No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
رات کے دوسرے پہر ایک ہاتھ میں کیمرا جبکہ دوسرے ہاتھ میں مدهم سی لائٹ جس کی روشنی حقیقت میں نا ہونے کے برابر تھی۔بہت دھیان سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا کے روشنی جیسی چیز کی بھی یہاں موجودگی ہے۔۔۔
ہاتھ میں لائٹ تھامے وہ بلیک ہوڈی میں اپنا چہرہ چھپائے وہ ہیولہ محتاط قدم اٹھاتا شہر کی آبادی سے کچھ دور خالی عمارت کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
عمارت کے پاس بہت بھرے بھرے کھیت تھے جن میں لگا سبزہ رات کی سیاہی میں انہوں خوبصورت کے ساتھ ساتھ خوفناک بھی بنا رہا تھا ۔۔۔۔
عمارت کے قریب پہونچتے ہی اس نے روشنی کا واحد زریعہ یعنی اس چھوٹی سی لائٹ کو بھی بجھا کے اپنی جیکٹ کے جیب میں رکھتے ہوئے سامنے دیکھا آنکھوں میں کچھ پالینے کی چمک لیۓ کیمرہ آن کرتے ہوئے وہ عمارت کی تھوڑی سی کھلی کھڑکی کے قریب ہوگیا جہاں سے اندر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔
“کاظمی صاحب واقعی میں آپ کا جواب نہیں ہے قتل بھی کرتے ہیں اور دامن بھی خون کے گندے چھینٹوں سے پاک رکھتے ہیں
۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔بھئی ماننا پڑےگا آپ کے ہنر کو۔ شبیر شیخ اس سامنے رکھے بلیک منے کو دیکھتے ہونٹ کے کناروں سے لاڑ کی طرح ٹپک رہی پان کی دھار آستین سے صاف کرتے ہوئے مقابل کو داد دینے کے انداز میں قہقہ لگاکر بولا۔
“ارے نہیں شبیر یہ سب تو قسمت کا کھیل ہے بہت جلد وہ سب بھی میرے نام ہوگا جس کے لیے آج تک اس عذاب کو گھر میں رکھا ہے کاظمی نے اپنے سامنے بیٹھے شبیر کو دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا ۔۔۔۔۔
۔جس پر کھڑکی کے باہر کھڑے ہیولے نے دانت پیس کے اپنا غصہ ضبط کیا تھا ۔پھر کیمرے کو کچھ اور کھڑکی کے قریب کر دیا اس طرح کی اب اندر کا منظر بالکل صاف نظر آ رہا تھا۔
“بھئی کون جانے اس چہرے کے پیچھے کیا چھپا ہے مطلب پولیس مجرم کے دور میں ایمانداری کا راگ الاپنے والوں کے ناک کے نیچے سے سب اڑالے جانا آسان تو نہیں ہے۔۔۔
“مقابل شائد آج داد و تحسین کی محفل لگانے ہی بیٹھا تھا
۔ایک ایک نوٹ کو اٹھاکر ناک کے قریب لے جاتے ہوئے ضرورت سے زیادہ متاثر کن انداز میں بولا۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ ہاں یہ تو ہے . انسان کے سیدھا سادہ ہونے کا بھی اپنا ہی فائدہ ہے۔۔۔ تم فکر نا کرو اگلے دو دن میں بلیک منے ٹرک کے زریہ شہر سے راتوں رات اڑا لے جانے کا ارادہ ہے میرا اور ویسے بھی کس مائی کے لال میں اتنا دم ہے جو ہمیں روک سکے ۔۔۔۔
،ائے کون ہےوہاں؟ حرام خوروں شکل کیا دیکھ رہے ہو پکڑو اسے .
کاظمی جو ایک آنکھ دبا کر بولتے ہوئے اپنے آدمی کو کوئی حکم دینے کے لیۓ پلٹا ہی تھا۔
کھڑکی میں کچھ چمک سی محسوس ہوئی اسے فورن کسی انہونی کا ڈر لاحق ہوا ۔ اس لیۓ جھٹ اپنے آدمیوں کو حکم دیا۔
“حرام خور تو،تو ہے انسانیت کے سطح سے گرے ہوئے انسان بہت جلد تیرا انجام لکھا جائے گا بس دیکھتا جا تو ۔
اندر بلند ہوئی چلانے کی آواز پر اس نے جھٹ کیمرے سے چپ نکال کر پوکیٹ میں ڈالتے ہوئے ایک سائیڈ پے بنے ہوئے کھیت کی طرف دور لگادی۔
اسکی رفتار اتنی تیز تھی کے کاظمی کے آدمی کی نظروں سے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اجھل ہوگیا تھا۔
“حرام خوروں یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو پکڑو اس(گالی)کو۔”کاظمی اپنے آدمیوں کو گوڈاؤن کے باہر ہی ادھر ادھر ٹارچ مار تا دیکھ دھاڑا
“کا۔۔ظمی صاحب وہ تو ہواؤں سے باتیں کرتا نکل گیا۔”ایک آدمی نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔۔۔۔۔۔
“نکل گیا؟کیا مطلب نکل گیا؟مفت خوروں میں تم لوگوں کو نکل گیا کہنے کے پیسے دیتا ہوں۔”کاظمی نے گریبان سے کھینچ کر دو تین تھپڑ جڑتے ہوئے اس آدمی کو لب کشائی کا انعام دیا۔۔جس پر اس آدمی نے اففف تک نہیں کیا تھا۔اب حرام میں لزت کے ساتھ عزت بھی ملے یہ تو ناممکن بات ہوئی نا۔
یہ بتاؤ تم میں سے کسی نے اس کا چہرہ دیکھا؟”شبیر شیخ نے باہر آ کی سب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔جس پر سب نے سرجھکایا تھا اور ان کے جھکے سر کو دیکھ کاظمی کا غصہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔
ن ۔۔نہیں صاحب ۔۔۔ ان میں سے ایک بامشکل ہی بول پایا تھا ۔۔۔۔
دفع ہو جاؤ سب کے سب میری نظروں کے سامنے سے کاظمی غصے سے دھاڑا تھا جب وہ سب وہاں سے اسے غایب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
آج وہ دو دن بعد یونی آئ تھی اس کی وجہ صرف رومان تھا جس کی نظرے اسے بہت کچھ بھاؤ کروا رہی تھی نا اسے گھر میں سکون کرنے دیتا تھا نا یہاں
ابھی بھی وہ اپنی کتاب میں سر دیے بیٹھی تھی جب اس کے موبائل پے میسج کی رنگ ٹوں بجی ۔۔۔۔
اس نے پہلے تو اگنور کیا مگر میسج کرنے والا کچھ زیادہ ہی فری تھا جو ایک بار شروع ہوا تو روکنا بھول گیا تھا امبر نے جھجھلاہت میں موبائل اٹھایا اور سامنے میسج کرنے والے کی شان میں لاکھوں کیسدے پڑھ کے میسج پڑھے جو مسٹر رومان کے تھے ۔۔۔
پتا نہیں کیا مثلا ہے اس بندے کے ساتھ
وہ انتہائی غصے میں اپنی جگہ سے اٹھی اور کلاس روم کی طرف چل دی اسے اس انسان پے بہت غصہ آ رہا جو نہ جانے کیا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ جتنا اس سے دور بھاگتی وہ اتنا ہی اس کے اور پاس اتا اور یہ بات امبر کو قبول ہی نہیں تھی ۔۔۔
وہ انتہائی غصے سے خطرناک تیور لیے کلاس روم کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئی جہاں وہ شان بےنیازی سے کرسی پے بیٹھا ٹانگے سامنے پڑے ٹیبل پے تھی اور وہ ایسے کرسی پے لیتا تھا جیسے گھر کے بیڈ پے ہو ۔۔۔۔۔
اس کا یہ لاپروا سا انداز امبر کا دماغ گھوما گیا تھا
مسٹر رومان یہ کیا حرکت تھی میں جان سکتی ہوں وہ اسے گھور کے دیکھتے ہوئے دانت پیس کے بولی چہرہ شدید غصے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔
کون سی حرکت بلیک بیوٹی ۔۔رومان نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاٹے ہوئے الٹا اسی سے سوال کیا ۔۔
آپ نے مجھے اتنے میسج کیوں کیے اور آپ تو پولیس میں ہیں تو یہاں آپ کا کیا کام ۔۔ وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے دانت پیس کے بولی ۔۔۔۔
ہمممممم سوال اچھا ہے بیگم مگر ۔۔
کیا بلکل ایسا ہی سوال میں آپ سے کر سکتا ہوں ؟؟؟؟؟ وہ سکون سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ۔۔
م ۔۔مطلب امبر نے خود کو سمبھال کے پوچھا دل کسی انہونی کے ڈر سے شدید دھڑک رہا تھا چہرے کی رنگت زرد پر گئی تھی ۔۔۔۔
جہاں تک مجھے آپ کے بارے میں پتا چلا ہے آپ سٹوڈنٹ نہیں ہے بلکے آپ ایک قابل لائر ہے ایڈووکیٹ امبر مصطفیٰ شاہ جہاں تک مجھے لگتا ایک لائر کو یونی میں تو نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔ رومان نے لچک دیتے لہجے میں کہا یہی امبر نے اپنی پیشانی پے موجود پسینے کی ننی نئی بوندوں کو فورن صاف کیا اور جلدی سے خود کو سمبھالا ۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ۔۔۔
امبر نے خود کو سمبھال کے جلدی سے اس کی بات کی نفی کی ۔۔۔
آنہہہہ ۔ ۔ بیگم جی آپ جانتی ہیں جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو ۔۔۔۔
اس نے بات ادھوری چھوڑ کے امبر کی طرف دیکھا ۔۔۔
تو ۔۔ امبر نے آئ برو اچکا کے پوچھا ۔۔
تو گھی گرم کر کے نکال لینا چاہیے یار چھوٹی چھوٹی بات پے پریشان کیوں ہونا ۔۔رومان نے اپنی پوری بتیسی دیکھا کے ڈھیئی سے کہا ۔۔۔
امبر نے دانت پیس کے اسے گھورا عجیب مخلوق تھا یہ انسان بھی ۔۔۔
مجھے کیوں بولیا ہے جلدی بولو مجھے اور بھی کام ہیں ۔۔امبر نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
رومان نے ایک نظر اس کے پھلولے ہوئے چہرے کو دیکھا اور اس کی بازو پکڑ کے اپنی طرف کھینچا وہ کسی کاٹی پتنگ کی طرح اس کے چوڑے سینے پے جا گری ۔۔۔۔
امبر کی دل کو دھڑکنیں ایک دم تیز ہوئی تھی۔ پلکے اٹھنے سے انکار کر رہی تھی ۔۔۔۔
چ۔۔چھوڑیں ک ۔۔کوئی دیکھ لے گا ۔۔ امبر نے اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہو کہا اس سے پھلے وہ اس سے دور ہوتی ۔۔ رومان اسے اپنے اور قریب کر چکا تھا ۔۔۔
اس کی تو جان لبوں پے آ گئی تھی اس شخص کی قربت میں ۔۔۔۔۔
آپ کی آنکھیں کتنی پیاری ہیں کیا یہ ریل کولور ہے ۔۔ رومان نے اس کی تھوڑی سے پکڑ کے چہرہ اوپر کیا اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
امبر نے بےساخت نظریں چورائی ۔۔جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔
مجھے آپ کی آنکھیں بہت پسند ہے کتنی پیاری ہیں براؤن سیم میری آنکھوں کی طرح لیکن مجھے نہ ان آنکھوں کو دیکھ کے لگتا ہے جیسے پہلے کہی دیکھا ہو بہت پاس سے ۔۔ رومان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا آج وہ امبر کو تپانے کے موڈ میں تھا ۔۔
امبر نے اس کی باتوں سے تنگ آ کے اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن بیکار گیا آج رومان صاحب کے تیور ہی اور تھے ۔۔۔۔
چ ۔۔چھوڑیں پلز ۔ امبر نے بےبسی سے کہا بیچاری کرتی بھی تو کیا سامنے موجود انسان تھا ہی اتنا فلاد جیسا اس کی قید سے رہائی پانا اتنا آسان نہیں تھا ۔۔۔
تمہارے ساتھ میرا تعلق
بارش کی طرح نہیں ھے
کہ برسے اور ختم ھو جائے۔۔۔۔
بلکہ یہ تعلق تو ھوا کے جیسا ھے
خاموش مگر ھمیشہ تمھارے آس پاس…!!! ❤.
کبھی لگے کے آپ بلکل اکیلی ہیں تو اپنے ساتھ دیکھ لینا ہمیشہ آپ مجھے اپنے ہمقدم پائے گی ۔۔ میں جانتا ہوں آپ ابھی مجھ پے یقین نہیں کرتی مگر ایک بار مجھے یہ موقع دے کے تو دیکھے آپ کو کبھی ناامید نہیں کروں گا یہ وعدہ ہے آپ سے رومان افندی کا رومان نے اس کی پیشانی پے بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
امبر تو جیسے سن سی ہو گئی تھی کیا تھا آخر یہ انسان ۔۔۔
رومان نے اسے خود سے الگ کیا اور مسکرا کے اسے دیکھا جو اب بھی اپنی پیشانی پے ہاتھ رکھ کے شاک کی کیفیت میں کھڑی تھی ۔۔۔
بلیک بیوٹی آپ ہوش کی دنیا میں آ سکتی ہیں ابھی تو صرف آپ کی پیشانی پے بوسہ دیا ہے اور آپ بیہوش ہونے کو ہے میری قربتوں کو کیسے برداشت کریں گی؟؟؟؟ رومان نے اپنی مسکراہٹ دبا کے کہا اور یہی امبر ہوش میں اتے ہی اسے گھور کے دیکھا ۔۔۔۔
اوکے لیڈی ڈان چلتا ہوں ۔۔۔ وہ کہ کے تھوڑا اگے گیا اور پھر پلتا ۔۔۔
ویسے لینس کے بغیر یہ آنکھیں اور حسین لگتی ہیں
وہ مسکراہٹ دبا کے بولا اور وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
امبر پے تو حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
ریبل تم کل رات کہاں تھی ؟؟؟؟ اے کے نے تیور چڑھا کے پوچھا ۔۔۔
ریبل نے فورن نظریں چورائی وہ اب کیا جواب دیتی کے وہ کاظمی کے خلاف ثبوت جمع کرنے گئی تھی ۔۔۔۔
تم کب مانوں گی ہماری بات کو اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو ہمارا کیا ہوتا کبھی سوچا ہے تم نے ۔۔۔اے کے نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا اسے آج ہی پتا تھا ریبل کل رات کاظمی کے خلاف ثبوت جمع کرنے اپنی جان خطررے میں ڈال کے گئی تھی
زی نے فورن اے کے ۔کے کندھے پے ہاتھ رکھا جب اس نے ایک غصے بھری نظر زی پے ڈال کے سر جھٹکا ۔۔۔۔
بہت ہوئی یہ چھوٹی موٹی چوریاں اب وقت آ گیا ہے اس گیم کو ختم کرنے کا یہ کھیل شروع تو انہوں نے کا تھا مگر اس کا انجام ہم لکھے گے ۔۔۔ اے کے نے ان دونوں کی طرف دیکھ کے کہا آنکھوں میں شکار کو پا لینے کی چمک تھی ۔۔
وہ تینوں اس وقت ڈریگنز ویلا میں تھے جہاں کی سکیورٹی بہت زیادہ سخت تھی جگہ جگہ گارڈز کھڑے تھے ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو ریبل ۔۔ زی نے اپنے سامنے پریشان کھڑی ریبل کو گہری نظروں سے دیکھ کے کہا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے انسپکٹر رومان کو مجھے پے شک ہو گیا ریبل نے اپنی برف جیسی سرد بلیو آنکھوں سے سامنے گلاس وال کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
ہمیں بھی یہی لگتا ہے مگر ابھی فلحال ہمیں اپنے میشن پے دھیان دینا چاہئے ۔ کل رات بارہ بجے بلیک منے سے بھرا ہوا ٹرک شہر سے روانہ ہوگا ہمیں وہ سارا پیسا لوٹنا ہے اور خیال رہے ایک جیسے ایک ہی نمبر کے دو ٹرک اور نکلے گے اس لیے اپنی آنکھیں اور کان کھولے رکھنا سمجھ گئے ۔۔۔ اے کے کی سرد آواز کمرے میں گونجی ۔۔۔
لیکن اے کے یہ بلیک منے ہے کس کا ؟؟؟؟ زی نے پریشانی سے سوال کیا ۔۔۔
اور کس کا ہوگا انسان کی شکل میں چھپا وہ درندہ اور کوئی نہیں بلکے مسٹر کاظمی ہی ہے جس نے نا جانے کتنے گھر تبا کیے کتنے معصوموں کی جان لی ۔۔
بیچ میں ہمارے گھر والے بھی شامل تھے ۔۔ ریبل نے کرب سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اے کے فورن اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اسے حوصلہ دیا وہ نہیں چاھتے تھے اتنی اگے آ کے اب وہ کمزور پڑے ۔۔۔
ہمت سے کام لو ریبل ہم جنگ لڑنے سے پہلے ہار نہیں سکتے نا ہی کمزور پر سکتے ہیں یہ درندہ اب ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچے گا اس کی موت ہمارے ہاتھوں ہی لکھی ہے بہت جلد اے کے کی آنکھوں میں خون اتر ایا تھا اس کے نام پے ۔۔۔۔
بلکل اب وقت آ گیا ہے برائی کا انجام لکھنے کا ۔۔زی نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
جاری ۔۔
