Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

افندی
کنسٹرکشن کمپنی کے پر تعیش آفس میں ایم ڈی کی کرسی پر بیٹھا وہ فائلوں کا مطالعہ کر رہا تھا ۔۔۔
سیا آنکھیں جن میں بلا کی سختی تھی ہلکی ہلکی دھڑی موچہ اس کی سرخ و سفید رنگت پے خوب جچ رہی تھی
وہ بلا کا ہینڈسم تھا ۔۔۔
ابھی وہ فائل چیک کر ہی تھا کے اس کا پے اے آفس میں داخل ہوا سر آپ کے سائن چائے ان پیپرز پے ۔۔۔۔
اس نے ایک نظر سامنے موجود شخص کو دیکھا اور دوبارہ اپنی فائل پے جھکا ۔۔۔۔
سر ی ۔۔
یہ پروجیکٹ ادیان ہینڈل کرنے والا ہے اس میٹنگ کو وہ ہی اتٹنڈ کرے گا اس کے علاوہ ان تینوں کے سائن کی بھی بہت ضروری ہے آپ نے انہیں انفارم کر دیا ۔۔۔
آفٹر آل انکے بھی اس کمپنی میں شیئرز ہیں۔۔۔۔
اس نے پے اے سے اپنے چاچازاد بھائیوں کا کہا
جی سر میں نے رومان سر اور روحان کو انفارم کر دیا ہے اعجاز نے مئودب انداز میں جواب دیا۔۔۔۔
اور ادیان کو ؟ اس نے فائل سے سر اٹھا کے پوچھا۔۔۔۔۔
سر مجھے لگتا ہے ہمیں انہیں انفارم نہیں کرنا چاہئے اعجاز نے مشورہ دیا وہ چند ہفتوں پہلے ہی جاب پے ایا تھا ۔۔۔۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے اس نے آرام دہ انداز میں کرسی سے ٹیک لگا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔
سر آپ کے پاس ان تینوں سے زیادہ پیسہ ہے ادیان سر کا اپنا الگ بزنس بھی ہے اور
وہ آپ کے چاچا کے بیٹے ہیں آج کل تو سگے بھائی بھی اپنے نہیں بنتے اور ظاہر ہے وہ آپ سے جلتے ہو گے اور یہ پروجیکٹ اور میٹنگ بہت امپورٹنٹ ہے اگر ادیان یا رومان سر نے یا روحان سر میٹنگ اٹینڈ نا کی تو یہ پروجیکٹ آپ کو مل جائے گا اعجاز نے خوشامدی انداز میں پلین بتایا۔۔۔۔
مسٹر اعجاز بہت کر لی آپ نے بکواس اور میں نے بہت سن لی مجھے میرے بھائیوں کے خلاف ایک لفظ بھی قبول نہیں آپ جا سکتے ہیں کل سے کام پے نہ انا ۔۔
مجھے میرے آفس میں آپ جیسے لوگوں کی بلکل بھی ضرورت نہیں وہ ایک دم طیش۔ میں آ کے دھاڑا تھا ۔۔
لیکن سر۔۔۔۔
بس مسٹر اعجاز اس سے پہلے میں آپ کو یہاں سے دکھے دے کے نکلواو آپ جا سکتے ہیں اور ہاں
ایک بات یاد رکھنا ایان آفندی دنیا کی ہر چیز چھوڑ سکتا مگر اپنے بھائیوں کو نہیں ۔۔
ناؤ گؤ تو ہیل ۔۔
وہ اعجاز کو بازو سے پکڑ کے کھیتچا ہوا باہر لیا اور دروازے سے باہر دکھا دے کے بولا ۔۔۔
دفع ہو جائے یہاں سے آج کے بعد اگر نظر آے تو اگلی سانسے لینے کے قابل بھی نہیں رہے گئے ۔۔۔
پورا آفس جانتا تھا ایان آفندی کی جان اس کے بہن بھائیوں میں بسی ہے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
اعجاز اپنی اتنی بیزتی پے پیج و تاب کھا کے رہ گیا بس نہیں چل رہا تھا سب کچھ تھس نھیس کر دے
باہر آ کر اعجاز نے ایک سائیڈ پر کھڑے ہو کر کسی کو کال ملانے لگا ۔۔۔
کچھ دیر میں کال اٹھا لی گئی
میم میں نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن ان کی آنکھوں میں تو بھائیوں کے پیار کی پٹی بندی ہے اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔
وہ کچھ دیر سامنے والے کی بات سنتا رہا پھر مسکراتے ہوئے بولا بہت اچھا پلین ہے میم اس طرح تو یہ سب بھائی الگ ہو جائے گے اور آپ کا راستہ صاف ہو جائے گا ہاہاہا۔۔۔۔
اوکے میم میں اس پلین کے کامیاب ہونے کے بعد آپکو انفارم کرتا ہوں
اعجاز پرجوش سا بولتا فون رکھ کر باہر کی طرف بھرا
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
آفندی میشن ۔اس کے سربراہ تھے ریٹائر آرمی آفیسر احمد آفندی جو مزاجاً کافی سخت اصول پسند آدمی تھے ۔۔۔
ان کے تین بیٹے ہی تھے بیٹے بلکل باپ پے گئے تھے ۔ احمد آفندی اصول پسند آدمی تھے اور یہی وجہ تھی کے ان کے گھر میں اصولوں کو لے کر کسی قصم کی کوئی چوٹ حاصل نہیں تھی
ایک ایکسیڈنٹ میں احمد افندی اور ان کے تینوں بیٹے اپنی اپنی بیگموں کے ساتھ اس خالق حقیقی کو جا ملے۔۔۔۔
پہلے نمبر پر تھے جہانزیب آفندی جن کی شادی احمد آفندی نے اپنے دوست کی بیٹی بینش بیگم سے کرائی جہانزیب صاحب کا ایک ہی بیٹا تھا آیان دنیا کے لیے مغرور شہزادہ مگر اپنے بہن بھائیوں کے لیے جان دیتا تھا اپنے پورے خاندان کی اچانک موت کی خبر اس شہزادے کو پتھر دل بنا گئی تھی ۔۔۔
اس نے بہت کم وقت میں اپنے باپ کی طرح ایک کامیاب بزنس مین بنا بہت کم عمر میں اپنا ایک الگ بزنس کھڑا کر کے اپنا نام بنایا بلکے اپنے بہن بھائیوں کو بھی سمبھالا مگر اس سب میں وہ اپنی ذات کو بلکل فرموش کر گیا تھا
دوسرے نمبر پے تھے کرنل شازیب آفندی۔۔۔ جو غصے کے تیز اصول پسند بالکل اپنے ابا جی کی پرچھائی تھے ۔۔
جن کی شادی خاندان ہی میں شائستہ بیگم سے ہوئی ہیں۔جو پڑھی لکھی سلجھی ہوئی خاتوں تھی ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے بڑا بیٹا انسپکٹر رومان جو کبھی سیریس ہوا ہی نہیں اپنی لائف میں لاپرواه آفیسر اور دوسرے نمبر پے روحان و مہین ان دونوں کا بھی ایک ہی کام تھا لوگوں کی ناک میں دم کرنا ۔۔۔۔
تیسرے نمبر پر ہیں فرحان آفندی تھے جو انتہا کی نرم طبیعت کے مالک ۔ان کی شادی خاندان ہی میں طنزیلہ بیگم سے ہوئی ہے۔جو کافی حساس دل طبیعت کی مالک تھی ۔۔۔
ان کے دو ہی بچے تھے بڑا بیٹا ادیان جس کا نکاح ماہی سے دو ماں پہلے ہی ہوا تھا۔۔
یہ بھی آیان کی طرح ایک کامیاب بزنس مین تھا اور سب سے چوٹی اور پورے آفندی مینشن کی جان زری
جس کا اپنا ہی اصول تھا چاہے دنیا ادھر کی ادھر کیوں نہ ہو جائے وہ اپنے پکے دشمن روحان آفندی کو کبھی بھی اپنا کزن نہیں مانے گی اور اس مینشن کی چار دیواری کے باہر تو دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے۔۔
اس لیے جب بھی ٹکر ہوتی کوئی نہ کوئی پنگا لازمی ہوتا اور ایان لاکھ اصول پسند سہی مگر اپنے ان دو نمونوں کو آج تک نہیں صدھر سکا تھا ۔
🌺🌺🌺🌺
ایک سکوٹی ہوا کو چیرتی ہوئی سبزی منڈی کے سامنے روکی اور پھر ااس پے سے وہ بڑی شان سے نیچے اتری ایسے جیسے پی ایم ڈبلیو سے اتر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
بلیو سکوٹی جو ہوا سے باتیں کرتی ہوئی آئ تھی اپنے راستے میں انے والی ہر چیز کو پیچھے چھوڑتی ایسے لگتا تھا جیسے کچھ زیادہ ہی جلدی ہے ۔۔۔
اس نے اپنے سر سے ہلمیٹ اترا حجاب سے چہرہ کوور کیے اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی ۔۔۔
سیا بڑی بڑی جن پے شاید لینز استعمال کیے گئے تھے ۔۔۔ آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل لگاے اس کی آنکھوں کو اور دلکش بنا رہا تھا بلا کی معصومیت صرف دیکھنے والوں کے لیے نظر کا دوکھا ۔۔۔
عنابی لب جس پے سیا تل اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگتا تھا چوٹی سی ناک
بلیک پینٹ کے ساتھ بلیو کرتہ پہنے
وہ کوئی آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی تھی اس کا سٹائل ہر کسی کو اپنی طرف کھیچتی تھی
اس کے ساتھ ہی ایک دس سالہ بچا بھی سکوٹی سے اترا
وہ ایک ادا سے چلتی ہوئی پارکنگ میں کھڑے چوکیدار کے پاس آئ اور اپنی سکوٹی کی چابی اس کی طرف
اچھالی ..
جیسے فورن وہ تھام چکا تھا وہ بڑی شاہ سے چلتی ہوئی سبزی منڈی میں داخل ہوئی ۔۔۔
وہ ایک ادا سے چلتی ہوئی ایک ٹھیلے والے کے پاس روکی ۔۔۔
بھائی یہ ٹماٹر کس طرح دیے ؟؟؟؟؟ اس نے ٹماٹر چیک کرتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔
ایک سو بیس روپے کلو ۔۔ دکاندار نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔
آپ ٹماٹر بیچ رہے ہیں یا سونا جو اتنا مہنگا ہے میں بتا رہی ہوں میں بیس روپے سے ایک روپایا زیادہ نہیں دو گی حد ہوگی ہے اتنی لوٹ مچا رکھی ہے آپ لوگوں نے ۔۔وہ تیور چڑھا کے بولی ۔۔۔
دیکھیں میڈم ہم۔۔۔۔
دیکھنا مجھے نہیں آپ کو ہے میں روز روز آپ کی دکان سے لے کے جاتی ہوں اس بات کا ہی تھوڑا خیال کر لیتا ہے بندا ۔۔۔وہ منہ بنا کے بولی ۔۔
بیئر دی آپ جھوٹ کیوں بول رہی ہیں ہم تو یہاں پہلی بار آے ہیں ۔۔اس کے ساتھ کھڑا بچا فورن بولا ۔۔۔
چپ کرو تم یہ بات ہمیں پتا ان کو نہیں وہ بچے کو گھورتی ہوئی بولی جب کے دکاندار تو یہ سوچ کے حیران تھا کے یہ لڑکی پہلے کیسے آ سکتی ہے اس کے پاس ۔۔۔۔
چلیں دے بھی اب کس سوچ میں گم ہیں آپ ۔۔ وہ دکاندار کا حیرت سے کھولا منہ دیکھ کے بولی ۔۔۔۔
بہن جی یہ بازار تو دو دن پھلے لگانا شروع ہوا آپ ہمیشہ یہاں کیا لینے آتی رہی ہیں ۔۔ دکاندار نے حیرت سے باہر اتے ہی اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
کیااااااا بہنننننن جییییی آنکھیں ہے آپ کے پاس یا وہ بھی سبزی کے دام پے بیچ دی میں آپ کو کہی سے بھی بہن جی لگتی ہوں بندا تھوڑی شرم کر لیتا ہے آپ کی بیٹی کی عمر کی ہوں ۔۔وہ ایک دم چیخی تھی جب آس پاس لوگ جمع ہوتے دیکھ دکاندار نے اپنا ہلک تر کیا سامنے کھڑی لڑکی کا کیا بھروسہ کوئی بھی الزام لگا دے ۔۔۔۔
کیا ہوا میڈم یہ بتمیز کر رہا ہے کیا ۔۔ ایک لڑکا فورن اگے ہوئے تھا ۔۔۔
یہ دیکھو نا بھائی ایک تو سبزی اتنی مہنگی بیچ رہے ہیں یہ انکل اور اوپر سے لڑکیوں سے بات بھی نہیں کرنی آتی میں ابھی پولیس کو فون کرتی ہوئی ۔۔ وہ اپنے لہجے میں معصومیت سما کے بولی اور کہتے ساتھ اپنا موبائل نکلا ۔۔۔۔
دکاندار کا رنگ ایک دم زرد پڑا تھا پولیس کے نام پے کیوں کے وہ سچ میں مارکیٹ کے ریٹ سے زیادہ سبزی بیچ رہا تھا ۔۔۔
نہ۔۔نہیں میڈم پلز میں معافی چاہتا ہوں آپ کو جو چاہئے جتنے کا چاہئے آپ لے جائے ۔۔ دکاندار نے فورن صولہ سے کام لیا ۔۔۔
اس نے مسکرا کے بچے کی طرف دیکھا اور ایک آنکھ دبائی ۔۔۔
دس کلو الو بیس کلو پیاز پندرہ کلو ٹماٹر اور پانچ پانچ کلو یہ ساری سبزیاں پیک کر دیں اور ہاں بیس روپے سے ٹماٹر ۔ باقی سب بھی اسی ریٹ سے بل ہونا چاہئے ورنہ ۔۔وہ بات ادهری چھوڑ چکی تھی ۔۔۔
بول تو ایسے رہی ہے جیسے پورے محلے کو دعوت پے بولنا ہو وہ دل میں بڑبڑایا
ج ۔۔جی میڈم سمجھ گیا دکاندار نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا اور اسے بل پکڑا دیا ۔۔۔۔
بل دینے کے بعد وہ جس شان بےنیازی سے آئ تھی اسی سے واپس چلی گئی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
صبح ایان کے بنائے رول کے مطابق ٹھیک آٹھ بجے سب اپنے اپنے کام کے لیۓ نک سک سے تیار ٹیبل موجود تھے۔
وہ بھی اپنے دادا کی طرح اصولوں کا پکا انسان تھا ایک ایک منٹ کا حساب رکھ کے چلنے والا ۔۔۔۔
زری میڈم نیند کی وجہ سے ہلکے سرخ آنکھوں کے ساتھ اپنے مخصوص ڈریسنگ گھٹنوں تک آتی گھیرے دار فراک کے ساتھ جینس پہنے سر پر دوپٹہ لیۓ بیٹھی تھی۔۔۔
ماہی آج کچھ زیادہ ہی نارویس تھی کیوں کے آج جناب کا پہلا دن تھا اسکول میں اسے ٹیچر بنے کا شوق تھا پرنسپل کی پوسٹ پے اس کا آج پہلا دن تھا لیکن پھلے دن کا ڈر تھا ایک دل میں ۔۔۔
اور انسپکٹر صاحب جو ابھی تک لوٹے ہی نہیں تھے رات ہی انہیں پولیس سٹیشن جانا پڑا تھا ۔۔۔
“ماہی بچے کرلی آپ نے پوری تیاری؟”ایان نے پلیٹ میں چمچہ گھما رہی ماہی کو مخاطب کیا۔لیکن محترمہ کا دھیان تو اسکول میں تھا۔
“ماہی بھائی پوچھ رہے ہیں آپ کی تیاری پوری ہے ؟”ادیان نے اسے اپنی ہی دنیا میں گم دیکھ جھک کر سرگوشی کی۔
“جج۔۔ جی بھائی سب ڈن ہے،بس اب عدی کے ناشتہ کرتے ہی نکلیں گے۔” ماہی جھٹ حقیقت کی دنیا میں آتی جواب دیا۔
“ہممممم!نروس بالکل نہیں ہونا ہے، آپ ایان افندی کی بہن ہیں جہاں بھی جائیں بس جھنڈے گاڑ آئیں، ڈر، خوف، نروس نیس یہ سب ہمارے لیۓ نہیں بنے ہیں،۔۔
سمجھ رہیں ہیں آپ؟۔”ایان نے بھاری آواز میں نرمی پیدا کرتے ہوئے ماہی کی ہمت بڑھانے کو فخر سے بولا ۔۔۔
کیوں ہم انسان نہیں ہے کیا جو یہ سب ہمارے لئے نہیں بنے آہننہہہہ بندا یہاں سو بھی نہیں سکتا ۔۔۔زری کی زبان پھسلی اس لئے منہ میں بڑبرائی ۔۔۔
کچھ کہا اپنے ایان نے اس کی طرف دیکھ سوال کیا جانتا تو وہ تھا اس کی یہ آفت چپ رہ ہی نہیں سکتی
نہیں نہیں بھائی میں کیا بول سکتی ہوں اس نے اپنی پوری بتیسی دیکھاتے ہوئے کہا ۔۔
ہمممممم
ماہی بس مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی اب ایان جتنا چاہے حوصلہ افزائی کرلے اندر کی کیفیت جو تھی سو تھی۔
یہ صاحب زادے کہاں ہیں؟”ماہی سے نظر ہٹتے ہی ایان کی عقابی نظر ادیان کے پاس والی خالی کرسی پر فوراً چلی گئی ۔تبھی کلائی پر بندهی گھڑی پر آٹھ بج کے پانچ منٹ کا وقت دیکھ کڑک آواز میں استفسار ہوا تھا
جواز تراشے صاحب بہادر تو رات سے گھر ہی نہیں لوٹے تھے زری منہ میں بڑبرائی ۔۔۔
وہ رات کو کسی کیس کے سلسلے میں میں گیا تھا ابھی تک ایا نہیں ۔۔
ادیان نے اس جلاد کے تیور دیکھ فورن صفائی پیش کی ۔۔۔۔
ہممم اس نے بس اتنا کہا اور اپنی جگہ چھوڑ دی اس کے جاتے ہی سب باری باری اٹھ کے چلے گئے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
ابھی وو یونی سے نکلا ہی تھا کے اس کے فون کی رینگ ٹوں بجی ۔۔۔
ہیلّو عدی برو اس نے کال اتٹنڈ کرتے ہی خوشی سے کہا اس کے لہجے میں بھائی کے لیے محبت کا جہاں آباد تھا ۔۔۔
روحان کہاں ہو جلدی اؤ میٹنگ شروع ہونے والی ہے اور یہ رومان کہاں ہے اس کا فون بھی نہیں لگ رہا ايان کا پتا ہے نا تم دونوں کو اسے وقت کا کتنا خیال رہتا ہے ۔۔۔ عدی ایک ہی سانس میں شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
کول برو میں بس نکل رہا ہوں کچھ دیر میں پوھنچ جاؤ گا اور آپ فکر نہ کریں رومی بھی ٹائم پے آ جائے گا ۔۔۔ روحان نے ہلکا سا مسکرا کے جواب دیا ۔۔۔
ٹھیک جلدی انا اور اپنا خیال رکھنا ۔۔۔
جی اوکے برو اس نے مسکراتے ہوئے کال بند کر دی ۔۔۔
ابھی وہ موبائل رکھنے کے لئے ذرا سا جھکا ہی تھا کے سامنے سے آتی گاڑی اس کی گاڑی سے ہلکی سی لگ گئی ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے گاڑی روکی ۔۔۔۔
سامنے والے نے بھی اپنی گاڑی روک دی اور انتہائی غصے میں آ کے روحان کی گاڑی کے بونٹ پے ہاتھ مارا ۔۔۔
زریش جو ماریہ کے ساتھ آج یونی کے بعد گھومنے نکلی تھی گاڑی میں فل آواز میں سونگ لگاے وہ دونوں فل مستی میں تھی مزہ تو تب خراب ہوا جب گاڑی کی ٹکر ہوئی اور یہ بات زریش فرحان کے غصے کو ہوا دینے کے لئے کافی تھی ۔۔۔
ابے نکل باہر تیری اتنی ہمت کے تو نے میری گاڑی کو ٹکر ماری ۔۔۔
وہ انتہائی غصے سے چیخی تھی ۔۔۔ ماریہ بیچاری اسے کھینچ رہی تھی لیکن پروا کیسے تھی آج جتنے غصے میں وہ تھی ماریہ کو تو لگا یہ گاڑی والا پکا شہید ہوگا ۔۔۔
اس کی گاڑی کی ہیڈ لائٹ ٹوٹ چکی تھی جو اس کے غصے کو ہوا دینے کے لیے کافی تھی ۔۔۔
جب روحان باہر نہ نکلا تو وہ ایک بار پھر بولی ۔۔۔
ابے سنا نہیں تجھے باہر آ ۔۔۔۔۔
گاڑی سے روحان کو اترا دیکھ وہ ایک دم اور غصے میں آئ ۔۔
تممممممممممم…
روحان کی وجاہت ناقابل بیان تھی لیکن سامنے کھڑی لڑکی کو تو بس اپنی گاڑی کی پروہ تھی پھر بےشک سامنے کوئی فلم کا ہیرو بھی ہوتا تو اسے کوئی نہیں بچا سکتا تھا کیوں کے سامنے کھڑی لڑکی اس وقت زخمی شیرنی سے کم نہیں تھی ۔۔۔
لہٰذا آج تو شامت انی ہی تھی ۔۔۔۔
بس کرو گلہ کیوں پھاڑ رہی ہو ایسا بھی کچھ نہیں ہوا وہ بھی روحان آفندی تھا کیسے سامنے کھڑی لڑکی کو چھوڑ دیتا جس سے آے دن اس کی ایک نئی جنگ ہوتی تھی ۔۔۔
ماریہ نے دونوں کو دیکھ اپنا سر پیٹ لیا مطلب صاف تھا آج ایک نہ ایک تو شہید ہو کے ہی جائے گا ۔۔۔۔۔
ابے بندر ! میری گاڑی کی ہند لائٹ توڑ کے کہتا گلہ نہ پہاڑو جانتا بھی ہے کس سے پنگا لیا ہے وہ اپنی بازو کونیوں تک چڑھاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
یار چھوڑ نہ کیوں سین کریٹ کر رہی ہے دیکھ سب دیکھ رہے ہیں ماریہ نے اسے آس پاس کے لوگوں کا احساس کروایا جو انہوں دیکھ رہے تھے ۔۔۔
تم چپ کرو کون کیا سوچتا ہے آئ ڈونٹ کیئر اور تم کیا منہ اٹھا کے دیکھ رہے ہو ۔۔
اس نے ماریہ کو گھور کے جواب دیا اور پھر روحان کی طرف دیکھ کے بولی ۔۔۔
دیکھو جتنی غلطی میری ہے اتنی تمہاری بھی ہے اگر میں نے نہیں دیکھا تھا تو تم دیکھ لیتی تمہارے پاس تو آنکھیں ہیں نا روحان نے بھی دانت پیس کے جواب دیا ایک اسے دیر ہو رہی تھی دوسرا یہ لڑکی گلے پر گئی تھی ۔۔۔
لیکن یہ بات سن زریش کا پارا اور ہائی ہوا ماریہ بیچاری تو بس اب تماشا ہی دیکھ سکتی تھی کیوں کے سامنے والی نے تو آج تک اپنے علاوہ کسی کی سنی ہی نہیں تھی ۔۔
کیا مطلب ہے تمہاری میری غلطی سے تمہاری اتنی ہمت کے تم نے زریش پے الزام لگایا تمہیں تو میں جیل کی ہوا کھلاؤ گی ۔۔
میں تم پے کیس کرو گی کے ایک لڑکی کو کمزور اور بےسہارا سمجھ کے اس پے گاڑی چڑھا دی اور میرا اتنا نقصان کرنے کے بعد غلطی بھی میری بتا دی تمہیں تو میں چھوڑو گی نہیں ایسے ایسے چارج لگوا کے اندر کرواؤ گی کے ساری عمر یاد رکھو گے ۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں نوں اسٹاپ بول گئی تھی ۔۔۔
کمزور اور بےسہارا جاؤ بی بی ان دونوں لفظ کے مطلب بھی پتا تمہیں آئ بڑی چڑیلوں کے خاندان کا آخری سیمپل ہو پولیس بھی تم پے یقین نہیں کرے گی ۔۔۔۔
روحان نے منہ چڑھا کے کہا ۔۔۔
تمہاری تو ۔۔۔وہ اس کا گلہ پکڑنے کو اگے ہوئی جب ماریہ نے فورن اسے پیچھے سے پکڑا ۔۔۔۔
دیکھو لڑکی ۔۔
روحان کچھ کہتا اس سے پہلے وہاں ایک پولیس جیپ آ کے روکی ۔
تینوں نے جیپ کی طرف دیکھا جس میں سے رومان اپنی نیند میں ڈوبی لال انگار آنکھیں لے کے نکلا رات سے چوروں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اب وہ ایسے حالت میں آفس جا رہا تھا جب راستے میں روحان کو دیکھ گاڑی روکی اس نے ۔۔۔۔
پولیس کو دیکھ وہاں موجود سب لوگ چلے گئے ۔۔۔
کیا ہوا رو۔۔۔
انسپکٹر صاحب اریسٹ کر لیں اسے اس بندر نے میری گاڑی کی ہند لائٹ توڑ دی اور اب الٹا الزام بھی مجھ پے لگا رہا ہے
رومان کچھ کہتا اس سے پہلے ہی زریش نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
رومان نے روحان کی طرف دیکھا جب روحان نے اسے مدد طلب نظروں سے دیکھا جیسے سمجھتے ہوئے اس نے روحان کو آنکھوں سے پرسکون رہنے کا اشارہ دیا ۔۔۔
آپ لوگ فکر نہ کریں میں اسے ابھی اریسٹ کرتا ہوں آپ لوگ جائے رومان نے دونوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
ماریہ نے تو شکر کا کلمہ پڑا ۔۔
چلو اب دیر ہو رہی ہے ماریہ اس کا بازو پکڑ کے کھینچتی ہوئی لے گئی ۔۔۔
زریش نے اپنی گاڑی کے پاس روک کے پیچھے دیکھا جہاں وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے اپنے انگوٹھے سے گردن پے ایک لائن کھنچ کے اسے ورنہ کیا اور گاڑی زیک سے اڑاتی ہوئی لے گئی ۔۔۔
کیا چیز تھی یار کچھ نہیں ہو سکتا تم دونوں کا اس کے جاتے ہی رومان نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے روحان کی طرف دیکھ کے سوال کیا ۔۔۔
روحان بھی اپنی ہنسی دبانے کے چکر میں سرخ ہی رہا تھا اس لیے خود کو سمبھال کے بولا
چھوڑ یار ہمارا چلتا ہے چل اب برو کا فون آ رہا ہے وہ بولتے ہی اپنی گاڑی کی طرف بھرا ۔۔۔
رومان بھی سر نہ میں ہلاتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بھرا ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔