورنہ تو اس جنگل میں آج مر۔۔۔۔۔۔
تمممممممم۔ ۔۔۔۔۔
جیپ کے روکتے ہی وہ بولتی ہوئی اگے آئ جب اس کی نظر سامنے موجود شخص پے گئی اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا
کیوں آپ کو کسی اور کا انتظار تھا کیا ؟؟؟؟ روحان نے مسکراہٹ دبا کے اسے دیکھتے ہوئے شریر لہجے میں کہا ۔۔۔۔
جس کا بھی تھا پر تمہارا بلکل نہیں تھا اس لیے جاؤ تم یہاں سے زری نے جل کے جواب دیا ۔۔۔
ہممممممم سوچ لو اگر میں چلا گیا تو گھر کیسے جاؤ گی میں نے سنا ہے اس جنگل میں جنگلی جانوار بھی بہت ہے اور تو اور یہاں تو چڑیلوں کا بھی باسیرا ہے مگر خیر چھوڑو مجھے کیا تم کون سا ڈرتی ہو کسی سے روحان نے برے مزے سے اس کی ساری اکڑ ہوا کی اور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا جو ڈر و خوف سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔
چلو میں چلتا ہوں وہ مزے سے گاڑی شارٹ کرتے ہوئے بولا اس کی حالت سے وہ محفوظ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
ر ۔۔روکو مجھے بھی جانا ہے تمہارے ساتھ وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھی ہوئی بولی ۔
اب آئ میڈم کی عقل ٹیکانے روحان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کے سوچا ۔۔۔۔
وہ میری بائیک بھی جیپ میں رکھو زری نے جلدی سے خود کو سمبھال کے اسے آرڈر دیا کہا ۔۔۔۔
اوو ہیلو میڈم میں آپ کے پاپا جی کا ملازم نہیں لگا ذرا پیار سے کہے پھر سوچوں گا وہ اسے زچ کر رہا تھا وہ جانتا تھا زری کو اپنی بائیک سے کتنا پیار ہے
دیکھو پلز تم میری بائیک بھی جیپ میں رکھ لو زری نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے دبی دبی آواز میں غرا کے کہا ۔
ہمممممممم ایسے نہیں تھوڑا اور پیار سے روحان کو اب مزہ آ رہا تھا اسے تنگ کر کے ویسے بھی یہ موقع پہلی بار ہاتھ لگا تھا ۔۔۔۔
بولتی ہے میری جوتی تم۔۔۔۔
کیا کہا تم نے روحان نے آئ برو اٹھا کے پوچھا وہ تو اپنا غصہ نکالنے لگی تھی پھر یاد ایا کے وہ اس وقت مجبور اس لئے بےبسی سے لیب بیچھ کے دوبارہ بولی ۔۔۔۔
پلز روحان میری بائیک بھی اپنی جیپ میں رکھ لیں وہ اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا شہد بھر کے بولی اور روحان تو دل و جان سے قربان تھا اس کے منہ سے اپنا نام سن کے ۔۔۔۔
جیسا آپ کہے وہ بھی اسی کے انداز میں بولا اور جیپ سے اتار گیا ۔۔۔
آنہہہ ایا بڑا بندر کہی کا اگر آج مجبوری نہ ہوتی تو بتاتی تمہیں زری نے اس کی پست کو دیکھ کے منہ کے زاویئے بیگار کے سوچا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا میڈم کہاں کھو گئی ۔روحان نے واپس آ کے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا ۔۔۔
کہی نہیں وہ بولتے ساتھ رخ موڑ گئی ۔۔۔۔
روحان نے نہ میں سر ہلا دیا وہ جانتا تھا اس لڑکی کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کرنا اس کے لیے بہت مشکل رہے گا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
امبر آج یونی آئ تھی وہ ہفتے میں صرف تین دن یہاں آتی تھی باقی وقت وہ کوٹ میں اپنی ایک وکیل دوست کے ساتھ گزراتی کیوں کے وہ خود بھی لا پڑھ رہی تھی تو اس کا منا تھا جتنا انسان سکھ سکتے اتنا ہی اچھا ہے ۔۔۔
وہ سیدھا اپنی کلاس میں آئ اور خاموشی سے اپنی جگہ پے جا کے بیٹھ گئی وہ ویسے بھی اپنے کام سے کام رکھنے والی انسان تھی ۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم سر کیا میں اندر آ جاؤ ؟؟؟؟؟
سر سمیر جو لیکچر دینے میں مصروف تھے پاس سے اپنے والے لڑکے کی آواز پے اس کی طرف دیکھا جو بلیک پینٹ کے ساتھ یلّو شرٹ پہنے کالے سیا بال پیشانی پے بکھرے جو اسے اور ہینڈسم بنا رہے تھے وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔ ان کے سر پے کھڑا اندر انے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔۔
پوری کلاس اپنا کام چھوڑ کے اسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار کوئی ہینڈسم بندہ دیکھا ہو ۔۔
لڑکیاں تو سامنے کھڑے لڑکے پے اپنا دل ہی ہار چکی تھی ۔
انہیں لڑکیوں میں وہ بھی تھی جو اسے دیکھتے ہی اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔
مسٹر آپ اندر آ چکے ہیں سر نے اسے گھورتے ہوئے سنجیدگی جواب دیا ۔ان کا خیال تھا وہ تھوڑا شرمندا ہوگا مگر سامنے والا شاید بیزتی پروف تھا اس لئے دھیٹائی سے اپنی پوری بتیسی دیکھا کے سیدھا جا کے امبر کے ساتھ بیٹھ کے بولا ۔۔۔
ٹھیک کہا آپ نے سر جب میں اندر آ ہی گیا ہوں تو پوچھنے کا فائدہ پر کیا کرے سر فارمیلٹی بھی کسی چڑیا کا نام ہوتا ہے کیوں سہی کہا نہ بلیک بیوٹی اس نے سر کو جواب دینے کے بعد امبر کی طرف دیکھ کے تصدیق چاہی ۔۔۔
امبر نے اسے گھور کے دیکھا پھر سامنے سر کی طرف دیکھنے لگی جو غصے سے سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
مسٹر تم ہو کون۔۔۔ سر نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا
کلاس کس وقت ویسے بھی ختم ہونے والا تھا اور جو وقت تھا وہ یہ انسان برباد کر رہا تھا ۔۔۔
کیااااا آپ مجھے نہیں جانتے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
وہ تو ایسے شاک ہوا جیسے بہت بڑا سپر اسٹار ہو ۔۔
نہیں ۔۔ سر نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے مختصر جواب دیا پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز آ رہی تھی سر کی حالت دیکھ کے ۔۔۔۔
اوو اچھا آپ کیسے جانتے ہونگے ویسے میں ہوں رومان آفندی آپ کا نیو سٹوڈنٹ وہ اپنی پوری بتیسی دیکھا کے بولا ۔۔۔
اوکے کلاس کا وقت ختم ہوتا ہے وہ بولتے ساتھ وہاں سے نکلے ویسے بھی ان کا کوئی موڈ نہیں تھا اپنا دماغ خراب کروانے کا ۔۔۔۔۔
ان کے جاتے ہی امبر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کے باہر کی طرف چل دی ۔۔۔۔
سنے نہ آپ کہاں جا رہی ہیں رومان اس کے پیچھے ہی بھاگا ۔۔۔
تم سے مطلب امبر نے روک کے اسے گھور کے دیکھا اور پھر کینٹن کی طرف چل دی ۔۔۔
وہ اس کے پیچھے ہی بھگا اور جا کے اس کے سامنے والی کرسی پے بیٹھ گیا ۔۔۔
امبر نے اسے گھور کے دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں ۔۔۔
ویسے تھوڑی دیر میں ہماری کلاس شروع ہو جائے گی کیوں نہ کچھ کھانے کے لیے مانگوا لیا جائے ۔۔یہ کہاں لکھا تھا رومان بولنا شروع کرے اور پھر اس کی زبان کو بریک لگ جائے ۔۔۔
امبر بیچاری کا تو اس کی پٹر پٹر سن کے سر چکرا گیا تھا اس نے کبھی کسی لڑکے کو اتنا بولتے نہیں دیکھا تھا مگر سامنے بیٹھا کوئی اور ہی نمونہ تھا ۔۔۔۔
آپ ناشتہ نہیں کر کے آے امبر نے اپنا گھومتا سر سمبھالتے کے پوچھا ۔۔۔
کیا نہ بلیک بیوٹی آج صبح مجھ انے کی جلدی تھی پہلے دن لیٹ اتا بندا اچھا تو نہیں لگتا نہ اس لیے آپ تو جانتی ہیں نہ اگر بندا پہلے دن ہی لیٹ ہو جائے تو پوری کلاس کے سامنے بڑی بیزتی ہوتی ہے ۔۔۔وہ تو ایسے بول رہا تھا جیسے آج کلاس میں ٹائم سے ایا ہو اور باری عزت سے اسے سر نے اس کی جگہ دکھائی ہو ۔۔۔۔
ویسے میری عادت ہے میں کبھی لیٹ نہیں ہوتا ہر جگہ وقت پے جانا میری عادت ہے ۔۔۔
وہ بولتے جا رہا تھا جب کے امبر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کے اس کی پٹر پٹر سن رہی تھی ۔۔۔
اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسا نمونہ نہیں دیکھا تھا بیچاری تو اس وقت کو کوس رہی تھی جب وہ اس سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔
میں کچھ کھانے کے لیے آرڈر کرتی ہوں امبر نے جلدی سے کہا کہی پھر سے نہ وہ شروع ہو جائے ۔۔۔
امبر نے کنیٹن . میں کام کرنے والے لڑکے کو اشارہ کر کے پاس بولیا ۔۔۔۔
جی میم اس نے پاس آ کے آداب سے پوچھا ۔۔۔
دو چاۓ اور دو برگرز لے۔۔۔۔۔
ارے آپ اپنے لیے کچھ نہیں منگوا رہی کیا امبر کی بات کو وہ بیچ میں کاٹ کے بولا ۔
میں نے دو کپ منگوائی ہے امبر نے حیران ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ کیا نہ کے مجھے چاۓ بہت پسند ہے ایسا سمجھ لے مجھے چاۓ سے عشق ہے مگر کیا ہے نہ کے گھر میں مجھے میرا بڑا بھائی پینے نہیں دیتا بلکل ماؤ والی عادت ہے کیا کہہ سکتا ہوں بھائی کا پیار ہوتا ہی ایسا ہے ۔۔۔
آپ تو جانتی ہیں زیادہ چاۓ بھی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی بس یہی وجہ ہے
پہلے تو دن میں چھ ساتھ کپ پی لیتا تھا مگر جب سے گھر میں پابندی لگی ہے اب تو دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوتی ۔۔۔
اب اتنے ارسے بعد کسی نے پوچھی ہے دو کپ تو پی ہی سکتا ہوں ۔۔۔وہ ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا اس بار تو امبر کے ساتھ ساتھ وہ لڑکا بھی اپنا سر پکڑ کے کھڑا تھا ۔۔۔
تم تین کپ لے اؤ امبر نے جلدی سے اس لڑکے کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
اور برگر بھی تین لے کے انا رومان نے جلدی سے کہا ۔۔۔
امبر کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے بیٹھے لڑکے کو اٹھا کے کہی دور پہینک آے ۔۔۔۔
تو مس آ۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر شروع ہونے لگا تھا جب امبر نے اسے بیچ میں روک دیا ۔۔۔
مسٹر رومان اب اگر اپنے ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نکلا تو میں یہاں سے چلی جاؤ گی ۔۔۔
اوکے وہ منہ پے انگلی رکھ کے بولا امبر نے شکر کیا چپ تو ہوا یہ نمونہ ۔۔۔۔
ابھی دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کے وہ پھر سے بولا ۔۔۔۔
آپ کو اشاروں کی زبان سمجھ آتی ہے ۔۔۔
کیا ؟؟؟ امبر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔۔۔
مطلب یہ کے جب مجھ آپ سے کچھ پوچھنا ہوگا یا بات کرنی ہوگی تو میں اشارہ ہی کروں گا اب آپ نے بولنے سے تو منا کر دیا ہے ظاہر ہے اشارہ ہی کروں گا تو آپ مجھے جواب کیسے دو گی ؟؟؟؟؟؟
اس کا حل بھی ہے میرے پاس آپ بول لینا اور میں اشاروں میں جواب دوں گا اگر آپ کو سمجھ نہ ایا تو میں آپ کو ایک پیپر پے لکھ کے دے دوں گا ۔۔۔
امبر نے اپنا سر پیٹ لیا بندا سچ میں دھیٹ تھا ۔۔۔۔
اب امبر کے صبر کا پیمانہ لبریز گیا تھا وہ انتہائی غصے سے وہاں سے اٹھی ۔۔۔۔
جہنم میں جاؤ تم اور دوبارہ میرے پیچھے نہ انا ۔۔وہ غصے سے کہہ کے نکلی وہاں سے ۔۔۔
ارے کچھ کھا تو لے آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں ۔وہ بھی پیچھے ہی بھگا ۔۔۔
واپس جاؤ ابھی کے ابھی اور خبردار جو میرے پیچھے آے سر کھول دو گی تمہارا وہ انگلی اٹھا کے اسے دیکھتے ہوئے اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئے بولی ۔۔۔
لک۔۔۔۔
چپ ایک دم چپ ایک لفظ بھی بولا تو منہ نوچ لوں گی جاؤ واپس ۔۔۔
وہ دبی دبی آواز میں چیخ کے بولی اور خود وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔
پیچھے کھڑا وہ اس کی پست کو دیکھ مسکرا رہا تھا ۔۔۔
بلیک بیوٹی۔ ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔
