Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

دیکھو نہ آج تم سے بچھڑے زمانہ گزر گیا لوگ کہتے ہیں تم نہیں ہو مگر میرا دل کہتا ہے تم ہو ۔۔۔
سنو سب کتنے اچھے سے ہو گیا تھا نا میں نے کتنے آرام سے تمہیں جانے دیا بغیر کوئی بات کیئے تم مجھ سے دور ہوگی تم تو میری تھی نا ۔
تو سنو! وہ میری آخری سخاوت تھی پر سنو کیا تمہیں بھی لگتا ہے کہ سب واقعی اتنے آرام سے ہوا تھا ؟
مجھے آج بھی یاد ہے میں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا چھ دن بعد سورج دیکھا تھا میں نے ۔۔
بس روتا تھا بس روتا تھا تمہیں لگتا ہے میں چھوڑ دوں گا تمہیں تکلیف نہیں دوں گا تو ہاں میں تمہیں تکلیف نہیں دکھ دوں گا ۔۔
ہاں یہ سچ ہے کہ تم پر میں آج بھی ایک آنچ بھی برداشت نہیں کر سکتا پر میں خود کو تو برباد کر سکتا ہوں خود کو تکلیف دینا تو بس میں ہے اور یقین جانو میں یہ بہت اچھے سے کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
اس جدائی نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ہے ہاں بس چاہتا ہوں کہ جب تک تمہیں پتہ چلے بہت دیر ہو چکی ہو۔۔
تب تک سب ختم ہو چکا ہو یہ لوگ پاگل ہیں کہتے ہیں کہ میرا نقصان ہے تمہیں کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا کیوں کے تم اس دنیا میں نہیں ہو ۔۔۔
پر یہ جانتے نہیں ہیں نا اس لئے کہتے ہوں گے میرا دل کہتا ہے کہ تم واپس اؤ گی میرے لیے ۔۔ تم کتنی بھی پتھر دل کیوں نہ ہو اک لمحہ کے لیے تو میرے بارے میں سوچو گی ۔۔
یہ سوچ کر کہ میں نے تو جان ہی لے لی پر تمہیں تو لگتا ہے نا کہ سب کتنے آرام سے ہو گیا۔۔۔
کچھ بھی آرام سے نہیں ہوا تھا سب بہت مشکل تھا اور اب بھی ہے خدا کی قسم میں پوری پوری رات تڑپتا ہوں
میرا دل پھٹنے کو آجاتا ہے اور سب سے بڑا دکھ یہ ہے مجھے کوئی بھی چپ کروانے والا نہیں ہوتا آنکھوں میں آنسو لیے پوری رات تمہاری یاد میں رہتا ہوں اور رہی بات مجھے چھوڑکے جانے کی تو کی تو اس رب کی مرضی تھی نا اسلئے چپ کر کے ہٹ گیا ہوں ۔۔۔۔
سمجھو مر گیا تھا ارے سنو نہ بس ایک بار مجھے یہ بتا دو تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟؟
تم جانتی ہو آج میرا نکاح ہوگیا اس پاگل لڑکی سے میں جانتا ہوں میرے الفاظ سخت تھے ۔۔
میں یہ بھی مانتا ہوں اس نے جو کیا وہ اس کی نظر میں ٹھیک تھا لیکن سنو نہ میں اسے اپنی ذات سے نہیں بند سکتا میری زندگی میں تمہارے علاوہ کسی کی جگہ نہیں نہ تم سے پہلے کوئی تھا نہ بعد میں ہو گا
ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ!_ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ! ﺯﺧﻢ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮨﮯ ”ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻠﺨﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ?_ ﮨﻢ ﺗﻮ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺳﯽ ﮨﯿﮟ!!
ﭘﮭﺮ ﺗﻌﺎﻗﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ!!
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻣُﺴﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ!!__
ﺻﺮﻑ ﮨﻢ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺳﺨﺘﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ
ا یان نے نم آنکھوں سے قلم سائیڈ پے رکھی اور اپنا سر کرسی کی پست سے ٹکا لیا وہ روز رات کو ایسے ہی ڈیری میں اپنے الفاظوں سے اپنا درد اور تڑپ کم کرتا تھا مگر شاید ابھی اس کی تکلیف میں کمی نہیں لکھی گئی تھی ۔۔۔
زری جو کسی کام سے اس کے کمرے میں آ رہی تھی اپنے بھائی کو آج پھر اذیت میں دیکھ وہ وہی سے ہی پلٹ گئی ۔۔۔
🌺🌺🌺
سورج کی کرنوں نے ہر طرف اپنے پر پھیلا دیے تھے ۔۔۔۔باقی سب کے کام پے جانے کے بعد وہ بھی فورن گھر سے نکلی تھی اور آپ اس کے سر پے کھڑی اپنے سوالوں کو جواب مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
بیئر کب تک چلے گا یہ سب تم بھائی کو بتا کیوں نہیں دیتی آخر سب کچھ سچ سچ کیوں خود کو اور انہیں اذیت دے رہی ہو ؟؟؟ زری نے اپنے سامنے بیٹھی عبیرہ کو گھورتے ہوئے اذیت سے پوچھا ۔۔۔
تم جنتی ہو زری ابھی ہم کوئی بھی بیوقوفی نہیں کر سکتے ہماری ذرا سی غلطی ہمیں بہت مہنگی پر سکتی ہے ۔۔ عبیرہ نے بےبسی سے اسے دیکھ کے کہا ۔۔۔
بیئر تم ۔۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے زری کچھ اور کہتی عبیرہ کا فون بجا ۔۔۔۔
لو آ گیا تمہارے بھائی جان کا فون یہ بندا نہ میری سمجھ سے باہر ہے یار کیا چیز ہے یہ افففف ۔۔۔۔
عبیرہ سخت بیزار ہوئی تھی اس کی کال دیکھ کے ۔۔
افففف بیئر منہ بعد میں بنا لینا پہلے کال اتٹنڈ کرو زری نے اسے منہ بناتا دیکھ اپنا سر پیٹ لیا تھا ۔
ہیلو ۔۔۔۔عبیرہ نے کال اتٹنڈ کرتے ہی احسان کرنے والے انداز میں ہیلو کہا ۔۔۔جب کے دوسری سائیڈ موجود انسان کو اس کا ہیلو کرنا کچھ خاص پسند نہیں ایا تھا ۔۔۔۔
مس عبیرہ آپ کو کسی نے سكهيا نہیں کے کال اٹینڈ کرتے ہی سلام لیا جاتا ہے نا کے ہیلو ہاے بولا جاتا ہے ۔۔۔ فون میں سے ایان کی تپی ہوئی گھمبیر آواز سنائی دی ۔۔۔۔
تو آپ نے کون سا سلام ہی لیا ہے سلام کیا مجھ اکیلی معصوم پے فرض ہے اپنے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا ایان صاحب میرے تو نصیب ہی پھوٹ گئے آپ سے نکاح کر کے اگے پتا نہیں کیا کیا دیکھنا پڑے گا آنہہہہ بس دوسروں پے چڑھائی کروا لو اس آدمی سے خود کو تو حاجی سمجھ کے بیٹھا ہے ۔۔۔
بیئر نے تپ کے جواب دیا ۔۔۔۔
تم اگلے دس منٹ میں میرے سامنے ہو سمجھی ۔ ایان نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ۔
اوو ہیلو مسٹر جلاد . میں انسان ہوں کوئی جادوگر نہیں جو یوں چھڑی گھومی اور آ گئی آپ کے سامنے دس منٹ تو ایسے بول رہے ہیں جیسے مجھے لینے کے لیے ہوائی جہاز بھجا ہو میں پہلے بتا رہی ہوں میں آرام سے او گی یہ دس وس منٹ کی امید مجھ سا نہ رکھو ۔۔۔
عبیرہ نے ناک منہ چڑھا کے کہا ۔۔۔ایان نے دانت پیس کے اپنے سامنے بیٹھے ادیان کو گھورا جو اس کی اتنی عزت پے اپنی پوری بتیسی دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔
دس منٹ تو مطلب دس منٹ ایک منٹ بھی اوپر نہ ہو اور تم میرے سامنے ہو سمجھی ایان دانت پیس کے غرایا اور کٹک سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔
اففف عجیب پاگل بھائی ہے یار تمہارا دس منٹ تو مطلب دس منٹ ایک منٹ بھی اوپر نہ ہو آنہہہہ ۔ ایا بڑا میرا ابا بنا پھرا ہے عبیرہ نے منہ بنا کے اس کی نقل اتاری ۔۔۔
زری تو بامشکل اپنا قہقا روک کے بیٹھی تھی اسے پتا تھا اس کی یہ دوست اس کے بھائی کا کیا حال کرنے والی ہے ۔۔۔۔
چلو اب مجھے چھوڑ دو وہاں اس سے پہلے اس جلاد کا پھر سے فون آے ۔۔
عبیرہ نے اس کے چہرے پے سمائل دیکھ کے تپ کے کہا ۔۔۔
جب زری کا کب کا روکا قہقا گونجا ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
۔
تمہیں اور کوئی لڑکی نہیں ملی تھی جاب پے رکھنے کے لیے عجیب پاگل مخلوق ہے نا کسی کی سنتی ہے نہ سنا چاہتی ہے ۔ ایان نے ادیان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
دیکھ بھائی اب اسے کچھ نا کہہ وہ بیوی ہے تیری اور میں اپنی بھابھی کے خلاف ایک لفظ نہیں سنو گا ۔۔ادیان نے فورن اس کی سائیڈ لی جو ایان کو کچھ خاص پسند نہیں آئ تھی ۔۔۔
تم۔۔۔۔۔
کون سی آفت آ گئی تھی جو اتنی جلدی میں بھلایا آپ کو اندازہ بھی ہے پورے دو سو دے کے آئ ہوں اتنی دور مگر آپ کو کیا آپ تو یہاں سکون سے بیٹھے ہیں کم کاج تو کوئی ہے نہیں آپ کو ویلے بیٹھ کے آرڈر دینے کے علاوہ ۔۔۔ اس سے پہلے ایان ادیان کو کوئی جواب دیتا دارم سے دروازہ کھولا تھا اور وہ آندھی طوفان بنی اندر آئ تھی ۔۔۔
اپنے بھائی کی بوتھی دیکھ ادیان تو بیچارہ اپنا قہقا روکنے کے چکر میں لال ہو رہا تھا ۔۔۔
لڑکی تم ۔۔۔کیا لڑکی ہاں عبیرہ نام ہے میرا سمجھے ایک نام تو یاد نہیں رکھ سکتے آے بڑے بزنس مین آنہہہ ۔ وہ اس کی بات کاٹ کے منہ بنا کے بولی ۔۔
ایان نے اسے گھور کے دیکھا جو اسے کبھی سیریس لیتی ہی نہیں تھی ۔۔
اوو ہیلو اب ذرا
ادھر دیکھ کے بات کریں سامنے کھڑی ہوں میں ایسی کون سی آفت آ گئی تھی جو آپ نے مجھے اتنی جلدی میں بھولایا میرا تو ہارٹ فیل ہو گیا تھا یہ سوچ کے ہی کے کہے خدا خستہ۔آپ کے آفس پے کسی نے بم تو نہیں پھینک دیا تبھی آپ نے اتنی جلدی میں مجھے بلایا کہی میں رہ نا جاؤ ۔۔۔سامنے بھی بیئر تھی جس نے آج تک چپ ہونا نہیں سکھا تھا ۔۔۔۔
وہ میں ۔۔۔۔
کیا وہ میں ہاں ایک کام جو یہ بندا میرے بغیر کر لے میں بتا رہی ہوں عدی بھائی جب سے یہ بندا میری زندگی میں ایا ہے نہ میری تو پروبلمس ہی ختم نہیں ہو رہی اب بولیں گے آپ کچھ یا مجھے یہاں بس اپنی یہ حسین بوتھی کا دیدار کروانے کے لیے بولیا ہے ۔۔۔ عبیرہ نے ہاتھ نچا۔نچا کے پہلے ادیان کو جواب دیا پھر تیور چڑھا کے اسے دیکھا جو مدد طلب نظروں سے ادیان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
تم کچھ بولنے دو گی تو بولو گا نہ ۔۔۔ ایان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
اوو تو یہ الزام بھی مجھ پے ویسے تو چوبس گھنٹے آپ کی زبان کانچی کی طرف چلتی ہے اب آپ کی زبان پے ایلفی لگ ہے ویسے تو جب میری برائیاں کرنی ہو تب تو بہت کہتے ہو عبیرہ یہ عبیرہ وہ اب ۔۔اب کیا ہوا بولو نا کیا سوچا تھا آج تو کم از کم آپ کی یہ سڑے کریلے جیسی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی مگر کہاں میرے اتنے اچھے نصیب ۔۔۔۔
وہ ناک منہ چڑھا کے بولی اور ایان کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو اٹھا کے باہر پہینک آے ۔۔۔۔
دیکھو تم ۔۔۔۔
ارے بھابھی چھوڑے نا انہیں آپ چلے میرے ساتھ میں آپ کو اچھا سا ناشتہ کرواتا ہوں جتنے آپ غصے میں ہیں مجھے لگتا آپ جلدی میں ناشتہ نہیں کر کے آئ ہوگی ۔۔اپنے بھائی کا ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ ادیان فورن اگے ایا ۔۔۔
میں صدقے کتنا سمجھدار دیوار ملا ہے مجھے کچھ اپنے بھائی کو سکھا دیں دیوار جی ۔۔۔ عبیرہ نے اس کی بلائے لتے ہوئے کہا
جب کے ایان دانت پیس کے رہ گیا۔۔۔۔
آپ چلیں میرے ساتھ ادیان نے فورن وہاں سے غایب ہونے میں ہی آفت جانی ورنہ ان دونوں کا کیا بھروسہ تھا ایک بار پھر شرؤع
ہو جاتے ۔۔۔۔
اففف کیا چیز ہے یہ لڑکی کہاں پھس گیا ہوں میں اور کتنا بولتی ہے یہ نہ جانے میرا کیا ہوگا ۔۔۔
ایان نے سوچ کے ہی جڑجڑی لی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
آج کا دن امبر کے لئے بہت مشکل تھا جیسے تیسے کر کے آج کا دن گزارا اور یونی سے چھٹی ہوئی امبر نے شکر کا کلمہ پڑھا نہیں تو آج پکا وہ پاگل ہو جاتی ۔۔۔۔
اففففف کتنا بولتا ہے یہ نمونہ پتا نہیں اس کے گھر والے کیسے برداشت کرتے ہوگے اسے وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی
اپنا سامان سمیٹ رہی تھی اسے یہاں سے نکلنے کی جلدی تھی بس وہ جلدی جلدی قدم اٹھتی پارکنگ کی طرف چل دی ۔۔۔
جب اسے اپنے پیچھے سے رومان کی آواز سنائی دی وہ سنی ان سنی کرتی تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی رومان اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا ایا ۔۔۔۔۔
”بلیک بیوٹی کیا آپ کا نمبر مل سکتا ہے؟“ اس نے امبر کے برابر میں چلتے ہوۓ پوچھا
”کیوں؟“ امبر نے رک کر حیرت سے اسے دیکھا۔
” ایک جگہ ساتھ پڑھنے والے کلاس فیلو کہلاتے ہیں۔ اب میں اور آپ اتفاق سے دونوں ہی ایک کلاس میں ہیں۔ اور ایک ہی جگہ رہنا ہے تو ہم دونوں ایک دوسرے کے کلاس فیلو ہوۓ نا ۔۔
اور ہمارے پاس ایک دوسرے کے پرسنل نمبر تو ہونے چاہیۓ کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ وہ ایک بار جو شروع ہوا تو کہاں لکھا تھا وہ چپ ہو جائے گا ۔۔۔۔
اور اس کے بولنے کے دوران امبر نے اپنا پرسنل نمبر ایک پیپر پر لکھ کر اسے دے دیا۔
اور جلدی سے آگے بڑھنے لگی لیکن وہ اتنی آسانی سے اسکا پیچھا چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا ۔۔۔
رومان پھر سے اسکے پیچھے ایا
”ویسے اب کے دور میں کوئی پیپر پے نمبر لکھ کے دیتا ہی نہیں ہے جس سے نمبر مانگو وہ جواب میں موباٸل مانگتا ہے نمبر فیڈ کرنے کے لۓ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔“ پارکنگ میں پہنچ کر امبر نے تمیز سے کہا لیکن حقیقت میں اس کا دل کر رہا تھا سامنے کھڑے لڑکے کو اٹھا کے کہی پہینک آے ۔۔۔۔۔
“ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ آپ کو گھر جانا ہے ظاہر ہے یونی کا ٹائم ختم ہونے کے بعد سب ہی گھر جاتے ہیں۔ میں بھی تو گھر ہی جا رہا ہو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔“
”افففففف ۔۔۔۔۔۔۔“ امبر نے سارا اخلاق بھلا کر اسے خدا حافظ کہا اور جلدی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی
بلیک بیوٹی میں رات میں آپ کو اپنا نمبر واٹس ایپ کردوں گا “ اس نے امبر کو کہا تو اس نے بس سر ہلادیا۔۔۔۔
”اافففففف خدایا! کتنا بولتا ہے یہ لڑکا ؟۔۔۔کسی بھی اچھے بھلے انسان کو پاگل بنا سکتا ہے یہ تو۔۔ امبر نے سوچا سر میں درد کردیا تھا
جاری ۔۔۔۔