Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

کمرے کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا دروازے سے انٹر ہوتے ہی سامنے ایک جہاز سائز بیڈ پڑا تھا اور بیڈ کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پے پڑی گھڑی میں
رات کے بارہ بج رہے تھے اور بیڈ پے سویا وہ وجود دنیا جہاں سے بےخبر خواب و خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔۔
بیڈ کے لفٹ سائیڈ کی پوری دیوار پے گلاس وال لگا ہوا تھا جس سے باہر لان کا خوبصورت منظر صاف دیکھائی دیتا ۔۔۔
بیڈ کے ساتھ ہی سنگل صوفا پڑا تھا اور کچھ دور اسٹڈی ٹیبل رکھا گیا تھا ۔۔۔
بلیک اور یلّو تھیم میں سجا وہ خوبصورت کمرہ کسی شہزادے کا ہی لگتا تھا
چھوڑو گا نہیں آج تو پکا پکڑ ہی لو گا آخر کب تک بچ کے بھاگے گے مجھ سے ۔۔وہ بیڈ پے سویا وجود نیند میں مسلسل بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
جب اس کے موبائل کی رنگ توں بجی ۔۔۔۔
اففف کون ہے اتنی رات کو وہ نیند میں بڑبڑا کے بولا اور موبائل اٹھا کے بغیر دیکھے کال کاٹ دی ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن
سامنے والا بھی ڈھیٹ تھا جو کال ملا کے بند کرنا ہی بھول چکا تھا ۔۔۔
بار بار بجنے والی رینگ ٹوں نے اس کی نیند میں خلل ڈالی بند ہوتی آنکھوں سے اس نے کال اٹینڈ کی اور کان سے لگائی ۔۔۔۔
کون سی آفت آگئی تھی جو اتنی رات کو فون کیا بندا تھوڑی شرم کر لیتا یہ ٹائم ہم جیسے معصوم و شریف لوگوں کے سونے کا ہوتا ہے ۔۔۔
پتا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں منہ اٹھا کے ۔۔۔
وہ کال اٹینڈ کرتے ہی شروع ہو چکا تھا ہوش تو تب آئ جب سامنے والا بولا ۔۔۔
انسپکٹر رومان آپ کو اگر ہوش آ گیا ہو تو لوکیشن بھج رہا ہوں فورن وہاں پوھنچے خبر ملی ہے ہے بلیک ڈریگنز آج بینک میں چوری کرنے والے ہیں ہمیں کچھ بھی کر کے انہوں آج پکڑنا ہے اگر آج آپ نے انہیں نا پکڑا تو سزا کے لیے تیار رہئے گا ۔۔۔
فون میں سے ایس پی کی غصیلی آواز گونجی ۔۔
مگر رومان صاحب نے کب کسی بات کا اثر لیا تھا جو آج لتے ۔۔۔۔
ایس پی نے دوسری سائیڈ کی خاموشی محسوس کر کے ایک بار پھر سوال کیا
آپ سن رہے ہیں میری بات کو فون پے ایک بار پھر گرجدار آواز گونجی ۔۔۔
ج ۔۔ج ۔۔جی سر میں بس ابھی ایا آپ فکر ہی نا کریں بس آ رہا ہوں ۔۔وہ جو موبائل اپنے کان پے رکھ مزے سے سو رہا تھا ایس پی کی ایک بار پھر انے والی آواز پے منہ بنا کے اٹھا ۔۔۔
چھوڑو گا نہیں آج تو ان تینوں کو نیند حرام کر رکھی ہے میری اوپر سے یہ موٹا خود تو بھاگ نہیں سکتا مجھ معصوم کو ان تینوں کے پیچھے بھگائی رکھتا ہے
میں تو کہتا ہوں وہ چور لگے ہاتھ ایک بار اس موٹے کے گھر بھی چوری کر ہی لیں اس عقل کے دشمن کو اتنا تو پتا چلے جب کسی کی نیند خراب کرو تو کیسا فیل ہوتا ہے اگلے بندے کو ۔۔۔
آنہہہہہ مل جائے ایک بار یہ ڈریگنز پہلے ان سے یہی سوال کروں گا کے یہ موٹا نظر نہیں اتا تم لوگوں کو انتہا کے کوئی نکمے چور ہیں قسم سے ۔۔۔
ویسے الو کے خاندان سے لگتے ہیں تبھی تو رات کو نکلتے ہیں چوری کرنے ۔۔۔ مجھے کیا جب مرضی کریں ۔۔۔
اگر چوری کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لتے تو میں انہیں یہی کہتا کے رات کے وقت نہیں بلکے دن کے وقت چوری کیا کرو اب رات کو ایسے گلیوں میں گھومنا اچھی بات تھوڑی ہے اس موٹے کو تو دیکھ کے ویسے ہی لوگ ڈر جاتے جب کے مجھ جیسے ہینڈسم بندے پے تو لڑکیاں مرتی ہیں اس لیے مجھے تو یہی ڈر رہتا ہے کے کہے کوئی چڑیل عاشق ہی نا ہو جائے مجھ معصوم پے
وہ موبائل پے ایس پی کے نمبر کو گھورتا ہوا خود سے بڑبڑا رہا تھا اس کا بس چلتا تو ایس پی کا خون پی جاتا جو ہر دوسرے دن اٹھ کے اس کا دماغ خراب کرتا تھا مگر ہاے رے قسمت بیچارہ بےبس تھا ۔۔۔
چار نہ چار اسے اٹھ کے تیار ہونے جانا پڑا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
وہ اس وقت باکسنگ رنگ میں کھڑا اپنے سامنے کھڑے کھلاڑی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
پسنے سے سارا جسم شرابو تھا بلیک پینٹ پہنے شرٹ لیس جس کی وجہ سے اس کے سکس پک نظر آ رہے تھے ۔۔۔
ڈارک براؤن آنکھیں جن میں اس وقت صرف جیت کا جنون تھا بال پیشانی پے بکھرے ہوئے ۔۔
وہ گابراو جوان جس پے اس وقت یونی کی ہر لڑکی دل ہار بیٹھی تھی ۔۔
ہر طرف روحان روحان کے نعرے تھے ہر کوئی جانتا تھا روحان شازیب کو کوئی نہیں ہرا سکتا ۔۔۔
آج باکسنگ ٹورنامنٹ تھا جس پے ہر سٹوڈنٹ نے روحان کے نام سے بیت لگائی تھی ۔
بیت لگانا اس کا روز کا کام تھا ۔۔۔۔۔۔
سامنے والے نے پہلا وار کرتے ہوئے روحان کے منہ پے مکا مارا ۔۔۔
اففففف پاگل انسان منہ کا نقشہ بگاڑ دو گے تو آج جو لڑکیاں مارتی ہیں مجھ پے وہ گاس بھی نہیں ڈالے گی ۔۔۔وہ منہ بنا کے بولا ۔۔۔
جب سامنے والے نے ایک اور پنچ مارا اور وہ گھوم کے نیچے گرا ۔۔
حال میں ایک دم خاموشی چا گئی لوگوں کی تو جیسے دھڑکن روک گئی ہو ۔۔۔
ہلکے میں لے لیا بھائی روحان تجھے تو اس سانڈ نے چل ختم کر یہ گیم برو کو پتا چلا تو آج تیری خبر یہی بن جائے گی ۔۔وہ خود سے بڑبڑایا اور ایک دم کھڑا ہو کے اپنے ہاتھ کا پنچ بنا کے سامنے والے کی گردن کے پاس مارا وہ ایک ہی وار سے زمین بوس ہو گیا ۔۔۔
پورے ہال میں خاموشی چاہ گئی تھی اس نے ایک ہی وار میں سب کو حیران کر دیا تھا ۔۔۔
ارے کیا ہوا اب لگاؤ بھی میرے نام کے نعرے روحان نے ایک سائیڈ کی سمائل پاس کرتے ہوئے کہا
پھر ایک دم
پورے حال میں اس کے نام کی سدا گونج اٹھی تھی ۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے اپنی شرٹ پہنی اور وہاں سے چلا گیا پیچھے کتنی نظروں میں حسرت تھی اسے پانے کی مگر وہ مغرور شہزادہ کسی کی طرف ایک آنکھ اٹھا کے بھی دیکھنا بھی گوارا نہیں سمجھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
جہاں ہر طرف خاموشی و آندهرے کا راج تھا وہی وہ تین نقاب پوش جنہوں نے اپنے چہرے کو بلیک رومال سے کوور کر رکھا تھا بلیک جینس کے ساتھ بلیک ھود پہنے جس کی کیپ سے سر بھی کوور کیے ہوئے تھے ۔۔۔
آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا انہوں وہ کب پولیس کی ناک کے نیچے سے چوری کر جاتے کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی
اس وقت بھی
وہ اپنے کام میں تیزی سے ہاتھ چلا رہے تھے ۔۔۔
جلدی کرو ٹیم ہمارے پاس وقت کم ہے کچھ ہی دیر میں یہاں پولیس آ جائے گی ۔۔۔
ان میں سے ایک نے کہا جو شاید ان کا لیڈر تھا ۔۔
انے دو یار آج ان سے بھی دو دو ہاتھ کر ہی لتے ہیں ویسے بھی سارے نکمے اٹھا کر تو پولیس میں بھرتی کیے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نے آنکھ دبا کے کہا ۔۔
جب کے تیسرا والا اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد تیسرے کی سرگوشی نما آواز سنائی دی ۔۔۔
ہوگیا ۔۔۔
تیسرا والا ایک دم خوشی سے اچھل کے بولا ۔۔۔
اب آے گا نہ مزہ ۔۔۔
تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پے ہاتھ مار کے کہا ۔۔۔
اوکے ٹیم جلدی کرو اس سے پہلے پولیس بینک کو چارو طرف سے گہر لے ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا کچھ دیر میں باہر والوں کو بھی پتا چل جائے گا ہمارے انے کا ۔۔۔
وہ تینوں ایک راہداری سے ہوتے ہوئے ایک لاکر روم کے سامنے آ کھڑے ہوئے ۔۔۔
یہ ہمارا آخری امتحان ہے اس کے بعد ہماری منزل ہمارا انتظار کر رہی ہے ان کے لیڈر نے ان کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ریبل لاکر کھولے ۔اے کے نے سرد لہجے میں کہا ۔۔
اوکے اے کے ۔۔ وہ بولتے ساتھ دو منٹ میں لاکر ہیک کر چکی تھی۔۔۔
جیسے ہی انہوں نے اندر قدم رکھا سامنے ہی ان کا مطلوبہ لاکر تھا ۔۔
تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے مسکرا دیے ۔۔۔
وہاں بہت سے لاکر تھے لیکن انہوں نے صرف ایک لاکر کو ان لاک کیا اور جتنے پیسے تھے ۔۔۔
اپنے اپنے بیگ میں بھر لئے ۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔
ابھی وہ بھر ہی رہے تھے کے
ایک دم سے الارام بجا ۔۔۔۔
اے کے اب نکلنا کہاں سے ہے ۔۔۔ زی نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے اے کے کی طرف دیکھ کے کہا جس کے سکون میں ذرا بھر بھی فرق نہیں ایا تھا ۔۔۔
جہاں سے آے تھے وہی سے ہی جائے گے سکون سے جواب ایا ۔۔۔
لیکن باہر تو پولیس ہے کیسے جائے گے ۔۔۔ریبل نے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
ہمممم چلو دیکھتے ہے انہیں بھی ۔۔۔کہنے کے بعد اس نے اپنی جیب سے ایک کارڈ نکلا جس پے بلیک ڈریگنز لکھا تھا ۔۔۔
وہ کارڈ اس نے لاکر میں رکھ دیا ۔۔۔
چلو ٹیم اس نے کہتے ساتھ اپنے قدم باہر کی طرف بھرا دیے باقی دونوں بھی اس کے پیچھے ہی بھاگے ۔۔۔
وہ اس وقت بینک کے پانچوے فلور پے تھے ۔۔۔۔
ہاتھ اوپر کر لو ورنہ گولی چلا دوں گا وہ جو کھڑکی سے باہر کودنے کا سوچ رہے تھے پیچھے سے انے والی آواز پے پلٹ کے دیکھا جہاں سامنے ہی ایس پی اور ایس اچ اؤ رومان اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کھڑے تھے ۔۔۔
انہیں دیکھ کے اے کے نے سائیڈ سمائل پاس کی ۔۔۔
برا نہ مانا ایس پی مگر لگتا ہے گدو کی فوج پال رکھی ہے تم نے اے کے نے رومان کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنز کیا ۔۔۔
ایس پی نے ناسمجھی سے پہلے سامنے کھڑے ان تینوں کو دیکھا پھر اپنے پاس کھڑے رومان کی طرف ۔۔
رومان نے اور باقی سب نے بھی اب غور کیا تھا رومان صاحب کے ہاتھ میں گن نہیں بلکے دانت صاف کرنے والا برش تھا ۔۔۔
افففف اب تو گیا کام سے ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ۔۔رومان کو اپنی بیوقوفی پے رج کے غصہ ایا تھا ۔۔۔۔
اوو سوری سر میں نے دھیان نہیں دیا رومان نے جلدی سے برش رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اللّه حافظ باس جلد ملے گے اور اگلی بار ہمیں پکڑنے کے لئے کوئی عقل مندی بندہ لانا ۔۔۔
بلیک ڈریگنز کو پکڑنا بچوں کا کام نہیں ریبل نے ایس پی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ایک آگ تھی اس کی آنکھوں میں جو ایس پی کو اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
کسی کے کچھ سمجھنے سے پہلے وہ تینوں کھڑکی سے کود چکے تھے ۔۔۔۔
عقل کے آندھو دیکھ کیا رہے ہو پکڑو انہیں ایس پی نے ہوش میں اتے ہی دانت پس کے سب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
رومان ہوش میں اتے ہی ان کے پیچھے بھاگا لیکن افسوس وہ تب تک غایب ہو چکے تھے ۔۔۔
لیکن وہ
جاتے جاتے ایک بار پھر رومان کو پھسا گئے تھے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ارے اوو زری کہاں مر گئی ہو یار جلدی اؤ اس سے پہلے ہماری پتنگ کٹ کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جائے اور دشمن اپنی جیت کی خوشی میں ہمارا مزید اور خون جلاے ۔۔۔۔۔
مہین نے نیچے دیکھ کے اونچی آواز میں دانت پیس کے کہا کیوں کے مقابل شخص نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی اس کا خون جلانے میں ۔۔۔۔
زری نیچے منہ پھلا کے بیٹھی تھی کیوں کے جناب کی کچھ دیر پہلے ہی اچھی خاصی لڑائی ہوئی تھی ۔۔۔
بس پھر کیا تھا مہین کی آواز پے پتنگ کٹنے کے ڈر سے وہ ہر چیز بھلا کے اوپر کی طرف بھاگی ۔۔
اس کے نازک پاؤں میں بندی پائل کی آواز پورے افندی ہاؤس میں گونج رہی تھی اور وہ آندھی طوفان بنی بس بھاگ رہی تھی اسے اس وقت اگر کسی چیز کی فکر تھی تو بس اپنی پتنگ کی جو اسے ہر حال میں کٹنے سے بچانی تھی ۔۔۔
اففففف سوری سوری بوا وہ بھاگتے ہوئے گردن موڑ کے ایک ہاتھ کان کو لگا کے بولی ۔۔۔
کیوں کے جناب تیزگام اپنی طوفانی رفتر میں اتے ہوئے بوا سے ٹکرائی اور بوا کے ہاتھ میں موجود تازے پھولوں کا ٹوکرا ہوا میں اچھلا اور سارے پھول اس کے اوپر ایسا منظر پیس کر رہے تھے جیسے کسی شہزادی پے پھولوں کی بارش ہو رہی ہو ۔۔۔
اس کا ڈوپٹہ ہوا میں لہراتا ہوئے دور جا کے گرا لیکن یہاں پروا کیسے تھی ۔اس نے بھاگتے ہوئے اپنے بالوں کو ایک جھٹکا دے کے پیچھے کیا جو بھاگنے کی وجہ سے اگے آ رہے تھے ۔۔۔
سامنے سے آتی رضیہ سے اس کی ٹکر ہوئے جب اس نے اس کا ڈوپٹہ لیا ۔
سوری رضیہ اس نے بھاگتے ہوئے ہونکے بنی رضیہ کو دیکھ کے دور سے ایک کان پکڑ کے کہا ۔۔ اس کے انداز پے رضیہ مسکرا دی جب وہ بھی ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
بڑی بڑی ہیزل گرین آنکھوں میں موجود بھر بھر کے کاجل کی لہر اس کی آنکھوں کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔
اور دونوں گال پے پرتے ڈمپل جب وہ ہنستی تو دیکھنے والے کے دل پے بجلیاں گراتے تھے
تو ہر واری میرے ساتھ آہی کردی ۔۔رضیہ نے منہ بنا کے اردو پنجابی کی ٹانگ توڑی ۔۔۔۔
زری آ بھی جا کہاں مر گئی ماہی نے ایک بار پھر اسے آواز لگائی ۔۔۔
اس نے مسکرا کے رضیہ کو دیکھا اور اوپر کی طرف بھاگی
اس نے بھاگ کے سیڑھیاں غبور کی اور بھاگ کے اپنی پتنگ کی ڈور پکڑی۔ ۔۔۔
آپی شکر آ آپ آ گئی ورنہ پکا آج ہم ہار جاتے ماہی آپی کو تو پتنگ بھی اڑانی نہیں آتی پاس کھڑی مہک نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔ مہک ان کے پرسوں میں رہتی تھی وہ اکثر شام کو ان کے پاس آ جاتی ۔۔۔
تم لوگ بچوں سے ہار رہی تھی کوئی حال نہیں تم لوگوں کا اس نے پتنگ کی ڈور کھینچتے ہوئے کہا ۔۔۔
یار زری اب اس میں ہمارا کیا قصور سب قصور تو ادیان بھائی کا ہے اوپر سے یہ بھائی کی دیوانی میرا مطلب منکوحہ بھی گدھی نکلی جان کے ہماری پتنگ کو دشمنوں کی سرحد پے چھوڑ آئ ۔۔۔
حیا (مہک کی بڑی بہن) نے منہ بنا کے کہا ۔۔۔۔
توبہ توبہ لڑکی کتنی جھوٹی ہو تم ذرا جو تم میں شرم ہو کیسے منہ پھاڑ کے مجھ معصوم کا نام لگا رہی ہو میں پوچھتی ہوں یہاں کوئی ہے جو معصوموں کو انصاف دلا سکے کیا سو رہے ہیں سب کے ضمیر آج بھری چیٹ پے مجھ معصوم پے الزام۔۔۔۔۔
آہہہہ کی آ کمینی ۔۔۔ماہی کی بکواس جو ایک بار شروع ہوئی تو کہاں لکھا تھا اتنی جلدی ختم ہو جائے گی اس لیے زری نے دو لگا کے اسے وہی چپ کروا دیا جس سے بیچاری منہ بنا کے رہ گئی ۔۔۔۔
میں کیا کہتا ہوں آج تو پکا اس نکچڑی کی پتنگ کاٹ جائے گی ۔۔۔۔
روحان نے ہنستے ہوئے اپنے ساتھ کھڑے ادیان کو کہا اور اپنے سینے پے ہاتھ بند کے کھڑا ہوگیا ۔۔
یار لگتا تو مجھے بھی یہی ہے آج تو پکا گئی یہ ادیان نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا وہ یہاں اپنی منکوحہ کے دیدار کو آیا تھا اب تو مجھے بھی لگتا پکا کاٹ کے رہے گی دشمنوں کی نظر میں جو آ گئی ہے اور اگر میں نکچڑی تو تم مگرمچھ وہ پتنگ کو سمبھالتے ہوئے ناک چڑھا کے بولی ۔۔۔۔
میں مگرمچھ تو تم مگرمچھی روحان نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
تمہاری تو۔۔۔۔
لو گئی بھنس گوبر میں اس سے پہلے زری کچھ کہتی ماہی کی آواز پے اس نے اپنی پتنگ کی طرف دیکھا جو کٹ گئی تھی ۔۔۔پہلے پتنگ کو اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈور کو دیکھ وہ اب بھی بےیقینی سے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں اس کو پتنگ کٹ کے دور جا رہی تھی
اسے صدما تو اس بات کا لگا تھا زری دی گریٹ بچوں سے ہار گئی تھی ۔۔۔
ہوش میں اتے ہی اس نے گھور کے ماہی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
کیوں محاوروں کی ٹانگ توڑ رہی ہو یہ سب نہ تمہارے بھائی کی وجہ سے ہوا ہے آج نہیں چھوڑو گی میں اسے زری نے دانت پیس کے کہا اور نظرے گھوما کے اسے ڈھونڈا جو وہاں نہیں تھا ۔۔۔۔
دیکھا بھاگ گیا ڈر کے لیکن میں بھی نہیں چھوڑو گی آج اس لنگور کو
وہ اپنا غصہ پیتی نیچے آئ ۔۔۔
جب اسے وہ سامنے صوفے پے بیٹھا نظر ایا اوو تو جناب یہاں ہیں کوئی نہ ابھی بتاتی ہوں ۔۔۔
اس نے کہتے ساتھ آس پاس دیکھا جب اسے گلاس وال سے باہر پانی کی بالٹی نظر آئ جیسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پے مسکراہٹ دار آئ ۔۔۔
وہ دبے قدم اٹھتی باہر گئی اور آرام سے وہ بالٹی اٹھائی اور دبے قدم اٹھتی ہال میں انٹر ہوئی
روحان جو مزے سے بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس پے الٹا دی ۔۔۔
اچانک ہوئے حملے سے وہ کرنٹ کھا کے سیدھا ہوا ۔۔۔
آہہہہہہہ وہ ایک دم چیخ مار کے اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔
کہاں تھا نہ برفانی ریچھ پنگا نہیں لینا وہ طنزیہ مسکرا کے بولی
روحان پورا گیلا ہو چکا تھا اور اس کے سیلكی بل جو اس نے ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت لگا کے بناے تھے وہ بھی بکھر کے پیشانی پے آ گئے تھے ۔۔۔۔
آج تم میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤ گی وہ اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا بولا
بندر پہلے پکڑ کے تو دیکھاو وہ ہنستے ہوئے اگے بھاگی۔۔
روحان نے ضبط سے مٹھیاں بیچ لی اور وہاں سے بالٹی اٹھا کے تن فن کرتا چلا گیا ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔۔